داعش، ایک نئی سرخ لکیر

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ہم ان دنوں عراق کے حوالے سے ایک منفرد صورتحال دیکھ رہے ہیں۔ اس صورت حال میں تمام مملکتیں، عراق کی تمام سیاسی جماعتیں اور قبائل کی سوچ عراق و شام میں موجود داعش کے گرد گھوم رہی ہے۔ باہم مخالف، متصادم اور متحارب فریق داعش کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ عراق کی بڑی تعداد میں فوج، شیعہ، سنی اور کردش سبھی باہم مفاہمت پر متفق ہیں کیونکہ یہ سب فریق داعش سے خوفزدہ ہیں۔ ان فریقںوں کے باہم قریب آنے کی رفتار نوری المالکی کی وزارت عظمی سے چھٹی نے اور بھی تیز کر دی ہے۔ بہت سارے سنی مخالفین مالکی کے جاتے ہی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہو گئے ہیں۔

عراقی کردستان کی حکومت نے عراقی حکومت کے ساتھ مفاہمت کر لی ہے کہ کرد حکومت مرکزی حکومت کو آئل فیلڈز واپس کر دے گی۔ حد یہ ہے کہ امریکی صدر اوباما نے عراق کی صورت حال سے الگ تھلگ نہ رہنے کی پالیسی اختیار کر لی ہے۔ اسی طرح ایران نے نوری المالکی کو متروک سمجھ لیا ہے اور سعودی عرب نے مالکی کے متبادل کے طور پر سامنے آنے والے وزیر اعظم حیدر العبادی کو قبول کر لیا ہے۔ اس غیر معمولی کہانی کا حاصل یہ ہے کہ ہر کسی نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ اب داعش کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہی ہے کہ وہ اپنا وجود برقرار رکھ سکے یا خطے پر اثر انداز ہو سکے۔

عراق کے سنی اکثریت کے حامل صوبہ انبار میں بھی ایک گرما گرم ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ نوری المالکی کی رخصتی کے بعد انبار کے بعض قبائل نے اعلان کیا ہے کہ وہ پھر سے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں اور ان لوگوں کے خلاف لڑنے کو بھی تیار ہیں جو حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ تاہم صوبہ انبار کے بعض قبائل نے داعش کے خلاف لڑنے سے انکار کر دیا ہے۔

داعش سے نجات پانے کا راستہ لمبا بھی ہے اور خطرناک بھی ہے۔ باوجود اس کے مخالفین داعش باہم اتفاق رکھتے ہیں کہ اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس کے خلاف اقدامات کیے جانے چاہیں۔ اگرچہ داعش نے سیاسی میدان میں خود کو بڑی ذہانت سے استعمال کیا ہے۔ داعش انبار اور نینوا کے سنی گرپوں کے درمیان پائے جانے والے اختلاف کو اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اس منظرنامے میں بعض ایسی حکومتیں بھی ہیں جو خود کو زیادہ سمجھدار کہتی ہیں وہ داعش کی مالی مدد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ دہشت گرد تنظیم اب عراق کے مختلف حصوں میں ایک سنگین خطرہ اور طاقت بن چکی ہے۔ اب اس کے کنٹرول میں تیل کے ذخائر اور آئل فیلڈ بھی ہیں۔ حتی کہ گندم اور خوراک کے گودام بھی اس کے قبضے ہیں۔ اس نے عراقی فوج کے وسیع پیمانے پر موجود اسلحے کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اپنی تعداد اور دولت میں اضافے کی وجہ سے اب یہ بڑے بڑے علاقوں پر قبضے کی اہلیت حاصل کر چکی ہے۔

'المصدر' نامی ویب سائٹ نے تو یہ بھی کہا ہے کہ ٹیکسوں کے نفاذ کے حوالے سے داعش بلیک میلنگ کر کے بھی مال بنا رہی ہے۔ امریکا کی خارجہ امور کمیٹی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق داعش موصل پر قابض ہونے سے پہلے بھی لوگوں سے آٹھ ملین ڈالر کے ماہانہ ٹیکس وصول کر رہی تھی۔ اب داعش تیل فروخت کر کے اور عوامی وسائل کی لوٹ مار سے مزید مال بنا چکی ہے۔

اس صورت حال میں داعش سب کی مشترکہ دشمن ہی نہیں مشترکہ ہدف بھی بن چکی ہے۔ اس لیے خطے کے کھلاڑیوں کے لیے تمام تر باہمی اختلافات کے باوجود داعش کی حیثیت ایک سرخ لکیر جیسی بن چکی ہے۔[#]

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size