غزہ جنگ اپنے اختتام کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے اور معاہدوں کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان دوریاں کم ہو رہی ہیں جب کہ حزب اللہ کے حسن نصر اللہ نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ کے تقریباً 500 رہنماؤں کی ہلاکت پر کوئی انتقامی کاروائی نہیں ہو گی، یہ پیش رفت مارے گئے اسرائیلی یرغمالیوں کی باقیات کے علاوہ ہے جنہیں اب اسرائیل کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
تاہم، میری رائے میں، آئندہ معاہدہ ایران اور اسرائیل کے درمیان مستقبل میں تصادم کو نہیں روک سکے گا۔ جو اس بار جنگ کے دہانے پر تھے۔
جب تک دونوں ممالک مستقبل کے تنازعات سے بچنے کے لیے کام نہیں کرتے، جس میں اہم سمجھوتوں کی ضرورت ہو گی، ایران کی گھیراؤ کی حکمت عملی خطے میں ان دو طاقتوں کے درمیان جنگ کا باعث بنے گی۔ پچھلی چار دہائیوں سے، وقفے وقفے سے اور طویل جنگ بندی کے ساتھ پراکسی محاذ آرائی جاری ہے، جس سے محدود پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔
ہم یہ کیسے سمجھتے ہیں کہ تہران اور تل ابیب کے درمیان جنگ کا اب اتنا امکان نہیں ہے جتنا ہم نے کبھی سوچا تھا؟
سات اکتوبر کو حماس کا حملہ پہلے سے مختلف تھا- اس تنازعہ میں یہ ایک نمایاں تبدیلی تھی، جس نے اسرائیل میں گھمبیر خوف جگایا۔ اسرائیل نے اسے اپنے وجود کے لیے خطرہ جانا، اور اس کے جوابی حملے نے بھی ایک مختلف انداز اپنایا۔
اسرائیل نے غزہ میں حماس کی عملداری کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ اپنی ڈیٹرنس پالیسی کو بحال کرنا چاہتا ہے، جہاں اسرائیل پر کسی بھی حملے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، اور علاقائی سپر پاور کے طور پر اس کی شبیہہ کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ اس جنگ کے دوران اسرائیل نے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اب تک 11 ماہ کے دوران متعدد محاذوں پر طویل جنگیں لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے: ان میں غزہ، مغربی کنارہ، لبنان، ایران اور یمن شامل ہیں۔
اسرائیل نے خوفناک انٹیلی جنس اور جدید فوجی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ لبنانی سرزمین میں ایک انچ بھی داخل ہوئے بغیر، اسرائیل حزب اللہ کے نصف رہنماؤں کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے ایرانی پاسداران انقلاب کے کئی رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا اور تہران میں ہی حماس کے ایک رہنما کو بے خوفی سے قتل کر دیا۔
ملک کے اندر، اسرائیلی عوام کا ایک اہم حصہ، خاص طور پر اشرافیہ، نیتن یاہو اور اس کے مذہبی اتحادیوں کو ناپسند کر سکتا ہے، لیکن وہ اب بھی اس کے پیچھے متحد ہیں۔ اسرائیلی افواج میں بھاری جانی نقصان، اسرائیلی معیشت سے اربوں ڈالر کا ضیاع اور حماس کی قیادت کو ختم کرنے میں ناکامی کے باوجود ان میں سے کسی نے بھی نیتن یاہو کو جنگ روکنے پر مجبور نہیں کیا۔
اگرچہ غزہ کی جنگ اسرائیل کا معاملہ ہے، لیکن ایران کے ساتھ مستقبل کی کسی بھی جنگ میں اسرائیل اور مغرب دونوں شامل ہوں گے۔ اسرائیل اب پہلے سے کہیں زیادہ اور بڑے پیمانے پر تصادم کے لیے تیار ہے۔ اس کے بحری بیڑے ایران کے ساتھ ایک بڑی جنگ کے لیے الرٹ ہیں، جو خطے کی سب سے بڑی فوجی تیاریوں میں سے ہے۔
یہ تہران کے لیے ایک واضح اشارہ ہے کہ ایران اور اس کی حکومت اس کی قیمت ادا کرے گی۔ روس کے بیانات، روسی حکام کے دورے اور ایران پر کسی بھی فضائی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی امداد کی تیزی سے فراہمی کے باوجود، اسرائیل کی جانب سے یہ اضافہ 1973 کی جنگ کے بعد سے خطے میں کسی بھی سابقہ تنازعے کے برعکس ہے۔
یہ ایران کو اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی فضولیت پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، یا اسے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے پر مجبور کرے گا؟
قاہرہ معاہدہ غزہ میں لڑائی کے خاتمے کے راستے پر ہے، لیکن اس سے ایران اور حزب اللہ کے ساتھ جنگ کی تیاری ختم نہیں ہو گی۔
گذشتہ سال جنگ کے آغاز کے بعد سے، اسرائیل غزہ سے باہر ایک تنازعے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس نے ملک بھر میں بیک اپ پاور جنریٹرز فعال کیے ہیں، پانی کے ٹینکوں کو بھر دیا ہے، سائبر سکیورٹی کے اقدامات کو تیز کیا ہے، اور کئی مہینوں کے لیے کھانے کی اشیاء کو ذخیرہ کر لیا ہے۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ زمین پر، زیر زمین اور سمندر میں مختلف ذرائع سے بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ اگر برقی گرڈ تباہ ہو جاتا ہے، تو بیک اپ سسٹم سات منٹ کے اندر بجلی بحال کر دے گا۔ آئرن ڈوم کے ناکام ہونے کی صورت میں اسرائیل نے دفاع کی دوسری لائن کے طور پر لاکھوں لوگوں کے لیے بنکر بھی تیار کیے ہیں۔
کشمکش کی ذہنیت اور جنگ کی تیاری فیصلوں کو تنازعات کی طرف لے جانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
کئی دہائیوں سے، اسرائیل کی بنیادی حکمت عملی علاقائی جنگ کے امکانات پر مبنی ہے، جو کبھی مصر، اردن اور شام پر مرکوز تھی۔ آج، اس حکمت عملی کا ہدف ایران ہے، جسے اسرائیل اپنے وجود کے لیے بنیادی خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کی وجہ ایران کی جوہری صلاحیت اور میزائل ہیں جو اسرائیل کے بڑے شہروں تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران، بجائے اس کے حمایت یافتہ گروپوں کے، خود اسرائیل کا اگلا ہدف بن جاتا ہے۔
اس جنگ میں ایران حماس کو بچانے میں ناکام رہا اور اس نے حزب اللہ کو لڑائی سے باہر رکھ کر محفوظ رکھا۔ اردن میں محاذ کھولنے کی کوشش ناکام ہو گئی اور شام نے ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروپوں کو فوجی کارروائی کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دینے سے گریز کیا۔ صرف یمن میں حوثی فعال تھے لیکن حدیدہ بندرگاہ میں اس کی اپنی اہم تنصیبات تباہ ہونے کے بعد پیچھے ہٹ گئے۔
یوں ، میری رائے میں، خطے میں مسلسل فوجی تشکیل، ایران کی توسیعی کاروائی، اور اسرائیل کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کے پیش نظر، اسرائیل ایران جنگ کا امکان ہے۔