دوحہ پر حملہ اور واشنگٹن ۔ خلیج تعلقات
سعودی عرب کے علاقے بقیق میں ہونے والے حملوں کے بعد بھی اسی طرح کے مطالبات پر مبنی آوازیں ابھری تھیں کہ سعودی عرب امریکہ کے ساتھ اپنے اتحاد کو ختم کر دے۔ اب دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد بھی یہی مطالبات سامنے آ رہے یں کہ قطری حکومت واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات پر از سر نو غور کرے۔ لیکن ریاض اور قطر دونوں نے اس مخالفانہ رائے کا انتخاب کرنے کی بجائے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط اور گہرا کرنے کا انتخاب کیا۔
یہ سوال فطری ہے کہ ان دونوں خلیجی ملکوں نے ایک ہی سمت کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیوں کیا اور کیا وجہ ہے کہ بعض لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہ اپنا راستہ واشنگٹن سے الگ کریں۔ خلیجی ملکوں کے ہاں اس پس منظر کی وجہ واضح ہے کہ فوجی و معاشی اعتبار سے دنیا کی مضبوط ترین طاقت امریکہ کے ساتھ ان کے گہرے تعلقات ہیں اور اپنے ان تزویراتی نوعیت کے تعلقات پر وہ سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ اگر کچھ خاص امور میں عدم اتفاق اور کچھ غلطیاں بھی سامنے آئیں تو بھی خلیجی ممالک اسے نظر انداز ہی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
امریکہ کے حوالے سے یورپی ملکوں کی بھی یہی اپروچ ہے۔ حتیٰ کہ جنوبی کوریا، جاپان اور اسی طرح کے بہت سارے دیگر ملک امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ یوکرین کے معاملے میں اپروچ کا گہرا فرق رکھتے ہیں۔ ان ملکوں کو روسی صدر ولادیمیر پیوتن کے بارے میں بھی صدر ٹرمپ کی سوچ سے اختلاف ہے اور وہ اپنے تحفظات کا بھی اظہار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود یورپی ممالک نے تعلقات منقطع نہیں کیے۔
البتہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بعض معاملات میں خود کو ڈویلیپ کیا اور یہ محسوس کیا ہے کہ ان کی معاشی و سلامتی سے متعلق معاہدوں کی وجہ سے انہیں ان تعلقات میں کمی نہیں لانی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی امریکہ کی سکیورٹی سے متعلق چھتری کے نیچے نیٹو کا حصہ ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی قیادت کے بغیر وہ ایک ایسا ڈھانچہ بن کر رہ جائیں گے جو طاقت اور دانتوں کے بغیر ہوگا۔
ایک مثال جنوبی کوریا کی بھی ہے۔ صدر ٹرمپ کے کم جون ان کے نام 'محبت نامے' سیول کے بارے میں اظہار ناراضی لیے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جب سے کوریا نے جوہری میزائلوں کے حوالے سے کوششیں شروع کی ہیں۔ امریکہ کی طرف سے اس دھمکی کے باوجود کہ وہ اپنی افواج کو واپس بلا لے گا۔ جنوبی کوریا نے مقبول عام طرز کے کسی بیانیے کے پیچھے پناہ نہیں لی۔ یہی صورتحال ریاض اور دوحہ کی ہے۔ ان کا انحصار واشنگٹن کے ساتھ اتحاد پر ہے۔
جاپان ایک تیسری مثال ہے جس کے واشنگٹن کے ساتھ بہت واضح اختلافات موجود ہیں۔ خصوصاً تجارتی شعبے میں جاپان اور امریکہ کے درمیان کئی مسائل پائے جاتے ہیں۔ امریکی فوجی اڈوں کے حوالوں سے اختلافات موجود ہیں۔ لیکن اس کے باوجود جاپان کی طرف سے کوئی ایسا فیصلہ یا اقدام نہیں ہوتا کہ جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی تعلقات کی بنیاد کمزور پڑے۔
جاپان اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اس کی قومی سلامتی کا معاملہ امریکہ سے اتحاد سے وابستہ ہے۔ بصورت دیگر اسے چین اور شمالی کوریا کی طرف سے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔
امریکہ و بھارت کے تعلقات میں بھی حالیہ دنوں میں کچھ داغ نمودار ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کا تزویراتی تعلق گہرا اور مضبوط ہے۔
سابق امریکی صدر اوباما کے زمانے میں خلیجی ریاستوں کے ساتھ امریکی انتظامیہ کے جو اختلافات ابھرے تھے خصوصا ایران کے بارے میں پالیسی کی وجہ سے یہ اختلاف اس زمانے میں موجود رہا مگر امریکہ و خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات کا خاتمہ کبھی نہ ہوا۔ حتیٰ کہ صدر اوباما نے بھی وائٹ ہاؤس سے الوداع ہونے سے پہلے ان تعلقات کو بہتر کرنے کو اہمیت دی۔
سعودی عرب عراق پر امریکی فوجی یلغار کا سخت مخالف تھا لیکن اس کے باوجود امریکہ و سعودی عرب کے درمیان تعلقات خرابی سے ہمیشہ بالاتر رہے۔ صدر جو بائیڈن کے زمانے میں بھی شروع میں دو طرفہ حالات کافی ناسازگاری کا شکار ہو گئے۔ مگر بعد ازاں صدارتی مدت کے اختتام سے پہلے ہی تعلقات کافی بہتر ہو گئے۔
اس لیے اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ خلیجی ممالک میں جو سوچ کار فرما ہے وہ تزویراتی حقیقتوں کی اہمیت کی حامل ہے۔ ان تزویراتی حقیقتوں، ضرورتوں اور اہداف کو جذباتی باتوں اور قبول عام پانے والے سطحی بیانیوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ اسی اتحاد کی بدولت کویت پر عراقی قبضے کو روکا جا سکا تھا۔ اسی اتحاد کے باعث القاعدہ اور دوسری انتہا پسند تنظیموں اور ملکوں سے خلیجی ممالک کو محفوظ بنایا گیا اور خلیجی ممالک ہر طرح کے خطرات سے محفوظ رہتے ہوئے اپنی معاشی ترجیحات کے مطابق آگے بڑھتے رہے۔
لیکن ان بار بار سامنے آنے والے مطالبات کی کس طرح وضاحت کی جائے کہ خلیجی ممالک اپنے تزویراتی تعلقات کا خاتمہ کر لیں۔ سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ خطے پر ان کا غلبہ ہو۔ جیسا کہ بعض قوتیں یقین رکھتی ہیںکہ خطے میں امریکی اثرات میں کمی ان کے لیے خطے میں بالادستی کے امکانات بڑھا دے گا۔ جیسا کہ ہم دیکھ بھی چکے ہیں کہ کس طرح 'مزاحمتی محور' کے نام سے عسکری گروہ خطے میں پھیلے اور صدر اوباما کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ وہ خطے کی سلامتی کے لیے اہم تھے۔
دوسری یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ عرب دنیا کی فوج کے بارے میں کچھ مبالغہ پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ عرب افواج مل کر ایک فوجی قوت بن جائیں۔ یہ مطالبہ اور خواہش نظری بنیادوں پر درست ہو سکتا ہے مگر حقیقت پسندی کے ادراک سے دور ہے۔
کئی عرب ملکوں میں خانہ جنگیوں کا ماحول رہا ہے۔ بعض میں اب بھی ہے اور بعض ان پر قابو پانے میں ناکام ہوئے ہیں اور اس وجہ سے ان کے ہاں جمود بہت گہرا ہو چکا ہے۔ اس لیے عرب دنیا کی مشترکہ سلامتی کے حوالے سے اختلافات کی وجوہات بھی موجود ہیں۔
صرف عرب دنیا نہیں خود یورپی ملکوں میں بھی فوجی برتری کے باوجود اور معاشی تعاون و ارتباط کے باوصف یہ ملک اپنی ایک مشترکہ فوج نہیں بنا سکے ہیں۔ نہ ہی وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں آ سکے ہیں۔ اگرچہ ان تعلقات کو گاہے گاہے چھوٹے موٹے عارضے لاحق ہو جاتے ہیں لیکن یہ تعلقات نزلہ زکام اور ہلکے بخار جیسے عارضوں کی حد تک ہی رہے ہیں کبھی ان کی موت واقع نہیں ہو سکی ہے۔
اس لیے یہ سمجھنا چاہیے کہ امریکہ وخلیجی ممالک کے درمیان تعلقات کا معاملہ کسی جذباتی انتخاب یا عدم انتخاب کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت پسندانہ تزویراتی سلامتی و استحکام کی ضمانتوں میں گندھا ہوا تعلق ہے۔ جس میں خطے کی سلامتی اور گہرے معاشی مفادات کی ترغیبات موجود ہیں۔ باوجود اس کے بحران بھی آتے رہے ہیں اور تنازعات بھی پیدا ہوتے رہے ہیں مگر قومی مفادات اور ضرورتیں اس اتحاد کو ہمیشہ مضبوط کرتی رہی ہیں کمزور نہیں۔