.

منفرد، گہرے اور پائیدار پاک سعودی تعلقات

ڈاکٹر علی عواض العسیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مملکت سعودی عرب کا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ غیر معمولی تعلق محبت کی بنیاد پہ استوار اور سیاسی اکھاڑ پچھاڑ سے مبرا ہے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے سیاسی، دفاعی، اقتصادی اور ثقافتی میدانوں میں یہ رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہوا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ نو منتخب پاکستانی وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کی کرشماتی قیادت میں یہ مزید بہتر ہو گا۔

شہباز شریف نے ماہِ مقدس میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ممکن ہے اس موقعہ پہ وہ پاک سعودی تعلقات کی تجدید کے لیے سعودی قیادت سے بھی ملاقات کریں۔

پاکستان میرا دوسرا گھر ہے۔ میں نے 2001 سے 2009 کے درمیان اپنے سفارت کیریئر کا ابتدائی دور اسلام آباد میں گزارا۔ میں شہباز شریف کی انتظامی صلاحیتوں سے آگاہ ہوں۔ بطور وزیرِ اعلیٰ انہوں نے اپنے صوبے کی ہئیت ہی بدل دی تھی۔ نواز شریف نے، جو نو منتخب شدہ وزیرِ اعظم کے بڑے بھائی ہیں، تین بار وزیرِ اعظم رہتے ہوئے پارلیمانی اداروں کو مربوط کیا اور پاکستان کو مسلم دنیا کی واحد ایٹمی ریاست بنایا۔

افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کے بعد اسے افغان ہی نہیں مغربی سرحد پہ بھی نازک صورتحال کا سامنا ہے۔ مشرقی سرحد کے اس پار بھی انتہا پسند طاقتوں کی وجہ سے مسئلہ کشمیر مزید پیچیدگیوں کا شکار ہے۔

اندرونی طور پر معاشی بگاڑ نے سیاسی استحکام کو ہی نہیں بلکہ بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو بھی متاثر کر رکھا ہے۔ لیکن مجھے شہباز شریف کی صلاحیت اور ہمت پہ بھروسہ ہے۔ وہ پاکستان کی با معنی ترقی کے لیے سعودی عرب کی غیر متزلزل حمایت پہ بھروسہ کر سکتے ہیں۔

سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کی فلاح اور خوشحالی کی جدو جہد میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ یہ قابلِ فخر روایت قیامِ پاکستان سے قبل شروع ہو گئی تھی جب 1940میں قراردادِ پاکستان کی منظوری کے بعد اس وقت کے ولی عہد شہزادہ سعود بن عبدالعزیز نے کراچی کا دورہ کیا اور مرزا ابوالحسن اصفہانی سمیت آل انڈیا مسلم لیگ کے راہنماؤں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

سعودی عرب پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں شامل تھا۔ 1951 میں دونوں ممالک کے مابین دوستی کا معاہدہ بھی ہوا۔ 1954 میں شاہ سعود نے کراچی میں ایک ہاؤسنگ سکیم کا سنگِ بنیاد رکھا جو سعود آباد کہلائی۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ اور بعد ازاں 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے۔

1970 کی دہائی میں شاہ فیصل اور ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں دو طرفہ تعلقات کے ایک شاندار دور کا آغاز ہوا۔ 1974کا او آئی سی لاہور اجلاس اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

پاکستانی عوام کو شاہ فیصل سے محبت تھی۔ فیصل مسجد اسلام آباد، فیصل آباد شہر اور شاہراہ فیصل کراچی سب انہی سے منسوب ہیں۔ یہ اسی عرصے کی بات ہے جب سعودی عرب کے دروازے پاکستانی محنت کشوں پہ کھلے اور بھارتی جوہری عزائم کو ناکام بنانے کے لیے سعودی عرب نے بھٹو کو مالی امداد فراہم کی۔ سوویت مخالف جنگ میں بھی سعودی عرب کا فعال کردار ہے۔ 1983 میں ہونے والے ایک دو طرفہ دفاعی تعاون کے معاہدے کی رو سے پاکستان سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مدد فراہم کرتا ہے۔

1997میں پاکستان نے اپنی آزادی کی پچاسویں سالگرہ کے موقعے پر او آئی سی کا ایک غیر معمولی اجلاس منعقد کیا جس نے شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے شرکت کی۔ 1998 کے ایٹمی تجربوں کے بعد پاکستان نے سخت مغربی پابندیوں کو سعودی عرب کی مدد سے جھیلا۔

ہنگامہ خیز دور میں پاکستان میں سعودی سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد، مجھے دہشت گردی کی سنگینی واضح طور پر یاد ہے جس کا سامنا ہماری قوموں کو نائن الیون کے بعد کرنا پڑا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عروج کے دور میں ہم نے مل کر اس خطرے کا مقابلہ کیا۔ اپنی قیادت کی ہدایات اور رہنمائی پر میں نے ملک کے استحکام اور سلامتی کے معاملات میں مدد کے لیے پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادتوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا۔

جب 2005 میں آزاد جموں و کشمیر میں ایک تباہ کن زلزلہ آیا تو سعودی عرب پہلا ملک تھا جس نے متاثرین کو ہنگامی امداد فراہم کرنے کے لیے ایک فضائی راہداری قائم کی، جس میں دو جدید ترین فیلڈ ہسپتال پیشہ ور سعودی ڈاکٹروں کے ذریعے چلائے گئے۔ او آئی سی کے ذریعے، ہم نے مل کر اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز پر اسلامی امن کے مقصد کی حمایت کی۔

پاکستان چھوڑنے کے ایک دہائی بعد، جنوری 2019 میں، میں لبنان میں فرائض انجام دینے اور سفارتی خدمات سے سبکدوش ہونے کے بعد اسلام آباد واپس آیا تو مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ پاکستان نے نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے دہشت گردی کی لعنت کو کامیابی سے شکست دی ہے۔ دانشوروں کے ساتھ بات چیت سے معلوم ہوا کہ پاکستانی عوام ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت سعودی عرب کی جدید کاری کی مہم کے بارے میں پرجوش ہیں۔ ایک ماہ بعد، نوجوان سعودی رہنما پاکستان کے ساتھ مملکت کے اقتصادی تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی کا اعلان کرنے کے لیے اسلام آباد پہنچے۔

نومبر 2018 میں، ولی عہد نے پاکستان کے لیے 6۔2 بلین ڈالر کے ہنگامی اقتصادی ریلیف پیکج پر دستخط کیے تھے، جس میں 3 ارب ڈالر کے قرضے اور 3۔2 بلین ڈالر کے تیل کے قرضے کی سہولت اگلے تین سالوں کے لیے سالانہ بنیادوں پر تھی۔ متحدہ عرب امارات نے بھی اسی طرح کی اقتصادی امداد کے پیکج دیے۔ یہ سب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے موجودہ ۶ بلین ڈالر کے بیل آؤٹ کی منظوری سے کئی ماہ پہلے ہوا۔

سعودی عرب کے تمام قائدین نے پاکستانی عوام کے اپنے لیڈر کے انتخاب کے حق کا احترام کیا ہے چاہے وہ سویلین ہو یا فوجی۔ ملک نے ہمیشہ ان کے ساتھ عزت اور وقار کا معاملہ کیا ہے۔

شاید ولی عہد کے 2019 کے دورے کا سب سے اہم اقدام پاکستان میں سعودی عرب کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کا اختتام تھا، جس میں 20 بلین ڈالر کے سودے شامل ہیں- ان میں 10 بلین ڈالر کی آرامکو آئل ریفائنری اور گوادر کے اسٹریٹجک بندرگاہ میں پیٹرو کیمیکل کمپلیکس شامل ہیں۔ ولی عہد نے عمران خان کو خوش دلی سے کہا کہ میں سعودی عرب میں آپ کا سفیر ہوں۔ سال کے آخر میں، انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم کو نیویارک جانے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے کے لیے اپنا ذاتی طیارہ پیش کیا۔

اگلا منطقی قدم پاکستان میں سعودی اقتصادی منصوبوں کے لیے مشترکہ طور پر ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنا ہوتا۔ بدقسمتی سے، مسلم دنیا میں سعودی عرب کے منفرد مقام سے دشمنی رکھنے والی بین الاقوامی قوتوں نے سعودی پاکستان تعلقات میں ابھرتی ہوئی تبدیلی کو جیو پولیٹکس سے جیو اکنامکس کی طرف موڑنے کی سازش کی۔ سیاق وسباق واضح تھا: چین سعودی تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے اور سعودی عرب چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو میں شرکت کے ذریعے اپنے عالمی اقتصادی روابط کو متنوع بنا رہا ہے۔

یقیناً وزیراعظم شہباز شریف کی فوری ترجیح اندرون ملک بے مثال معاشی بحران پر قابو پانا ہے جس کے لیے میرے خیال میں وہ اضافی سعودی تعاون حاصل کریں گے۔ مجھے کوئی شک نہیں کہ سعودی قیادت پاکستان کو کبھی مایوس نہیں ہونے دے گی۔ یہ اگلے عام انتخابات سے قبل مخلوط حکومت کے لیے ایک مستحکم سیاسی ماحول کو یقینی بنائے گا، جو کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

سعودی عرب میں 20 لاکھ سے زیادہ پاکستانی ورکرز ہیں جس کے باعث یہ پاکستان کا سب سے بڑا ترسیلات زر کا ذریعہ ہے (اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2019 اور اپریل 2020 کے درمیان 4۔4 بلین ڈالرز کی ترسیل ہوئی)۔ لیکن ان میں سے زیادہ تر غیر ہنر مند یا نیم ہنر مند لیبر کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس سے میں نئی حکومت کو یاد دلاتا ہوں کہ وہ ہنر۔مند افرادی قوت کو تربیت دینے کے لیے پیشہ ورانہ ادارے بنانے پر توجہ دے تاکہ پاکستان تیزی سے مسابقتی سعودی لیبر مارکیٹ میں کامیاب ہو سکے۔

ویژن 2030 کا مقصد 500 بلین ڈالر کے NEOM سٹی جیسے میگا ڈویلپمنٹ پروجیکٹس کے ساتھ سعودی عرب کو عالمی اقتصادی مرکز بنانا ہے۔ پاکستان کے پاس سعودی عرب کی بعد از صنعتی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے کافی ہنر مند نوجوان موجود ہیں۔ اسطرح ترسیلات زر کے ذریعے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھایا جا سکتا ہے۔

اس سلسلے میں پہلا قدم پاکستانیوں کی بھرتی اور مہارت کی تصدیق کے حوالے سے دو طرفہ معاہدوں کے ذریعے پہلے ہی اٹھایا جا چکا ہے، جس سے مملکت میں متنوع پیشوں کے لیے ہنر مند اور تصدیق شدہ کارکنوں کی برآمد کے عمل ممکن بنایا جائے گا۔ پاکستان کا نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن اور سعودی حکومت کا ذیلی ادارہ تکامل مشترکہ طور پر کنگڈم سکلز ویری فکیشن پروگرام کے تحت اس کام کا انتظام کریں گے۔ یہ ممکنہ پاکستانی افرادی قوت کو سعودی ترقیاتی شعبے میں کامیاب بھرتی کے لیے ہندوستانی اور دیگر غیر ملکی امیدواروں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے قابل بنائے گا۔

سرمایہ کاری اور تجارت اقتصادی تعاون کے دو دیگر اہم شعبے ہیں جہاں دونوں ممالک کے چیمبرز آف کامرس اور انڈسٹریز کو متعلقہ حکومتی وزارتوں کی مدد سے اپنی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سعودی حکومت پہلے ہی پاکستان میں ریفائنری اور پیٹرو کیمیکل کمپلیکس کی ترقی اور کان کنی اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں پر 20 بلین ڈالر خرچ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ لیکن پاکستانی معیشت کے دیگر شعبوں میں نجی سعودی کمپنیوں کی طرف سے سرمایہ کاری کی بہت گنجائش ہے۔

پاکستان کا شہر سیالکوٹ عالمی سطح پر کھیلوں کے سامان اور آلات جراحی کے مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہ سعودی سرمایہ کاری کے لیے ایک مثالی جگہ ہوگی۔ کراچی اور فیصل آباد میں صنعتی زون اس مقصد کے لیے اضافی انتخاب ہو سکتے ہیں۔

