علاقے کا منظر بدل رہا ہے کہ خطے کی دو طاقتیں ایران اور اسرائیل اکتوبر 2023 سے ایک ٹکراؤ سے گزر رہی ہیں۔ ہر لمحہ اس ٹکراؤ کے ایک نئے پرت کے کھلنے کا سماں ہے۔ فریقین اپنی اپنی پوزیشن کا دفاع بھی کر رہے ہیں اور درپیش صورت حال کا فائدہ اٹھا کر دوسرے کو کمزور کرنے کی حکمت عملی بھی اپنائے ہوئے ہیں۔ اس لیے محسوس ہوتا ہے کہ ہم خطے کے لوگ تصادم کے اگلے مرحلے پر ہیں۔
اس تناظر میں علاقے میں یہ احساس ابھرا ہے کہ اسرائیل مقابلتاً زیادہ طاقتور ہے بلکہ اپنی اس طاقت کو اپنے گرد وپیش پر جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ بڑے بے خوف انداز میں بروئے کار بھی لا رہا ہے۔ حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کو اس کے باوجود قتل کیا جانا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ حماس کی طرف سے مذاکراتی عمل کی بھی قیادت کر رہے تھے۔ اسرائیل کی بےنیازی اور لاپرواہی کی ایک مثال ہے۔ یہ بے نیازی اندھی طاقت اور بڑھے ہوئے اعتماد کے بغیر ممکن نہیں، ایسی طاقت جو آس پاس والوں میں سے کسی کو بھی اپنے مقابل نہ آج پاتی ہو اور نہ مستقبل میں کسی سے خوف کھاتی ہو۔
اندھی طاقت کا مطلب یہی ہے کہ جسے کسی پر حملہ آور ہونے میں کسی بھی قسم کے رد عمل ہی نہیں اصول یا اقدار کی بھی پرواہ نہ ہو۔ اگرچہ عام ملکوں اور اقوام میں ان سب پہلوؤں کا خیال رکھنے کی روایت صدیوں سے چلی آ رہی ہے، کہ جارحیت کا ارتکاب کرنے والا اپنے دشمن کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے بھی جنگی اقدار سے مکمل عاری ہونے کی کوشش نہیں کرتا۔ جنگی فتح کے ساتھ ساتھ اخلاقی برتری کا بھی کوئی نہ کوئی پہلو ضرور قابل لحاظ رہتا ہے۔ لیکن اسرائیل نے کم از کم ایران کے حوالے سے تو اس چیز کا بھی احساس نہیں کیا کہ وہ ایرانی سرزمین پر حملہ کر رہا ہے اور اس روز کر رہا ہے جب ایران کے نئے صدر کا حلف ہوا۔
اس سے پہلے اسرائیل دمشق میں ایرانی قونصل خانے کو بھی تباہ کر چکا ہے جہاں دوسروں سمیت ایرانی پاسداران انقلاب کور کے ایک سینیئر کمانڈر کو بھی قتل کیا تھا۔ اسرائیل کی طرف سے یہ سب کچھ بھی بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی تھی۔
خطے میں ابھرنے والی یا ابھاری جانے والی اسرائیلی طاقت کی یہ کارروائیاں اس کے علاوہ ہیں جو اس نے اکتوبر سے غزہ میں ایک خوفناک جنگ کی صورت شروع کر رکھی ہیں۔ ایسی جنگ جس میں اس نے صرف غزہ میں تقریباً چالیس ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔ غزہ میں باقی بربادی کو برپا کیا جانا اس کے علاوہ ہے۔ اس غزہ جنگ کی ایک شناخت یہ بھی ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کا جتنا نقصان اس جنگ میں ہوا ہے ماضی کی کسی جنگ میں نہیں ہوا تھا، حتیٰ کے 1967 اور 1973 کی جنگوں کے دوران بھی نہیں۔ غزہ جنگ کی طوالت بھی سب جنگوں سے زیادہ ہے۔
