ایران کی جنگ اور خلیج کے لیے خطرات!

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

ہمارا خطہ ایک طویل عرصے سے بھوسے کے ڈھیر میں دبی ایسی بارودی سرنگوں کی زد پر ہے۔ کہ ان میں سے کوئی بارودی سرنگ کسی بھی وقت بغیر کوشش یا ارادے کے خود ہی پھٹ کر تباہی کا موجب بن سکتی ہے اور پھر خطے کو اس کے اثرات و مضمرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمہید کا اشارہ یا مراد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جنوبی یمن میں حالیہ دنوں ہونے والے حالیہ واقعات نہیں ہیں۔ اگرچہ اس معاملے کی اہمیت غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ مگر یہ ایسا معاملہ ہے جو اپنی سنگینی کے باوجود ہر گز ایسا نہیں ہے کہ باہمی بات چیت سے حل نہ ہو سکے۔

ان تمام تر بارودی سرنگوں کی موجودگی کے باوجود اس وقت سنگین تر ہو چکا معاملہ قریب محسوس ہونے والی ممکنہ امریکہ ایران جنگ اور اس کے گرد و پیش پر مرتب ہونے والے مضمرات کا ہے۔ اس گرد و پیش کے ملکوں میں بھی سب سے زیادہ جو ملک متاثر ہوں گے وہ خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک ہیں۔ ظاہر ہے کہ خلیجی ممالک ہی امریکہ ایران کے تصادم کی صورت میں سب سے پہلے جنگی دھانے پر ہوں گے۔

اس تناظر میں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ چار دہائیوں سے بھی پہلے خلیجی تعاون کونسل کا قیام ہی اس لیے عمل میں لایا گیا تھا کہ اس ممکنہ خطرے کا مل کر مقابلہ کر سکیں۔ اگرچہ بعد ازاں ان خلیجی ممالک نے اپنے تعاون کے دائروں کو دفاعی امور سے آگے بڑھاتے ہوئے لانڈری اور الیلکٹریکل سے جڑی معمولی اشیاء اپنے اجتماعی دائرے میں کر لیں۔ مگر پھر بھی یہ خلیجی اتحاد بڑی کامیابی سے چلنے والے علاقائی بلاک کی صورت موجود ہے۔ یہ اتحاد سیاسی سطح پر باہمی عدم اتفاق کو بھی قبول اور برداشت کرتا ہے اور ایک دوسرے کے نکتہ نظر کو سمجھنے کا رجحان رکھتا ہے۔

ایک مرتبہ ایک محقق نے میرے ساتھ گفتگو کے دوران یہ نکتہ اٹھایا کہ خلیجی تعاون کونسل کا قیام ایرانی رجیم سے نفرت کی بنیاد پر عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کا یہ استدلال بلاشبہ غلط تھا۔ اس لیے اسے باور کرایا یہ فورم بلاشبہ آیت اللہ خمینی کی آمد کے بعد ایران عراق جنگ کے بعد خلیجی ممالک کے لیے خطرے کی ایک نئی جہت ابھرنے کے باعث وجود میں لایا گیا۔ لیکن اس کی وجہ اپنا تحفظ تھا کسی سے نفرت نہیں۔

تاہم خلیجی تعاون کونسل کی چھ ریاستوں کو اپنے مغربی خلیجی حصے کو نظر انداز کر نے کے بعد بھی تعلقات کے ایک ایسے فریم ورک کی ضرورت تھی جو بیرونی خطرہ نہ ہوتا۔ کیونکہ بعض اوقات بڑے واقعات غیر ارادی یا غیر شعوری طور پر بھی نمودار ہو کر سامنے آکھڑے ہوتے ہیں۔

اس کی ایک مثال ہورپی ہونین میں ملتی ہے کہ یورپی یونین کے اتحاد کی شروعات فرانس اور جرمنی کے درمیان کوئلے کے حوالے سے ایک معاہدے سے ہوئی تھیں۔ یوں ایک کوئلہ یونین جنگ عظیم دوم کے بعد بعد ازاں ایک وسیع تر یورپی یونین کے قیام کی بنیاد بن گئی۔

اس لیے ہو سکتا ہے کہ خلیجی ریاستیں باہم ہر معاملے میں تو متفق نہ ہوں مگر یہ ضرور ہے کہ ان کا مشترکہ مفاد اجتماعی سلامتی کے تحفظ میں ہے۔ جیسا کہ اس سے قبل بھی خلیجی تعاون کونسل کو مضبوط و مستحکم رکھنے کے لیے ایرانی خطرہ کردار ادا کرتا رہا ہے۔

