لاچار قوموں کا ٹائم زون

یاسر پیرزادہ
یاسر پیرزادہ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

چوبیس دنوں میں گیارہ پروازیں ‘تین ٹائم زون‘دو براعظم اورتین سمندر وں کا سفر کرنے اور سات قسم کے جیٹ لیگ بھگتنے کے بعد میں حق بجانب ہوں کہ خود کو کم از کم ابن بطوطہ کا پائیریٹڈ ورژن تو ضرور سمجھوں! میںلاہور سے شروع ہوا اور بحر اوقیانوس پار کرتا ہوا امریکہ پہنچا اور پھر بحرالکاہل کے اوپر سے ہوتا ہوا ہوائی میں لینڈ کیا ‘ہوائی سے دوبارہ بحر الکاہل کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے ٹوکیو اور پھر وہاں سے جکارتہ پہنچا اور اس وقت جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو جہاز بحر ہند پار کرتے ہوئے دبئی کی طرف محو پرواز ہے جہاں سے وطن واپسی ہے ۔یوں گلوب کی ایک سمت سے شروع ہونے والا سفرگلوب کی دوسری جانب ختم ہو رہا ہے‘پہنچی وہی پہ خاک جہاں کا خمیر تھا!

اس یادگار سفر کے دوران پینٹاگون کی شان و شوکت دیکھی اورجکارتہ کے بیچوں بیچ واقع کچی بستی میں کھیلتے ہوئے بچے بھی ‘ کپڑوں سے بے نیاز ہوائی کے ساحلوںمیں دھوپ سے لطف اندوز ہوتے مرد و زن دیکھے اور حجاب میں لپٹی موٹر سائیکل چلاتی ہوئی انڈو نیشی لڑکیاں بھی ‘جکارتہ کے بلند و بالا ہوٹل دیکھے اورانڈونیشیا کے صوبہ آچے میں سونامی کی یادگاریں بھی‘مشرق میں روایتی مہمانداری کا احساس ہواجبکہ مغرب میں پھرتی اور چستی سے کام کرنے کے ڈھنگ کی داد دی‘امریکی ائیر لائنوں کی کنجوسیاں بھگتیں جبکہ ایشیائی فضائی کمپنیوں کی فیاضی کا لطف اٹھایا‘ امریکی ہوائی اڈوں پر نظم و ضبط دکھائی دیاجبکہ جکارتہ میں قطار توڑ کر آگے نکلنے کی جلدی نظر آئی‘ امریکیوں کی شتر بے مہار آزادی کے قصے بھی سنے اور صوبہ آچے میں نافذ ’’شرعی قوانین‘‘کا مشاہدہ بھی کیا‘امریکیوں کی کافی سے حیران کن رغبت دیکھی اور انڈو نیشینز کی مچھلی سے ناقابل بیان محبت بھی‘بوسٹن میں ’’غریبوں‘‘ کے لئے مفت کھانے کا انتظام کرنے والے کچن کا دورہ کیا او رصوبہ آچے میں ’’شریعت کورٹ‘‘کی سیرکی جہاںواجبی تعلیم یافتہ اہلکار ملے جن کا کام ’’شرعی قوانین‘‘ کی رو سے لوگوں کو سزائیں دینا تھا ‘ہاورڈ یونیورسٹی میں ان پروفیسروں کی پریزنٹیشن دیکھی جو مسلمانوں کے خلاف ایف بی آئی کی ناجائز کارروائیوں کا حساب رکھتے ہیںاور دوسری جانب انڈونیشاکے مدارس میں مفت دینی او ر دنیاوی تعلیم حاصل کرتے بچے بھی ملے‘بوسٹن کے مرکزی گرجا گھر کے پادری سے ملاقات ہوئی جس کا دعویٰ تھا کہ خدا اس سے ہم کلام ہوتا ہے جبکہ واشنگٹن میں ایسے ہم جنس پرست مذہبی پیشوابھی ملے جومقدس کتابو ں کی روشنی میں اس عمل کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں‘ جکارتہ کی کچی بستی میں سرسٹھ برس کے شخص سے ملاقات کی جس نے زندگی کے ساٹھ برس اس بستی میں گزار دئیے اور ہوائی کے ساحل پر تعمیر ایک ارب پتی خاتون کا گھر(شنگریلا) بھی دیکھا جسے اب میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ہے‘انڈونیشیا سے تیس برس تک آزادی کی جنگ لڑنے والے گوریلوں کی روداد بھی سنی اور ایک سابقہ شدت پسند سے مکالمہ بھی کیا جو اب انتہاپسندوں کے خیالات تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے ‘ ایشیا میں وسائل کا ضیاع دیکھا تو امریکہ میں کارگزاری کی انتہا‘سونامی سے تباہ شدہ بستیوں میں معجزانہ طور پر بچ جانے والی مسجد کی زیارت کی اور جکارتہ میں (مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے بعد)دنیا کی تیسری بڑی مسجد استقلال کے امام اعظم سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔

انڈونیشیا میں حاصل سفر صوبہ آچے کی سیر تھی ‘اس صوبے کا دارلحکومت بندا آچے ہے ‘ جکارتہ سے ہوائی جہاز کے ذریعے یہاں پہنچنے میں تین گھنٹے لگے ‘اترتے ہی پہلا احساس ہوا کہ یا خدا یہ کہاں آگئے ہیں ‘اس قدر بور شہر ‘ کوئی رنگینی نہ کوئی چکا چوند‘ کوئی ڈائون ٹائون نہ بلند و بالاشاپنگ مالز۔بند اآچے کے سب سے بہترین ہوٹل میں ہمارا قیام تھا جہاں رو پیٹ کر وائی فائی صرف لابی میں کام کرتا تھا ‘ باقی اندازے آپ خود لگا لیں ۔اس صوبے نے تیس برس تک انڈونیشیا سرکار سے گوریلا جنگ لڑی ‘مطالبہ آزادی تھا ‘انڈونیشیا کی ساٹھ ہزار فوج یہاں تعینات رہی ‘بیس ہزار کے قریب لوگ مارے گئے ‘آزادی تو نہ ملی مگر صوبے میں ’’شرعی قوانین‘‘ نافذ کر دئیے گئے ‘یہ علیحدگی پسندوں کا مطالبہ نہیں تھا مگر مرکزی حکومت کا خیال تھا کہ چونکہ آچے بنیادی طور پر قدامت پسند ہے اس لئے ان قوانین کے نفاذ سے تحریک دم توڑ دے گی‘ 2005ء میں ہیلسنکی کے مقام پر بالآخر تحریک آزادی آچے(GAM) اور مرکزی حکومت کے مابین معاہدہ طے پایا جس کے تحت جنگجوئوں نے ہتھیار پھینکے اور جواب میں حکومت نے پولیس اور فوج واپس بلا لی‘ پورے معاہدے میں ’’شرعی قوانین‘‘ کے نفاذ کا کوئی ذکر نہیں تھا جو اس سے پہلے ہی وہاں نافذ العمل تھے۔کئی سابقہ جنگجوئوں سے آچے میں ملاقات ہوئی جن میں سے اکثر کو آچے کی حکومت میں حصہ مل چکا تھا ‘ایسے ہی ایک سابقہ کمانڈر سے میں نے پوچھا کہ تمہارا مطالبہ آزادی تو مانا نہیں گیا پھر بیس ہزار لوگوں کی جانیں ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی ‘جواب میں اس نے مرکزی حکومت کے لتے لئے اور بڑی پرجوش تقریر کی جو اس کے حامیوںنے بڑی دلجمعی سے سنی ۔اس کے علاقے میں حکومت ایک بہت بڑا تفریحی پارک بنا رہی ہے ‘یہ پارک اس جنگجو کے بھائی کی ملکیت ہے ‘بے اختیارقرۃ العین حیدر کا ’’آخر شب کے ہمسفر ‘‘ یاد آیا۔اس صوبے میں ’’شرعی قوانین ‘‘ صرف تین صورتوں میں لاگو ہوتے ہیں ‘پہلی‘ عورتوں کے بے حجاب پھرنے پر ‘ دوسری جوا کھیلنے پر اور تیسری ’’خلوت‘‘ یعنی جسے عرف عام میں یہاں datingکہا جاتا ہے ۔شہر میں کوئی سنیما نہیں ہے البتہ اشتہارات میں عورتیں حجاب میں ماڈلنگ کرتی دکھائی دیں ‘ جس بس میں ہم نے بندا آچے کا سفر کیا اس میں گانے لگے تھے جن میں لڑکیا ں پرفارم کر رہی تھیں مگر وہ سب بھی حجاب اوڑھے ہوئے تھیں‘دلچسپ بات یہ تھی کہ جس ’’شرعی عدالت‘‘ کا ہم نے دورہ کیا اس کے ریسیپشن پر ٹی وی رکھا تھا جہاں اسی قسم کے گانے چل رہے تھے۔آچے میں ان قوانین کے نقادوں کا کہنا تھا کہ یہ قوانین صرف غریبوں کے لئے ہیں ‘اگر کوئی امیر عورت بغیر حجاب کے بڑی سی گاڑی میں سفر کررہی ہو تو اسے کوئی نہیں پوچھتا لیکن اگر کوئی عورت قابل اعتراض حالت میں کسی جج کے ساتھ پائی جائے تو عورت کو سزا دی جاتی ہے اور جج کا فقط تبادلہ۔یہ جزیرہ قدرت کی رنگینیوں سے مالا مال ہے ‘2004ء کے سونامی نے اس کو تباہ کر دیا تھا ‘ یہاں خوبصورت ساحل ہیں مگر رونق نہیں ‘قدرتی حسن اپنی خام شکل میں ہے جسے انسانی ہاتھوں کی تراش کی ضرورت ہے۔
امریکہ سے انڈو نیشیا کے پورے سفر میں ایک سوال ذہن سے چپکا رہا ‘آخر کون سی گڈرسینگی ہے ان امریکیوں کے پاس جس سے انہیں یہ عروج حاصل ہوا ہے ؟ یہ ایسا سوال تھا جس کا جواب تلاش کرنا بظاہر آسان مگر حقیقت میں بہت مشکل تھا۔ان قوموں کے پاس ڈسپلن ہے ‘ایک میل لمبی قطار بھی ہو تو کوئی اسے توڑنے کی جرأت نہیں کرتا‘ہر جگہ معذور افرادکے لئے علیحدہ راستے تعمیرکئے جاتے ہیں چاہے اس کے لئے کتنا ہی خرچہ کرنا پڑے ‘ سسٹم میں کوئی مداخلت نہیںکر سکتا کیونکہ تقریباً سارا نظام ہی کمپیوٹر آئزڈ ہے اور پھر ان کی خوش اخلاقی‘دل میں جو بھی ہو چہرے پر مسکراہٹ ہی رکھیں گے‘ ابوظہبی میں امریکی امیگریشن آفیسر نے میرے پاسپورٹ پر مہر لگاکر کلئیر کیا تو مسکراتے ہوئے بولا ’’You are good, sir‘‘ میں نے شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی پوچھا کہ ان بھول بھلیوں سے نکلنے کا راستہ کدھر ہے ‘اس نے کہا میرے ساتھ آئیں ‘میں دکھاتا ہوں‘اور پھر وہ مجھے خود دروازے تک چھوڑ کر آیا۔یقینا یہ لوگ پاکستانیوں سے امتیازی سلوک برتتے ہیں ‘ہماری امیگریشن کا مرحلہ دیگر کی نسبت کٹھن ہوتا ہے اور اس میں ہمارے ہی کرتوتوں کا عمل دخل ہے مگر انڈونیشیا تو ’’برادر اسلامی ملک ‘‘ ہے وہاں صرف دو ممالک سے ’’خصوصی سلوک‘‘ برتا گیا ‘ایک پاکستان اور دوسرے فلسطین‘یہ حال ہے مسلم امہ کا جس کا ماتم کرتے ہوئے ہم تھکتے نہیں ۔امریکہ میں قانون سب کے لئے یکساں ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فوج کا جرنیل بھی ہر سال کانگریس کی کمیٹی کے آگے اپنی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتا ہے ‘عوامی نمائندوں کے سخت سوالات کا جواب دیتا ہے‘اگر وہ کانگریس کی کمیٹی کو مطمئن نہ کرسکے تو اس کے بجٹ میں کٹوتی کر دی جاتی ہے اور یہ تمام کارروائی ٹی وی پر براہ راست دکھائی جاتی ہے!

میںاپنے ٹائم زون میں واپس آ چکا ہوں ‘لاچار اور مجبور افراد کے ٹائم زون میں جہاں لوگوں کی بے رنگ و بو زندگیاں فقط دو وقت کی روٹی حاصل کرنے کی جدو جہد میں گزر جاتی ہیں‘میں نے اپنی گھڑی کا وقت پاکستان سے ملا لیا ہے جو سترہ گھنٹے پیچھے تھی ‘حقیقت میں نہ جانے ہم کتنی صدیاں پیچھے ہیں !

بشکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں