ایران: بار بار ابھرنے والی احتجاجی تحریکیں اور ان کی جڑیں
پورے ایران میں ایک بار پھر احتجاج پھوٹ پڑا ہے۔ یہ احتجاج ملک کے اندر حکومت اور باہر کی دنیا کو باور کرا رہا ہے کہ ایرانی عوام کے مسائل کبھی حل نہیں ہو سکے۔
ان مسائل کو محض التوا میں رکھا گیا، دبایا گیا اور دبا کر سنگین تر ہونے کا موقع دیا گیا۔ یہ پچھلی پوری دہائی کی کہانی ہے۔
اس وجہ سے ایران نے کئی بار ایسی بد امنی، بے چینی اور احتجاج کی تحریکوں کو دیکھا ہے۔ لیکن ہر بار یہ احتجاجی تحریک ایک نئے انداز سے اور نئی فوری وجوہ کی بنیاد پر سامنے آتی ہے۔ اگرچہ ان مسائل کی جڑوں کو دیکھا جائے تو ایک ہی چیز نظر آتی ہے کہ یہ ایران کی سٹرکچرل ناکامیوں کا اظہار ہے۔
ان میں سے بعض احتجاج سیاسی وجوہ کی بنیاد پر سامنے آئے۔ جن میں سے2009 میں 'گرین موومنٹ' کے نام سے سامنے آنا والا بڑا احتجاج تھا۔ یہ متنازعہ صدارتی الیکشن کے نتائج پر اٹھنے والے سوالات اور ان کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کے لیے احتجاج شروع ہوا۔
دوسری بار احتجاج بنیادی حقوق اور ناراضگیوں کی وجہ سے سامنے آیا۔ لیکن قابل ذکر احتجاج 2022 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد دیکھنے کو ملا۔ یہ احتجاج خواتین کے حقوق اور نجی آزادیوں کے حق میں اور ریاستی تشدد کے خلاف آواز بن کر ابھرا۔
احتجاج کا موجودہ دور ان سب سے ہٹ کر ہے۔ اگرچہ یہ مختلف اور اہم وجوہ کی بنیاد پر ہے کہ ان احتجاجی مظاہروں کی ابتدا خراب معیشت کے خلاف ردعمل سے جڑی ہوئی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس احتجاج کا تعلق ایسے سیاسی و سماجی ایشوز سے بھی ہے جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
معاشی بدحالی و بے چینی اس حالت کو پہنچ چکی ہے کہ اس سے ہر گھر اور ہر فرد متاثر ہو رہا ہے۔ ہر دکاندار اور ہر مزدور کے لیے یہ معاشی پریشانی تکلیف دہ ہے۔ قطع نظر اس کے کہ وہ کس قسم کا نظریاتی پس منظر رکھتا ہے۔
جبکہ بنیادی حقوق اور سیاسی تبدیلیوں کے مطالبات بھی اس احتجاج کے جلو میں سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ جیسا کہ ہمیشہ ایران میں ہوتا رہا ہے کہ احتجاج کسی انتہائی بنیادی مسئلے سے شروع ہوا اور پھر اس کا پھیلاؤ کئی موضوعات پر محیط ہو گیا۔
آج کی صورتحال یہ ہے کہ ایران کے لوگ بنیادی ضروریات پوری کرنے میں بھی اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہے ہیں۔
حالیہ دہائی کے دوران ایران میں سامنے آنے والے بدامنی کے واقعات و احتجاج ایک دوسرے سے الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں۔
احتجاجوں کے کئی دائرے ہیں۔ جن میں سے ہر دائرہ پہلے والے دائرے سے زیادہ سنگین نظر آتا ہے۔ جس میں پچھلی ساری تکلیفیں، پریشانیاں اور دکھ ایک نئے ردعمل کی صورت میں اکھٹے ہو جاتے ہیں اور یہ الگ الگ واقعات نہیں رہتے۔
پچھلے 10 برسوں کے دوران ایرانی شہری بار بار سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکلے ہیں۔ تاکہ وہ اپنی گزر بسر کی انتہائی بری صورتحال کی طرف متوجہ کر سکیں، کرپشن اور ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکیں اور معاشی بد انتظامی پر نفرین بھیج سکیں۔