پہلے سے طے شدہ ریفائنری اور پیٹرو کیمیکل پروجیکٹس سعودی پبلک سیکٹر کی سرمایہ کاری کو پاک چین اکنامک کوری ڈور [سی پیک] کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں۔ اقتصادی راہداری کے ساتھ متعدد خصوصی اقتصادی زونز کی منصوبہ بند ترقی، جو چین کے سنکیانگ سے نکل کر گوادر پر ختم ہوتی ہے، سعودی نجی سرمایہ کاری کو بھی راغب کر سکتی ہے۔

لہذا، دونوں ممالک کے چیمبرز آف کامرس اور انڈسٹریز کے نمائندوں کو زیادہ کثرت سے بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی حکومت کو بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی سرمایہ کاری کی آسانی سے واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری قانونی اصلاحات کر کے نجی سعودی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے سرکردہ کاروباری خاندانوں کے لیے سعودی عرب میں رئیل اسٹیٹ، سیاحت اور خدمات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی بھی زبردست گنجائش موجود ہے۔

گذشتہ دو دہائیوں میں پاکستان نے شہری ترقی میں زبردست ترقی کی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس کا دائرہ بیرون ملک بڑھایا جائے، جس کے لیے سعودی عرب انتہائی مہمان نواز اور محفوظ ماحول فراہم کرتا ہے۔بدقسمتی سے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان سیاسی اور ثقافتی قربت کے باوجود باہمی تجارت کی سطح انتہائی کم ہے۔ فی الحال سالانہ $3 بلین ہونے کا تخمینہ ہے، دو طرفہ تجارت کو ایک آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے مذاکراتی عمل کو تیز رفتاری سے بڑھانا چاہیے۔ ایف ٹی اے پر بات چیت کا آغاز 2018 میں ہوا۔ اس کے بعد دونوں متعلقہ چیمبرز آف کامرس اور انڈسٹریز کے نمائندوں نے دوروں کا تبادلہ کیا۔

اقتصادی تعاون کو سلامتی کے شعبے میں دوطرفہ تعلقات کے مستقل نمونے کی تقلید کی ضرورت ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تقدس کے دفاع سے لے کر دہشت گردی کی لعنت کو شکست دینے تک، پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کا اہم شراکت دار اور ایک بڑا مسلم کھلاڑی رہا ہے۔ دونوں ممالک کے دفاعی اداروں کے فوجی تربیت اور مشاورتی شعبوں میں غیر معمولی قریبی تعلقات ہیں۔ سعودی اور پاکستانی فوجی رہنماؤں اور سیکیورٹی حکام کے باہمی دورے معمول ہیں۔

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کئی بار مملکت کا دورہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد اور ریاض میں نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے بات چیت کی ہے۔ یہ کہ ان کے پیشرو، جنرل راحیل شریف نے 41 رکنی اسلامی ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم الائنس کی کمانڈ کی ہے، جس کا صدر دفتر ریاض میں ہے۔سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان حال ہی میں دو مرتبہ اسلام آباد کا دورہ کر چکے ہیں۔

گذشتہ دسمبر میں، انہوں نے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے کامیاب خصوصی اجلاس میں شرکت کی، جو افغانستان میں انسانی بحران کے جواب میں منعقد ہوا تھا۔ پھر، گزشتہ ماہ، انہوں نے مسئلہ کشمیر سمیت مسلم دنیا کے اہم چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے 48ویں اجلاس میں شرکت کی۔ تاہم سٹریٹجک معاملات میں سعودی اور پاکستانی ہم آہنگی میں بہتری کی گنجائش اور ضرورت ہے۔

میں اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ ہمارے تاریخی تعلقات نے ایک طویل سفر طے کیا ہے اور اس کا ارتقاء ٹھوس ترقی کی وسیع راہیں کھول رہا ہے۔ دوستی کا ایک نادر جذبہ دونوں قوموں کو یکجا کیے ہوئے ہے۔ اللہ پاک سعودی عرب اور پاکستان کو ایک روشن مستقبل کے لیے اپنے مشترکہ مقصد میں کامیاب کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر علی عواض العسیری سعودی عرب کے سینیئر سابق سفارتکار ہیں۔ آپ 2001-2009 کی مدت کے دوران پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر تعینات رہے۔ ڈاکٹر العسیری نے بیروت عرب یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ آپ ’’دہشت گردی کا مقابلہ: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا کردار‘‘ کے عنوان سے لکھی جانے والی کتاب کے مصنف ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں