امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات ایک نئے تزویراتی دور میں داخل

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 11 منٹ

یہ درست مفروضہ نہیں ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا واشنگٹن کا حالیہ دورہ بنیادی طور پر علاقائی تبدیلیوں کے تناظر میں تھا یا علاقے میں موجود چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تھا۔ یہ تاثر قائم ہونا درست نہیں ہو سکتا۔ بلکہ یہ ایک مبالغہ آرائی ہے۔

مناسب یہ ہو گا ولی عہد کے اس دورے کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھا اور سمجھا جائے۔ کیونکہ یہ دورہ پچھلی کئی دہائیوں کے دوروں کے مقابلے میں سب سے اہم دورہ تھا۔ وہ اس طرح کہ اس دورے کے بدولت دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ایک نئی اور بلند تر سطح کو چھو گئے ہیں۔

اس دورے میں ہونے والے تزویراتی دفاعی معاہدے اور جدید ہتھیاروں کے معاہدے سے غیر معمولی اہمیت و تقویت ملی ہے۔ کہا جانا چاہیے کہ اس دورے نے سعودی عرب کو امریکہ کا پہلے سے زیادہ گہرا اتحادی بنا دیا ہے۔

امریکہ کی طرف سے سعودی عرب کو جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ایک مضبوط تر اقتصادیات کے عالمی مرکز میں تبدیل کرنے کے ولی عہد کے ویژن کی بھی حمایت کی گئی ہے۔ دونوں کی حکومتوں نے جوہری تعاون کے ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں۔ بلاشبہ یہ معاہدہ اگلی کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی شراکت داری کے لیے ایک نئی اور مضبوط تر بنیاد فراہم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔

اس تناظر میں یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے تو پھر تزویراتی و دفاعی معاہدے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

اس کا جواب پانے کے لیے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب ' ڈیٹرنس' کی بات آتی ہے تو یہ ایک ملین فوجیوں پر مشتمل فوج بنانے سے بھی زیادہ قیمتی اور اہمیت کی حامل بات ہوتی ہے۔ لیکن جب یہی معاہدہ امریکہ کے ساتھ ہو تو معاہدہ کرنے والے ملکوں کو شاید ہی کبھی عملی طور پر فعال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، یوں اس معاہدے کی اصل قیمت کے بارے میں سوچنے کی باری آئے گی اور ایک نیا سوال اس معاہدے کی اہمیت کے حوالے سے ابھرے گا۔

اس لیے اس معاہدے پر ہونے والے دستخطوں کے بعد حقیقت یہ ہے کہ معاہدے کا مقصد بنیادی طور پر کسی حملے کے جواب کے لیے مملکت کو تیار رکھنا یا امریکی مدد لینا نہیں ہو گا۔ اصل اور اس سے زیادہ اہمیت کی حامل یہ بات ہے کہ اس معاہدے کا مقصد کسی بھی ممکنہ حملے کے تصور کو اس کے جنم لینے کے پہلے ہی مرحلے پر یا پہلے ہی مقام پر خاموشی سے روک دینا ہے۔ امریکہ کے ساتھ اس معاہدے کا نام اور اطلاع ہی کافی ہے۔ گویا یہ کسی حملے کی نوبت آنے سے بہت پہلے ہی اس حملے کی سوچ اور تیاری کی سطح پر روک لینے کے مترادف ہے۔

یاد کیجئے شمالی کوریا نے اپنے پڑوسی جنوبی کوریا پر آخری بار حملہ 1953 میں کیا تھا۔ اسی سال جنوبی کوریا کا امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہو گیا اور اس کے بعد آج تک سول کے لوگ پر امن اور بے خطر زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں تک کہ سات لاکھ شمالی کوریا کے فوجی اپنے شہر سے صرف چالیس کلومیٹر دور غیر فوجی زون کے پیچھے موجود تھے مگر پیانگ یانگ کی تمام تر دھمکیوں کے باوجود اس کی فوج کو اس سال سے آج تک سرحد عبور کرنے کی ہمت ہوئی نہ جنوبی کوریا پر حملہ کر سکا۔

