مشرق وسطیٰ: ایرانی طاقت کے ابطال کے بعد کی تین طاقتیں

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

نیتن یاہو کی زیر قیادت اسرائیل نے دو برسوں پر محیط حالیہ جنگ کے دوران علاقے میں جغرافیائی اور سیاسی سطح پر نمایاں تبدیلیوں کو جنم دیا ہے۔ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں ایک نئے طاقتی توازن کا ظہور ہوا ہے۔

سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے بعد اسرائیل نے ایک مختلف ریسپانس دینے کی پالیسی اختیار کی۔ اس کی پالیسی میں ایرانی پراکسیز سے جنگ کے ذریعے ان کا خاتمہ کرنا تھا۔

اس منظر نامے کے بعد آج کے مشرق وسطیٰ میں تین علاقائی طاقتیں اپنے اپنے رسوخ کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہیں۔ ان تینوں کے اثر و رسوخ اور سلامتی کے حوالے سے الگ الگ دائرے ہیں۔ ان میں سے اسرائیل خود کو علاقے کی سطح پر ایک کھلاڑی کے طور پر پیش کرنے کے عمل سے گزر رہا ہے۔

اسرائیلی ریاست کی پالیسی کی یہ ایک ہی جہت ہے۔ اس سے پہلے اسرائیل کا سارا فوکس اپنی سلامتی و دفاع پر مرکوز رہا۔ لیکن اب اس کی شناخت ایک سفارتی و سیاسی اثر رکھنے والی طاقت سے زیادہ فوجی قوت کی حامل ریاست بن گئی ہے۔

اس عرصے میں دوسرا فاتح ترکیہ بن کر سامنے آیا ہے۔ جسے یہ پوزیشن ایران کے اس طاقت کے محور سے نکلنے کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ ایرانی اثاثوں میں سے زیادہ تر کی تباہی نے اسے علاقے کی سطح پر اثر و رسوخ کے اعتبار سے کمزور کر دیا ہے۔ ایران کے اس تنزل سے ان قوتوں کو موقع ملا جو طاقت بڑھانے کی تمنا پالے ہوئی تھیں۔ ترکیہ نے یہ منزل شام کے راستے حاصل کی ہے۔

نتیجتاً ترکیہ کو جو پوزیشن آج حاصل ہو گئی ہے اس کا پچھلی ایک صدی کے دوران تک کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ بلکہ کہنا چاہیے کہ جب اس نے پہلی جنگ عظیم کے بعد شام و عراق پر اپنے اثرات کو کھو دیا تھا تو اس کے بعد اسے پہلی بار خطے میں ابھرنے کا موقع ملا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی وجہ سے کہا ہے کہ ترکیہ خطے میں واپس آ گیا ہے۔

بلاشبہ ایسا ہوا ہے لیکن ترکیہ کی یہ واپسی ایک نئی شکل میں ہے۔ وہ اس وقت علاقائی طاقت کے طور پر معیشت کے علاوہ فوجی قوت کے شعبے میں بھی ایک بااثر اور متحرک شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔

اسرائیل کو علاقائی سطح پر ایک نیا جنم ملا ہے اور اس کے اس نئے جنم کی حیثیت ایک ٹکر کی ریاست کے طور پر سامنے آئی ہے۔ خصوصاً لبنان، غزہ اور ایران کے ساتھ جنگوں کے نتیجے میں۔ لیکن تصادم ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ یقیناً ابھی ایران اور اسرائیل نے اس بارے میں افہام و تفہیم پیدا نہیں کی کہ انہیں اپنے طویل مدتی جھگڑے کو ختم کر دینا چاہیے۔

اس تناظر میں ایک تصادم کی تجدید بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ لہذا ہمیں اسرائیل کو سات اکتوبر سے پہلے والی ریاست کے طور پر نہیں دیکھنا ہو گا۔ اسرائیلی ریاست اس وقت علاقائی سطح پر ایک کلیدی کھلاڑی ہے۔ جیسا کہ خود اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی کہا ہے کہ اب مشرق وسطیٰ ایک نیا مشرق وسطیٰ ہے۔

'فارن پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ' (ایف پی آر آئی) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے اپنی امریکی مدد کے ساتھ حالیہ جنگوں میں ایک نئے علاقائی نظام کو پیش کیا ہے۔ اس نئے علاقائی نظام کے تین ستون ہیں، اسرائیل، ترکیہ اور سعودی عرب۔

رپورٹ کے مطابق ایران اور اس کی پراکسیز کی شکست کے بعد یہ ایک فطری نتیجہ ہے۔ نیز شام سے بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کا بھی اس میں گہرا دخل ہے۔ اس نئی صورتحال میں بلاشبہ امریکہ کا لبنان، غزہ اور عراق میں اہم کردار رہا ہے۔ جیسا کہ امریکہ اس وقت بھی مطالبہ کر رہا ہے کہ عراق ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرے۔

اس تناظر میں ایک واحد ایرانی حمایت یافتہ گروپ یمنی حوثیوں کا باقی رہ گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے دن بھی گنے جا چکے ہوں کیونکہ حوثیوں پر اسرائیلی حملوں کے بعد مقامی فورسز اور گروپ بھی حوثیوں کا شکار کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ کیونکہ حوثیوں نے ان کے مالی وسائل اور فوجی صلاحیتوں کا بڑا حصہ چھین رکھا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی ان تین نئی طاقتوں کے مراکز ماضی کے طاقتی مراکز سے مختلف ہیں۔ یہ ایران سے اس لیے مختلف ہیں کہ یہ ایران کی طرح اپنے نظریات کو برآمد نہیں کرنا چاہتے۔ نہ ہی یہ تینوں طاقتیں بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ کوئی حریفانہ کشمکش چاہتی ہیں جیسا کہ سرد جنگ کے دنوں میں ہوتا رہا ہے۔