ہر احتجاجی دائرہ لگ بھگ ایک ہی انداز سے اپنی جگہ بناتا ہے۔ عارضی طور پر کریک ڈاؤنز کیے جاتے ہیں۔ مگر یہ پیٹرن عارضی ثابت ہوتا ہے پھر کریک ڈاونز ہوتے ہیں، نہ پورے کیے جانے والے وعدے ہوتے ہیں، اصلاحات کا دعویٰ کیا جاتا ہے مگر انجام کار حالت جوں کی توں ہی رہتی ہے۔
موجودہ احتجاجی مظاہروں کی جو بات پہلے کے مقابلے میں مختلف ہے وہ عوامی شرکت ہے۔ معاشی تکالیف نے پورے ملک کے لوگوں کو ایک ہی طبقہ بنا دیا ہے کہ جو ملک کی معاشی زبوں حالی سے تنگ ہے۔
یہ صرف طلبہ تک محدود نہیں یا انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کی اس سلسلے میں دلچسپی ہے یا سیاسی مخالفین اس پر نالاں ہیں اور غصے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں دکاندار بھی شامل ہیں، ٹرک ڈرائیور بھی، فیکٹری کارکن بھی، استاتذہ، پینشنرز اور حتیٰ کہ عام کاروباری لوگ بھی جو بالعموم حکومت کے لیے استحکام کا مؤجب ہوتے ہیں۔ یہ سب اپنے اپنے انداز میں اور اکٹھے ہو کر احتجاج کر رہے ہیں۔ اس لیے اس وقت جاری احتجاج کی جڑیں دور تک اور گہری نظر آ رہی ہیں۔
اس احتجاج سے یہ اشارے بھی مل رہے ہیں کہ اب ایران کا پورا نظام ہی عوامی دباؤ میں ہے۔
کرنسی کی تباہی
ایرانی ریال طویل عرصے سے اپنی قدر کے حوالے سے گراوٹ کا شکار ہے۔ ایران کے موجودہ معاشی بحران کی ایک بڑی وجہ اس کی قومی کرنسی کی قدر کا انتہائی نیچے گر جانا ہے۔ اگرچہ ایرانی ریال پچھلے کئی برسوں سے گراوٹ اور کمزوری کا شکار ہے۔ لیکن حالیہ برسوں کے دوران ایرانی ریال کی یہ گراوٹ تیز تر بھی ہے اور تباہ کن بھی۔
اب اس کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ یہ زر مبادلہ کے طور پر عملا کام نہ آنے والی ایک انتہائی کم قیمت کرنسی رہ گئی ہے۔ جو کسی گنتی شمار میں سمجھنا مشکل ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں لوگ حکومتی معاشی انتظام پر بھروسہ اور اس کے مالیاتی نظم قبول کرنے کو تیار نہیں۔ یہ صورتحال سیاسی عدم استحکام کا بھی مؤجب بن رہی ہے۔ کیونکہ جب کسی ملک کی کرنسی تباہی سے دوچار ہوتی ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ اپنی معیشت پر لوگوں کا اعتماد بھی ختم ہوجاتا ہے۔
پچھلے چند برسوں کے دوران ایرانی ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی پوزیشن کو مسلسل کمزور ہوتا دیکھ رہا ہے۔ پہلے جس مقصد کے لیے ایک لاکھ ریال کی ضرورت ہوتی تھی اب اسی مقصد کے لیے لاکھوں ریال بھی ناکافی نظر آتے ہیں۔ یہ محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں ہے کہ جو مالیاتی منڈی سے جڑا ہوا ہے۔ بلکہ اس صورتحال نے ہر شہری کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہر سیلری اس کی وجہ سے محدود تر محسوس ہوتی ہے اور ہر کاروبار نیچے کی طرف جاتا دکھتا ہے۔
ایرانی ریال کی اس تباہی کا مطلب یہ بھی ہے کہ درآمد شدہ اشیاء، خام مال، اضافی پرزہ جات، ادویات حتیٰ کہ بنیادی خوراک سے متعلق اشیاء بھی اس حد تک مہنگی ہو گئی ہیں کہ یہ عام آدمی کے لیے شجر ممنوعہ ہوتی جا رہی ہیں۔
دکانداروں اور عام کاروباری لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تباہی ہے۔ خاص طور پر ان کے لیے جو درآمدی اشیاء پر انحصار رکھتے ہیں یا جو بیرون ملک سے بعض اشیاء اور پرزے درآمد کرتے ہیں۔
ہر قطرہ ریال کی قیمت کو تحلیل کر رہا ہے اور ہر اگلے روز چیزوں کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اشیاء کی قیمتیں آئے روز تبدیل ہوتی ہیں۔ بلکہ ہر روز ان میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ کسی ایک دکاندار اور تاجر کے لیے ایسی صورتحال میں اپنے کاروبار کے لیے کوئی منصوبہ بندی کرنا اور اس میں استحکام لانا ایک ناممکن عمل بن کے رہ گیا ہے۔ منافع کی شرح بھاپ کی طرح ہوا میں تحلیل ہو رہی ہے۔ خساروں میں کئی گنا اضافہ ہو رہا ہے اور کاروبار کی بندش سے بچنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یہ کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں ہے کہ ایران کے تاجر بھی پہلی بار احتجاج میں خود آگے نکلے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر دکاندار اور تاجر ہی معاشی تباہی کو سب سے پہلے محسوس کرتے ہیں اور انہیں کسی تاخیر کے بعد تباہی نظر آنے لگتی ہے۔
کرنسی کی قدر میں گراوٹ کا انسانی پہلو!
کرنسی کی قدر میں گراوٹ محض ایک تجریدی معاملہ نہیں یے۔ کرنسی کی گراوٹ اور قدر میں کمی کے معانی انسانوں اور ان کی روز مرہ کی زندگی کے لیے بھی غیر معمولی اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔ کرنسی کی تباہی بالآخر انسانوں کی قوت خرید کی تباہی کا باعث بن جاتی ہیں۔ لوگ اپنی روزمرہ کی بالکل عام سی اشیائے ضروریہ خریدنے میں بھی دقت و تنگی محسوس کرتے ہیں۔
اسی لیے یہ کہا جاتا ہے کہ کرنسی کی قدر میں کمی ہونا کوئی تجریدی عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک عملی انداز سے اثر پذیر ہونے والا وہ سلسلہ ہے جو ایک عام انسان سے لے کر عام گھرانے تک اور بالآخر پوری آبادی تک اپنے اثرات چھوڑتا ہے۔ لوگوں کے لیے اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے کے لیے روٹی، چاول، گوشت، ادویات، ایندھن کی خریداری ایک مشکل امر بن جاتی ہے۔ اپنے بچوں کی سکول سے متعلق ضروریات کے اخراجات برداشت کرنا بھی آسان نہیں رہتا۔
اس لیے یہی کچھ ایران میں دیکھا جا رہا ہے کہ ایرانی ریال کی قدر میں کمی کا تسلسل، تنخواہوں کی بنیاد پر قوت خرید کو سخت متاثر کر رہا ہے۔ افراط زر میں اس غیر معمولی اضافے کی وجہ سے قوت خرید میں غیر معمولی کمی ہو چکی ہے۔
ریال کی قیمت جس قدر نیچے جا رہی ہے امریکی ڈالر کی قیمت اسی قدر اڑان پکڑ رہی ہے۔ نتیجتاً اشیاء کی لاگت میں اضافہ اور عوام کی قوت خرید میں کمی کے مظاہر ہر جگہ نظر آتے ہیں۔
کرنسی کی قدر میں کمی اور عوامی مشکلات میں اضافے کا یہ عمل تھکا دینے والا ہے۔ مگر یہ سلسلہ خوف کبھی تھکنے والا نہیں بلکہ پھیلتا چلے جانے والا ہے۔
ایک ماہانہ تنخواہ جو کسی زمانے میں مہینے بھر کی ضروریات اور اخراجات کے لیے کافی ہو سکتی تھی آج وہی تنخواہ محض ایک ہفتے اور بعض اوقات ایک ہفتے سے بھی کم مدت میں اس طرح خرچ ہو جاتی ہے کہ تنخواہ دار شخص اس کے بعد خالی ہاتھ ہو کر ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔
ان حالات میں تنخواہ دار طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندان اپنی بنیادی ضروریات میں کٹ لگانے پر مجبور ہوتے ہیں، پروٹینز کا حصول، ادویات تک کی خریداری اور علاج معالجے کے اخراجات برداشت کرنا، سخت سردی میں اپنے گھروں میں ہیٹر جیسی بنیادی ضرورت کا استعمال نہ کر سکنا اور گرمیوں کے دوران سخت گرمی کے باوجود کمروں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اخراجات برداشت نہ کر سکنا ایک عام سی بات بن جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ کٹھن اور مشکل گھڑی معمول بن جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ریفریجریٹرز کے خالی ہونے سے متعلق تصاویر اور نعرے دور تک گونج رہے ہیں۔ یہ صرف بھوک کی ایک علامت کے طور پر نہیں ہیں بلکہ ایرانی سمجھتے ہیں کہ وہ شہری وقار سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔
بلاشبہ جب لوگ بنیادی ضروریات کو ایک طویل عرصے سے اس کے باوجود ممکن نہ بنا سکیں کہ وہ مکمل وقت بلکہ بعض اوقات اپنے اوقات کار سے بھی زیادہ کام کرتے ہوں تو انہیں بوکھلاہٹ اور رنجیدگی کا پیدا ہونا فطری ہے۔ اسی لیے گلیوں میں اس غصے اور ناراضگی کا اظہار دیکھنے کو مل رہا ہے۔
افراط زر روز مرہ کی زندگی کے لیے ایک صدمہ بھی ہے اور دھچکا بھی ہے
ایرانی کرنسی کا معاملہ انتہائی دگرگونی اختیار کر چکا ہے۔ معیشت غیر مستحکم ہو گئی ہے اور اب مزید افراط زر کوئی غیر متوقع چیز نہیں رہ گئی۔ ہاں ایران میں اس افراط زر کی وجہ سے تشدد اچانک ابھرا ہے اور اندھا دھند ابھر رہا ہے کیونکہ اشیاء کی قیمتیں اب سالانہ بنیادوں پر بڑھتی ہیں نہ ماہانہ بنیادوں پر بلکہ ہفتے بعد اور بعض اوقات شہریوں کو ہر روز قیمتوں میں ایک نئے اضافے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صبح شہریوں کی آنکھ کھلتی ہے تو انہیں خوراک کی قمیت میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے، ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں ہر روز اضافہ ہو جاتا ہے اور اگر وہ کرائے کے گھر میں رہتے ہیں تو کرایے میں اضافہ بھی معمول بن چکا ہے۔
ایران میں افراط زر کی سطح 40 سے 50 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ جس نے سماج کے بنیادی لب و لہجے اور رویے کو ہی چینج کر دیا ہے۔
طویل مدتی منصوبہ بندی بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔ رقم کی بچتوں کا نظام بھی اب کوئی معنی رکھنے والا نہیں رہا۔ کیونکہ بڑی بڑی رقم بھی اپنی قدر کھو رہی ہے۔ لوگوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ جلد سے جلد اشیاء خرید کر رکھیں یا پھر غیر ملکی کرنسی خرید کر اپنے پاس محفوظ کر لیں۔
کرنسی کی قدر میں گراوٹ کے علاوہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ بھی شہریوں کے لیے سخت پریشانی کا باعث ہے۔ یوں ایک طرف افراط زر ہے اور دوسری طرف ایندھن کی قیمتوں مین اضافے کا گھن چکر۔ دونوں ہی ختم ہونے کی طرف نہیں ہیں۔
عام لوگوں میں اکتاہٹ کا مستقل احساس
ایران میں رہنے والے عام لوگوں کی سوچ یہ بن چکی ہے کہ کسی چیز میں استحکام نہیں۔ کوئی چیز قابل بھروسہ نہیں۔ حتیٰ کہ اس بے یقینی اور غیر مستحکم صورت حال میں بنیادی نوعیت کا بجٹ بنانا بھی غیر ممکن ہوگیا ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے پریشانی و ابتری کی صورت حال بھی اسی طرح نمایاں ہے جس طرح معاشی بدحالی واضح ہے۔ جب لوگ یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ انہیں مسلسل مہنگائی نے بالکل دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے تو ان کا اداروں پر اعتماد اٹھ جاتا ہے اور سماجی ہم آہنگی بکھرنے لگتی ہے۔