امریکہ اور سعودی عرب کے باہمی مضبوط تعلقات پچھلی تقریباً نو دہائیوں سے موجود ہیں۔ ان گہرے دو طرفہ تعلقات کی افادیت کا ایک تجربہ اس وقت ہوا جب صدام حسین نے کویت پر حملہ کیا۔ واشنگٹن اور ریاض کے خصوصی تعلقات نے صدام کے کویت پر کیے گئے قبضے کو ختم کرانے میں مثالی کردار ادا کیا۔ نہ صرف یہ بلکہ خلیجی ممالک کی سلامتی اور تحفظ میں بھی مدد دی۔

امریکہ و سعودی عرب کے دو طرفہ گہرے تعلقات کے ثمرات کی ایک اور مثال کچھ سال پہلے ایران کی طرف سے بقيق کے علاقے پر کیے گئے حملے کے وقت سامنے آئی۔ جب ایران نے صبح کے چار بجے حملہ کیا تھا۔ ایرانی حملے سے مملکت کی اہم ترین آئل تنصیبات میں سےایک کی پیداوار عارضی طور پر رک گئی۔ کئی دن تک اس حملے کے اثرات رہے اور تیل کی پیداوار روک دی گئی۔ لیکن جلد ہی ایران کو امریکی دباؤ کی زد میں آنا پڑ گیا۔

سعودی تنصیبات پر ایرانی حملے نے اس ضرورت کو جنم دیا کہ امریکہ کے ساتھ دفاعی نوعیت کے تعلقات ہونے چاہییں۔ اسی واقعے کے بعد ازاں چین کو مملکت اور ایران کے درمیان مفاہمت کے لیے اور تہران کے درمیان مفاہمتی معاہدے کے لیے کردار ادا کرنا پڑا اور چین کی سرپرستی میں ایک ایسا معاہدہ ممکن ہوا جس نے ٹوٹے ہوئے سفارتی تعلقات کو بحال کر دیا۔ یہ پیش رفت خطے میں حال ہی میں سامنے آنے والی ہنگامہ گردی کے دوران بھی بہت مفید رہی۔

مگر امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ کسی بحرانی صورت حال کی وجہ سے نہیں کیا گیا۔ نہ کسی وقتی، جذباتی اور ہنگامی ضرورت کے تحت ہے۔

ایسا بھی بالکل نہیں ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کسی جنگ کے بیچوں بیج بھاگ کر امریکہ گئے یا مملکت کو درپش کسی جنگی خطرے سے بچانے کے لیے واشنگٹن جانے پر مجبور ہوئے اور امریکہ کو رعائتیں دینے پر مجبور ہو گئے۔ امریکہ کے ساتھ اس معاہدے سے تو پہلے چین کے ساتھ بھی جاری تھے۔ ایران کے ساتھ چین کی مدد سے مفاہمتی معاہدہ ہو چکا تھا۔

گویا مطلب صاف ہے کہ امریکہ سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کے اہداف طویل مدتی ہیں۔ اس معاہدے کی جڑیں بنیادی طور پر ڈیٹرینس کو مضبوط تر کرنے سے جڑی ہوئی ہیں۔

سعودی عرب ایک وسیع مملکت کا نام ہے۔ جس کی زمینی اور سمندری سرحدیں تقریباً سات ہزار کلومیٹر تک پھیلی اور کئی ملکوں سے جڑی ہیں۔ اس لیے اس کے دفاعی معاہدے کا مطلب دشمنی کے منصوبوں کی حوصلہ شکنی کی خاطر 'ڈیٹرینس' حاصل کرنا ہے۔ اسے حکمت عملی کے اعتبار سے بہترین آپشن کہا جانا چاہیے۔ یہ 'ڈیٹرینس' کسی بھی جارح کے لیے تباہ کن نتائج کا حامل ہوگا۔ لیکن اس کے بعد بھی اس دفاعی معاہدے کے بعد کئی سوال سامنے آتے ہیں۔ ایک سوال یہ بھی ہے کیا یہ معاہدہ تہران کے لیے ہے ؟

ایران مملکت کے ساتھ آج اچھے تعلقات کی خواہش لیے ہوا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ نے ایران کو اس امر کا اور بھی محتاج بنا دیا ہے کہ سعودی عرب کی قربت چاہے اور تعلقات کی بہتری کا خواستگار ہو۔
ایک سوال یہ بھی ابھرتا ہے تو امریکہ کے ساتھ اس دفاعی معاہدے کا مقصد چین کے خلاف تیاری ہو سکتا ہے؟
ہرگز نہیں۔ یہ تصور بھی ناممکن ہے۔ وجہ صاف ہے کہ چین اس وقت سعودی عرب کا سب سے بڑا اقتصادی شراکت دار ہے۔

