ایران کے جوہری مذاکرات: طاقت اور پر اعتمادی سے بقا کی کوشش تک

ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 12 منٹ

ایران اور یورپ کے تین اہم ملکوں برطانیہ، فرانس اور جرمنی [E3] کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں سفارتی سطح پر از سر نو بات چبت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس بات چیت میں قدرے عجلت کا پہلو بھی موجود ہے کہ کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کو ایک بار پھر انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوبارہ شروع کی گئی اس بات چیت کے دوران ایک اہم سوال سامنے ہے۔ کیا یورپی یونین ان پابندیوں کو ایک بار پھر ایران پر لگانے کی کوشش کرے گی۔ جیسا کہ ایران کو دی گئی 18 اکتوبر کی ڈیڈ لائن تیزی سے قریب آ رہی ہے یا اس کے برعکس یورپی یونین کسی ایسے حل میں کامیاب ہوگی جس کی بنیاد ایک نیا معاہدہ بن جائے گا۔

اس سوال کا جواب ایران کی جوہری تمناؤں کے حوالے سے ہی مل سکتا ہے جو وسیع تر مشرق وسطی کی سلامتی اور 2015 میں کیے گئے اس جوہری معاہدے کی بحالی و بقا کے تناظر میں اہم ہو سکتی ہیں۔

اس مقصد کے لیے ایک طرف بات چیت چل رہی ہے اور دوسری جانب گھڑی کی ٹک ٹک اٹھارہ اکتوبر کی ڈیڈ لائن کو قریب تر کر رہی ہے۔ اس دوران یورپی یونین کو لازما خود کو حاصل لیوریج، سیاسی نفع و نقصان کے جائزے اور دستیاب مواقع کی کھڑکی کو بھی تولنا ہے کہ کون سی سہولت اور آپشن اپنا وزن کھو رہی ہے اور کس کا وزن برقرار رہ سکتا ہے۔

کیونکہ 'سنیپ بیک میکا نزم' کوئی علامتی چیز نہیں ہے۔ اس کی قانونی و سیاسی حیثیت اور وزن ہے۔

یہ محض کچھ ملکوں کا باہمی طور پر کیا گیا ایک معاہدہ نہیں کہ ایک اس میں نکل گیا تو اب دوسرا بھی اس کا پابند نہیں رہا۔ ایسا نہیں ہے۔ اس جوہری معاہدے کے پیچھے سلامتی کونسل کی توثیق بھی موجود ہے۔

اس سلسلے میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 اس کی حمایت میں ہے۔ صرف یہی نہیں یہ ایک طرح سے سلامتی کونسل میں پیش کیے جانے والے عمومی امور سے زیادہ اہم ہے کہ یہ معاہدہ اس پر دستخط کرنے والوں کو ایران پر یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ اگر ان میں سے کسی کے خیال میں ایران نے واضح طور پر معاہدے کی کسی شق پر عمل نہیں کیا تو معاہدے میں شامل کوئی ملک بھی ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کا مکرر اطلاق کرسکے گا۔ اس اطلاق کو سلامتی کونسل کا کوئی مستقل رکن چیلنج بھی نہیں کر سکے گا۔

اگر 'سنیپ بیک میکانزم' کا پراسس دوبارہ شروع کیا جاتا ہے تو اس کے لیے 30 دن وقت درکار ہو گا۔ اس کے بعد پابندیاں خود بخود نافذ ہو جائیں گی۔ الا یہ کے اس سلسلے میں کوئی قرار داد اختیار نہیں کر لی جاتی۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ کہ تین یورپی ملک اپنے طور پر بھی ایران پر وہی پرانی پابندیاں لگا سکیں گے۔

ان پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی درآمدات اور برآمدات پر پابندیاں عائد ہو جائیں گی۔ اقتصادی نیٹ ورکس ، میزائل پروگرام اور جوہری پروگرام پابندیوں کی زد میں ہوگا۔ یوں ایران کی پہلے سے تباہ حال معیشت کے لیے یہ پابندیاں مزید تباہ کن ثابت ہوں گی۔

اگر یہ یورپی ملک 18 اکتوبر سے پہلے ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے اور ایران پر پابنیوں کا اطلاق نہیں ہوتا تو ایک کھلی ہوئی قانونی کھڑکی ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گی۔ یورپ ایران کے خلاف اپنے اختیار کے استعمال سے محروم ہو جائے گا۔

یہ جائزہ لینے کے لیے کہ کیا ایران اور یورپ کے درمیان معاہدہ ممکن ہے۔ یہ ممکنہ صورت کیا ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ فریقین کا مؤقف سمجھا جائے۔ فریقین کے مفادات کا جائزہ لیا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ انہیں سیاسی اعتبار سے کیا مواقع دستیاب ہیں اور کیا نہیں ہیں۔