ملک میں بیروزگاری اور معاشی بحران تباہی تک لے جانے والا بن چکا ہے۔ کیونکہ اس سے سب سے زیادہ نوجوان متاثر ہو رہے ہیں۔ نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے اور اگر کسی نوجوان کو روزگار میسر آبھی جاتا ہے تو اس کے باوجود وہ عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا رہتا ہے۔
تنخواہوں کی سطح ظالمانہ حد تک کم ہے اور ملازمتوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی اپنی زندگی میں آگے بڑھ سکتا ہے۔ الا یہ کہ کچھ علاقائی ریاستیں ایسی ہیں جو اپنے ہاں انفراسٹرکچر پر بھاری رقوم لگاتی ہیں۔ وہ تعمیرات کرتی ہیں اور اپنی معیشت کو اس طرح متنوع بنا رہی ہیں کہ نوجوانوں کے لیے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں۔
مگر ایران اس معاملے میں ناکام نظر آتا ہے کہ وہ لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع کو اطمینان بخش حد تک لے جا سکے۔ ایران میں کوئی واضح معاشی ویژن نہیں ہے جو پورے معاشرے کو ایک سمت اور تحرک دے سکے اور انہیں پیداوار کے بڑھنے اور مواقع میں اضافے کی امید دلا سکے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایرانی نوجوان سالہا سال کی تعلیم کے بعد مسلسل بیروزگار ہیں یا اپنی تعلیمی قابلیت کے مقابلے میں چھوٹی ملازمتوں پر قناعت کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ خلا لوگوں کی توقعات اور ان کے لیے دستیاب مواقع میں ایک خلیج کا سماں پیدا کرتا ہے۔ اس سے لوگوں میں مزاحمت پیدا ہوتی ہے اور وہ اجتماعی دھارے سے نکلنے لگتے ہیں۔ اس ساری صورتحال کے مضمرات بڑے واضح ہیں۔ نوجوانوں کی شادیوں میں تاخیر ہے۔ ان کے اپنے گھروں کے تعمیر ہونے کی امید دور تک نہیں ہے۔ بیت سے نوجوان دوسرے ملکوں میں امیگریشن اس لیے لینا چاہتے ہیں کہ وہ کسی پائیدار راستے پر اپنی زندگیوں کا سفر شروع کر سکیں اور جو سمجھتے ہیں کہ وہ ایک ایسے نظام کے جال میں پھنس چکے ہیں جو ان سے قربانیاں تو مانگتا ہے لیکن انہیں اس کا بدلہ نہیں ملتا۔
ملک میں ہاؤسنگ کا شعبہ، تنخواہوں اور اجرت کا نظام کم از کم مڈل کلاس تک کے لیے بری طرح پامال ہو چکا ہے اور یہ ایرانی معیشت کے واضح طور پر بریک ڈاؤن کی نشانی ہے۔ اب بہت سارے ایرانیوں کے لیے اپنے گھر کا مالک ہونا کوئی حقیقت پسندانہ ہدف نہیں رہا۔ حتیٰ کہ اپنی ماہانہ آمدنی سے گھروں کا کرایہ دینا بھی آسان نہیں رہا ہے بلکہ بہت مشکل ہو چکا ہے۔ ایک گھر کا کرایہ ایک عام مزدور کارکن کی آدھی تنخواہ سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اسے اپنے کھانے کے کچھ حصے سے دستبردار ہونا پڑتا ہے یا ٹرانسپورٹ کے استعمال کرنے کی بجائے پیدل چلنے کے ساتھ ساتھ اپنے علاج معالجے سے بھی دور رہنے کی پالیسی اختیار کرنا پڑتی ہے۔
اس آمدنی و اخراجات کے عدم توازن نے مڈل کلاس کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ بلاشبہ مڈل کلاس کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر نظر آتی ہے۔ جب تعلیم یافتہ پروفیشنل اپنی آمدنی سے گھروں کے لیے بچت نہ کر سکیں تو یہ صاف محسوس ہوتا ہے کہ عدم استحکام اور تنزل سوسائٹی میں دخیل ہو چکا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب تعلیم کو ترقی و تحفظ کا راستہ سمجھا جاتا تھا۔ تعلیم اطمینان و اعتماد کا ذریعہ بنتی تھی۔ لیکن اب ضروری نہیں ہے کہ آپ کے پاس تعلیم ہو اور آپ اطمینان و خوشحالی کی زندگی کا خواب دیکھ سکیں۔
بازار کیوں اہم ہو گئے ہیں؟
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ایرانی تجارت کے حامل بازار سماجی استحکام میں ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ 1979 کے انقلاب میں بھی ان بازاروں کا کردار اہم تھا۔ جو اپنی بندش کی صورت میں احتجاج کی علامت تھے اور ان کی یہ بندش ملک میں سنگین بحران کا اشارہ تھی۔ اب پھر وہی صورت حال بن رہی ہے اور بازاروں کے حالات سیاسی احتجاج میں تبدیل ہورہے ہیں۔
حالیہ احتجاجی مظاہرے میں تاجروں اور دکانداروں کی شرکت بھی اسی بات کی غمازی کرتی ہے کہ بحران کی وسعت و گہرائی کس قدر زیادہ ہے۔ کیونکہ تاجر اور دکاندار کبھی بھی انتہا پسندانہ سرگرمیوں کے مزاج کے عادی نہیں رہے ہیں۔ وہ صرف اسی صورت میں احتجاج کے لیے نکلتے ہیں جب معاشی نظام کام کرنے کا متحمل نہ رہے۔ جب تاجروں اور تجارت کی بقا کا سوال پیدا ہو جائے۔
معیشت سے ماورا حقوق اور سیاسی عدم اطمینان
جب معیشت کی خرابی کی وجہ سے ناراضگیوں میں تیزی پیدا ہو جائے اور مظاہرین افراط زر، بیروزگاری اور مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہو کر کچھ ریلیف کا مطالبہ کرنے لگیں تو ان کے ساتھ تصادم کا رویہ گورننس کے ماڈل کے خلاف کئی گہرے سوال پیدا کرتا ہے۔
احتساب، آزادی، معاشی تباہی کا ظہور، سیاسی ناکامی یہ سب چیزیں اجاگر ہونے لگتی ہیں اور خاص طور پر جب لوگ دیکھیں کہ ملکی وسائل کرپشن کی وجہ سے لوٹے جا رہے ہیں تو لوگوں میں پایا جانے والا معاشی غصہ سیاسی ردعمل میں بدل جاتا ہے۔ اس طرح معاشی نعروں کے ساتھ ساتھ حقوق کے لیے نعرے اور نظام کی تبدیلی کے نعرے بھی زور پکڑتے ہیں۔ احتجاج کی شکل اور اس کے رخ میں آنے والی تبدیلی زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے اور حکومت اس کے نشانے پر آجاتی ہے۔
بات کو سمیٹتے ہوئے یہ کہنا چاہیے کہ ایران کے ان احتجاجوں میں باہم کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ یہ سںب احتجاج ان سٹرکچرل بحرانوں کے طے نہ ہو سکنے کی علامات ہیں۔ جب تک ایرانی کرنسی تباہی سے دوچار رہے گی افراط زر روزمرہ کی ضروریات کو مشکل بناتا جائے گا، بیروزگاری اونچی سطح پر برقرار رہے گی اور سیاسی ناراضگیوں کا ازالہ ممکن نہیں ہوگا۔
اس سب کچھ کے دوران بد امنی سامنے ہوتی نظر آئے گی۔ طاقت و جبر ممکن ہے گلیوں میں لوگوں کو عارضی طور پر خاموش کرا سکے لیکن اس سے لوگوں کے گھروں کے خالی ریفریجریٹرز بھر نہیں سکیں گے۔ ان کے لیے ملازمتیں پیدا نہیں ہوں گی اور نہ ہی ان کی قوت خرید بحال ہو سکے گی۔ لازم ہے کہ ان مقاصد کے لیے معاشی اصلاحات کی جائیں اور سیاسی احتساب کا بندوبست کیا جائے۔ بصورت دیگر ایرانی احتجاجوں کا یہ سلسلہ اور دائرہ پھیلتا رہے گا اور سنگین مضمرات کا خدشہ بڑھتا رہے گا۔