.

کیا داعش بغداد پر بھی قبضہ کر لے گی؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ سوال میں نے چند روز پہلے لکھا، لیکن بعد ازاں اسے واپس لے لیا۔ میرا خدشہ تھا کہ لوگ سوچیں گے کہ میں اس معاملے کو خواہ مخواہ بڑھا رہا ہوں، جبکہ اس کی حیثیت ایک تحریک دینے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ تاہم اب داعش کے عسکریت پسندوں نے عراق کے آبادی کے اعتبار سے دوسرے بڑے شہر موصل کو ایک دن سے بھی کم وقت میں زیر قبضہ لے لیا ہے تو یہ سوال جائز ہو گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ''داعش اب کس شہر کی طرف پیش قدمی کرے گی، امکانی ہدف بغداد ہو گا۔''

عراق کے سابق مصلوب صدر صدام حسین اور جہاں فانی سے کوچ کر جانے والے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن اپنی قبروں میں تکبر اور شوخی بھری طبیعت کے مالک عراقی وزیر اعظم نوری المالکی پر ضرور مسکرا رہے ہوں گے۔ موصل اور صوبہ نینوا کے شہروں کی بڑی تعداد ان کے ہاتھوں سے نکل چکے ہیں۔ اس سے پہلے صوبہ انبار کا بڑا حصہ بھی ان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔ صوبہ صلاح الدین بھی اس مقدر کا شکار ہونے جا رہا ہے۔ دنیا کو حیران اور ششدر کر دینے والے یہ سب واقعات محض چند دنوں میں ہی پیش آئے ہیں۔ داعش نامی یہ گروپ القاعدہ سے الگ ہونے والا گروپ ہے۔ جس نے مشہور زمانہ نائن الیون سے اپنی کامیابیوں کا آغاز کیا تھا۔ داعش سرحدوں کو عبور کرتی ہے، تیل کی پائپ لائنوں کو کاٹتی ہے اور ایک کے بعد دوسرے شہر کو قبضے میں کرتی ہے۔

یہ ایک سریع الحرکت اور جابر قسم کا گروپ ہے۔ اسے اور اس طرح کے دوسرے گروپوں کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے، یہ اسلحہ ڈپووں اور بنکوں پر قبضے کرتے ہیں۔ ممکن ہے یہ جلد ہی عراق کے دارالحکومت بغداد کی دیواروں پر چڑھ رہے ہوں۔ جس کی حفاظت کی ان دنوں ذمہ داری اسی عراقی وزیر اعظم کے ذمہ ہے جس کے ہاتھوں سے انبار اور نینوا کے کئی علاقے نکل چکے ہیں۔ وزیر اعظم نوری المالکی نے اپنی پہلی مدت حکومت مکمل ہونے سے تین ماہ پہلے القاعدہ کو ختم کرنے کا عہد کیا تھا۔ لیکن انبار پر قبضہ ہو گیا۔

کیا یہ ان کی فوجی قیادت کی ناکامی ہے؟ کیا یہ وزیر اعظم اپنے دو صوبوں کے دفاع میں ناکام ہو چکے ہیں کہ انہوں نے اپنے مخالفین کے بقول معاملے کو سیاسی طور پر حل کرنے کے بجائے دوسرے طریقے سے دیکھا، یہ ایسا غلط بھی نہیں ہے۔ بہرحال یہ نوری المالکی ہی ہیں جنہوں نے مجلس بیداری کو توڑا تھا۔ جس نے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد القاعدہ کا مقابلہ کیا تھا۔ اس کونسل کو نوری الماکی کی طرف سے توڑے جانی کی وجہ سوائے اس کے کچھ اور نہ تھی کہ یہ ایک سنی فورم تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ داعش نے دونوں صوبوں پر قبضہ کر لیا۔

