اسرائیلی ریاست یا مشرق وسطی کے لیے نئی پولیس؟

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 11 منٹ

سات سال پہلے میں نے خطے میں اسرائیل کے ابھرنے کے بارے میں لکھا تھا۔ آج جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو اسرائیل کی علاقے میں پوزیشن اس قدر عظیم ہو گئی ہے جو پہلے کبھی نہ تھی۔

اس سارے منظر نامے کے پیچھے 'جیو پولیٹیکل' نوعیت کی وسیع تر تبدہلیاں ہیں، جو علاقے میں وقوع پذیر ہوئی ہیں۔

یہ سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد کی صورتحال کے باعث بھی ہوا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیل خود آج اس منظر نامے اور خود سے امکانات کو کیسے دیکھ رہا ہے؟

نہیں لگتا کہ اسرائیل خود کو خطے میں اپنے پرانے کردار تک محدود کر کے رکھنا قبول کر لے۔ بلکہ اس کی کوشش ایک ایسے نئے اور سیاسی کردار کے ادا کرنے کی ہو گی جو اس کی فوجی قوت و صلاحیت کے اظہار کا بھی ذریعہ بنے۔

تل ابیب نے تقریبا نصف صدی سے اپنی حکمت عملی اپنی بقا اور وجود کے تحفظ کے حوالے سے رکھی اور قبضے میں لی ہوئی سرحدوں کے تحفظ میں کوشاں رہا۔

اس حکمت عملی کا ایک پہلو یہ بھی رہا کہ اس نے ایران کے ساتھ خود کو کشیدگی کی حالت میں رکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی مخالف قوتوں کے خلاف بھی 'مینوپولیشن' میں مصروف رہا۔ جیسا کہ صدام کے عراق کے ساتھ اس کا معاملہ رہا۔ صدام والے عراق کو تو بہت پہلے اس کے راستے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ پھر بشار الاسد ایک طویل خانہ جنگی میں پہلے بے بس اور کمزور ہو گیا جبکہ دسمبر 2024 میں اسے بھی بالآخر شام سے بھاگ کر روس جانا پڑا۔ ایران البتہ ابھی تک مزاحمت کرتا رہا۔ مگر اب ایران بھی کافی حد تک تبدیل شدہ تاثر کے ساتھ مقابلتاً زیادہ کمزور ہو گیا ہے۔

اب نئے مرحلے میں اسرائیل کی جاری مہم اپنے اردگرد کی کچھ بچی کھچی طاقتوں کے خاتمے کے لیے ہے۔ اس کی نئی اور جدید تاریخ میں یہ پیش رفت پہلی بار اسے دیکھنے کو ملی ہے۔

اب الحمد للہ کوئی علاقائی طاقت ایسی باقی نہیں رہی ہے جو اسرائیل کے خلاف خطرہ بننے کی اہلیت رکھتی ہو یا ایسی کسی سرگرمی کا ارادہ رکھتی ہو۔ یہاں تک کہ ایران بھی اپنی بہت سی قوت اور جارحانہ اہلیت کی تباہی کے بعد اس حالت میں نہیں رہا ہے۔

اس وقت قائم ہو چکا توازن یقینا ایران کے حق میں نہیں رہا ہے۔ اس توازن کو تبدیل کرنے کے لیے ایران کے لیے لازم ہو گا کہ وہ اپنی اندرونی و بیرونی قوت کی تعمیر نو کرے۔ لیکن جو اس وقت نظر آ رہا ہے ایران اس سے بہت دور ہو گیا ہے۔

ان بدلے بدلے سے حالات میں اسرائیل بھی اپنی سٹریٹجی کو بدل رہا ہے۔ اب اسرائیل کی خواہش ہے کہ وہ محض سرحدوں کی حفاظت کرنے والے ایک محافظ بن کر نہ رہے۔ بلکہ وہ خطے یعنی مشرق وسطی میں ایک فعال کھلاڑی اور جارحانہ تاثر رکھنے والی ریاست کے طور پر رہے۔ ڈری ڈری سی اور سہمی سہمی سی ریاست رہنے کے بجائے ایسی ریاست بنے جس کا دوسری مملکتیں خوف کھائیں اور اسے نظر انداز نہ کر سکیں۔