ایران کے حوالے سے دیکھا جائے تو اعداد و شمار اور حساب کتاب کے پیمانے بارہ روزہ جنگ کے بعد تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہ اگرچہ مختصر جنگ تھی مگر بہت تباہ کن رہی۔ اسرائیلی ریاست کی طرف سے شروع کی گئی اس جنگ کو امریکی سائبر ٹیکنالوجی کی پوری مدد حاصل ہونے کے علاوہ یہ پوری طرح امریکی ارتباط سے لڑی گئی۔ حتی کہ امریکہ نے ایران کے تین اہم ترین جوہری مراکز فوردو، ننتز اور اصفہان کو بھی زبردست بمباری کا نشانہ بنا کر ایرانی جوہری پروگرام کو برسوں پیچھے دھکیل دیا۔

ماضی میں ایران نے جب جوہری پروگرام پر مذاکرات کی میز پر آنا قبول کیا تھا اس کی پوزیشن مضبوط تر تھی۔ وہ افزودہ یورینیم کی اتنی مقدار رکھتا تھا جو جوہری ہتھیار بنانے کی ضرورت کے قریب تر تھی۔ ایرانی حمایت یافتہ علاقائی پراکسیز پوری طرح متحرک اور فعال تھیں۔ اس کا مغربی اتحادیوں پر اچھا خاصا اثر ہو سکتا تھا۔

مگر آج کی ایرانی تصویر بہت دھندلا چکی ہے۔ بارہ روزہ جنگ کے بعد ایرانی کمزوری واضح ہو گئی ہے۔ خود ایرانی حکومت کہتی ہے کہ اندرونی اور بیرونی سطح پر اسے کئی طرح کی مشکلات اور چیلنج درپیش ہو گئے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ایران اب واضح طور پر مایوسی کی حالت میں ہے۔ ایرانی قائدین بھی اس حقیقت سے خوب آگاہ ہیں کہ جوہری مذاکرات کی ناکامی سے یورپی یونین نے 'سنیپ بیک سسٹم' کو متحرک کیا تو ایران پر پابندیاں لگنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا، کرنسی کی حیثیت مزید مجروح ہو جائے گی۔ بے روزگاری کو مزید طوالت مل جائے گی اور معیشت کی تباہی سے فرار ممکن نہ ہوگا۔ یہ کہ ایران کی عالمی سطح پر سفارتی تنہائی مزید گہری ہوجانا بھی فطری ہوگا۔ اس کی علاقائی کرنسی مزید تباہ ہو جائے گی۔ درپیش چیلنجوں کے اس تناظر میں ایران جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے آمادہ ہوا ہے۔

مطلب یہ کہ مغرب کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کی بنیادیں انہی ایرانی مسائل میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ایران کے پاس کوئی قابل عمل متبادل راستہ موجود ہی نہیں رہا تھا۔ کہ وہ مذاکرات کا حصہ بننے سے انکار کرسکتا۔

ایرانی حکام ان مذاکرات کو غالبا ایک موقع کے طور پر نہیں بلکہ اپنی بقا کی ضرورت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک اور بات جو اس سے بھی اہم ہے وہ یہ ہے کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام میں رکاوٹیں قبول کرنے سے بہت کم نقصان ہوا ہے۔

سفارت کاری کے پہلے دور میں، اس کی جوہری پیش رفت نے اسے سودے بازی کی طاقت دے رکھی تھی۔ وہ اس پوزیشن میں تھا کہ معاہدہ کر کے مراعات اور فوائد یقینی بنا لیتا۔ جیسا کہ اس نے کیا بھی۔ لیکن آج اسرائیل کی تخریب کاری، امریکی حملوں اور اندرونی دھچکے کے بعد، ایران کا جوہری ڈھانچہ تباہی کا شکار ہے۔ اس کے اہم حصے تباہ کر دیے گئے ہیں یا ناکارہ بنا دیے گئے ہیں۔ یہی نہیں اس کا افزودہ کیا گیا یورینیم کا ذخیرہ بھی کم ہو گیا ہے۔

جوہری پروگرام کو معطل کیے جانے یا 'رول بیک' کرنے اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کو اجازت دینے سے ہونے والے نقصان کے مقابلے میں سفارتی فوائد زیادہ مل سکتے ہیں۔ مختصرا یہ کہ جوہری معاہدے کا ہو جانا ایران کے لیے زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس سوچ اور پالیسی جاری رکھی گئی تو اس سے ایرانی پوزیشن مزید کمزور ہو جائے گی۔

