غزہ: نیتن یاہو کو خوف کس سے ہے؟

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

غزہ جنگ اپنی تمام تر خوفناکیوں کے ساتھ دوسرا سال مکمل کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ فلسطینیوں کی اب تک کی تاریخ کی طویل ترین جنگ بھی ہے۔ نیز یہ جنگ فلسطینیوں اور عرب اسرائیل تاریخ کی سب سے زیادہ خونی جنگ بھی ہے۔ اتنی لمبی جنگ کہ یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں آتا ہے کہ یہ اس قدر طویل جنگ کیوں ہے؟

عام طور پر سامنے آنے والے اس سوال کا کچھ لوگ یہ جواب دیتے ہیں کہ اسرائیل کو غزہ میں اپنے بچے کھچے قیدیوں کی فکر لاحق ہے۔ ایک گروہ کا خیال یہ ہے کہ اسرائیل اپنے فوجیوں کی جانوں کا مزید نقصان نہیں چاہتا۔ بعضوں کے نزدیک اسرائیل کی فوجی اہلیت کا مسئلہ ہے اور وہ حماس کی اب تک قائم قوت کا خاتمہ کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں۔

لیکن میری رائے ان سب سے مختلف ہے۔ اسرائیل کی خواہش یہ ہے کہ وہ اس جنگ اور حماس کو اس کے انجام تک خود پہنچائے۔ اسرائیل نہیں چاہتا کہ درمیان میں کسی اور کو غزہ میں لا کر اپنے لیے حماس سے بھی زیادہ بڑا چیلنج کھڑا کر لے۔ اس تناظر میں اسرائیل کے لیے حماس کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کی پٹی پر آنے سے روکنا بھی ایک اہم ہدف ہے۔

اس کے لیے جنگ کتنی طویل ہوتی ہے۔ اسرائیل کو کون کون سے ہتھیار استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ وہ ہتھیار بھی جو اس نے اب تک استعمال نہیں کیے یا بچ گئے ہیں وہ سب استعمال کرنا چاہے گا۔ حتیٰ کہ بھوک کے ہتھیار سے بھی فلسطینیوں کو مارنا اور انہیں بار بار بے گھر کرنے اور نقل مکانی پر مجبور کرتے رہنا بھی اسرائیل کی اسی جنگی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

مختصر یہ کہ نیتن یاہو کو اب کوئی اور خوف لاحق نہیں سوائے اس کے کہ اس جنگ کے بعد فلسطینی ریاست کا قیام کہیں ممکن نہ ہو جائے۔ وہی فلسطینی ریاست جو اقوام متحدہ کی قرادادوں اور دو ریاستی حل کی اصطلاح میں واضح طور پر موجود ہے کہ اسرائیلی ریاست کے ساتھ ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست بھی ہو گی۔ یہی فلسطینی ریاست اسرائیل کے لیے قابل قبول نہیں۔ دوسری جانب غزہ کی جنگ کو روکنے کے لیے امریکہ کے پاس مخصوص حل موجود ہیں۔

امریکہ کے پیش کردہ سیاسی حل!

امریکی تجویز کردہ حل دو نکات پر مبنی ہے۔ ایک یہ کہ حماس غزہ سے لازماً نکل جائے اور دوسرا یہ اسرائیل جنگ کو لازماً روک دے۔ لیکن حماس غزہ سے نکلنے والا ہے نہ اسرائیل کو اپنا انخلا گوارا ہے۔

میری رائے میں اسرائیل بطور خاص ایک مضبوط فریق ہے۔ اسرائیل نہیں چاہتا کہ حماس کو اس لیے غزہ سے نکالے کہ اس کی جگہ فلسطینی اتھارٹی کو غزہ میں قبول کرنا پڑے۔ بلا شبہ اسرائیل کے لیے غزہ سے حماس کے نکالے جانے کی بہت بھاری قیمت ہو گی۔

نیتن یاہو اور ان کی ٹیم سمجھتی ہے کہ اس وقت اسرائیل کے لیے فلسطینی اتھارٹی زیادہ بڑا خطرہ ہے، نہ کہ حماس۔ وجہ یہ ہے کہ حماس کا تعارف دنیا کے سامنے ایک عسکری گروپ کا پیش کیا گیا ہے، جبکہ فلسطینی اتھارٹی کو بین الاقوامی سطح پر ایک سند قبولیت حاصل ہے، حماس کو نہیں۔ صرف یہی نہیں حماس کا عرب ملکوں کو خوف ہے۔ کہ یہ بیک وقت اسلامی و جہادی نظریے کی حامل جماعت ہے۔ گویا اسرائیل کے لیے آنے والے وقتوں میں فلسطینی اتھارٹی اصل خطرہ بن سکتی ہے اور خطے کے کئی ملکوں کے لیے حماس اور اس کے نظریات مسئلہ ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی کو اقوام متحدہ اور امریکہ و یورپ سمیت پوری دنیا فلسطینیوں کی نمائندہ سمجھتی ہے۔ اس لیے اسرائیل کو یہ خوف لاحق ہے کہ اگر اسے غزہ کا کنٹرول بھی دے دیا گیا تو یہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کی طرف دنیا کے لیے قابل قبول انداز میں بڑھنا شروع کر سکتی ہے۔