تو کیا پھر یہ دفاعی معاہدہ اسرائیل کے لیے ہے؟

اس سوال کو شاید اس امر سے تقویت ںہیں ملتی ہے کہ اس معاہدے اور ہتھیاروں کے لین دین کے معاہدے کی مخالفت میں تقریباً تمام آوازیں اسرائیل سے ہی سامنے آئی ہیں۔

امریکی ساختہ ایف 35 لڑاکا طیاروں اور جدید ترین ٹینکوں کے سودوں سے یہ معاہدہ اور بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگر امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو شاہ عبدالعزیز اور صدر روزویلٹ کے درمیان 1945 میں ہونے والی ملاقات کے بعد یہ سب سے اہم پیش رفت پر ملاقات ہے۔ صدر روز ویلٹ نے اسی ملاقات میں سعودی عرب کی امریکہ کے لیے تزویراتی اہمیت کا ادراک و اعتراف کر لیا تھا۔

اب اس معاہدے سے امریکہ کے لیے سعودی عرب کی تزویراتی اہمیت کی تجدید کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ اس معاہدے کے توسط سے تعلقات کو دونوں اطراف کے تناظر سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک جانب امریکہ کے لیے سعودی عرب کی تذویراتی اہمیت غیر معمولی ہے تو دوسری جانب سعودی عرب کے لیے امریکہ کی ایک اقتصادی، سائنسی اور فوجی اعتبار سے سپر پاور ہونے کے ناطے اہمیت ہے۔ یہ چیز دو طرفہ شراکت داری کے لیے اہم ہے۔

علاوہ ازیں ایک بار بار کیا جانے والا سوال اور بھی ہے کہ یہ معاہدے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جڑے ہوئے ہیں یا ان کی اہمیت اس کے علاوہ بھی ہے؟

اس سوال کا جواب جزوی طور پر ہاں میں ہے۔ بلاشبہ ٹرمپ امریکہ کے صدر ہیں اور ان کے بغیر کوئی معاہدہ ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔ لیکن اس کے ساتھ دیگر سیاسی اداکاروں کی بھی اپنی اہمیت ہے۔

سعودی عرب کے تعلقات امریکہ میں ہر دور میں مضبوط رہے ہیں۔ کیونکہ یہ رشتہ امریکہ کے ساتھ ہے کسی ایک جماعت یا فرد کے ساتھ نہیں۔ امریکہ کی سیاسی اسٹیبلشمنٹ بھی بالعموم ریاض کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کی اسی انداز سے قائل ہے۔

ولی عہد کے حالیہ دورے کے دوران ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اوول آفس میں رپورٹروں کے سامنے ولی عہد سے جب ٹرمپ نے پوچھا کہ ان کے خیال میں سعودی عرب کے لیے امریکہ کا بہترین صدر کون سا رہا ؟تو ولی عہد نے بے ساختہ جواب 'روزویلٹ '۔

اس پر ٹرمپ نے کہا ' روز ویلٹ ۔۔۔ ایک ڈیموکریٹ صدر' ؟ ٹرمپ نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا!

شہزادہ محمد بن سلمان نے دوبارہ جواب دیتے ہوئے کہا ہاں ۔۔ روزویلٹ اور رونالڈ ریگن ۔۔ کیونکہ ہم بلا امتیاز کسی بھی امریکی صدر کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔ اس پر صدر ٹرمپ نے مذاق میں اپنا نام لیتے ہوئے کہا ' لیکن ٹرمپ تو بہترین ہیں ناں۔ یہ بات سچ ہے ناں ۔۔

لازمی بات تھی کہ صدر ٹرمپ کی موجودگی میں کسی دوسرے امریکی صدر ، خصوصا کسی ڈیموکریٹ صدر کی تعریف کرنا خوشگوار نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود ولی عہد نے اپنی رائے صاف صاف ظاہر کردی اور یہ بھی کہہ دیا کہ مستقبل میں، ہم ممکنہ طور پر ریپبلکن پارٹی یا ڈیموکریٹک پارٹی دونوں سے ہی سعودی عرب کے لیے حمایت دیکھنا چاہیں گے۔ بلاشبہ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تزویراتی تعلقات کسی بھی امریکی صدر کے لیے کوئی متنازعہ معاملہ نہیں ہو سکتا۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size