آبنائے ہرمز: بندش کا سب سے زیادہ نقصان چین وعراق کو ہو گا

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دی ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا۔ وہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا سکے گا نہ اس سے گزرنے والے جہازوں پر بمباری کر سکے گا اور نہ ہی اس کو بند کر سکے گا۔ اگر اس نے ایسا کیا تو اس کا خمیازہ الٹا اسے خود بھگتنا پڑے گا۔

ابتدائی طور پر اس کا نقصان سب سے زیادہ چین کو ہو گا کہ چین ایسا ملک ہے جو خلیج کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ چین کا یہ تیل اسی آبنائے ہرمز سے گزر کر اس تک پہنچتا ہے۔ اس کی بندش کی صورت میں ہر روز چین کو چار ملین بیرل تیل کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔

رہی بات ایران کے دشمنوں امریکہ و اسرائیل کی تو آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں انہیں ایک کامیابی ملے گی جس کی بنیاد پر وہ ایران کو اس کے اتحاری چین سے دور اور ناراض ہوتا دیکھ سکیں گے۔

جب 2021 میں کارگو جہازوں نے نہر سویز کو محض چھ دنوں کے لیے بند کیا تھا تو دنیا ہل کر رہ گئی تھی۔ بعد ازاں یہی کام حوثیوں نے بحری جہازوں کو آبنائے باب المندب میں نشانہ بنا کر کیا۔ اس لیے یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کیا جانا سب سے زیادہ خود ایران کے لیے اور اس کے اتحادیوں کے لیے نقصان دہ ہو گا۔

آبنائے ہرمز کا کارڈ ماضی میں دنیا کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہو گا۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے کہ امریکہ کی تیل کی ضرورت ایسی نہیں ہے کہ اسے آبنائے ہرمز سے آنے ولے تیل پر انحصار کرنا پڑے بلکہ وہ کافی حد تک اپنے ہی تیل کی پیداوار پر اکتفا کر سکتا ہے۔

تو کیا پھر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھکمی ایران صرف اپنے خلیجی ہمسایوں کو دباؤ میں لانے کے لیے دے رہا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے لیے کسی فوجی تصادم میں الجھے، وہ محض اس کی بندش کر کے ہمسایوں کو تکلیف دینے کی کوشش کرنا چاہتا ہے۔

لیکن اس کے پڑوسی ملکوں نے بھی برے دنوں کے لیے منصوبہ بندی پہلے سے کر رکھی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز کئی ماہ بھی بند رہتی ہے تو وہ اپنے نقصان کو برداشت کرنے کے لیے تھوڑا بہت حرج قبول کر لے گی۔

خطے میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک سعودی عرب ہے۔ اس کے پاس بحیرہ احمر میں ینبع کی بندرگاہ موجود ہے اور وہ بآسانی اس سے تیل کی نقل و حمل کو بحال رکھ سکے گا۔ اس راستے سے سعودی عرب پانچ ملین بیرل تیل کی نقل و حمل کرتا ہے اور اپنی اس گنجائش کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ مارکیٹ کو ایک بیرل تیل کا بھی نقصان نہیں ہو گا۔

متحدہ عرب امارات کے پاس بھی آبنائے ہرمز سے پرے فجیرہ کی بندرگاہ موجود ہے۔ عرب امارات اس بندرگاہ کے راستے یومیہ ڈیڑھ ملین بیرل تیل کی نقل و حمل ممکن بنا سکتی ہیں۔

قطر دنیا کا سب سے بڑا گیس پیدا کرنے والا ملک ہے۔ اگرچہ اس کے پاس سمندری راستے کے متبادل نہیں ہیں۔ لیکن وہ کئی ماہ تک جاری رہنے والی کسی بھی خرابی کو برداشت کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ البتہ کویت اور بحرین کا نقصان آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے ضرور ہو گا۔ تاہم خلیج تعاون کونسل کے دیگر رکن ملک ان دونوں ریاستوں کی مدد کرنے کے لیے دستیاب رہیں گے۔

خیلج کی ریاستوں میں جو ریاست سب سے زیادہ متاثر ہو گی وہ عراق ہے اور ایران کا اتحادی ہے۔ عراق کا یومیہ بنیادوں پر تقریباً تین ملین بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ اگر عراق کے لیے آبنائے ہرمز سے تیل لانے لے جانے کی یہ سہولت بند کر دی جاتی ہے تو یقیناً اس کے لیے معاشی نقصان کے علاوہ دیگر کئی اثرات اور مضمرات بھی ہوں گے جو صرف عراق کے لیے نہیں ہوں گے بلکہ ایران کو بھی بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ نیز عراق کی دوسرے ملکوں کے ساتھ کمٹمنٹس بھی متاثر ہوں گی۔

جیسا کہ یہ ہمارے علم میں ہے کہ ایران نے کئی بار آبنائے ہرمز کو فوجی ذرائع سے بند کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

اگر ایران عملی طور پر ایسا کرتا ہے تو اس کا مطلب تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا جس کا ایران کی وجہ سے زیادہ نقصان چین اور عراق کو ہو گا۔ 1980 سے ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی کا کارڈ استعمال کر رہا ہے۔ تاکہ امریکہ و خلیجی ریاستوں کو بلیک میل کر سکے۔ لیکن ماضی کی یہ تدابیر آج مؤثر نہیں ہو سکتی ہیں۔

امریکہ اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جبکہ چین تیل خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور چین زیادہ تر تیل ان خلیجی ریاستوں سے خریدتا ہے۔ خلیجی ریاستوں نے اپنے طور پر کئی احتیاطی تدابیر اختیار کر رکھی ہیں۔ جن کے نتیجے میں ان کی تیل کی برآمدات آبنائے ہرمز کے علاوہ بھی ممکن ہو گئی ہیں۔

اس لیے اگر ایران اپنے اردگرد کے ملکوں کے لیے کوئی خطرہ پیدا کرتا ہے تو اس کا سب سے پہلا شکار ایران اور اس کے اتحادی ہوں گے۔

ایران کی ایسی کوشش اس کی اپنی رجیم کے اقدام خودکشی کے مترادف ہوگی۔ ممکن ہے یہ اقدام ایران اور اس کی رجیم کے لیے آخری موقع ثابت ہو اور اس کے بعد اسے خود اتنا نقصان ہو جائے کہ وہ کسی کے لیے نقصان بننے کی پوزیشن میں نہ رہے۔ اس لیے ایران اور اس کی رجیم کے لیے بھی مفادات کی سلامتی اسی میں ہوگی کہ وہ علاقے کی دیگر ریاستوں کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت زندہ رہنے کو اپنی روش بنائے اور اپنی سرحدات سے تجاوز نہ کرے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size