امریکہ کے ساتھ معاہدات کے خلاف تخریبی کارروائیاں

ممدوح المہينی
ممدوح المہينی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

ولی عہد سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان کا امریکہ کا دورہ تاریخی اہمیت کا رہا۔ بلکہ کہنا چاہیے یہ دورہ امریکہ اور سعودی عرب تعلقات کے ایک نئے باب کا نکتہ آغاز بنا ہے۔ یہ حقیقت آنے والی کئی دہائیوں کے دوران بھی اپنے اثرات و ثمرات کے ذریعے ثابت ہوتی رہے گی۔ کہ ولی عہد نے اس دورے کے ذریعے دو طرفہ تعلقات کا ایک نیا دور شروع کیا اور ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

لیکن وہ لوگ اور گروہ جو امریکہ اور سعودی عرب کے لمبے عرصے سے جاری تعلقات اور تذویراتی اتحاد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں وہ اس تازہ پیش رفت پر خوش نہیں ہیں۔

یہ محسوس کرنا ایک سازش ہے اور ایک غلطی ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ لازم ہے کہ اس معاملے کو ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ اور پورے تحمل کے ساتھ اس بارے میں سوچا اور سمجھا جائے۔ یہ ناخوش اداکار کوشش کر رہے ہیں کہ ان جانے بوجھے اور نظر آنے والے تعلقات کو نقصان پہنچائیں۔ انہوں نے اپنے اہداف کو بھی واضح کر رکھا ہے اور اس میں کوئی چیز راز نہیں ہے۔ لیکن اصل غلطی یہ ہے کہ بعض لوگ ان کے پراپیگنڈے پر مبنی بیانیے کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرنے لگتے ہیں۔

دہشت گرد گروپوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچانے کے لیے لمبے عرصے سے کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم مثال اسامہ بن لادن کی ہے جس نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں رخنہ پیدا کرنے کی خوفناک کوشش کی اور اس کی یہ خوفناک کوشش سعودی شہریوں کو ساتھ ملا کر امریکہ میں خوفناک حملوں کی صورت سامنے آئی۔ مگر وہ اکیلا نہیں تھا بلکہ یورپ کو بھی اس میں نشانہ بنایا گیا اور اس ساری کوششوں اور کارروائیوں کا نتیجہ مذہبی منافرت کو بھڑکانا تھا اور ان تعلقات میں زہر گھولنا تھا۔ یہ ایک واضح حکمت عملی تھی جس کے بدنیتی کی بنیاد پر واضح اہداف تھے لیکن یہ ناکام ہو گئے۔

انتہا پسند گروپ یہ بھی کوشش کرتے ہیں کہ اپنے مسلسل پراپیگنڈے کے ذریعے امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کو کمزور کرنے کی کوشش کریں۔ نائن الیون کے بعد یورپ میں ان لوگوں نے خود کو حقیقی متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی اور بتایا کہ جمہوری اسلام کا صحیح چہرہ وہ ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس دوسری طرف ایک کٹر اسلام ہے۔ بلاشبہ یہ غلط ہے۔

مختلف گروپوں میں سرگرم رہنے والے یہ کارکن دراصل تشدد پسند تحریکوں کے لیے اہم ذریعہ ہیں۔ یہ خود کو مغرب میں اگرچہ لبرل مسلمان کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے چہروں پر جعلی مسکراہٹ ہوتی ہے۔ یہ نئی رنگ برنگی ٹائیاں لگاتے ہیں۔ مختلف مراکز اور انجمنوں کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے اپنے چہروں کو چمکا دمکا کر سامنے لاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ان کا مقصد مذہب نہیں سیاست ہے اور سعودی عرب نے حالیہ برسوں کے دوران جو مذہبی امور میں بڑی اصلاحات کی ہیں، جدت پسندی اور ارتکاز کو مضبوط کیا ہے یہ گروپ اس سارے عمل پر کس طرح 'رسپانڈ' کرتے ہیں۔ کیا وہ ان سعودی اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔ ایسا بالکل نہیں ہے۔ بلکہ اس کے برعکس وہ سعودی اصلاحات کی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔

بدترین انتہا پسند جو مشرق سے مغرب کی طرف منتقل ہوئے ہیں خاص طور پر سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں سے جب انہیں نفرتی تقریریں کرنے سے روک دیا گیا تو انہوں نے مغرب کا رخ کر لیا۔

فرقہ ورانہ جماعتیں جن کی ایک مثال حزب اللہ کی ہے وہ بھی ریاض اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کو ضرب لگانا چاہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تواضع، فرمانبرداری اور انحصار کے بارے میں پراپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ وہ بار بار جھوٹ بول رہے ہیں۔ اس کے باوجود کہ انہیں علم ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان 90 برسوں سے تذویراتی اتحاد ہے۔ جس طرح کے امریکہ کے یورپ اور ایشیا میں اتحادی ہیں۔ ان سب اتحادیوں کے مفادات اور اہداف باہم جڑے ہوئے ہیں اور سب بین الاقوامی نظام سے منسلک ہیں۔ جو کہ سیاسی اعتبار سے مستحکم اور معاشی حوالے سے کھلے پن کا حامل ہے۔

