.

پاک چین راہداری منصوبہ اور احسن اقبال

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اپنا تو خیال یہ تھا کہ میاں نوازشریف کے ساتھیوں کی صف میں جو شخص ان کے دشمن بنانے اور بڑھانے میں نمبرون ہونے کا اعزاز حاصل کریں گے وہ محترم عرفان صدیقی صاحب ہوں گے لیکن اب دکھائی دیتا ہے کہ ایک حوالے سے محترم احسن اقبال صاحب بھی ان سے آگے نکل جائیں گے ۔ صدیقی صاحب ماشاء اللہ اب بھی میا ں صاحب کے دشمنوں میں اضافہ کرنے میں لگے ہیں لیکن احسن اقبال صاحب اپنی حکومت کے ساتھ ساتھ پنجاب کے دوستوں کو بھی دشمن بنانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ بلکہ مجھے تو ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں وہ میاں صاحب کے ذوالفقار مرزا نہ بن جائیں جس طرح کہ وہ بارہ اکتوبر 1999ء کے فوراً بعد بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں بنے تھے۔

ذوالفقار مرزا پھر بھی صرف گالم گلوچ پر اکتفا کر جاتے ہیں لیکن احسن اقبال صاحب ساتھ ساتھ غداری کے سرٹیفکیٹ بھی بانٹتے ہیں ۔ یہ بنیادی طور پر احسن اقبال صاحب کا کام تھا کہ وہ چین پاکستان راہداری منصوبے سے متعلق تفصیلات اور حقائق قوم کے سامنے رکھتے اور سیاسی قیادت میں اتفاق رائے پیدا کرواتے لیکن اگر ان کے بقول ہم جیسے ’’جھوٹے‘‘ اور ’’غدار‘‘ حقائق کے برعکس تاثر پھیلا رہے ہیں تو بھی اس کے ذمہ دار وہ ہیں ۔ وہ اگر حکمران خاندان کی رضامندی کے حصول کے ساتھ ساتھ تھوڑا ساوقت اس منصوبے سے متعلق بلوچستان، گلگت بلتستان، سندھ اور پختونخوا کے رہنمائوں کے ساتھ مشاورت پر بھی لگاتے تو سلیم صافی جیسے لوگوں کو "جھوٹ" پھیلانے اور ’’غداری‘‘ کرنے کا موقع ہی نہ ملتا۔اب بھی وہ اپنا وقت اگر میرے خلاف پروپیگنڈے اور جھوٹ پر مبنی کالم لکھنے کی بجائے بنیادی سوالات کا جواب دینے پر صرف کریں تو ملک کے ساتھ ساتھ ان کے حق میں بھی بہتر ہوگا۔

آج میں پہلی مرتبہ یہ انکشاف کر رہا ہوں کہ روٹ میں تبدیلی کے منصوبے سے متعلق پہلی مرتبہ مجھے ایک سال اور ایک ماہ قبل بلوچستان کے بلوچ رہنمائوں نے اس وقت بتایا تھا جب میں اسٹاف کالج کوئٹہ میں لیکچر دینے وہاں گیا تھا۔ اس وقت سے لے کر دسمبر 2014ء تک یہ ایشو میں اور بلوچستان سے تعلق رکھنے سعید مندوخیل جیسے منتخب نمائندے خلوتوں میں حکمرانوں کے ساتھ اٹھاتے رہے ۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نے بھی کئی مواقع پر اس ایشو کو اٹھایا۔ مجبور ہوکر میں نے چین کے صدر کے دورے سے بہت پہلے 9 دسمبر 2014ء کو پہلا کالم لکھا لیکن احسن اقبال صاحب اور ان کے ساتھی اس حوالے سے خاموش رہے ۔ پھر جب میں نے تنگ آکر ٹی وی پروگرام میں اس ایشو کو اٹھایا تو اس کے بعد وہ میدان میں آئے ۔ لیکن روٹ سے متعلق مسلسل بیانات بدل رہے ہیں۔ دور جانے کی ضرورت نہیں ۔ فروری 2015ء میں انہوں نے جیو نیوز پر میرے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں روٹس کے بارے میں جو کچھ ارشاد فرمایا ، اسے کوئی بھی ہمارے پروگرام کی فیس بک سائٹ پر ملاحظہ کرسکتا ہے ۔ اگر احسن اقبال صاحب کے اس بیان اور تازہ ترین بیان میں تضاد نہ ہو تو میں جھوٹا اور اگر واقعی تضاد ہو تو پھر اس ’’اعزاز‘‘ کے مستحق وہ خود قرار پائیں گے۔