اس کے مقابلے میں حماس اپنے 7 اکتوبر 2023 کے خوفناک حملے کے باوجود اسرائیلی آنکھوں کے سامنے ہوگی، دنیا کے دوسرے ملک بھی اسے ایک دہشت گرد گروپ کے طور پر ڈیل کریں گے۔ اس لیے نیتن یاہو کا ماننا یہ ہے کہ یہ احمقانہ بات ہوگی کہ حماس کو ختم کر کے اس کے مقابلے میں عالمی سطح پر زیادہ قابل قبول فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کی باگ ڈور تھما دے۔

اس کا مطلب تویہ ہو گا کہ غزہ جنگ کی فاتح فلسطینی اتھارٹی مان لی جائے اور عملاً ایک 'ڈی فیکٹو' فلسطینی ریاست کو بنا بھی دیا اور تسلیم بھی کر لیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ذاتی طور پر یہ چاہتے ہیں کہ یہ صورت کبھی نہ پیدا ہونے دی جائے۔ اس مقصد کے لیے حماس کے ساتھ ایک ایسا تعلق جاری رکھا جائے جو غزہ پر اس کے حکومت میں آنے کے وقت سے جاری ہے۔

بلا شبہ نیتن یاہو ایک خود غرض اور موقع پرست آدمی ہیں، مگر بے وقوف بالکل نہیں ہیں۔ وہ یہ خوب سمجھتے ہیں کہ رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کے لیے چابی دینے کا مطلب ہے کہ ایک باقاعدہ فلسطینی ریاست کے قیام کو 'کاؤنٹ ڈاؤن' شروع ہو گیا۔

حزب اللہ پر سرعت کے ساتھ اور بلند آہنگ فتح کے بعد، بشار الاسد اور شام پر پر غلبے کے بعد اور پھر ایران کے خلاف کامیابی کے بعد نیتن یاہو کو اسی طرح کے چیلنج کا سامنا ہے جس طرح کے چیلنج کا 1991 میں خلیج کی جنگ میں خلیجی و امریکی اتحاد کو صدام کو شکست دینے کے بعد درپیش تھا۔ کویت کو آزاد کرانے کے بعد اسرائیل کو سب سے بڑے خطرے سے نجات دلا دی گئی تھی کہ عراق کی قوت پاش پاش ہو گئی تھی۔ اس کے بدلے میں فلسطین ایشو کے حل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

نتیجتاً اسرائیلی وزیر اعظم شمیر کی ہچکچاہٹ کے باوجود 'میڈرڈ کانفرنس 'ہوئی اور بعد ازاں انہیں اوسلو معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ اسی اوسلو معاہدے کے نتیجے میں فلسطینیوں کے 'ڈائسپورا کو' پہلی بار واپس اپنے وطن آ جانے کا موقع ملا۔ نیتن یاہو تاریخ سے آگاہ ہیں اس لیے انہیں خدشہ ہے کہ ان کی حالیہ فتوحات کے بعد آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

اسرائیل جس نے حزب اللہ کو تباہ کر دیا اور اس کے سربراہ حسن نصراللہ کا سر بھی لے لیا، کیا حماس کے ساتھ بھی یہی کر سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیل کو غزہ میں اپنے فوجیوں کی جانوں کے نقصان کی بھی ایسی کوئی پرواہ نہیں، غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے قید اسرائیلی بھی اس کی ترجیحات کی فہرست میں سب سے اوپر نہیں، اگرچہ 250 میں سے اب غزہ میں سے صرف 23 قیدی زندہ حالت میں باقی ہیں۔ اسے اس بات کی بھی چنداں پروا نہیں ہے کہ اس جنگ میں مزید کتنے فلسطینیوں کو قتل کرنا پڑتا ہے۔ یہ ساری قیمت ادا کر کے نیتن یاہو فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کی حکمرانی کیوں دینا چاہے گا۔

نیتن یاہو حماس کی بچی کھچی قوت ختم کر کے جنگ ختم کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے مزید انسانی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ جیسا کہ اس نے متوازی جنگوں کے دوران حزب اللہ، ایران اور حوثیوں کے ساتھ محاذ کھول کر خطرات مول لیے تھے۔ اب وہ حماس کے ساتھ حتمی تصادم میں خطرہ مول لینے کو بھی تیار ہے۔

نیتن یاہو ایسا کیوں نہیں کرتے؟

اگلے دو مہینوں میں فیصلہ کن نتائج کے قریب آنے کے ساتھ، میں سمجھتا ہوں کہ ان کا ہدف ایسے اقدامات اور بندوبست ہیں جن سے فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ مسدود رہے۔

غزہ میں جنگ بندی کو جو چیز اسے روک رہی ہے وہ اسرائیلی فوجیوں کا جانی نقصان ہے نہ نیتن یاہو کو اپنی حکومت کے خاتمے کا خوف ۔ ٹرمپ یاہو کے ساتھ ہیں۔ وہ انہیں کرپشن کیسز سے بھی استثنیٰ دلوا سکتے ہیں۔ جیسا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو کا مسئلہ فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کے لیے چابی دینا ہے۔ وہ فلسطینی اتھارٹی سے بچنے کے لیے حماس کیا ارجانی کو بھی غزہ کی حکمرانی کے لیے قبول کر سکتا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size