ایران کے ساتھ ہماری تاریخ کسی ہنگامہ خیزی کے بغیر ہے۔ نئی صورت حال صرف اسی ایرانی حکومت کے ساتھ محدود ہے۔ اس سے قبل شاہ ایران کے زمانے میں ایران نے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بالعموم مثبت تعلقات قائم رکھے۔ ان مثبت تعلقات کی نشاندہی کبھی کبھار اس وقت بھی ہوتی ہے جب پڑوسی ملکوں کے درمیان کوئی تنازعاتی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ پڑوسی ریاستیں کوئی غیر معمولی بات نہیں، مگر موجودہ ایرانی رجیم کے ابھرنے کے بعد اس کا احتمال بڑھ گیا تھا۔

اگرچہ اس رجیم کے آنے کے بعد پہلے ہی ہفتے کے دوران سعودی عرب نے ایک سرکاری وفد ایران بھیج کر دو طرفہ اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اس وفد کو آیت اللہ خمینی کے پاس بھیجا گیا اور اس کے ساتھ ہی تیل کی مصنوعات سے بھرا ایک جہاز ایران روانہ کیا تھا تاکہ تیل کی پیدا شدہ ایرانی بحرانی صورت حال میں ایران کی مدد کی جا سکے۔ یقینا یہ دوستی اور خیر سگالی کے جذبے کا اظہار تھا۔

باوجودیکہ خمینی نے اپنی پڑوسی ریاستوں کے نظام کو ختم کرنے اور اتار پھینکنے کی سوچ اختیار کی اور اس کا اعلان بھی کیا۔ بعد ازاں اسلامی جمہوریہ کو راستہ سیدھا کرنے اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے میں چالیس سال لگ گئے۔

آج یہ صورت حال ہے کہ ایرانی وجود کو خطرات لاحق ہیں۔ اس لیے جو منصوبے ایران نے 1979 میں تیار کیے تھے انہیں آج کلی طور پر ترک کرنا ہو گا۔ کیونکہ انقلاب کو برآمد کرنے اور دنیا کو تباہ کرنے کی خواہش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ یہ بجائے خود ایک تباہی کے راستے ہر چلنے کے مترادف ہے۔

نئے حالات میں خلیجی تعاون کونسل کی چھ ریاستیں یہ تسلیم کرتی ہیں کہ وہ حکومتی حمایت تبدیل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

اگر کوئی جنگ شروع ہوتی ہے یہ بہت سے امکانات کا باعث ہو سکتی ہے۔ ان امکانات میں مکمل خاتمے سے بغاوت تک کے امکانات شامل ہو سکتے ہیں۔

صاف نظر آ رہا ہے کہ خطرات کافی زیادہ ہیں۔ اس قدر زیادہ کہ ان کا عراق پر امریکی حملے اور صدام حکومت سے تقابل بھی نہیں ہو سکتا۔ عراق میں جو کچھ ہوا تھا وہ آسانی سے ہو گیا تھا۔ لیکن اگر ایرانی نظام کا ستون گر جاتا ہے تو ایک بڑا خلا پیدا ہو جائے گا۔ یہ خلا از خود سب کے لیے خطرے کا باعث بنے گا۔

دوسری شکل میں اگر ایران اس جنگ کو برداشت کر جاتا ہے تو بھی وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقتوری کے تاثر کے ساتھ واپس آئے گا۔

امریکہ کے ایران میں ممکنہ آپریشن کی صورت تمام خلیجی ریاستوں نے اس امریکی آپریشن میں شامل نہ ہونے کا راستہ منتخب کیا ہے۔ اتحادی ہونے کے ناطے امریکہ کے لیے یہ مایوس کن بات نہیں ہے۔ کیونکہ خلیجی ممالک میں امریکی جنگی اثاثوں کی موجودگی اور دفاعی معاہدے برقرار ہیں۔ امریکہ اس صورت حال میں جنگی محاذ کو پھیلانے کے حق میں نہیں ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں دفاع کی بھی زیادہ کوششوں کی ضرورت ہو گی۔

ایران نے امریکی حملے کے جواب میں خلیجی ریاستوں میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واضح اشارے دیے ہیں۔ یہ انتہائی صورت ہو گی، جس کا امکان نہیں۔ مگر اس امکان کو کلی طور پر رد کر دینا بھی ممکن نہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size