اس پروگرام میں وہ بتاتے ہیں کہ مغربی روٹ کی تعمیر پر دس بارہ ارب ڈالر خرچہ آئے گا اور اس کے لئے دس بار سال کا عرصہ درکار ہے لیکن میرے جواب میں انہوں نے 21اپریل کو روزنامہ جنگ میں جو کالم تحریر فرمایا ہے ، اس میں وہ لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے کام مغربی روٹ پر شروع ہوا ہے اور یہ کہ وہ 2016 ء میں مکمل ہوگا۔ یہ سڑک اگر مکمل بھی ہوگی تو وہ موٹروے نہیں بلکہ سنگل سڑک ہے ۔ اسی ٹی وی پروگرام میں احسن اقبال صاحب فرماتے ہیں کہ ٹریڈ کاریڈور کے لئے چھ لائن موٹروے کی ضرورت ہے لیکن کالم میں تحریر فرماتے ہیں کہ مغربی روٹ صرف ایک سال بعد مکمل ہوگا ۔ گویا وہ سنگل سڑک کو ٹریڈ کاریڈور کا روٹ باور کرا رہے ہیں۔ اب ہم احسن اقبال صاحب کی کونسی بات پر یقین کریں ۔ وہ جو انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں کہی تھی یا وہ کہ جو انہوں نے ’’جنگ‘‘ کے کالم میں تحریر کی ہے ۔میں یہ سطور حالت سفر میں تحریر کررہا ہوں اور میرے سامنے اپنا ریکارڈ موجود نہیں لیکن جو بنیادی سوال گزشتہ کالم میں اٹھایا گیا تھا وہ یہ تھا کہ چین نے مشرقی چین سے وسائل اٹھا کر پسماندہ مغربی چین پر خرچ کئے ۔ اپنی رائے یہ تھی چینی اصول کے مطابق مشرقی کی بجائے ، مغربی روٹ کو تجارتی روٹ بنانا اور اکنامک زونز وہاں تعمیر کرنا ضروری ہے ۔

میں توقع کررہا تھا کہ وہ اپنے جواب میں یہ ثابت کریں گے کہ ان کا منصوبہ کس طرح ان چینی اصولوں سے ہم آہنگ ہے لیکن اس کی کسی بھی طرح کی وضاحت کرنے کی بجائے انہوں نے سارا وقت میری نیت پر شک کرنے اور بغیر کسی دلیل کے مجھے ملکی ترقی کا مخالف اور جھوٹا ثابت کرنے پر صرف کیا ہے ۔ دوسرا بنیادی سوال اس میں یہ تھا کہ گوادر اور تجارتی راہداری پر سب سے زیادہ حق بلوچستان اور گلگت بلتستان کے عوام کا ہے ۔ اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ احسن اقبال صاحب جواب میں وزیراعلیٰ پنجاب کے دوروں کی تفصیل کے ساتھ ساتھ بلوچستان ، گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ کے دورہ ہائے چین کی تفصیل سامنے لاتے یا پھر یہ بتاتے کہ کہاں کہاں بلوچستان اور گلگت بلتستان کے عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لیا گیا ہے لیکن ایسی کسی تفصیل کے بجائے انہوں نے لعن طعن پر اکتفا کیا ہے ۔

انہوں نے اپنے کالم میں مجھ سے پرانے روٹ کا نقشہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے تو اس کے جواب میں عرض یہ ہے کہ وہ خود بار بار فرما چکے ہیں کہ اگست 2014ء میں چینی حکومت اور پاکستانی حکومت کے ورکنگ گروپس نے تیاری مکمل کرلی تھی اور اگر دھرنے نہ ہوتے تو اس منصوبے پر کام کا آغاز ستمبر 2014ء میں ہوجاتا ۔ یقیناً چینی حکومت کے ساتھ روٹس کے نقشے کو بھی اس وقت حتمی شکل دی گئی ہوگی۔ اب دس ماہ کے دوران احسن اقبال صاحب اصل نقشہ قوم کے سامنے نہیں لاسکتے تھے ۔ اگر دال میں کچھ کالا نہیں ہے تو انہوں نے نقشہ کیوں نہیں دکھایا۔ وہ اگر صحیح نقشہ سامنے لاتے تو لوگوں کو سوشل میڈیا پر بقول ان کے غلط نقشے پیش کرنے کا موقع نہ ملتا۔احسن اقبال صاحب نے حالیہ دنوں میں جو نقشہ تیار کرکے ہم جیسے لوگوں کو خاموش کرنے کے لئے پیش کیا ہے ، اس میں روٹس کچھ اور ہیں جبکہ چین کے سرکاری ٹی وی پر جو نقشہ دکھایا گیا ہے ،اس میں روٹ کوئی اور ہے ۔