لیکن سعودی عرب سوویت یونین کے ساتھ کبھی ایسا جھکاؤ یا قربت نہیں رکھتا تھا کیونکہ سعودی عرب سیاسی اعتبار سے کیمونیزم کے خلاف ہے۔ ثقافتی اعتبار سے اس کے برعکس اور معاشی اعتبار سے بھی اس سے فرق رکھتا تھا۔

بین الاقوامی سطح پر اتحاد موجودہ عالمی نظام میں معمول کا حصہ ہیں۔ پھر بھی یہ گروہ تعلقات کو خراب کرنے اور اس کی قانونی حیثیت کو نقصان پہنچانے کے لیے انہیں فرمانبرداری اور ہتھیار ڈال دینے کے القابات کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی جماعتیں بھی امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں تخریب پیدا کرنے کی کوشش میں رہتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ بائیں بازو کی جماعتیں اور گروپ ابھی بھی سرد جنگ کے زمانے کے مائنڈ سیٹ کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ اس لیے وہ استعمار اور نو آبادیات جیسی اصطلاحات کا سہارا لیتی ہیں۔ وہ ابھی تک اپنی پرانی نیند سے ہی نہیں نکل سکی ہیں۔ حالانکہ نو آبادیاتی نظام کو ختم ہوئے پچاس سال سے زیادہ ہو گیا ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ چین پوری طرح ایک کمیونسٹ گروپ تھا لیکن اب وہ بھی اپنے آپ کو سرمایہ دارانہ نظام کی طرف لا چکا ہے۔ اس لیے ان کے درمیان کا تصادم اب کسی نظریے کی بنیاد پر نہیں ہے۔ یہ تصادم دراصل سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت کے پس منظر میں چل رہا ہے۔

یہ گروہ پبلک پر اپنے بیانیے کا ایسا سیلاب مسلط کرتے ہیں جس کا تاثر نظریاتی اختلاف قائم کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ خوش قسمتی سے سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کی تمام تر توجہات کا مرکز ان کی معیشتیں اور ترقی بن چکی ہیں بجائے اس کے کہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں بھی اپنے عوام کی ذہنی تطہیر کے لیے انہیں گمراہ کن پیغامات اور بیانیوں کا شکار کرتیں۔ بلاشبہ کچھ آوازیں ایسی ہیں جو اب بھی اندرونی طور پر ایسے بیانیے کو پیش کرتی ہیں اور بد امنی و بے چینی پیدا کرنا چاہتی ہیں۔

یہ گروہ فلسطین کے معاملے کو بھی اپنے شور کا موضوع بناتا ہے اور یہ اصطلاح استعمال کرتا ہے کہ وہ فلسطین کاز کے لیے کام کر رہا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ ایک انسانی حقوق کا مسئلہ ہے لیکن یہ گروہ اسے سیاسی بلیک میلنگ اور الزام تراشیوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب گروہ امریکہ و سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو کیوں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ کیوں یہ مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کو بھی تصادم کے ماحول میں کھینچ لے جایا جائے اور سعودی عرب کی امریکہ و یورپ کے ساتھ ٹکراؤ کی سی کیفیت پیدا کریں۔

ہمیں یاد ہے جب قطر پر اسرائیل نے حملہ کیا تو ان پراپیگنڈہ مشینوں نے اس امر کی بھرپور کوشش کی کہ قطر امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو کم کر دے۔ لیکن اس کے برعکس ہوا اور یہ ثابت ہو گیا کہ یہ ایک باریک چال تھی۔ جیسا کہ آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب امریکہ کا 'نان نیٹو میجر الائی' ہے۔

جواب واضح ہے کہ کوئی سازش یا خفیہ منصوبہ نہیں ہے۔ بلکہ امریکہ سعودی تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کھلی کوشش ہے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب کے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے ساتھ تعلقات خراب ہوں۔ یہ طاقتیں مشرق وسطیٰ میں اپنے اثرات بڑھانا چاہتی ہیں اور مشرق وسطیٰ کو سیاسی طور پر اپنے دائرہ اثر میں لانا چاہتی ہیں۔

ایسے مشرق وسطیٰ میں جہاں ریاستیں معاشی اعتبار سے کمزور اور عسکری ملیشیائیں مضبوط ہیں۔ جہاں تجارت کھلی ہے، سماجی اعتبار سے خطہ مذہبی فرقہ واریت سے بھرا ہوا اور نفرتی بیانیے کی زد میں ہے۔ جہاں کالے اور پیلے پرچموں کو لہرایا جاتا ہے بجائے اس کی کہ سرمایہ کاری کی بات ہو اور جدت و اختراع کے لیے پلیٹ فارم تشکیل دیے جائیں۔

وہ اس سے کچھ اور حاصل نہیں کر سکتے سوائے اس کے کہ امریکہ کے ساتھ تذویراتی تعلقات کو نقصان پہنچائیں اور دوسرے صنعتی اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ترقی یافتہ ملکوں کے ساتھ سعودی کے تعلقات کو خراب کریں۔ اس وقت انہیں اور غصہ آتا ہے جب امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کو پہلے سے زیادہ گہرا اور مضبوط ہوتا دیکھتے ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size