نیتن یاہو اسرائیلی ریاست میں اکیلے نہیں!

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 11 منٹ

نیتن یاہو اس ناطے اسرائیلی ریاست کے ایک نارمل اسرائیلی لیڈر نہیں ہے کہ ان کے اتحادی بھی ان کی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔ مخالفت کرنے والے ان کے اتحادیوں میں عرب بھی شامل ہیں اور اسرائیلی بھی۔ حمایت اور مخالفت کا یہ ایک دلچسپ اور منفرد امتزاج ہے جو انہیں میسر ہے۔

نیتن یاہو بھی اپنے اتحادیوں کو اشتعال میں رکھنے کی کوئی نہ کوئی صورت پیدا کرنے کا موجب بنتے رہتے ہیں۔ اس طرح وہ ان اخباری شہ سرخیوں کا خود بھی حصہ بنتے رہتے ہیں اور اپنے اتحادیوں کو ان بھی اپنے ایشوز سے برگشتہ کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ گویا ایک دلچسپ کھیل کی طرح یہ منظر نامہ کئی برسوں سے اسرائیل پر چھایا ہو۔

ایک فرد کے طور پر اگر نیتن یاہو پر توجہ مرتکز کی جائے تو ان کی شخصیت کو آسانی سے سمجھنا بھی ممکن ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے کردار کا جواز بھی نظر آتا ہے۔ کہ غزہ کی خوفناک جنگ لڑتے ہو ئے اس کی ہولناکیوں کے ماحول میں یہ کچھ غیر متوقع نہیں ہے۔

لیکن یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اسرائیل میں کیا وہی ایک جارحانہ یا باغیانہ طرز کی شخصیت کے طور پر پیدا ہوائے یا آگے آئے ہیں؟ یا کچھ اور بھی موجود ہیں جن کی شخصیت کو ایک نارمل سوچ اور ماحول کی عکاس نہ کہا جا سکتا ہو۔

بعض عرب میڈیا ہاؤس شروع سے ہی یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جنگ کے شروع سے ہی اسرائیلی عوام نیتن یاہو کے خلاف ہیں اور عوام اس جنگ کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ سوچنا حقیقت میں محض ایک خوش کن سی خود فریبی ہے اور زمینی حقائق سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

حماس کے خلاف غزہ میں آہنی ہاتھوں سے نمٹنے اور فولادی جواب دینے کی سوچ اسرائیل میں سات اکتوبر 2023 کے حملے کے ساتھ ہی ابھر آئی تھی اور نیتن یاہو نے حملے کا انتہائی جواب دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ یوں نیتن یاہو انتقام کی انتہا پسندانہ حدوں سے بھی ذرا آگے نکل گئے۔

لیکن دیکھا جائے تو اکیلے نیتن یاہو کو اس جارحانہ پن کا مورد الزام نہیں ٹھرایا جا سکتا ہے ان کا یہ طریقہ زندگی یا انداز حکومت ہر گز اسرائیلی ریاست میں انوکھی چیز نہیں ہے۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کی بہت سے ریاستوں میں اس طرح کا انوکھا پن کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

نیتن یا ہو سے پہلے جن لوگوں کو اسرائیلی ریاست کی وزارت عظمی کے لیے عوام نے موزوں سمجھا اور اس عہدے پر فائز کیا وہ بھی جارحانہ کٹر پن رکھنے والی شخصیات ہی تھیں۔

گولڈا میئر، مناحیم بیگن، اضحاک شیمیر اور ایرئل شیرون کی مثالیں واضح ہیں سب نے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ مجموعی طور پر اسی طرح کے کام کی بنیاد پر عرب میڈیا میں یہی شہرت پائی۔ یا انہیں اسی طرح کی تنقید اور الزامات کا نشانہ بننا پڑا۔

اس لیے جب بھی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا جائزہ لیا جائے یا ان کی کسی پالیسی یا اقدام کو نشانہ بنایا جائے تو سب سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ وہ ایک ایسی ریاست کی نمائندگی اور مفادات و اہداف کے لیے وزیر اعظم بنے تھے، جو عام ریاستوں سے مختلف اور منفرد ہے۔ نیز وہ کسی غیر اسرائیلی یا پڑوسی ریاست کے مفادات کی رکھوالی کے لیے بالکل وزارت عظمی پر نہیں بٹھائے گئے۔ انہیں ان کی اسرائیلی ریاست کی اکثریت نے اپنے لیے چنا تھا۔ اس لیے وہ انہی کے نمائندہ بن کر رہیں گے انہی کے نمائندہ بن کر جییں گے۔ جیسا کہ پہلے والے سبھی وزرائے اعظم نے بھی کیا تھا۔ سب ایک ہی راستے کے راہی اور ایک ہی منزل کے جویا رہے۔

اس لیے یہ طریقہ اختیار کرنا کہ اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم کو ان کی ریاستی اپروچ اور سسٹم سے الگ کر کے دیکھا جائے، درست نہیں ہو گا۔ انہیں اسرائیلی ریاست کے سیاسی فلسفے اور وجود کی کیمسٹری کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔

یہ بھی خیال رہے کوئی بھی ریاستی اعلی عہدے دار ایک وقتی شخصیت کے طورپر اچانک منظر پر نہیں ابھرتا۔ وہ اپنے سسٹم، تاریخ، کلچر، ماحول، رد و قبول کے سارے پیمانوں اور اہداف مفادات کے حوالے سے ایک نمونے کی پیداوار کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اگر وہ ان حوالوں سے مختلف ہو تو اولآ جیتے گا نہیں اور اگر جیت بھی گیا تو لمبا عرصہ چل نہیں سکے گا۔

یاد رہے نیتن یاہو چھٹی بار وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہو کر غزہ کے چیلنج سے نمٹ رہے ہیں۔ اس لیے نیتن یاہو کو اکیلے اتہام، الزام یا دشنام کا نشانہ بنانا ان کے ساتھ نا انصافی کے علاوہ درست تجزیے سے دوری اور اصل مسئلے کو سمجھ کر آگے بڑھنے سے انکار ہے۔ یہ اسرائیلی ریاست اور اصل کو نہ سمجھنے کا اظہار بھی ہے۔

صرف وزیر اعظم کے دفتر تک پہنچنے والے کے ساتھ اختلافی آوازیں منسوب نہیں ہیں بلکہ یہ پورے معاشرے میں موجود ہوتی ہیں اور آرا کو متنوع ہونا فطری سی بات ہے۔

اس لیے اسرائیل کی وسیع تر اہدافی سوچ کو سمجھنے کے لیے ان معمولی بحثوں اور اختلافی آوازوں کو توجہ نہیں دی جانی چاہیے۔ ان اختلافی آوازوں کا تعلق وسیع تر اہداف سے بالکل نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہےکہ جب کچھ لوگ اسرائیلی پارلیمنٹ، سابق صدور، سابق فوجی سربراہان اور اسرائیلی حزب اختلاف کی تنقید و اختلاف کو حوالہ بنا کر وزیر اعظم نیتن یاہو کی پوزیشن کو خراب دکھانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ عرب رائے عامہ کو گمراہ کرتے ہیں۔

وزیر اعظم پر تنقید کرنے والوں کی اکثریت ہر گز نہیں ہے۔ اگر ان عناصر کی تنقید پر عوام کان دھرتے تو نیتن یاہو اتنی کمزور سی اکثریت کے ساتھ اپنی حکومت اب تک کیونکر برقرار رکھ سکتے تھے۔

رہی بات غزہ میں تقریبآ دو برس سے پڑے اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کے مسلسل جاری احتجاج اور عالمی رہنماؤں کی طرف سے قیدیوں کی رہائی کے لیے نیتن یاہو پر دباؤ کی تو کیا وجہ ہے نیتن یاہو بطور وزیر اعظم اس بارے میں اپنے کانوں کو بہرہ بنائے ہوئے ہیں اور سن کے نہیں دے رہے ۔ انہیں نہیں پرواہ کہ کون کیا کہہ رہا ہے۔ اس کے برعکس غزہ میں تباہی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کیا تنقید کی زد میں رہنے والا ایک کمزور وزیر اعظم ایسا کر سکتا ہے؟

غزہ میں اسرائیل کے کسی بھی جنگی محاذ سے زیادہ نقصان اٹھانے کے باوجود اسرائیلیوں کی اکثریت نیتن یاہو کے ساتھ ہے۔ اسی لیے یاہو حکومت برقرار ہے۔

عالمی رہنماؤں کی دباؤ بڑھانے کی اپیلیں تو بس اپیلیں ہوتی ہیں۔ کیا محض اپیلوں اور بیانات سے نقشے بدلے جا سکتے ہیں یا نقشہ کار میں ہی کسی تبدیلی کا موجب بن سکتے ہیں۔ بالکل نہیں!

اسرائیلی وزیر اعظم کا موقف اور انداز کار فوجی لیڈر شپ، سول انتظامی ڈھانچے، قانون سازوں اور سیاسی جماعتوں کی کافی حد تک اجتماعی سوچ کا مظہر ہے۔ ان سبھوں کی سو چ وزیر اعظم کی صورت میں ایک قالب میں ڈھل جاتی ہے۔

ایک سانچے میں ڈھلی یہ سوچ فلسطینیوں اور علاقائی خطرات کا مکمل خاتمہ چاہتی ہے۔ ایسا ہی ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔ لگتا ہے کہ اس سلسلے میں ہماری باری آخر میں ہے۔ غزہ کے بحران کے سلسلے میں اس سال کے اواخر میں ایک قرار داد کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔

ایک چیز جو اسرائیلی ریاست میں ان دنوں کم محسوس ہوتی ہے وہ اسرائیل میں بائیں بازو کی آواز اور سرگرمی ہے۔ بایاں بازو عام طور پر فلسطینیوں کے خلاف جنگوں کی مخالفت کرتا رہا ہے اور فلسطینیوں کے حقوق کی بات کر دینے میں ہمدردی کا تاثر رکھتا تھا۔ مگر اب وہ سکڑ کر رہ گیا ہے۔ اس کی وجہ شاید اسرائیل پر حماس کا سات اکتوبر کا حملہ بنا ہے۔ اس حملے نے اسرائیلی معاشرے میں بائیں بازو اور اعتدال کی بات کرنے والوں کے کیمپوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔

اسرائیلی ریاست کی اندرونی تصویر کو دیکھتے ہوئے اور عوام کے مختلف طبقات کے رجحانات کو سمجھتے ہوئے ہی یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پورے علاقے میں کیا ہونے جا رہا ہے۔

خصوصآ اسرائیل کے کئی جگہوں پر موجود تنازعات اور جھگڑوں کے حوالے سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اب کیا ہو گا۔ بجائے اس کے اسی پرانے انداز کے بار بار دہرائے جانے والے بیانیے پر بھروسہ کیا جائے جس نے حقائق کو مسخ کرنا ہے اور حالات کی غلط تفہیم دینا ہے۔ اس سے دوری بہتر ہے۔

اس لیے حاصل یہ ہے کہ نیتن یاہو کو اگر بھاری حمایت حاصل نہ ہوتی تو غزہ میں اسرائیلی جنگ شروع ہو سکتی تھی نہ جاری رہ سکتی تھی۔ کم از کم سینکڑوں فوجی و غیر فوجی اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد تو نیتن یاہو اقتدار میں ہر گز نہ رہ سکتے تھے۔ نہ ہی نیتن یاہو لبنان میں حزب اللہ کو نشانہ بنا سکتے، نہ یمنی حوثیوں کو اور نہ ہی ایران پر یلغار کر سکتے۔

عوامی حمایت کے بغیر مشکل فیصلے اور اقدامات کی توقع نہ جنگ کے لیے ہو سکتی ہے اور نہ ہی امن کے لیے ایسا کرنا ممکن ہے۔ عوامی حمایت کے بغیر فلسطینیوں کو ان کا حق دیا جا سکتا ہے نہ انہیں ان کے حقوق سے محروم رکھا جا سکتا ہے۔ اس لیے یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اسرائیل میں کوئی سیاسی اختلاف نہیں ہے۔ ہاں مختلف جماعتیں اپنے انداز سے اپنے گروہی اقتدار کی وجہ سے ضرور الگ سوچنے کی ایک حد تک کوشش کرتی ہیں۔ مگر زیادہ تر جماعتیں جنگی صورت حال میں حکومت کی پشت پر کھڑی ہیں۔

لہذا فلسطینیوں کو کسی اور کے مقابلے میں اسرائیلی رائے عامہ سے ہی جڑنے کی ضرورت ہے، عرب رائے عامہ سے بالکل نہیں۔

عرب دنیا کو فلسطین کاز کے کیے قائل کرنے کی کوششوں سے بہتر ہو گا کہ اپنی توجہات اور انحصار کی ترجیح عربوں پر نہ رہے۔ بلاشبہ عالم عرب فلسطین کاز کے ساتھ ہی مگر سیاسی وزن اتنا نہیں کہ دنیا کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size