اب میں احسن اقبال صاحب کو سچا اور مستند مان لوں یا پھر چین کے سرکاری ٹی وی کو ۔ جہاں تک سابقہ روٹ کے ثبوت کا تعلق ہے تو کاغذ پر آج بھی مجھے احسن اقبال صاحب نے کوئی ثبوت نہیں دیا۔ وہ ہم سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ہم ان کے زبانی دعوئوں اور زبانی نقشوں کو جو ہر روز بدلتے ہیں پر یقین کرلیں۔ اسی اصول کے تحت میں شاہ محمود قریشی کے زبانی دعوے کی بنیاد پر بات کررہا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں کہ وزیرخارجہ کی حیثیت سے ان کی چین کے ساتھ مغربی روٹ پر ہی بات چیت ہورہی تھی ۔ یہی گواہی ماضی کی حکومتوں کا حصہ رہ جانے والے مولانا فضل الرحمان بھی دے رہے ہیں ۔یہی دعویٰ خورشید شاہ اور اسفندیارولی خان بھی کررہے ہیں ۔ اب میں ان سب پر یقین کرلوں یا پھر احسن اقبال صاحب پر ۔

رہی غداری اور اے این پی وغیرہ کی بات تو احسن اقبال صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ اے این پی کے جو لیڈر افغانستان منتقل ہو کر پختون زلمے کے سربراہ کی حیثیت سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کی قیادت کررہے تھے ، ان کا نام اعظم خان ہوتی تھا۔ اس اعظم خان ہوتی صاحب کو پہلی مرتبہ سیاسی ضرورت کے تحت وزیر ، میاں نوازشریف صاحب نے بنایا ۔ جب لاہور اسلام آباد موٹروے پر کام کا آغاز ہورہا تھا تو یہی اعظم خان ہوتی مواصلات کے وزیر تھے ۔ دنیا میں جب بھی کوئی سڑک بنتی ہے تو ایک سرے سے شروع ہوتی ہے یا دوسرے سرے سے ۔ میاں نوازشریف کی خواہش کے مطابق اعظم ہوتی صاحب نے وہ موٹروے طورخم سے شروع کی اور نہ کراچی سے بلکہ پہلی فرصت میں لاہور کو اسلام آباد سے جوڑ دیا۔

اس وقت میاں نوازشریف کے لئے احسن اقبال کا کردار اعظم خان ہوتی صاحب ادا کررہے تھے ۔ تب نہ تو کسی احسن اقبال نے سوال اٹھایا کہ ایک ایسے شخص کو وزیرمواصلات کی حیثیت سے موٹروے کے پروجیکٹ کا انچارج کیوں بنایا گیا ہے اور نہ کسی پختون نے اعتراض کیا کہ پشاور اسلام آباد سیکشن سے پہلے لاہور اسلام آباد سیکشن کیوں بنایا جارہا ہے ۔ اے این پی والے اگر ہر ترقیاتی منصوبے کے مخالف ہوتے تو اس وقت بھی مخالف بنتے اور وہ اگر ہندوستان کے ایجنٹ تھے تو پھر سوال یہ ہے کہ اس وقت احسن اقبال صاحب یا ان کے لیڈر کو ان کی غداری کیوں نہ یاد آئی ۔ بہر حا ل میں ماضی میں بھی محترم احسن اقبال صاحب کو اپنے پروگرام کا پلیٹ فارم دو مرتبہ فراہم کرچکا ہوں (دوسری طرف انہوں نے اس حوالے سے صحافیوں کو دی جانے والی بریفنگز میں مجھے کبھی نہیں بلایا) اور اگر انہیں اصرار ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں تو میں ایک بار پھر انہیں پیشکش کرتا ہوں کہ وہ آکر میرے پروگرام میں اس حوالے سے سوالوں کا جواب دیں۔

---------------------

بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.