مگر اسرائیل اپنے آپ کو خطے میں ایک بڑی طاقت کے طور پر کیوں پیش کرنے کے لیے اتنے بے رحمانہ اور بے دھڑک انداز کو اپنا رہا ہے؟ یہ فطری سا سوال ٹائم میگزین کے انٹرویو میں بھی اٹھایا گیا ہے۔ نیتن یاہو نے بڑے صاف انداز میں جواب دیا کہ اسرائیل اپنے مضبوط دفاع کی شناخت کو بحال کرنا چاہتا ہے۔ کہا جا سکتا ہے ان کی مراد یہ ہو کہ حماس کے حملے سے جو دھچکا لگا ہے اس کا تدارک کرنے کے لیے ضورری ہے، یا ہو سکتا ہے کہ حماس کے ساتھ جنگ کا اتنا طویل ہو جانا اور اسرائیلی یرغمالیوں کی ساری جنگ کے باوجود رہائی نہ کرا سکنا بھی فوری سبب ہو۔
بہر حال اسرائیل نے اب کی بار براہ راست ایران کے قلب میں وار کیا ہے۔ اس زبردست وار نے کئی دہائیوں سے دوطرفہ جنگ کی پچھلی حکمت عملی کو زک پہنچائی ہے۔ اس سے پہلے دونوں طرف سے جنگی حکمت عملی جھڑپوں کی حد تک تھی اور وہ بھی ایران کی علاقائی 'پراکسیز' کی حد تک۔ مگر اب معاملہ سنگین تر ہو کر سامنے آیا ہے۔ بیک وقت ایرانی 'پراکسیز' کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور زیادہ جارحانہ انداز میں بنانا شروع کر دیا ہے۔ یمنی بندرگاہ الحدیدہ پر حملہ کہ حوثیوں کو نقصان پہنچا سکے کہ حوثیوں کے پاس قریب قریب یہی اکلوتی قابل بھروسہ بندرگاہ تھی۔
حزب اللہ کے نمایاں ترین اور سینیئر کمانڈر کو اسرائیل نے بیروت میں گھس کر مارا ہے۔ اسرائیل اپنے حملوں سے اپنی انٹیلی جنس، جنگی ٹیکنالوجی اور فوجی صلاحیت کی برتری ثابت کر رہا ہے۔ اسرائیل نے بیروت ہی میں حماس کے کئی رہنماؤں کو قتل کیا ہے۔ تہران اور غزہ میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا ہے۔ اپنی جنگی بالا دستی ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ نیتن یاہو نے نقصانات کے باوجود اسرائیل میں اپنی قیادت کو برقرار رکھنے کے جواز کے لیے کافی کام کیا ہے۔ بھاری نقصانات کی فہرست کے باوجود وہ اسرائیل میں مقبول لیڈر ہے۔
اسرائیل کی نئی جنگی پالیسی یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ جنگی طقاقت کو بروئے کار لائے، اندھا انتقام لے، بے پناہ جارحیت کرے اور جنگ کے دائرے کو وسیع تر کرتے ہوئے اپنی بالا دستی کو فلسطین تک ہی محدود نہ رکھے بلکہ اس کا دائرہ ممکنہ حد تک وسیع کرے۔ اس اسرائیلی توسیع کی خواہش اور رویے میں تبدیلی کی منطق یہ ہے کہ اسرائیل کو سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے کافی دھچکا لگا ہے۔ اب وہ اس سے بار بار زک نہیں اٹھانا چاہتا۔ نیز جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ وہ اپنے سات اکتوبر سے پہلے کے تشخص اور شناخت کو بحال کرنا چاہتا ہے۔
یہ اپنی جگہ ایک حقیقت اور سچائی ہے کہ اسرائیل کے لیے حماس کی صورت میں خطرہ کسی ایک خاص لمحے میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ بلکہ اس کی جڑیں کئی برسوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس ایرانی تجاوزات کی پالیسی میں بھی موجود ہیں جنہوں نے اب اسرائیل کو کئی اطراف سے گھیرے میں لے لیا ہے۔ یہ ایرانی گھیرا مشرق میں عراقی عسکریت پسندوں کی صورت میں ہے۔ شمال میں شامی اور لبنانی عسکریت پسندوں کے طور پر، جنوب میں قدرے فاصلے سے حوثیوں کی جانب سے اور غزہ و مغربی کنارے میں حماس سے درپیش ہے۔ سات اکتوبر کو حماس کے حملے کو حماس کے ایران کی طرف سے بڑھے ہوئے اعتماد کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ کہ ایران بھی ایک علاقائی طاقت کے طور پر ہے اور اس کی جنگی ٹیکنالوجی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس لیے اگر موجودہ غزہ جنگ رکتی بھی ہے تو یہ عارضی وقفہ ہو گا، زیادہ سے زیادہ چند برسوں کے لیے وقفہ۔ اسرائیل کا ایران کے گرد گھیرا ان برسوں کے دوران بھی اپنے دباؤ کی صورت موجود رہے گا۔ چنانچہ اسرائیل کے سامنے موجود آپشن بھی مقابلتاً سخت یا شدید ہو سکتی ہے۔ یہ جنگی آپشن 'پراکسیز' سے بڑھ کر براہ راست ان کے سرپرست ایران کے ساتھ آزمائی جائے یا اس کی کوئی اور صورت بنے۔ یقیناً اسرائیل کسی جوہری آپشن کے استعمال تک صرف اسی صورت میں جانے کا سوچے گا جب وہ مکمل تباہی کی جنگ کا ارادہ کر چکا ہوگا اور دیکھ رہا ہوگا کہ ایرانی فوج یروشلم کے دروازے پر دستک دینے پہنچ رہی ہے۔
ادھر واشنگٹن کی طرف سے یہ خبریں ہیں کہ وہ نیتن یاہو پر جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، لیکن یاہو متواتر کھڑا ہوا ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ جنگی دورانیے کو پورے ایک سال تک لے جا سکے اور سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کی یاد میں کوئی موقع حاصل کرے۔ بلا شبہ اس میں اب دو ماہ ہی رہ گئے ہیں۔
اگر ایران اور حزب اللہ اپنے اس جوابی حملے کا آغاز کر دیتے ہیں جس کی توقع کی جا رہی ہے تو ہو سکتا ہے بحران ایک سیاسی حل کی طرف بڑھ جائے بجائے اس کے کہ جنگی حل پر ہی فوکس رہے۔ کیونکہ ایران اور اسرائیل دونوں ہی جنگی ٹکراؤ کے بڑھ جانے کے مضمرات کو خوب سمجھتے ہیں۔ وہ دونوں جانتے ہیں یہ شروع تو ایک آہستگی سے آگے بڑھنے والے ٹینس کے میچ کی طرح ہوتی ہے مگر بعد ازاں تباہ کن حملوں کے تبادلے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
جیسا کہ جنگی ماحول میں علاقائی اثر تھا۔ لیکن اب اس میں روس کا تعلق بھی شامل ہو رہا ہے کہ پیوٹن نے اسرائیل کی فضائی طاقت سے ایران کو محفوظ رکھنے کے لیے اسی ہفتے پیش کش کی ہے، گویا اب روس کو بھی اس تنازعے میں شامل سمجھا جائے گا۔ روس اس سے پہلے شام کی جنگ میں شام کے دفاع کے لیے بھی یہ کر چکا ہے۔ بلاشبہ اسرائیل بھی ایران کے خلاف اکیلا نہیں ہے، اس کی مدد کے لیے بھی دنیا میں تحرک پہلے بھی دیکھا جا چکا ہے اور اب بھی جاری ہے۔
تاہم روس کا معاملہ مختلف ہے، وہ ایران کے ساتھ ہے نہ اسرائیل کے خلاف ہے۔ روس کسی طرح تنازعے کو مشرقی ایشیا میں پھیلانا چاہتا ہے، شرق اوسط میں اور افریقہ تک، تاکہ امریکہ کو دباؤ میں لا سکے کہ یوکرین میں واشنگٹن اپنا جنگی عمل روک دے۔ اس نئی پیش رفت کے ساتھ امریکی آئرن ڈوم اسرائیل کے لیے دستیاب اور بروئے کار ہو گا اور روس کا میزائل دفاعی پروگرام ایران کو تحفظ دینے کے لیے موجود ہو گا۔ طاقت یا سامان اور استعمال دونوں طرف سے جہاں ایک توازن کا باعث بنے گا وہیں مسئلے کے پرامن حل کی اہمیت کو بھی اجاگر کرے گا۔ جنگ چھڑی تو پھر علاقائی دائرے سے بھی آگے دورتک جائے گی۔