اسرائیلی اقدام سے نظریات اور ٹکنالوجی کا فرق واضح

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

مصر کے صدر جمال عبد الناصر نے 47 سال قبل اس بڑی حقیقت کا واشگاف اعتراف کر لیا تھا کہ اسرائیل کی تین عرب ملکوں مصر، شام اور اردن کے خلاف جنگ میں کامیابی کی وجہ اس کی فضائی برتری ہے۔ اس میں ان کے حتمی تجربے اور تجزیے کا حاصل یہی نکلا تھا کہ اسرائیل کے پاس عرب ملکوں کے مقابلے میں ہر جنگی طیارے کے لیے تین پائلٹ موجود تھے، جو جہازوں کی اڑان کو زیادہ سے زیادہ دیر کے لیے ممکن بنا سکتے مگر 1967 کی اس جنگ میں اسرائیل کے مقابل تین ملکوں کے پاس اتنی بڑی تعداد میں پائلٹ نہیں تھے۔

جہاندیدہ عرب لیڈر جمال عبدالناصر سے جنگی شکست کے بعد بنیادی طور پر یہ پوچھا گیا تھا کہ ایک چھوٹے سے اسرائیل کے مقابلے میں تین عرب ملک کیونکر شکست کھا گئے۔ جمال عبدالناصر نے بلا تامل کہہ دیا کہ عربوں کو اسرائیل سے شکست اس کی فضائی برتری کی بدولت ہوئی ہے۔ اس لیے ہم تینوں ممالک مصر، شام اور اردن اس سے شکست کھا گئے ہیں۔

ایک واقف حال صحافی نے اس جواب کے سامنے آتے ہی ایک اور سوال جڑ دیا کہ جہاز تو مصر کے پاس بھی بہت تھے، بہت بڑا جنگی طیاروں کا بیڑا تھا۔ جن میں مگ 21 طیارون کی بڑی تعداد تھی۔ کل 420 جنگی طیارے مصر کے پاس تھے۔ تو پھر اسرائیلی فضائی برتری کا جواز کیسا؟

صحافی کا سوال اگرچہ بڑا بھاری بھرکم تھا، مگر شکست کھا چکے اس عرب رہنما نے پوری شرح صدر کے ساتھ تفصیل سے بتایا 'اسرائیل کے پاس مصر کے مقابلے میں پائلٹ بھی زیادہ تھے۔ ایک اسرائیلی جنگی طیارے کے لیے تین اسرائیلی پائلٹ موجود تھے۔ یعنی اسرائیل اپنے ایک جہاز کو دن میں کئی بار اڑانے کی اہلیت رکھتا تھا۔ '

لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ محض جنگی جہازوں کی تعداد کے زیادہ ہونے کے سبب ممکن تھا نہ پائلٹوں کی تعداد کے بدولت، بلکہ اس کی وجوہات میں یہ بھی شامل تھا کہ اسرائیل کے پاس پورا فوجی ادارہ اور اس کے پاس جدید ترین سپورٹ نیٹ ورک تھا۔ ایک جدید چیز کے ساتھ دوسری جدید چیز جڑی ہوئی تھی۔ یہ ایک ہمہ جہت اور جامع قسم کی جدید تر ٹیکنالوجی کا مؤثر اور مربوط سلسلہ تھا۔

اسرائیل نے اپنی تکنیکی برتری کے تسلسل سے عربوں پر آج 47 سال بعد بھی برقرار رکھنے کا ایک اظہار لبنان میں حزب اللہ کے خلاف دو جدید ترین تکنیکی کارروائیاں کر کے 4000 سے زائد افراد کو زخمی اور درجنوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

یہ اسرائیلی کارروائیاں 'پیجر حملوں' اور 'واکی ٹاکی حملوں' کے حوالے سے سامنے آئے ہیں۔ اسرائیل کی اس جنگی کارروائی سے یہ خوب باور ہو جانا چاہیے کہ ہم اب تکنیکی جنگوں یعنی ' ٹیکنیکل وار فیئر' کے دور میں ہیں۔ بہادری کی جنگوں کے دور میں نہیں ہیں۔ تصادم کا یہ دور تہذیبی ہے؛ تاریخی نہیں ہے۔

اب جب پیجرز اور واکی ٹاکیز حملوں میں کام آئی ہیں تو لا محالہ دوسرے مواصلاتی آلات، کمپیوٹرز، ٹی ویز، ایل سی ڈیز، کاریں ، اور دوسرے الیکٹرانک وہیکلز، کلائی گھڑیوں کی جدید اقسام، کیمرے اور ڈرونز کی مکتلف اقسام سب اشیا نگرانی اور جنگی مقاصد میں بروئے کار آنے کی چیزیں ہیں۔ اس لیے ان کے ہر طرح کے استعمال کے بارے میں سوچ اور تدبیر کے پیمانے بدل جائیں گے۔ جیسا کہ ٹیسلا جیسی کار کو کسی دور کے ملک میں بیٹھ کر بھی گاڑی ہیک کرتے ہوئے بارود کا استعمال کر کے گاڑی کے سوار اور آس پاس والوں کو ہلاک کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

بلا شبہ موبائل اور اس نوعیت کے تمام وائر لیس فونز اور پیجر یا اس طرح کی دوسری چیزیں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے استعمال ہونے سے ایک بڑی خلیج پیدا ہو سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی، تکنیکی آلات اور ان کے استعمال و تجارت سبھی کی نئی جہتیں ابھر سکتی ہیں۔