موجودہ صورت حال اسرائیل کے لیے اور بھی اچھی ہے کہ علاقے میں موجودہ منظر نامے میں مملکتیں دبی دبی سے اور بکھری بکھری سی ہیں۔ کوئی واضح اور بڑا اتحاد ایسا نہیں جو اسرائیل کے لیے چیلنج بننے کی کوشش کرنا چاہتا ہو۔ خطہ کسی کا منتظر ہو وہ آئے اور استحکام کو درپیش چیلنجوں کا حل دے سکے۔ بشمول ایرانی محور کے کہ وہ بھی سب بری طرح سکڑ گیا ہے۔

اسرائیل کے لیے دو امکانات اہم ہو سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ نئے حالات میں خود کو جمود کی قوت کے طور پیش کرے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ایسے رہے کہ پوری عرب دنیا میں اپنے لیے تعلقات کی نئی وسعتوں کی تلاش کرے۔ اس کا مطلب ہوگا کہ خطے میں جنگوں اور بائیکاٹ والا ماحول ختم ہو جائے گا۔

اس کے لیے ضروری ہو گا کہ خطے میں اسرائیلی ریاست کی مزاحمت کرنے والے ملکوں اور حکومتوں کی کمزوری یا زوال کا شکار ہونے کے بعد اسرائیل جیو پولیٹیکل حالات پر خود کو حاوی ہوتا دکھائے اور اردگرد سے صفائی کا عمل جاری رکھتے ہوئے اپنے مفادات کو آگے بڑھاتا رہے۔

دوسری امکانی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اسرائیلی ریاست اپنی فوجی برتری کے ساتھ، اپنے سیاسی وژن اور مفادات کی بنیاد پر خطے کی تشکیل نو کرنے کی آرزو مندی دکھائے۔ مگر اس دوسری صورت کا مطلب یہ بھی ہو گا کہ علاقائی سطح پر مزید تصادم ہو سکتا ہے۔ کہ اسرائیل اپنی فوجی قوت کے ساتھ اپنی سیاسی حکمت عملی کو آگے کرے۔

علاقائی مملکتوں کو اس حوالے سے دیرینہ اندیشے رہے ہیں۔ صدام والے عراق اور ایران کی توسیع پسندانہ حکومتوں نے اسرائیل کو علاقائی سطح پر اپنے عزائم کی راہ میں دیکھا اور اسرائیل کے ساتھ خلاف تصادم پر مبنی انداز اختیار کیا۔ اس تصادم کی آڑ میں چاہے ان کی بیان بازی فلسطینی کاز کے کور میں لپٹی ہوئی رہے۔

ایک بات جو کرنا ضروری ہے یہ ہے کہ فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے اسرائیل پر حملہ کر کے اسے بند خول سے باہر نکلنے کا موقع دے دیا ہے۔ اس وجہ سے خطے میں اسرائیل کی پوزیشن پہلے کے مقابلے میں ایسی مضبوط ہوئی ہے کہ ہر کوئی حیران رہ گیا ہے۔ اس نئی صورت حال نے اسرائیل کو خطے میں وہ مقام دلا دیا ہے کہ اسرائیل پورے خطے کی پولیس کے منصب پر فائز کرنے کی کوشش میں ہے۔

ہونے والا ہر واقعہ اور کیا جانے والا ہر اقدام یہ بتا رہا ہے کہ اسرائیل علاقے کی سیاست اور حتی کہ تصادم میں بھی ایک بڑے کھلاڑی کی طور پر نظر آنا چاہتا ہے۔ ماضی میں اس کی جو محرومیاں یا کمزوریاں تھیں اب وہ ان پر بھی شاید سمجھتا ہے کہ قابو پا چکا ہے یا سمجھتا ہے کہ اس کے پرانے مسئلے اب اس کی کسی پریشانی کا باعث نہیں کہ یہ مسئلے حل نہ ہو پائیں گے۔ اس لیے اسرائیل خود کو علاقے کے بڑے کھلاڑی سے بھی کچھ زیادہ یعنی علاقائی سطح پر مملکتی اتحاد کے قائد کے طور پر دیکھتا اور حق دار سمجھتا ہے۔

وہ کچھ ایسی پیش قدمی بھی دکھا رہا ہے۔ جیسا کہ اس نے شام میں عراقی مداخلت کا راستہ روک دیا جبکہ شام کے اندر ترکیہ کے توسیعی عزائم کو بھی نکیل ڈال دی ہے۔یعنی اب شام۔میں اس کی مرضی حاوی سی ہوگئی ہے۔

