.

سعودی امریکہ تعلقات کی اصلاح؟

برناڈ ہیکل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن نے مشرق وسطیٰ کا دورہ تکمیلی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ جن حالات میں یہ دورہ طے ہوا انہیں خیال میں رکھتے ہوئے یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے دو طرفہ تعلقات ہمیشہ کے مقابلے میں کمزور ترین درجے میں ہیں۔ جمعہ کے روز جدہ پہنچنے والے جو بائیڈن کی طرف سے ان تعلقات کی بروقت اصلاح کی کوشش نہیں کی گئی تھی۔ یہی حال سعودی قیادت کا رہا۔ نتیجہ دونوں ملکوں کے نقصان کی صورت میں سامنے آیا۔ دونوں طرف کے مفادات کو دھچکہ لگتا رہا۔ اچھی بات ہے کہ اس معاملے کا ادراک اب دونوں جانب پایا جاتا ہے۔

سعودیوں کو یہ مسلسل نظر نہیں آیا کہ امریکہ ایک پرانے اتحادی کے ساتھ گہرے سٹریٹجک مفادات کے لیے متوجہ رہا ہے۔ امریکہ نے ڈیموکریٹس کے ترقی پسند ونگ کے چکروں میں آ کر بعض اقدار کے نام پر اپنی خارجہ پالیسی کو دیکھنا شروع کر دیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ ایرانی ملاوں کے ساتھ روابط کی کوشش بھی کی جاتی رہی۔ جبکہ جو بائیڈن انتظامیہ سعودی عرب کے حوالے سے بعض ایسی پالیسیوں کو بطور خاص بروئے کار لانے کی کوشش میں رہی جو انسانی حقوق کے پس منظر میں بتائی جاتی تھیں۔ ان میں یمنی جنگ کا حوالہ دیا جاتا رہا اور تیل کی پیداواری صورت حال بھی امریکہ کے پیش نظر رہی۔

تعلقات کو پہنچنے والے نقصان کو بڑھتا ہوا دیکھا جاتا رہا۔ اس دوران سعودی عرب اور چین کے درمیان تعلقات کی گرمجوشی میں اضافہ ہونے لگا۔ صدر شی جن کا ملک سعودی عرب کا اب 'لیڈنگ ٹریڈ پارٹنر' بن چکا ہے اور اس کے ساتھ سعودی عرب کے درآمد وبرآمد کے دوہرے تعلقات ہیں وہ رواں سال کے آخر میں ریاض کے دورے پر بھی آ رہے ہیں۔ یقیناً صدر شی کا استقبال والہانہ ہو گا۔ چینی سعودیہ کے ساتھ اپنے دو طرفہ تعلقات کو امریکہ کی قیمت پر بڑھانے کے آرزو مند ہیں۔ اس کے نتیجے میں امکان ہے کہ چین کے ساتھ تیل کی تجارت کا سلسلہ بھی چل پڑے جو ممکنہ طور پر ڈالر کی بدولت ہو سکتا ہے۔

حقیقت کی جگہ اقداری خارجہ پالیسی کی طرف اس جزوی جھکاو امریکہ کو مہنگا پڑا ہے۔ تاہم اب یہ ہے کہ جو بائیڈن اور ان کے مشیران سعودیہ کے ساتھ تعلقات کی تجدید کو باہمی مفادات اور ذمہ داریوں کی بنیاد پر چاہتے ہیں۔ اسے عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلوں کے ماحول میں سعودیہ کی اہمیت کو قدرے تاخیر سے تسلیم کرنے کا ایک اشارہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ صدر جو بائیڈن اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان جدہ میں گشتہ روز سے شروع ہونے والی ملاقاتوں اور مذاکرات کا نتیجہ کس صورت میں سامنے آتا ہے، گویا یہ ملاقاتیں تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے ایک لٹمس پیپر ثابت ہو سکتی ہیں۔

صدر جو بائیڈن کی جدہ آمد پر امریکی سفیر اور گورنر مکہ خیر مقدم کر رہے ہیں
صدر جو بائیڈن کی جدہ آمد پر امریکی سفیر اور گورنر مکہ خیر مقدم کر رہے ہیں

جو بائیڈن کل سے جدہ میں ہیں۔ اگر جو بائیڈن کی سعودیہ کے بارے میں پالیسی کو عمل کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ اپنے پرانے سٹریٹجک اتحادی ریاض کو نیچے لگانے کی رہی ہے۔ اس پالیسی میں ولی عہد کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ امریکہ اگلے سعودی حکمران کے حوالے سے اشارہ دے رہا تھا کہ اس کے خیال میں آنے والا سعودی حکمران کسے ہونا چاہیے اور کسے نہیں۔ امریکہ کی سعودی عرب کے لیے اس مداخلت کی ماضی میں مثال نہیں رہی۔ ماضی کی تما م امریکی حکومتیں یہ سمجھتی تھیں کہ ایسا کرنا سعودی خودمختاری کے خلاف بات ہو گی اور اس طرح سعودی عرب میں عدم استحکام بھی ہو سکتا ہے۔

