.

عراق ۔۔۔۔ جہنم میں خوش آمدید

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میرا یہ کہنا مبالغہ آرائی پر محمول نہ کیا جائے تو اس حقیقت کے بیان میں کوئی باک نہیں کہ عراق میں ہم شام، لیبیا اور یمن سے زیادہ خطرناک صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ عراق میں ہر قسم کا پاگل پن دیکھنے کو ملے گا کیونکہ لوگ اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔ اس سب کے باوجود امریکی صدر پورے خطے کی سنگینی کا اندازہ نہیں کر سکے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ انھیں مشکل اور مہنگی ترین صورتحال کا سامنا کرنا ہو گا۔

جنگ کی ترغیب انتہا درجے کو پہنچ چکی ہے۔ عراق میں نئی جنگ شروع ہوا چاہتی ہے، جبکہ تین صوبوں میں طبل جنگ بج چکا ہے۔ شیعہ علماء نے اپنے لاکھوں پیروکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ مقدس مقامات کا دفاع کریں۔ سنی مفتی باغیوں کی حمایت پر زور دے رہے ہیں۔ عراق میں وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت ہے کہ نہیں ہے۔ ان کی مدت ختم ہو چکی ہے اور وہ نئی مدت کے لیے بھی وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔ پڑوسی ملک ایران اہل تشیع کی مدد کی آڑ میں اپنے پاؤں پھیلانے کی کوشش میں ہے۔

صدام حسین حکومت کے خاتمے کے بعد آج ایک مرتبہ پھر عراق میں خانہ جنگی نوشتۂ دیوار بن چکی ہے۔ خانہ جنگی کے امکانات ختم کرنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی ردعمل کا اظہار فوری طور پر لازمی ہو گیا ہے۔

حقیقت اور سراب میں تمیز

غیظ وغضب کی اس فضا میں ہمارے لیے مستقلات اور متغیرات کو سمجھنے اور حقیقت اور سراب میں تمیز کرنے کی ضرورت ہے۔ نیز ہمیں مسلمہ اصولوں اور تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال کا بھی ادراک ہونا چاہیے۔ ہمیں آنے والے ماہ و سال کے لیے امکانات کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

یقیناً اس بحران کا اپنا پس منظر ہے جس کا نتیجہ عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل (اور تکریت) کے سقوط کی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔ چھے ماہ قبل الانبار میں رونما ہونے والے واقعات کے تانے بانے بھی اسی بحران سے ملتے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ بحران کا آغاز دس برس قبل عراق پر امریکی حملے سے ہوا تھا، یا پھر اس کا تعلق 20 سال پہلے صدام حسین کے کویت پر حملے سے بھی جوڑا جا سکتا ہے اور اگر اسے دور کی کوڑی نہ خیال کیا جائے تو موجودہ صورتحال کی اصل تاریخ تیس برس قبل عراق کی ایران سے جنگ سے شروع ہوتی ہے۔

اس بحران کا تعلق اسے سے بھی پہلے کی تاریخ سے جوڑا جا سکتا ہے جب ایران میں ایک مذہبی پیشوا نے تخت نشین ہو کر ایک دینی اور فرقہ نواز حکومت قائم کرتے ہوئے اپنے ہمسایوں کو انقلاب برآمد کرنے کی دھمکیاں دیں۔ حالیہ بحران کا تعلق تو اس دور سے بھی جوڑا جا سکتا ہے جب صدام حسین نے اپنے صدر حسن الباقر کو اقتدار سے الگ کر کے عراق میں خوفناک آمرانہ حکومت کی بنیاد رکھی تھی۔

جاری بحران کے ابتدائی اسباب چودہ سو سال پہلے کی تاریخ میں بھی تلاش کیے جا سکتے ہیں جب صحابہ کرام کے درمیان اقتدار کے لیے خونریزی ہوئی تھی۔ پہلے خلیفہ سوم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، ان کی شہادت کے پانچ سال بعد خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی شہید کر دیا گیا تھا۔ بس اس دن سے مسلمانوں کی تاریخ تبدیل ہو چکی ہے۔

جب ہم بحران کے اسباب کی بات کرتے ہیں تو ہم کوئی سا بھی سال لے کر اپنی پسند کے سیاسی نظریے کے مطابق دلائل کے انبار لگا سکتے ہیں لیکن اس سے اس اہم حقیقت کو حذف نہیں کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ بحران کو ہمیشہ نئے حالات سے تقویت ملتی ہے۔ اس کی ذمے داری ان لوگوں پر عاید ہوتی ہے جو آج اس میں ملوث ہیں۔ محرکات اور جوازات خواہ کچھ ہی رہے ہوں، مالکی اور اوباما اس کے ذمے دار ہیں۔

اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ نوری المالکی اس بحران کے مکمل طور پر ذمے دار ہیں۔ صدر براک اوباما کو بھی اس کا برابر کا مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے کیونکہ وہ عراقی وزیر اعظم پر مصالحتی سیاسی منصوبہ اختیار کرنے پر دباؤ ڈال سکتے تھے۔ ایسا منصوبہ جس میں مختلف عراقی فورسز شریک ہوتیں مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

مالکی نے برسر اقتدار رہتے ہوئے امریکی تحفظ کا فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے اپنے شیعہ اتحادیوں کو بھی نکال باہر کیا اور خود ہی تمام فیصلے کرنے لگ گئے۔ انھوں نے عراق کی ایک تہائی آبادی ۔۔۔ عرب سنیوں ۔۔۔ کو حکومتی معاملات سے بے دخل کر دیا اور ان سے جابرانہ سلوک کیا۔ چنانچہ یہ صورت حال مسلسل نافرمانی ہی کو پیدا کر سکتی تھی۔ اس نے عراق کے استحکام اور ریاستی ڈھانچے کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

اس مرحلے پر سنی عربوں کو بھی بین الاقوامی سطح پر مطلوب ان گروپوں سے متعلق خاموش نہیں رہنا چاہیے کہ جو ان کی کسمپرسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا اُلو سیدھا کرنے میں مصروف ہیں۔ خاص طور پر دولت اسلامی عراق وشام (داعش) اور القاعدہ کے معاملے میں انھیں خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ غیر ذمے دار لوگ خواہ کچھ ہی کہیں، یہ تنظیمیں سنی ممالک کو ڈرا دھمکا رہی ہیں۔ یہاں ترکی کا معاملہ سب کے سامنے ہے۔ وہ موصل میں اپنے قونصل خانے پر داعش کے قبضے اور پچاس سفارت کاروں اور شہریوں کے اغوا کے بعد نیٹو کو مداخلت کے لیے دہائی دے رہا ہے۔

آپ عراقی داعش کی ویب سائٹ پر لاگ ان ہوں تو آپ کو پتا چلے گا کہ یہ شامی داعش کی ویب سائٹ ہی کا ہو بہیو چربہ ہے۔ شامی داعش انقلاب کو تار تار کرنے میں کامیاب رہی ہے اور اس نے اس طرح اسد رجیم ہی کی خدمت گزاری کی ہے۔ ان کی تقریر بالکل وہی ہے جس کے ذریعے سعودی عرب، مصر اور اردن کی سکیورٹی کو دھمکایا گیا تھا اور اب وہ یمن کو طوائف الملوکی سے دوچار کر رہی ہے۔

کیا جن لوگوں نے حکومت مخالف تحریک میں حصہ لیا، وہ داعش، بعث پارٹی یا قبیلے کے ارکان تھے؟ اس پر اپنے اگلے کالم میں اظہار خیال کروں گا۔

(جاری ہے)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.