کیا ایران واقعی تبدیلی کی راہ پر ہے؟

اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودہ حکومت کو بچانے کی صلاحیت واشنگٹن میں ہے نہ اسرائیل میں اور نہ ہی کسی خلیجی ریاست کے پاس

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

اپنے بچاؤ کے لیے ایران کو جوہری پروگرام کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایران سے باہر اپنی سرگرمیوں اور مداخلتوں کو روکنا ہو گا۔ اسی سمت میں واضح اور عملی تبدیلی غیر ملکی مداخلتوں سے بچا سکتی ہے۔ جس کا اس وقت ملک میں جاری بدامنی کی وجہ سے بیرونی مداخلت کے لیے اندرونی تبدیلی کا موقع بنا ہوا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی کی تہران واپسی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایرانی حکومت کا وجود سخت بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔ اس بحران سے ایرانی حکومت کو نکالنے اور حکومت کے ممکنہ خاتمے کو روکنے کی ایک ہی صورت ہو سکتی ہے اور یہ صورت صرف اس طرح ممکن ہے کہ ایرانی حکومت خود کا اس اہتمام کرے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودہ حکومت کو بچانے کی صلاحیت واشنگٹن میں ہے نہ اسرائیل میں اور نہ ہی کسی خلیجی ریاست کے پاس۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایرانی حکومت کے خلاف اندرونی طور پر خطرات اس حد تک یکجا ہو گئے ہیں کہ اب ان سب خطرات کی طاقت حکومت کو گرانے کے لیے کافی ہو چکی ہے۔

اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ایران کے اندرون و بیرون دونوں اطراف سے خطرات نے ایران اور اس کی حکومت کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔

حکومت نے اپنے جوہری منصوبے کو اجازت کا امکان نہ ہونے کے باوجود ایک ضد کے طور پر اختیار کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اور اس کے عوام آج اس جوہری منصوبے کی ضد کی قیمت ادا کر رہے ہیں اور ایران آخر میں دیوار کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ اس طرح کہ ایرانی صلاحیت و ماہیت دونوں بالکل واضح ہو کر بغیر کسی پردے کے سامنے آ چکی ہیں اور ابھی ایران کے پاس جوہری ڈیٹرینس بھی موجود نہیں ہے۔

ایک اور چیز جس نے ایران کی حکومت اور ایرانی عوام کے لیے مسائل میں بہت اضافہ کیا ہے وہ اسلامی جمہوریہ ایران کا پہلے دن سے ہی باہر کی دنیا میں افراتفری کے ذریعے تبدیلیوں کے منصوبوں کو برآمد کرنا تھا۔

اس حکمت عملی کو ایرانی حکومت نے شروع دن سے اپنی سرکاری پالیسی کے طور پر اختیار کر رکھا ہے۔ یوں ایران اور خطے دونوں کو یکساں طور پر نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ تاہم کچھ عرصے سے ایران کے زیادہ تر انقلابی منصوبوں کو باہر کی دنیا میں ٹوٹتے بکھرتے دیکھ رہے ہیں۔

اس تناظر میں اب ایرانی حکومت کے پاس اب کوئی بھی دلیرانہ فیصلہ کرنے اور اپنے آپ کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے لیے بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ بلکہ کہا جانا چاہیے کہ شاید یہ فیصلہ کرنے کے آخری لمحات ہو سکتے ہیں۔ ان آخری لمحات میں بھی ایرانی حکومت جوہری منصوبے سے دستبرداری کی آپشن کو بروئے کار لا سکتی ہے۔

یہ جوہری منصوبہ جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ خالص ایک فوجی منصوبہ ہے لیکن ایران اسے غیر فوجی اور پر امن مقاصد کی بجائے محض ایک بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ قرار دیتا ہے۔

اس لیے یہ بات لازم ہے کہ ایران خطے کے ممالک کے خلاف اپنی معاندانہ پالیسیوں سے ہٹ کر سوچے۔ ایسے عسکری اداروں کو ختم کرے جو پڑوسی ملکوں کو دھمکانے اور ان میں افراتفری بڑھانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ضروری ہے کہ ایرانی حکومت خطے کے دوسرے ملکوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی بجائے بقائے باہمی کا راستہ لے اور اپنے آپ کو تباہی سے بچانے کی سمت میں اقدامات کرے۔

اس سمت میں ایرانی جوہری پروگرام کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ان تمام بیرونی سرگرمیوں کا خاتمہ بھی شامل ہے جو ایک عرصے سے ایران خطے کے مختلف ملکوں میں کرتا رہا ہے۔

سمت کی یہ تبدیلی ایران کو غیر ملکی مداخلت سے بچانے کا ذریعہ بھی بنے گی اور اس کے ہاں جاری بدامنی کا فائدہ اٹھا کر اندرونی سطح پر ممکنہ تبدیلیوں کا راستہ بھی روکے گی۔