امریکہ کی حالیہ برسوں میں پالیسی کی اس تنزلی کی وجہ سے امریکہ سعودیہ کے سٹریٹجک اتحادی ہونے پر بھی سوال اٹھے، کہ تقریبا آٹھ دہائیوں سے جاری اتحاد کی وجہ سے ہی تیل کی عالمی منڈی میں استحکام رہا۔ کیمونزم کا مقابلہ ممکن ہوا۔ بعد ازاں االقاعدہ اور داعش کی شکست ممکن بنائی گئی۔ حقائق کی دنیا نے جو بائیڈن انتظامیہ کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنی حقیقی دنیا سے دور والی اقدار کے بجائے ان تلخ سچائیوں اور مشرق وسطیٰ کی کڑی حقیقتوں کے پیش نظر خود کو تبدیلی پر مائل کرے۔ وقت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکراتی پالیسی کے ذریعے جوہری معاملے میں کسی نتیجے پر پہنچنا ممکن نہیں ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن انتظامیہ کو اندازہ ہوا ہے کہ سعودی عرب کے بغیر وہ تیل کی قیمتوں کو نیچے نہیں لا سکتا ہے۔ نہ ہی یہ ممکن ہے کہ اپنے اتحادیوں مصر اور اردن کے لیے استحکام کی امید کر سکتا ہے۔ اسی طرح ان ملکوں میں اشیائے خورو ونوش کی قیمتوں کا بہت اوپر چلے جانا، شرح سود کا بڑھ جانا اور اس طرح کے دیگر کئی چیلنجوں کا درپیش ہونا امریکہ کے لیے بھی باعث تشویش ہے۔ یہ بھی اندازہ ہوا ہے کہ سعودیہ کے بغیر امریکہ اسرائیل اور عرب دنیا کے درمیان امن کی خواہش آگے نہیں بڑھا سکتا۔

یہ معاملہ اس طرح نہیں کہ صرف جو بائیڈن انتظامیہ نے سعودی عرب کے حوالے سے غلط رخ سے سوچا ہے۔ امریکہ کی دونوں جماعتیں یہ کرتی آئی ہیں۔ کئی امریکی حکام تو سعودیہ کو ایک بڑے گیس سٹیشن کے طور یاد کرتے رہے ہیں۔ ان کے ریاض کے دورے صرف اس وقت تیل کے بیرل بڑھانے کے لیے ہوتے تھے جب گیس کی قیمتیں مارکیٹ میں بڑھ جاتیں اور نتیجے میں انتخابی چیلنج درپیش ہونے کا بھی خطرہ پیدا ہو جاتا۔ ان تعلقات کی صورت گری اکثر امریکی میڈیا کرتا رہا۔ حتیٰ کہ یہ بھی کہا جاتا رہا کہ 1945 میں شاہ عبدالعزیز اور روز ویلٹ کے درمیان کچھ باتیں طے ہوئی تھیں۔ مگر یہ دعویٰ حقیقت سے کوئی تعلق رکھتا ہے نہ ایسا کوئی معاہدہ ہوا تھا۔ ان کے درمیان تعلقات کی ہمیشہ نوعیت تیل سے اوپر تھی۔ جدہ میں جوبائیڈن نے ضرور اس پر بھی بات کرنا ہو گی کہ تیل کی پیداوار کیا ہونی چاہیے۔ مگر یہ ملاقاتوں کو حاصل کلام نہیں ہونا چاہیے۔

تیل کی پیداورا اور قیمتوں کا جہاں تک تعلق ہے یقیناً اس میں سعودی عرب کو کچھ وقت درکار ہو گا کہ سب کچھ اکیلے نہیں کیا جا سکتا۔ اصل ضروت ہے کہ دنیا اور خطے کو درپیش دیگر اہم مسائل پر بھی بات ہو ۔ ان میں یمن کی جنگ کا خاتمہ اور تباہ شدہ یمن کا کی بحالیات کا کام ہے۔ انسانی حقوق کی بہتری اور اس کے ساتھ قانون کی بالادستی کے معاملات، ترقی پذیر ممالک کی مدد کرنا جن کے ہاں خوراک کے مسائل سنگینی اختیار کر رہے ہیں۔

گندم اور توانائی کی قیمتیں بہت زیادہ ہو چکی ہیں۔ سعودیہ کو ایرانی میزائلوں، ڈرونز اور پراکسیز سے محفوظ بنانا نیز ایران کی خطے میں عدم استحکام لانے والی سرگرمیوں کا جائزہ لینا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں رابطہ کاری کو بہتر کرنا، یوکرین جنگ کے معیشت پر اثرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے پر غور کرنا، فلسطینیوں کے حقوق اور اسرائیل کے ساتھ امن کا حصول ممکن بنانا، سعودی عرب میں مثبت سماجی اور معاشی تبدیلیوں کو آگے بڑھانا۔ ان سب امور کو اداراتی اور حکومتی سطح پر ڈیل کرنا نہ کہ ٹرمپ کی طرح چیزوں کو ذاتی انداز میں ڈیل کرنا۔ امریکی صدر کے اس دورے سے اگر اس انداز سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے گی تو اس میں معاملات ہی نہیں علاقے میں بھی پائیداری آئے گی اور تعلقات میں بھی۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں