فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ہم معنی کیسے؟
فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی جیسے ایک سونامی سی آ گئی ہے۔ اس تسلیم کرنے کے عمل کی سونامی کی شروعات اسرائیل پر 2023 کے طوفان الاقصی نامی حملے کے بعد ہوئیں۔ بلاشبہ یہ حملہ حماس نے کیا تھا۔
لیکن یہ نہیں مان سکتے کہ یہ سب حماس کے اسی حملے کا نتیجہ ہے اور اسی وجہ سے ہوا جیسا کہ حماس کی خواہش اور کوشش یہ ہے کہ اس کا کریڈٹ اپنے حملے کو دے۔
لیکن تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ بات صرف نیتن یاہو نہیں بعض انتہا پسند عرب بھی کرنے لگے ہیں کہ یہ کامیابی حماس کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔
اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو یہ بات اس طرح بیان کر رہے ہیں کہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطلب حماس کو اس کے حملہ کرنے کا صلہ دینے کے مترادف ہے۔ کہ اس نے اسرائیلی رائے عامہ کو بھڑکایا اور امریکہ کو شرمندہ کرنے کا اہتمام کیا۔
حماس کے انتہا پسندوں کا بھی بالکل یہی دعویٰ ہے کہ یہ سب انہی کے سات اکتوبر کو کیے گئے حملے کا نتیجہ ہے۔ مگر سچائی اس کے بالکل برعکس ہے۔ کیونکہ حماس تو دو ریاستی حل کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔ بلکہ سات اکتوبر کا بڑا حملہ در اصل اسی دو ریاستی حل کا راستہ روکنے کی خاطر حماس نے کیا تھا کیونکہ سعودی عرب اور امریکہ کی جو بائیڈن انتظامیہ کے درمیان دو ریاستی منصوبے کے موضوع پر مذاکرات ہو رہے تھے۔
ان جاری مذاکرات میں امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک دفاعی اور سٹریٹجک معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کی شرط عائد کی تھیں۔ اس امریکی شرط کے بدلے میں سعودی عرب نے امریکہ سے فلسطینی ریاست کے قیام اور اسے تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس مذاکراتی عمل کے شروع ہونے کے محض چند ماہ بعد ہی حماس نے اسرائیل پر سات اکتوبر کو ایک بہت بڑا حملہ کر دیا۔ جس کے بعد اسرائیلی جنگ شروع کر دی اور امریکہ و سعودی مذاکرات تخریب کا نشانہ بن گئے۔
اب یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ حماس کا یہ فیصلہ، یمن کے حوثیوں اور لبنانی حزب اللہ کی طرح ایران سے جڑا ہوا ہے، جو ہمیشہ سے امن کے لیے کسی بھی سیاسی پیش رفت کو روکنے کے لیے کمر بستہ رہتا ہے تاکہ جس سے خطے میں خود کو ایک بالا دست طاقت کے طور پر آگے کر سکے۔
فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے ساتھ مل کر اسرائیلی ریاست کے انتہا پسندوں کی خواہشات کے مطابق امن کے لیے کی جانے والی ہر کوشش اور اقدام کو خراب کرنے کا طویل ریکارڈ رکھتا ہے۔ یہ سب اپنے اپنے انداز میں ان تمام سیاسی منصوبوں کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں جو فلسطینی ریاست کے قیام کا باعث بن سکے۔
اس سے قبل 2003 میں بھی حماس نے دو الگ الگ بسوں کو بم دھماکوں کا نشانہ بنا کر تنازعے کے حل کے لیے روڈ میپ کو سبوتاژ کر دیا۔ ان دھماکوں میں 40 اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔
بعد ازاں2007 میں ایناپولس کانفرنس کو کمزور کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی۔ جبکہ 2020 میں صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کو بھی روک دیا۔ اب تازہ حملہ اکتوبر 2023 میں کیا جو سب زیادہ ہولناک حملہ ثابت ہوا ہے۔ پھر وہی مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اپنے اس مقصد کے لیے حماس نے خود کو اور اپنے اتحادیوں کو بھی تباہ کرا لیا۔
حزب اللہ سربراہ سمیت اس کی تباہی اسی تناظر میں اسرائیل کے ہاتھوں ہوئی اور اسی طرح بشار الاسد حکومت کا خاتمہ اور ایران میں جنگ اسے وجہ سے سرفہرست رہی۔
اب اسرائیل کی کوشش ہے کہ وہ اپنے مخالفین کے اس مکمل خاتمے کے ماحول میں غزہ کو تباہ کر چکنے کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کا اپنے ساتھ الحاق کر لے تاکہ اپنی کامیابی اور فوائد کو دوگنا کر سکے۔
اس صورتحال میں اسرائیل کے حق میں ایک خطرناک خلا پیدا ہو گیا ہے۔ اس لیے سعودی عرب کی تجویز پر دو ریاستی حل کے منصوبے کو بھی فعال کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے دو منصوبوں کے درمیان ایک دوڑ شروع ہو گئی ہے۔ ایک منصوبہ امریکہ کی حمایت حاصل کرتے ہوئے نیتن یاہو کا مغربی کنارے کا اسرائیل سے مستقل الحاق کر لینے کا ہے۔ تاکہ فلسطینی کاز کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا منصوبہ سعودی عرب کا حمایت یافتہ ہے۔ اس میں فرانس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ تاکہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کو پوری دنیا تسلیم کر لے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عالمی حمایت کو متحرک کیا جا سکے۔
اس پس منظر میں کئی مہینوں سے ایک گرما گرم سفارتی جنگ جاری ہے۔ اب تک اس جنگ کے نتیجے میں دنیا کے 151 ممالک نے فلسطین کو ایک الگ ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔
اس تاریخی لمحے کے آنے سے پہلے اسرائیلی ریاست کی حکومت نے اقوام متحدہ میں ووٹنگ کو روکنے کے لیے دھمکیوں کا ایک سلسلہ شروع کیے رکھا۔
اسرائیلی ریاست کی طرف سے غزہ کا محاصرہ کرنا، فلسطینیوں کو خوراک و ادویات سے محروم رکھنا، اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کا شدید ہونا، مالی و اقتصادی تباہی کا خطرہ، مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے حملوں کو نظر انداز کیا جانا، غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کی اجازت دینا اور فلسطینی صدر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے روکنے میں کامیاب ہونا۔ ان تمام اسرائیلی کوششوں کے باوجود سعودی عرب اور فرانس کی سفارتی تحریک جاری رہی اور برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا۔
فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جانا قابل ذکر کامیابی ہے۔ تاہم اس امر کا خیال رکھنا چاہیے کہ تاریخی سفارتی کامیابیاں صرف آغاز ہے۔ جس کے نتیجے میں عرب اسرائیلی انتہا پسندوں کا غصہ بھڑکے گا اور فلسطینی ریاست کے منصوبے کو پٹڑی سے اتارنے کا کام ہو گا۔ اردن پر حملے کا مقصد فلسطینی ریاست کے تسلیم کیے جانے کے منصوبے کو نشانہ بنانا تھا۔ اسرائیلی انتہا پسند منصوبے کے لیے حملے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان میں مغربی کنارے کا اسرائیل سے الحاق اور فلسطینی اتھارٹی کا خاتمہ ہے۔
ہم اس وقت ایک نئے دور میں رہ رہے ہیں۔ جس میں فلسطینیوں کی بہت بڑی تعداد اور عرب بھی یقین رکھتے ہیں کہ اس دیرینہ تنازعے کا حل صرف دو ریاستی ہے۔ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا معاملہ اسی طرح اسرائیلی ریاست کو بھی تسلیم کرنے سے جڑا ہوا ہے۔ تاکہ 80 برسوں سے جاری اس تصادم کا انجام ہو جائے۔
بلاشبہ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی لیکن بڑی کامیابی ہونے کے ناطے اس کا حاصل کرنا آسان بھی نہیں ہے۔
اس سعودی منصوبے کو امریکی انتظامیہ کے اختیار کرنے اور اس کی حمایت کی ضرورت ہوگی اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کے نوبل انعام کے پوری طرح حقدار مانے جائیں گے۔