اب ہم ایران کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ حکمت عملی کے ساتھ امریکی حملے روکنے کی کوشش میں ہے۔ اس مقصد کے لیے اپنے جوہری پروگرام کو منجمد کرنے کے اشارے بھی دے رہا ہے۔ تاکہ کوئی سمجھوتہ ممکن ہو اور اطراف میں موجود اپنے عسکری حوالوں سے بھی دستبردار ہونے کا وعدہ کر رہا ہے۔

بلاشبہ اس سے امریکہ و اسرائیل کے تقاضے تو پورا ہو سکتے ہیں لیکن علاقے کے ملکوں کے لیے اس میں تشویش کا پہلو موجود ہے کہ جب یہ زخمی شیر ٹھیک ہو جائے گا تو یہ خطے کے ملکوں کے لیے زیادہ خطرناک ہوگا۔ تاوقتیکہ اس کے پاس روایتی ہتھیار بھی ہوں اور فوجی ادارے بھی۔ جنہیں بیرونی دنیا میں عسکری سرگرمیوں کی ہدایت ہو۔ جو بیانیہ اس وقت ہمارے سامنے ہے وہ تلخ آپشنز پر مبنی ہے اور وہ یہ کہ افراتفری کی بجائے ایرانی رجیم کا بچاؤ ہو سکے۔ تاہم اس کے لیے لازم ہے کہ ایک پرامن ماحول ہو اور ساری چیزوں کو دانش و منطق کی بنیاد پر طے کیا جائے نہ کہ انتہا پسندانہ نظریاتی نظم کے تابع رکھا جائے۔

ایران کی حکومت اس وقت زیادہ وقت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تاکہ ایسے افہام و تفہیم کی طرف بڑھ سکے جو اسے امریکہ و اسرائیل کا نشانہ بننے سے بچا سکے۔

اس کے باوجود لازمی نہیں ہے کہ رجیم کے مکمل خاتمے کا عمل مکمل رکے۔ البتہ التوا میں ضرور پڑ سکتا ہے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ ایرانی حکومت اپنے اندرونی اور علاقائی سطح پر دستبرداری کی پوری ایک سیریز کا اہتمام کرے۔ اگر اس نے ایسا کر لیا تو ہم یہ کہہ سکیں گے کہ اب ہمارے سامنے ایسا حکومتی نظام موجود نہیں ہے جو ہم پچھلے تقریبا 50 برسوں سے دیکھ رہے تھے۔

ایرانی رجیم کے خاتمے کی پیشگوئیاں ہم کافی عرصے سے سن رہے ہیں اور یہ بار بار کی جاتی ہیں۔ لیکن یہ رجیم اس سے پھر نکل آتی ہے۔ اگرچہ امریکی صدر جمی کارٹر کے معتمد ساتھی زبگنیو برزیزنسکی نے جب یہ رجیم تشکیل پا رہی تھی اور خمینی برسر اقتدار آ رہے تھے تو کہا تھا کہ یہ عارضی تحرک کی حامل حکومت ہو گی۔

کئی سال بعد ہینری کسنجر نے بھی یہی بات کہی کہ ایرانی رجیم اندرونی تضادات کی وجہ سے زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکے گی۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ پچھلی کئی دہائیوں سے نہ صرف بچتی آ رہی ہے بلکہ علاقے کی سطح پر ایک غلبے کی خواہش کی حامل طاقت کے طور پر موجود ہے۔

ماضی میں جو پیش گوئیاں کی جاتی رہی ہیں وہ پختگی کے بغیر اور قبل از وقت ثابت ہوئیں۔ تاہم آج کا اسلامی جمہوریہ ایران جس رفتار کے تابع ہے وہ تبدیلی کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگرچہ یہ سوال اہم ہے کہ یہ تبدیلی کیسے ہو گی اور تبدیلی ایک مکمل خاتمے کی صورت ہوگی یا جزوی ہو گی۔

تاہم خطے کو اس ممکنہ تبدیلی کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ یہ تبدیلی مثبت بھی ہو سکتی ہے اور منفی بھی۔ اس لیے تہران کی حمایت کرتے ہوئے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایرانی حکومت کے ساتھ ہمارا تنازعہ صرف اور صرف اس کی بیرونی مداخلتوں کی پالیسی کی وجہ سے ہے۔ جنہیں وہ لبنان، عراق اور یمن میں ایک عرصے سے جاری رکھے ہوئے ہے اور اب اگر ایرانی رجیم بستر مرگ پر بھی ہے تو کیا واقعی اپنی اس بیرونی ملک مداخلتوں کی پالیسی سے دستبردار ہونے کو تیار ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size