اس لیے ان تینوں طاقتوں کو ایک دوسرے کے خلاف تصادم کی طرف دھکیلے جانے کا بھی امکان نہیں ہے۔ اگرچہ اسرائیل ایک زیادہ متحرک قوت بن کر ابھرا ہے۔

ترکیہ کے اپنے مفادات ہیں۔ اس کے یہ مفادات اس کی سلامتی کے امور سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسے شمالی عراق اور شام کے تناظر میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ اسی اس کے سرمایہ کاری کی ضرورتوں کے لیے خلیج کی اہمیت کا بھی ادراک ہے۔

اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے اپنی سرحدات کے نئے نقشوں کی ڈرائنگ کرنے کے مرحلے میں ہے۔ جس کی ابتدا اس نے شام سے کی ہے۔ بلاشبہ اسرائیل کے تلمودی دعوے درست سیاسی منصوبے نہیں بن سکتے ہیں۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اسرائیل مغربی کنارے کا اپنے ساتھ الحاق کرنے یا اس علاقے کو اپنی ریاست میں جذب کرنے کی حد تک اپنی کوششوں کو جاری رکھے۔ پھر غزہ کو بھی اسرائیلی ریاست میں جذب کرنے کی کوشش کرے ۔ مگر بڑا ہی مشکل مشن ہو سکتا ہے۔

لیکن میرے خیال میں اسرائیل کے وسیع تر سرحدوں کے حوالے سے ارادوں کو فوری طور پر سمجھنے کی کوشش جلد بازی ہوگی۔ کیونکہ اسرائیل ابھی تو انہیں وعدوں اور ارادوں کی تکمیل کی کوششوں میں ہے جو اس نے سات اکتوبر 2023 کے تناظر میں کر رکھے ہیں۔

میری توقع یہی ہے کہ بعد ازاں بھی اسرائیل کی کوشش یہی ہوگی کہ وہ خود کو علاقائی اتحاد سے منسلک کرنے کی کوشش کرے گا۔ کیونکہ وہ خطے میں تنہا رہنے کے ایک طویل تجربے سے گزر چکا ہے۔ اس لیے اب اس کے لیے کھڑکی کھلی ہے تو وہ اس سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہے گا۔

اسے اندازہ ہو گا کہ اگر اس نے علاقائی سطح پر خود کو جوڑنے کی کوشش نہ کی تو اسرائیل کی نئی سفارتی و جنگی پالیسی بھی نہ چل سکے گی۔ اسرائیل اگر نئی پالیسی اور امکانات سے فائدہ اٹھانا چاہے گا تو اسے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ہوگا۔ جیسا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے سعودی عرب امریکہ کے ساتھ اس بارے بات چیت بھی شروع کر چکا ہے۔

اس لیے جس طرح پچھلے ستر سال اسرائیل اپنی سرحدی حدود کے اندر رہنے پر مجبور رہا ہے اب بھی اسے یہی کرنا ہوگا۔ خصوصا جب اسے علاقائی سطح پر ایک کھلاڑی کے طور پر رہنا ہے تو اسے فلسطینی ریاست کے قیام سے فرار کی کوشش نہیں کرنا ہو گی۔

اس طرح کی سوچ کے ساتھ اپنی زبردست فتوحات کے ساتھ بھی کہ جن فتوحات کا خطے میں بھی اعتراف کیا گیا ہے۔ لیکن اگر اسرائیل نے ان پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا تو اسرائیلی سلامتی کی پائیداری کی صورت پیدا نہیں ہو سکے گی۔ صرف فلسطینی ریاست کا قیام ہی ایک بہتر راہ عمل بن سکتی ہے۔

اسرائیل فوجی اعتبار سےخطے میں امریکہ کے لیے خدمات جاری رکھ سکتا ہے۔ امریکہ نے بھی اسرائیلی ریاست کو دو برسوں پر محیط جنگ کے دوران لگ بھگ 27 ارب ڈالر کی خطیر رقم کی امداد دی ہے۔ یہ ایک بڑی رقم ہے مگر امریکہ نے جو رقم اسرائیلی امداد پر خرچ کی ہے کہ اسرائیل غزہ جنگ جیت جائے۔ مگر امریکہ نے جو رقم عراق جنگ میں خرچ کی تھی وہ ایک ٹریلین ڈالر کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

امریکہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اسرائیل پر خرچ کیے جانے والا ایک ڈالر بھی ضائع نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر ہر ڈالر کا بدلہ ملتا ہے۔ کہ اسی اسرائیل نے ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ، بشار الاسد، حماس اور حوثیوں کو ہی کچل کر نہیں رکھ دیا بلکہ ایران کی فوجی قوت کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ یہ تمام گروہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مخالف تھے۔ وہ اب بہت کمزور ہو گئے ہیں۔ یہ اسرائیل کی بدولت ہوا ہے۔

اسرائیل کی یہ سب کامیابیاں اپنی جگہ مگر حل طلب تنازعات کو طے کیے بغیر اسرائیل اپنی اس فوجی کامیابی کو سیاسی کامیابی اور ایک پائیدار فتح میں تبدیل نہیں کر سکتا۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size