بدقسمتی سے مالکی نے سیاسی سکور سیٹل کرنے کی کوشش دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے نام پر کی۔ انہوں نے یہ کوشش اپنی حکومت کے دوران عام طور پر جاری رکھی، لیکن دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کیا ہے۔ مالکی نے ان سب کو دہشت گرد قرار دینا شروع کر دیا جنہوں نے اس سے اختلاف کیا۔ اختلاف کرنے والوں پر دباو ڈالا کہ یا تو وہ ملک چھوڑ دیں یا سرنڈر کر کے اور چپ ہو کر بیٹھ جائیں۔ جب لڑائی شروع ہوئی تو سرکاری افواج نے شکست کے لیے دوسروں کی طرف دیکھا لیکن سیاسی مخالفین سے مفاہمت سے انکار کر دیا۔ یوں ان قبائل کو عضو معطل بنانے کی کوشش کی گئی جو القاعدہ سے لڑتے رہے تھے۔

گویا عراقی فوج اپنے ہی ملک کے اندر ایک بیرونی فوج اور عنصر کے طور لڑ رہی تھی۔ ابھی چند دن پہلے مالکی نے اپنے مخصوص انداز میں خطابیہ انداز اختیار کرتے ہوئے متوجہ کیا ہے ''دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے متحدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔'' یہ اپیل اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے عراق نیکولائی مالدینوف سے ملاقات کے بعد کی ہے۔ نوری المالکی نے کہا ''ہمارا ارادہ ان سب کے لیے دروازے کھولنے کا ہے جو دہشت گردی کے خلاف لڑنے کو تیار ہیں۔'' انہوں نے یہ بھی کہا ''تنازعات پر اس کے باوجود قابو پانے کی کوشش کی جائے گی کہ کسی کا سیاسی موقف کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔''

نوری المالکی کا یہ موقف ان کے دیرینہ موقف سے ہٹ کر بھی ہے اور مثبت بھی۔ لیکن ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے اس طرح کے بیانات قابل بھروسہ نہیں ہیں۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ نوری المالکی وزیر اعظم رہیں یا نہ دہشت گردی سے جنگ طویل اور صبر آزما رہے گی۔ اس لیے نوری المالکی کو چاہیے کہ وہ سول اور فوج کے درمیان موجود غم و غصے کو ختم کرائیں، نیز نینوا اور انبار صوبوں کے قبائل میں اپنے بارے میں غصے کو کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ بصورت دیگر بغداد کی طرف بڑھتی داعش کے خلاف لڑائی میں مالکی کی کامیابی آسان نہیں ہے۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ مالکی نے القاعدہ کو انبار میں پنپنے کا خود موقع دیا ہے کیونکہ مالکی سمجھتے ہیں کہ القاعدہ ان کے مخالفین کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو گی۔ اسی وجہ س وہ اس خطرے کا اندازہ نہیں کر پا رہے جو القاعدہ سے ممکن ہے۔

اس صورت حال میں امریکا نے القاعدہ کو پھلتے پھولتے دیکھا تو پچھلے سال دسمبر سے معاملے میں مداخلت شروع کر دی۔ امریکا نے اسی وقت سمجھ لیا تھا کہ دہشت گرد بغداد کی طرف بڑھیں گے۔ امریکا نے مالکی کو بھی باور کرایا کہ القاعدہ کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے امریکا نے اردن کے تعاون سے ڈرونز کا استعمال بھی شروع کیا تاکہ القاعدہ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ اطلاعات بہم پہنچ سکیں۔ امریکا کی طرف سے یہ اطلاعات مالکی کو بھی فراہم کی گئیں، لیکن مالکی انبار میں پھر بھی ناکام ہو گئے۔

سوال یہ ہے کہ کیا مالکی اپنے مشیران کی وجہ سے اس حال کو پہنچے ہیں؟ کیونکہ مالکی کے بعض وزیروں کا کہنا ہے کہ مالکی کے مشیران درپیش چیلنج کے گیرائی کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مالکی کے مشیر انہیں مقامی آبادی کو اعتماد میں لیے بغیر فوج استعمال کرنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں۔ یہ ناکامی مالکی کے کرپٹ مشیران کی وجہ سے ہے یا ان کے اپنے تکبر اور شوخی کی وجہ سے ذمہ دار کلی طور پر مالکی ہی ہیں۔ انہی کی وجہ عراقی فوج انبار میں پسپا ہے

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.