جمال عبدالناصر نے نصف صدی قبل اسرائیلی برتری کے بارے میں شکایت کی تھی، مگر آج اسرائیل اور ان ملکوں کے درمیان ٹیکنالوجی کا فرق کم نہیں بلکہ دو گنا ہو چکا ہے۔ اس حالت میں مسلح قوت کے ساتھ تبدیلی کا تصور تقریباً ممکن نہیں رہا ہے۔ تاہم سادہ لوح نہ ہونا لازم ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ پوری تاریخ میں، ٹیکنالوجی کی حامل سلطنتوں نے دوسری مملکتوں کو جنگوں میں عام طور پر شکست دی ہے۔ منگولوں نے ایسی کمان ایجاد کی جس کی مدد سے ان کے گھڑ سوار گھوڑوں کو تیز بھگاتے ہوئے بھی درست اور مسلسل تیر بہدف رہتے تھے۔

عرب سالاروں نے تارکول سے بنے کیمیائی آگ لگانے والے ہتھیار تیار کیے اور براعظموں کو عبور کرکے کامیاب ہوتے رہے۔

اسی طرح، عثمانیوں کے ہاں توپ خانے کی وسیع تر ایجاد نے قسطنطنیہ جیسے مضبوط قلعوں کوزیر و زبر کر دیا ۔ یہی معاملہ آج کی گواہی دے رہا ہے۔

سائنس کی برتری فتوحات انسان کی کلید!

برطانیہ ایک چھوٹا اور دور افتادہ جزیرہ ہوتا تھا، مگر اس نے بحری جہازوں پر نصب توپوں کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اپنی فتوحات کی دنیا آباد کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ کہ اس کا بحری جہازوں پر نصب توپ خانہ سمندر سے خشکی پر بنے قلعوں کو تاراج کر سکتا تھا۔ بکتر بند بحری جہاز کی تخلیق کا ذریعہ بن سکتی تھی اور ریلوے رسد اور فوجیوں کی نقل و حمل کو تیز تر کرنے میں کام آتی رہی۔

ایٹم بم کو بھی ہم فراموش نہیں کر سکتے، جو انسانی عقل کی مدد سے تباہی کی انتہا بن سکتا ہے۔ اسی کی بدولت دوسری عالمی جنگ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حق میں ختم ہوئی۔ اس ایٹم بم کی طاقت آج بھی ہیبت زدہ کرتی ہے۔

سائنسی برتری انسانی فتوحات کی کلیدہ جبکہ جنگی مشینری کی ترقی اداروں اور معاشرے کی ترقی کا براہ راست نتیجہ ہے۔

آج جو چیز اسرائیل کو اس کے گرد و پیش سے برتر ثابت کر سکتی ہے وہ ٹیکنالوجی کے میدان میں اس کی توجہ ہے۔ جس نے اسے جنگ میں آج تک مسلسل فتوحات دی ہیں، امن کے دنوں میں اسرائیل اپنی منڈیوں کے چھوٹے سائز کے باوجود معاشی طور پر اسی لیے ممتاز رہا ہے۔ گرد و پیش کی ساری مملکتوں پر اس کی دھاک ہے۔ کوئی بھی مملکت اس کے سامنے چوں کرنے کی ہمت نہیں کر سکتی۔

اسرائیل سائبر سکیورٹی، ملٹری مینوفیکچرنگ، مصنوعی ذہانت، آٹو میٹک گاڑیوں، طبی ٹیکنالوجی، آبپاشی کے شعبوں اور زرعی ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کر رہا ہے۔

جہاں تک حزب اللہ کا تعلق ہے، ایران کی طرح، اس کی طاقت اپنے جنگجوؤں کو قربان کرنے پر آمادگی کے ساتھ ساتھ لبنان، عراق، افغانستان اور یمن سے سستے جنگجوؤں کو بھرتی کرنے، اور روس و چین کے کلون ہتھیاروں کو اپنانے میں مضمر ہے۔ فتح، القسام اور الزلزلہ القاعدہ کی طرح یہ جماعت بھی قربانی کے لیے بے خوفی و بہادری اور نظریاتی تیاری پر زور دیتی ہیں۔

مگر اس کے باوجود جدید جنگوں میں یہ حکمت عملی موثرنہیں رہی ہے، جیسا کہ ایک تجزیہ کار نے اسرائیلی انٹیلی جنس کے ذریعے 'بوبی ٹریپ' پیجرز کے دھماکے کی وجہ سے حزب اللہ کی صفوں میں ہونے والے صدمے اور بھاری جانی نقصان پر تبصرہ کیا 'آپ آئیڈیالوجی کے ساتھ ٹیکنالوجی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

دونوں طرف سے تمام مرنے والے، حزب اللہ اور اسرائیل، یقین رکھتے ہیں کہ وہ جنت میں جا رہے ہیں، لیکن اہم بات جنگوں میں یہ ہوتی ہے کہ کون جیتتا ہے۔

یہ جنگیں بغیر کسی فیصلہ کن نتیجے کے جاری رہیں گی کیونکہ ایک فریق پوری تندہی سے اپنی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہا ہے اور اپنے مخالفین کے ساتھ اپنی جنگ کو تجربات کے نئے میدان کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جب کہ دوسرا فریق اپنے عقائد میں جکڑا ہوا ہے اور انسانوں کے نقصان کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔

اسرائیل کے اتحادی جدیدیت کے تقاضوں کے شناور جبکہ دوسری جانب نظریاتی شناخت کے حامل اس کے مقابل گروپوں کے نظریاتی اتحادی نظریات میں کھوکھلے اور شوکت و سلطنت میں ناز ونعم کے متوالے۔ جبکہ ضرورت عمارات کی بلندی کی نہیں ایجادات کی برتری کی ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size