اسی طرح نیتن یاہو کی حکومت کی جنگی چاہت کا ایک اسلوب سامنے ایا ہے کہ وہ جنگ اور جارحیت کرنے سے ڈرنے والی نہیں رہی ہے۔ اسرائیل کے اس جنون نے اس کے 'گریٹر اسرائیل' کے منصوبے کو نئے پر لگا دیے ہیں۔ اب وہ پورے خطے میں اڑانے بھرنے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔

بلا شبہ اس کے ساتھ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اسے یہاں تک لانے میں ایران ، بشار الاسد کے شام، اخوان المسلمون اور بائیں بازو وغیرہ نے کردار ادا کیا ہے۔

ہاں ایک امر خوش ائند کہہ سکتے ہیں کہ اسرائیل اس وقت پورے خطے پر اپنا غلبہ چاہتا ہے مگر وہ اپنے جغرافیائی حجم میں اضافہ یا توسیع کا جویا نہیں ہے۔

پچھلے پچاس برسوں کے دوران اس کی اپروچ اپنے اندرون کی طرف دیکھنے کی ہے۔ وہ اپنی مالی، عسکری اور قانونی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں لگا رہا ہے تاکہ 1967 میں قبضے میں لی گئی زمین کو اپنے اندر جذب کر سکے۔

اب بھی انہی علاقوں کو قابو رکھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔اس نے ان علاقوں کی واپسی کی بہت سی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔ لیکن کو پکڑنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے اور اس نے انھیں واپس کرنے کی بہت سی کوششوں کو بھی ناکام کیا ہے۔

اسرائیل ایک چھوٹی ریاست ہے اور غالباً اتنی ہی رہ سکے گی۔ اس کے نظام کی نوعیت کی وجہ سے جو آئی پی کے تحفظ پر اصرار کرتا ہے، اس کے 20 فیصد شہری فلسطینی ہیں۔

اگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا اپنے ساتھ الحاق کرتا ہے تو فلسطینی اس کی کل آبادی کا نصف بن جائیں گے۔ اس لیے مغربی کنارے اور غزہ کا اپنے ساتھ الحاق کرنا اس کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ انتہا پسند اسرائیلی اس مقصد کے لیے موجودہ افراتفری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

یہ اکتوبر 2023 کے بعد پہلے ہی ہو چکا ہے کہ حماس کے حملوں کو مغربی کنارے اور غزہ کی آبادی کے ایک حصے کو نکالنے کے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ اگرچہ ایسا کرنے کے نتائج خطرناک ہوں گے مگر حقیقی امکان یہی ہے۔

لیکن جہاں تک 'گریٹر اسرائیل' کے نظریہ سازوں کی طرف سے گریٹر اسرائیل کے بارے میں انتباہی بیانات دینے والے مبالغہ آرائی بھی کرتے ہیں۔

اکثر ایسی تصاویر اور مضامین کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ اسرائیلی ریاست دریائے اردن سے آگے پھیلنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ بھی تلمودی عبادات اور رسومات کے ساتھ دیکھے جانے والے خواب ہیں جنہیں اسرائیل کی ایسی 'کمیونٹیز ' یاد کرتی رہتی ہیں۔

ماضی میں عرب بھی اسلامی تاریخ کے اندلس کی باتیں کرتے رہے ہیں اور کچھ مسلمان اس اندلس کی واپسی کے خواب بھی دیکھتے رہے ہیں۔ مگر یہ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ آبادی کے لحاظ سے اسرائیلی ریاست ایک خالص یہودی ریاست کے تصورات سے دور نہیں جا سکتی۔

اس کے برعکس خطے کے زیادہ تر ملک جو مذہبی، نسلی اور ثقافتی تنوع کے ذریعے تشکیل پائے تھے اور اسی تنوع ساتھ رہنا قبول کرتے ہیں مگر اسرائیلی ریاست اس مذہبی تنوع کو پسند نہیں کرتی۔

سیاسی طور پر، یہودی ریاست کی مستقبل کی حکمت عملی اس کی حالیہ فوجی فتوحات کے بعد بھی غیر واضح ہے اور غیر ممکن ہے۔ اسرائیل اپنے تمام پڑوسی عرب مملکتوں کے ساتھ پر امن ریاست کے طور پر رہنا چاہتی ہے۔ مگر علاقے میں ایک پولیس کی طرح۔ اگرچہ اسرائیل کی یہ خواہش ابھی شروعات میں ہے اور یہ یہ پولیس بھی مسلسل لڑائیوں میں الجھی رہی ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size