آج کی حقیقت یہ ہے کہ بیلنس تین یورپی ملکوں کے حق میں ہے۔ اس سے پہلے جب مذاکرات ہوئے تھے تو ایران اپنی افزودہ کی گئی یورینیم کی مقدار اور فوجی صلاحیتوں کے حوالے سے بہت پر اعتماد تھا۔ لیکن اب مغربی ممالک پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن بہت کمزور ہو چکی ہے۔ اس سلسلے میں 12 روزہ جنگ کے بعد ایران کا فوجی نقصان، ایرانی میزائل ڈیفنس سسٹم کی کمزوریوں کا اجاگر ہوجانا۔ نیز لبنان اور عراق میں اس کے پراکسیز کا برا حال ہو جانا اس کے علاقائی کردار کو کافی کمزور کر گیا ہے۔ ایران کی کرنسی کمزور ہوگئی ہے۔

دوسری طرف یورپ ہے۔ اس کے اہم اور بڑے ملک ہیں اور ان کے ہاتھ میں ' سنیپ بیک میکا نزم' کا ہتھیار ہے۔ یہ کم ہوا ہے کہ یورپی دنیا کے پاس ایران کے خلاف واضح طور پر بہتر پوزیشن ہو اور وہ اس پوزیشن کو سمجھتے بھی ہوں۔ اس لیے نہیں محسوس ہوتا کہ یورپی ممالک اس بار ایران کو کوئی غیر معمولی قسم کی رعائتیں دیں گے۔

ان کے لیے اہم ترین بات یہ ہے کہ ایران بین الاقوامی جوہری ادارے کے معائنہ کاروں کو تنصیبات کے معائنے کا موقع دے۔مزید یہ کہ یورینیم کے غیر نشان زدہ ذخائر اور اب تک ریکارڈ پر لائی گئی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں دیرینہ سوالات کے بھی جواب دے۔

یقینا یہ وہ مسائل ہیں جن کی وجہ سے ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے میں رکاوٹیں رہیں اور ایرانی تعمیل و تعاون کے بارے میں عالمی اعتماد مجروح رہا ہے۔

زیادہ امکان یہ ہے کہ یورپی ملک بین الاقوامی معائنہ کاروں کے لیے بلا روک ٹوک تنصیبات تک رسائی، یورینیم کی افزودی کو محدود کرنے پر زور دے۔ کہ یہ مطالبات 'سنیپ بیک میکانزم' کے قانونی تقاضوں کے مطابق ہیں۔

علاوہ ازیں نظام الاوقات کی اہمیت بھی اپنی جگہ ہے۔ بعض مطالبات پر عمل کے لیے یورپی ملک ایران کو مناسب وقت دے سکتے ہیں۔ اس طرح ایران کو بھی فائدہ ہوگا اور مغربی ممالک اور ان کے سفارت کاروں کو بھی زیادہ جامع چیک کے لیے زیادہ جامع تیاری کا موقع میسر آجائے گا۔ نتیجتا جو بھی ڈیڈ لائن آئے، واضح ہوگی اور شرائط معاہدہ بھی اچھی طرح نکھریں نکھریں نظر آئیں گی۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک کو ایران کی ممکنہ سٹریٹجی کو بھی نظر میں رکھنا ہوگا مراد یہ کہ اتنی ہی مہلت اور تعاون دیا جائے جس سے ' سنیپ بیک میکانزم ' کی ڈیڈ لائن متاثر نہ ہو۔ اگر یہ احتیاط نہ برتی گئی تو 'سنیپ بیک' کی سہولت و اختیار کو بروئے کار لانے کا موقع مغربی ممالک کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔

یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو پھر ایران پر پابندیاں لگانے کے لیے سلامتی کونسل سے نئے سرے سے قرارداد کی منظوری لازمی ہوگی۔ جو چین یا روس کی طرف سے ویٹو کی جا سکتی ہے۔ بلاشبہ یورپی یونین ماضی میں 2020 میں کی جا چکی غلطی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اب ایسا نہیں کرے گی کہ اختیار کو روسی یا چینی ویٹو سے تبدیل کر لے۔ 2020 میں ایران پر اسلحے کی پابندی ختم ہونے سے پہلے ایسا ہو چکا ہے۔ لہذا 'سنیپ بیک میکانزم' کے حوالے سے دی گئی انتباہی ڈیڈ لائن کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

ایران اس وقت طاقت اور اعتماد کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا وہ اپنی بقا کی کوشش کرتے ہوئے ایسا کرنے پر مجبور ہوا ہے۔ وہ پہلے سے بہت کمزور ہو چکا ہے۔ عسکری، سیاسی، معاشی اور قیادت کے اعتبار سے بہت کمزور ہو چکا ہے۔ اس لیے اب گیند مغربی ممالک کی کورٹ میں ہے۔ وہ اسے ہچکچاہٹ سے کھیلیں گے یا اعتماد کے ساتھ دونوں صورتوں میں اس کے اثرات مشرق وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔

اب یہ مغرب پر منحصر ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کے ساتھ بالواسطہ کیا سلوک کرنا چاہتا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size