صدر ٹرمپ: سعودی عرب کا دورہ معمولی قرار نہیں دیا جا سکتا

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

سعودی عرب کا جوہری پروگرام، فوجی سودے، دفاعی معاہدات، غزہ جنگ کے اختتام سے دو ریاستی حل تک، ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل اور ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری سے متعلق امور۔ ان سب کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کے لیے وجہ تحرک اور حرکیات کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یقیناً اعلیٰ ترین سطح کے امریکی حکام کی پوری بریگیڈ کو ہمراہ لانا خالی از علت یا بے مقصد کیونکر ہو سکتا ہے۔

'ٹیسلا' اور ' ایکس' کے سربراہ ایلون کے ساتھ ' مصنوعی ذہانت کے میدان کے بہت بڑے نام اور ' اوپن اے آئی ' کے اعلیٰ ترین عہدے داروں، میٹا، الفا بیٹ، بوئنگ اور سٹی گروپ کے اہم ترین نمائندوں کا صدر کے ہمراہ ہونا بلاوجہ نہیں ہے۔

ان سب کو امریکہ کی ' بگ گنز ' بھی کہا جا سکتا ہے ، پر پرواز بھی اور آج کے امریکہ کی کلیدی شخصیات بھی جو جن کے ہاتھوں میں دنیا بھر کے لیے جدت و اختراع چابیاں مانی جا سکتی ہیں۔

مزید یہ کہ امریکی صدر کا وائٹ ہاؤس میں دوسری مدت کے لیے براجمان ہونے کے بعد پہلا باقاعدہ غیر ملکی دورہ ہونا بجائے خود غیر معمولی کی بہت بڑی گواہی ہے۔

یہ سب کچھ سعودی عرب کے اس دورے کو اہم تر بنانے کے لیے کافی ہے۔ نہ صرف یہ جب یہ بھی حقیقت ہے کہ اپنی پہلی مدت صدارت میں بھی ٹرمپ کا پہلا دورہ اسی سعودی مملکت کا ہوا تھا۔

ایک جہاندیدہ اور چابکدست شخصیت کے طور پر ٹرمپ سعودی عرب کی اس علاقے ہی نہیں دنیا اور خود امریکہ کے لیے اہمیت کو خوب سمجھتے ہیں۔ خصوصاً ویژن 2030 کے حامل سعودی عرب کو۔ یہ سب ان کے بین الاقوامی ایجنڈے اور ترجیحات کو نمایاں کر دینے والے اشارے ہیں۔

ادھر سعودی عرب میں بھی صدر ٹرمپ کی آمد سے دو ماہ سے بھی پہلے ہی تیاریاں نظر آنے لگ گئی تھیں۔ سعودی عرب اور امریکہ دونوں میں یہ احساسات پائے جاتے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی عرب میں موجودگی بہت ہی اہم اور حساس امور کے زیر بحث لائے جانے کا موقع بنے گی۔

کئی اہم معاہدوں کی تیاری کے لیے زمین ہموار کی جارہی تھی۔ بے مثال قسم کی تیاریوں کا سماں تھا۔ یقیناً اس میں تمام تر جہتیں خواہ وہ سیاسی ہوں، معاشی ہوں یا فوجی و دفاعی سب غالب رہنے کی توقع تھی۔ اس دورے سے پہلے اسی کے سلسلے میں اسی کی تیاری کے لیے بہت سے دوسرے دورے اور رابطے ہوتے رہے تھے۔ علاقائی اور بین الاقوامی سطح سے بھی اس دورے میں کافی کچھ توقعات بھی پائی جاتی رہی اور خواہشات بھی ۔ اس لیے سعودی عرب کے باہر سے بھی بعض تجاویز اور خیالات پہنچائے گئے جن میں سے لا محالہ کچھ رسمی یا غیر رسمی طور پر مذاکرات کی میز پر زیر بحث آ سکتے تھے۔

امریکی دفتر خارجہ کے مطابق پچھلے پچاس برسوں کے دوران بارہ امریکی صدور نے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے۔ ہر ایک کے دورے کی اپنی اہمیت رہی۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ کے اس دورے کے اثرات پورے خطے اور بین الاقوامی سطح پر غیر معمولی اور وسیع تر ہوں گے کہ یہ دنیا کے حالات و واقعات کے ایک نئے دھارے پر آجانے کے بعد ممکن ہوا ہے۔ گویا ایک بدلتا ہوا تناظر ہے۔ خود سعودی عرب کی شناخت کے حوالے سے نئے وقتوں کی نئی پرت کھل رہی ہے۔

دوطرفہ تعلقات!

اس دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں سعودی عرب کا صدر ٹرمپ کا دورہ ایک نئے باب کا آغاز بنے گا۔ موضوعات کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے کہہ سکتے ہیں بعض پہلوؤں یا امور پر پہلے بھی بات ہو چکی ہے اور بعض کا اظہار نیا ہے۔ ان میں ایک سعودی عرب کے لیے جوہری منصوبہ ہے۔ ماضی کی دہائیوں میں امریکہ ہمیشہ ہی اس موضوع پر بات کرنے سے گریزاں رہا ہے۔ لیکن اب اس بارے میں حالات مختلف چغلی کھا رہے ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے کے دوران اس سلسلے میں کچھ انکشافاتی تفصیلات بھی سامنے لائی گئی ہیں۔ جن میں ایک دلچسپ بات سعودی عرب کے صحراؤں میں یورینیئم کی معدنیات کی تلاش کے دوران دریافت ہے۔ معدنیات کی یہ دریافت ویژن 2030 کے سلسلے میں کی جا رہی ہے اور اسی دوران یورینیئم کی دریافت کے انکشافات ہوئے۔

یہ سعودی عرب کے سول، جوہری منصوبوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جب سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ تاہم اس کے باوجود ان تعلقات کی نئی تعمیر اور زیادہ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔ جیسا کہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان شاہ عبد العزیز اور صدر روز ویلٹ کے درمیان ایک معاہدہ پر دستخط جنگ عظیم دوم کے بعد ہوئے تھے۔

اب اتنا وقت گزرنے کے بعد ٹرمپ اور سعودی قیادت ایک نئے سٹریٹیجک معاہدے کو ممکن بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ جو خاص طور پر حالیہ برسوں میں پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں انتہائی اہم ہو سکتا ہے۔

امریکہ کا تیل کنندہ میں تبدیل ہونا، چین و بھارت میں سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی منڈیاں اور سعودی ویژن 2030 کے ذریعے سعودی عرب کو دنیا کی پہلی 20 معیشتوں میں لے کر آنا۔

مبصرین بدلتے ہوئے سیاسی ماحول سے بخوبی واقف ہیں کہ شام میں بشار الاسد رجیم کا خاتمہ، حزب اللہ و حوثیوں کی صلاحیت کا خاتمہ، دہائی میں پہلی بار عراقی ملیشیا کا امریکی و بین الاقوامی افواج پر حملوں کو روکنا اور صدر ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کا ایجنڈا۔

میری رائے میں سعودی عرب کی کامیابی ٹرمپ و امریکہ کے ساتھ طویل مدتی تعلقات کی بنیاد ہوگی۔ گزشتہ 8 برسوں میں یہ تعلقات کامیاب رہے ہیں۔ حتیٰ کہ سابقہ ناقدین بھی نتائج دیکھ رہے ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک بشمول یورپی ملکوں کے صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے سعودی عرب کی قیادت کی پیروی کر رہے ہیں۔ واشنگٹن کے ساتھ سیاسی و فوجی اتحاد پر مکمل انحصار کا دور اب ختم ہوچکا ہے۔ اب ساری توجہ مشترکہ مفادات پر مرکوز ہے۔

سعودی عرب اور ٹرمپ کے درمیان 10 سالہ سرمایہ کاری کے دوران ٹریلین ڈالر مالیت کے تعلقات کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ تحائف کی کوئی ٹوکری نہیں ہے۔ بلکہ میگا پروجیکٹس اور سرمایہ کاری پر مشتمل ہے۔

صدر ٹرمپ اور ان کے ساتھ آنے والے وفد کے دورہ سعودی عرب سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن کی عکاسی ہے۔ جس کے تحت ترقی و معیشت پر توجہ مرکوز کرنا، تعلقات کو نتیجہ خیز بنانا اور سیاسی و سیکیورٹی سے متعلقہ چیلنجوں پر قابو پانا شامل ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size