سعودی ولی عہد اور امریکی صدر کی ملاقات کی اہمیت

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

عام طور پر یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان تعلقات کی نوعیت عمومی نہیں خصوصی ہے۔ وہ اب تک کئی بار مل چکے ہیں۔ دونوں رہنما اب واشنگٹن میں دوبارہ مل رہے ہیں۔ تاہم اس ملاقات کا موقع بھی اہم ہے اور ملاقات کے دوران زیر بحث آنے والے موضوعات بھی غیر معمولی اور اہم تر ہیں۔

امریکی صدر ریاض کے دو باقاعدہ دورے کر چکے ہیں۔ ان کا پہلا دورہ سعودی عرب 2017 میں ہوا تھا۔ جبکہ دوسرا دورہ ریاض ابھی صرف چھ ماہ پہلے ہوا ہے۔

مگر چھ برسوں کے اس دورانیے میں چین کے ساتھ بڑھے ہوئے مسابقتی ماحول کے علاوہ یورپ میں جاری ایک جنگ کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے حالات اور خطے کی آبی گذرگاہوں کے محاذوں میں تبدیل ہوتے حالات سے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایک نیا منظر نامہ تشکیل پا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سرکاری و ذاتی تعلقات کے باعث اس دورے کو دنیا توقعات کی بہتات کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ اس زاویے سے بھی ولی عہد اور صدر کی وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کو دیکھا جا رہا ہے کہ یہ ملاقات دو طرفہ تعلقات کے علاوہ خطے پر کن اثرات کے مرتب ہونے کا باعث بنے گی۔

اس سلسلے میں مجھے واشنگٹن سے جو سننے اور دیکھنے کو ملا ہے وہ وسیع تر پالیسی کے حوالے سے بات چیت ہے۔ کہ اس دورے کا حاصل کیا ہو گا۔ اسرائیل ساتھ امن پر مبنی تعلقات کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ تعلقات کی صورت کیا بنے گی۔ خطے میں جغرافیائی و سیاسی و سفارتی تبدیلیوں کے تناظر میں توازن کے لیے کیا امکانات سامنے آ سکیں گے۔ نیز یہ کہ طویل مدتی اپروچ کے ساتھ معاشی اور فوجی و جوہری شراکت داری کے امور کو کیسے دیکھا جائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن اور ریاض ان امور کو اس اکیسویں صدی کے وسط تک کور کرنا چاہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے بعض امور کچھ پہلے آگے بڑھ جائیں اور کچھ میں بتدریج پیش رفت ہو جائے۔ تاہم یہ طے ہے کہ یہ امور آج کی قیادت کے پیش نظر ہیں اور پوری شرح و بسط کے ساتھ ہیں۔

خطے کے مخصوص ماحول میں سعودی عرب نے علاقائی سطح پر اپنے تعلقات کو بگاڑ سے بچانے کے لیے ایک منظم کوشش کا آغاز کیا ہے۔ یہ آغاز بیجنگ کی ثالثی کے ذریعے ایران کے ساتھ ایک معاہدے پر منتج ہوا اور دونوں کے سفارتی تعلقات میں بحالی ہوئی۔

ریاض نے اس دوران فلسطین کاز کے سلسلے میں دو ریاستی حل کی کوشش کو جاری رکھا۔ جس کے نتیجے میں دو ریاستی حل کو علاقائی اور بین الاقوامی دونوں سطحوں پر ایک خیر مقدمی لہر ملی۔ علاوہ ازیں اسرائیل کے ساتھ اجتماعی تعلقات بھی پائپ لائن میں ہیں۔

یہ سارا تناظر جس میں بیجنگ سے تہران اور اسلام آباد سے دمشق تک اقدامات کا ایک تسلسل ہے ولی عہد کے نقطہ نظر اور ویژن کو ظاہر کرتا ہے۔

بیجنگ کے تحت تعلقات کا توازن، کشیدگی میں کمی اور خطے کے لیے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے ایک مجموعی بہتری مقصود ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی ایک متوازی ویژن پیش کیا ہے۔ اسرائیلی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اپنی فوجی طاقت بروئے کار لا کر وہ سب کچھ حاصل کر لیا ہے جو وہ کرنا چاہتے تھے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل بھی اپنی طاقت کو امن کی طرف موڑ دے۔

صدر ٹرمپ کے سامنے اس کے علاوہ سعودی عرب کی فوجی تیاری کی ایک فائل بھی موجود ہے۔ کیونکہ واشنگٹن کے ایجنڈے کے اہم نکات میں سے ایک علاقے میں ایسا توازن قائم کرنا ہے جو علاقائی امن کو مضبوط کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ علاقائی سطح پر طاقت کا توازن اب ممکن نظر آ رہا ہے۔ تنازعات کی کچھ باقیات اپنی جگہ موجود ہیں۔ تاہم ولی عہد نے اس دوران معاشی تبدیلی کے منصوبے کی حمایت کیا فیصلہ کیا ہے نہ کہ سیاسی دشمنی اور جنگ کا راستہ۔

ان کا پروگرام واضح طور پر یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کو حال سے مستقبل کی طرف لے کر چلیں۔ اس تناظر میں سعودی عرب میں کی گئی تبدیلیاں بعینہ وہی ہیں جو صدر ٹرمپ کی توجہ حاصل کر سکتی ہیں اور یہ توجہ حاصل کی بھی جا چکی ہے۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ خود بھی ایک غیر روایتی شخصیت کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ وہ اس کے لیے جدید منصوبوں اور ریفارمز کے ساتھ دنیا کے سامنے موجود ہیں۔ حتیٰ کہ وہ امریکہ کے اندر بھی تاریخی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔

ادھر مشرق وسطیٰ میں ولی عہد اس امر کی پوری اہلیت رکھتے ہیں کہ وہ خطے کو کشیدگی کے ماحول کی روایت سے نکال کر استحکام کے ماحول کی طرف آگے بڑھائیں۔ وہ مل کر کام کرنے کی بھی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کو روکنے کے لیے ثالثی کا آغاز کیا تو انہیں ہر طرف سے تعاون ملا۔ ٹرمپ اس سے پہلے بھی دو بحرانوں پر قابو پانے کے حوالے سے اپنی اہلیت اور ترجیحات ثابت کر چکے ہیں۔

ان میں سے پہلا مرحلہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے صدر باراک اوباما کے دور میں سامنے آیا تھا جس کی وجہ سے خطے میں توازن اور استحکام کے سنگین مسائل پیدا ہو گئے تھے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی ہی مدت صدارت میں اس معاہدے کو ختم کیا اور ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق سرگرمیوں کو روکنے میں کامیاب ہوئے۔

دوسرا بڑا بحران سات اکتوبر کے حملوں سے شروع ہوا۔ یہ بحران اگرچہ صدر ٹرمپ کی دوسری میعاد شروع ہونے سے کافی پہلے سامنے آ گیا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالتے ہی جنگوں کو روکنے اور علاقائی کشیدگی کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

صدر ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ روکی، غزہ کی جنگ کو روکنے کے لیے بھی آگے بڑھے اور ان دونوں سے پہلے وہ لبنانی محاذ کو بھی پھیلنے سے روک چکے تھے۔ اب شامی حکومت کی سطح پر آنے والی تبدیلیوں کو بھی جذب کرنے اور ایک مثبت رخ کی طرف لانے کے لیے کوشاں ہیں۔

جہاں تک سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کا معاملہ ہے یہ ولی عہد کے دورہ امریکہ کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک ستون ہے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات اس وقت مضبوط تر ہیں اور خوشحال ترین لمحات سے گزر رہے ہیں۔

دونوں ملک جن نکات پر اپنی بات چیت شروع کر چکے ہیں ان میں جوہری توانائی کے سویلین استعمال کے منصوبے، امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ، امریکہ سے جدید ہتھیاروں کے اہم سودے اور ان کے ساتھ ساتھ سینکڑوں اقتصادی معاہدے جن کی اہمیت غیر معمولی ہونے کے باوجود میڈیا حیران کن حد تک انہیں کم توجہ دے رہا ہے۔

اگرچہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تزویراتی شراکت داری انتہائی ٹھوس بنیادوں پر قائم ہے اور صدر ٹرمپ کے ولی عہد کے ساتھ باہمی تعلقات کی نوعیت غیر معمولی ہے۔ اس کے باوجود سعودی عرب اپنے آپ کو کسی ایک جانب جھکے ہوئے کھلاڑی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتا۔ بلکہ عالمی تناظر میں اقتصادی اور سیاسی کھلاڑیوں کے ساتھ اپنے وسیع تر مفادات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

بلاشبہ متوازن تعلقات کی یہ سعودی پالیسی امریکہ کے ساتھ تعلقات کو کم نہیں کرتی جو صدر ٹرمپ کے دور میں مزید آگے بڑھ رہے ہیں۔

سعودی ولی عہد اور امریکی صدر کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کے موقع پر ایک اور اہم بات یہ ہے کہ آج کے حالات دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے مراحل سے بہت مشابہت رکھتے ہیں۔ 1945 بھی اسی طرح کے حالات میں وارد ہوا تھا جب عالمی تعلقات کو نئی شکل دی جا رہی تھی۔

اس نئی تشکیل و ترتیب کے ماحول میں امریکی صدر روز ویلٹ اور سعودی عرب کے شاہ عبد العزیز کی ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات روز ویلٹ کی خواہش پر ممکن ہوئی تھی۔ اسی خواہش کے نتیجے میں دونوں سربراہوں کے درمیان 'یو ایس ایس کوئیسنی' میں ملاقات طے پائی۔ جس کے نتیجے میں بدلتے ہوئے عالمی نظام کے تحت دونوں ملکوں کے تعلقات کی ایک پائیدار بنیاد رکھی گئی۔

آج کے حالات میں جب عالمی طاقتوں میں مخاصمت کی ایک خاص سطح جاری ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور صدارت کے دوران وسیع تر تزویراتی نقطہ نظر کی بنیاد پر خارجہ پالیسی پر زور دیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی انتظامیہ ایک بار پھر سے صف بندی میں مصروف ہے۔

تاہم امریکی انتظامیہ صرف فوجی قوتوں کے ساتھ منسلک نہیں۔ بلکہ کامیاب معاشی طاقتوں کے ساتھ مل کر صف بندی کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس حوالے سے سعودی عرب کی اہمیت مشرق وسطیٰ کے علاوہ پوری اسلامی دنیا میں اپنے مرکزی کردار کی وجہ سے غیر معمولی ہے۔

عالمی سطح پر توانائی کے وسائل پر اس کا اثر و رسوخ اور 'جی 20' میں ابھرتی ہوئی معاشی قوت کے ناطے اس کی طرف امریکی پالیسی سازوں کا رجحان ہونا فطری ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری کے شعبے میں بھی شراکت داری موجود ہے۔ سفارتی امور میں بھی بہت سارے شعبوں میں یکجائی ہے۔ اس لیے یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ مضبوط سعودی امریکی تعلقات علاقے میں استحکام اور خوشحالی کے لیے گہرے اثرات کے حامل ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size