پنڈورا باکسز کی تجارت زرمبادلہ کا ذریعہ بن سکتی ہے

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

یہ بات اس حوالے سے باعث شکر ہی کہی جائے گی کہ پاکستان کی حکمرانی پر سیدھے یا الٹے طریقے سے فائز ہونے والوں نے خود کو کبھی بھی روایات کی جکڑ بندیوں کے تابع نہیں کیا ہے۔ مطلب یہ کہ حکمرانی کا ہما کسی کے سر بیٹھا ہو، وہ کسی قومی ایجنڈے سے زیادہ ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے ہوتا ہے۔ قوم کی یکجہتی سے لے کر ملکی تعمیر و ترقی تک کوئی چیز قومی ویژن، قومی ضرورتوں اور اہداف سے جڑی نہیں رہی۔ اس لیے ہر آنے والی اور جانے والی حکومت جو بھی کام کرتی ہے، فخریہ طور پر یہ بیان کرتی ہے کہ یہ جو کام ہم کر رہے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں کبھی کسی نے نہیں کیا۔

75 برسوں میں معمولی رد وبدل کے ساتھ حکمرانی کے مزے لوٹنے والے یہ دعویٰ کسی شرمندگی کی بنیاد پر نہیں کرتے کہ کئی بار یا اتنے برس ان کی حکومت رہی مگر یہ کام انہوں نے اب پہلی بار کیا ہے۔

صدور، وزرائے اعظم، گورنر حضرات اور وزرائے اعلیٰ یہ بات اکثر مزے لے کر بیان کرتے ہیں، تالیاں بجواتے ہیں، سرخیاں جمواتے ہیں، شہ سرخیوں میں جگہ پاتے ہیں اور ہمیشہ ضرورت مندی وہوس میں مبتلا رہنے والے بڈھے کھوسٹ اور نوجوان تجزیہ کاروں سے بوجوہ کے ڈونگرے برسواتے ہیں۔

ماضی میں ننگے بادشاہ کی کہانی بادشاہوں کو بیوقوف بنانے اور ٹھگنے کی ایک تمثیل کا درجہ رکھتی تھی۔ لیکن پاکستان میں ہر دور کے حکمرانوں نے ہوشیار بیوروکریسی اور جنم جنم کے ضرورت مند میڈیا کے ذریعے ننگے عوام کی کہانی کا آغاز کیا ہے۔ یعنی ہر حکمران عوام کو دھوکہ دیتے ہوئے اسے بہترین پہناوا پہناتا ہے لیکن عملاً وہ پہناوا موجود ہی نہیں ہوتا۔ حکمرانوں کی خوش قسمتی ہے کہ اب کوئی بچہ بھی بےساختہ طور پر 'عوام ننگے ہیں' کی آواز بلند نہیں کرتا۔

اگر بات واضح کروں تو صوبہ بلوچستان، صوبہ سندھ، صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخوا کے دورے پر جانے والے وزرائے اعظم کی تقریروں میں اکثر یہ چیز مل سکے گی۔ اگر ماضی کے اخبارات سے گواہی لینا مشکل ہو تو آج کے اخبارات، الیکٹرانک میڈیا کے بلیٹن چند دن تک دیکھنے کا اہتمام کر لیں۔

میاں شہباز شریف پنجاب کے بڑے دھڑلے کے وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔ پنجاب میں ہی ان کے صاحبزادے حمزہ کے علاوہ بڑے بھائی جان میاں نواز شریف بھی وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ ہر سال برسات میں لاہور کے شمالی علاقے پانی میں ڈوبتے تھے مگر کئی دہائیاں لاہور اور پنجاب کے تخت کے مالک رہنے والے وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم جب سرکاری افسروں کی فوج ظفر موج، کیمروں کی بڑی تعداد اور صحافیوں کے ساتھ لاہور کے مصری شاہ، وسن پورہ، فیض باغ، چاہ میراں اور کوٹ خواجہ سعید وغیرہ نامی علاقوں میں سے کسی علاقہ میں 'لانگ شوز' زیب پا کر کے پہنچتے تو ہیروآنہ انداز میں دھکتے۔

جیسے کوئی 'سکس ملین ڈالر مین' گٹروں سے ابلتے پانی اور برساتی پانی کے ملاپ سے آ ٹکرایا ہو۔ اخبارات کے صفحہ اول بھرپور کوریج کے علاوہ حکومت کی خدمات کے تذکروں پر مبنی بڑے بڑے اشتہارات کے رنگ بکھیر رہے ہوتے۔ یوں اگلی برساتی تباہی تک یہ سلسلہ موقوف ہو جاتا۔ البتہ اخبارات دعا کرتے ہوں گے کہ پھر تباہی ہو یا پانی گلیوں اور گھروں میں بھر جائے، گٹر ابل پڑیں اور حکومتی خدمات کے بڑے سائز کے اشتہارات کا جواز ملے۔

پی پی پی کی سندھ حکومت نے بھی اشتہاری میدان میں اسی چیز کی نقل ماری ہے۔ اندرون سندھ ہی کیا کراچی بھی اشتہاروں کے علاوہ دیکھا جائے تو لاہور کے مصری شاہ اور چاہ میرا کے ہم پلہ ہیں۔ کراچی کے بےشمار علاقے بھی ہر سال موسم برسات میں کراچی کے گلی کوچے ہی نہیں گھر اور بنگلے بھی پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ لوگوں کا سامان تباہ ہوتا ہے لیکن تقریبا تواتر کے ستاھ قائم چلی آرہی پی پی پی حکومت اور اس کے نامزد ایڈمنسٹریٹر حضرات یہ کہہ رک پہلو بچا جاتے ہیں کہ بارشیں کراچی کا معمول نہیں ہیں اور اس بار روقع سے بھی زیادہ ہوئی ہیں یعنی 'جب بارش آتی ہے تو پانی آتا ہے۔'

بختاور اور بلاول کے صوبے میں عام سندھی کس حال میں ہے۔ حکومت سندھ چاہتی ہے کہ اس بارے میں دیکھنا ہو تو میڈیا پر چلنے والے اشتہارات سے استفادہ کیا جائے۔ ہر طرف ہرا ہی ہرا نظر آئے گا۔ یاد آیا ساون آنے سے پہلے پہلے سابق صدر کے جاری دورہ دوبئی کی ایک وجہ آنکھوں کا چیک اپ بھی سامنے آئی ہے۔

ہاں تو بات ان روایات کی ہو رہی تھی جنھیں حکمران طبقے نے پاکستان میں ابھرنے، پنپنے نہیں دیا۔ ان روایات میں اسلاف کا طریق زندگی تھا، اقدار تھیں، عزت و عزیمت تھی، ہمت و حمیت تھی، بھائی چارہ تھا، دیانت وصداقت تھی۔

پاکستان کے حکمران طبقے اور اشرافیہ نے البتہ پنڈورا باکس کھولنے کا کلچر ایسی غیر معمولی ایجاد کے طور پر پیش کیا ہے کہ ہر نیا آنے والا با اختیار شخص ایک نہیں کئی کئی نئے پنڈورا باکس نہ کھولے تو اسے اپنے ہونے کے جواز پر شرم کا احساس ہوتا ہے۔

کئی سطحوں پر تو نئے نئے پنڈورا باکس کھولنا لہو گرم رکھنے کا ایک مستقل عمل بن چکا ہے۔ پنڈورا باکسز کے تخلیق کار سمجھتے ہیں کہ نئے پنڈورا باکس جہاں نئے مسائل کی نشاندہی کا سبب بنتے ہیں وہیں نئے نئے مواقع بھی پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں۔

پس اس کے بعد پھر یہ اہلیت و صلاحیت پر انحصار ہے کہ کوئی معزز اور محترم ہستی اسے کیونکر بروئے کار لاتی ہے۔ ماضی میں یہ بات مذاق میں عام پاکستانیوں کے لیے کہی جاتی تھی کہ یہ سمندر کی لہریں گننے کی سزا کو بھی اپنے لیے منافع بخش کام بنا لیتے ہیں۔ اب وقت کے ساتھ یہ عقدہ کھلتا چلا گیا کہ جو جتنا بڑا محب وطن ہے، با اختیار ہے اور با اقتدار ہے وہ ہر بڑے موقع سے اپنا ہی اچھا موقع پیدا کرتا ہے۔

1971دسمبر میں سقوط مشرقی پاکستان ہوا تو بھٹو صاحب نے جنرل یحیٰی خان کے ساتھ مل کر اجتماعی خودکشی یا اظہارِ شرمندگی تک نہ کیا بلکہ جادوئی ذہانت سے بچے کچھے کو نیا پاکستان قرار دے کر اس کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔
لاہور میں 9 مئی کو صوبائی نگران وزیر اعلیٰ اور آئی جی پولیس نے مبینہ پٹرول بم برداروں کی کور کمانڈر ہاؤس (اب المعروف جناح ہاؤس) تک پہنچنے میں عملاً 'سہولت کاری' کی۔ یہ پنڈورا باکس کی ایک سانحاتی شکل تھی۔ اس کریہہ شر سے بھی حکمرانوں نے اپنے لیے بہت سا خیر کا ساماں پیدا کر لیا ہے۔

پچھلا پورا مہینہ اس شر سے خیر کے فوارے پھوٹتے رہے ہیں، ابھی بھی کوششیں جاری ہیں۔ مجال ہے پورے پنجاب میں اس طرح کے واقعات میں اپنی ذمہ داری ادا نہ کر سکنے پر شرمندگی کے باعث حکام میں سے کسی ایک نے بھی شرمندگی سے استعفیٰ دیا ہو یا قوم سے معذرت کی ہو۔ یقیناً ایسے واقعات پر استعفیٰ دینا دوسرے ملکوں کی روایت ہے اور ہم پختہ کار روایت شکن ٹھہرے۔

ہماری وجہ شہرت ہمارے پنڈورا باکسز ہیں۔ پنڈورا باکسز سے پیدا ہونے والے مسائل کو مواقع میں تبدیل کرنے کی یہ پاکستانی صنعت غیر معمولی اور منفرد ہے۔ کمزور جمہوریتوں کے حامل ملکوں کو اس خالص پاکستانی صنعت کی طرف کاروباری بنیادوں پر متوجہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس کی ایکسپورٹ باقاعدہ شروع کر دی گئی تو جلد زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ دیکھنے میں آسکتا ہے۔ مودی کے بھارت میں بھی اس کی کافی کھپت ہو سکتی ہے۔

ملکی تاریخ میں ایسے اور اس سے بھی بڑے سانحات کی لمبی فہرست ہے۔ ان سب پر تحقیقاتی کمیشن بنانے کے بجائے انہیں کیس سڈٹیز کے لیے یونیورسٹی سٹوڈنٹس کو ریسرچ کی مہارت و معیار میں اضافے کا موقع دینا چاہیے۔ ان واقعات و سانحات میں اکثر وہ شامل کیے جا سکتے ہیں جن پر آج تک تحقیقاتی کمیشن قائم نہیں کیے جا سکے یا ان کے بارے میں تحقیقاتی کمیشنوں کی رپورٹ سامنے نہیں لائی جا سکی۔

البتہ یہ ضرور ہوا کہ ان واقعات اور سانحات کو کبھی پنڈورا باکس کا نام دے کر اور کبھی پنڈورا باکس کا نام نہ دے کر خوب برتا گیا۔ کبھی ان پنڈورا باکسز کا نام ایک اور بحران رکھا گیا، کبھی آئینی بحران کہا گیا، کبھی سیاسی بحران کہا گیا اور کبھی اخلاقی بحران کہا گیا۔ الحمد للہ! یہ سارے بحران بھی جاری ہیں اور پنڈورا باکس بھی جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں