پچھلے تقریبا ایک ماہ سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی لہر جاری ہے۔ اس ایک ماہ کے دوران کئی زیر و بم آ چکے ہیں اور کئی طرح کے سوال بھی ابھر رہے ہیں ۔ صدر ٹرمپ ایرانی رجیم کا تختہ الٹنے پر ابھی غور کر رہے ہیں یا اس میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔ ابھی یہ بھی واضح نہیں ہو رہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران پر براہ راست فوجی حملہ کریں گے یا سائبر حملوں کی کوئی صورت ممکن ہو پائے گی۔ تاکہ ایرانی رجیم کا ڈھانچہ مکمل طور پر ساکت و جامد کر سکیں۔
ممکن ہے ان دونوں آپشنز کے بجائے اب ان کے سامنے صرف ایران سے ڈیل کرنے کی آپشن رہ گئی ہو اور وہ حملوں کی بجائے ایران کو سمجھوتے کی طرف لانا چاہتے ہوں۔ گویا منظر الجھا ہوا ہے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے اس پس وپیش کی حکمت عملی کے باعث صدر ٹرمپ کو ایرانی حزب اختلاف کی جانب سے دھوکہ دینے کے الزام کا سامنا کرنا پڑے۔ جس کے ممکنہ جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ دھوکہ دہی نہیں بلکہ یہ سارے اقدامات ایک لازمی اور فطری تقاضے کے طور پر ضروری تھے۔ تاکہ ایران کے اندرون کو پھٹنے کے عمل کے قریب لائیں اور بعد ازاں صورت حال دھماکہ خیز ہو اور فیصلہ کن موڑ ممکن ہو سکے۔
یہ بھی سوال کیا جارہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا میں کی گئی فوجی کارروائی کو ایران کے خلاف بھی دہرا سکیں گے یا یہ ماڈل ایران میں نہیں چل سکے گا۔
ان سارے امکانات میں سے کسی ایک کی بھی اگر عملی طور پر صورت گری نہیں ہو پاتی تو کم از کم اب تک یہ ضرور ہوگیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا نظام غیر مستحکم کردیا گیا ہے۔ کمزور پڑ چکا ایرانی نظام ان پڑنے والی دراڑوں کی وجہ سے مزید ٹوٹ پھوٹ کی زد میں آ جائے گا۔ اس عدم استحکام پیدا کرنے کے نتیجے میں نئے افق سامنے ہوں گے اور ان کے اپنے اپنے اثرات و مضمرات بھی ابھریں گے۔
لہذا اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ پاسداران انقلاب اور ایرانی رجیم کے دوسرے ستون اپنے اوہام کی بنیاد پر گھڑی کہانیوں سے اپنی کامیابی کس طرح کشید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ایرانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ یہ ٹوٹ پھوٹ کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ یہ امریکی تہہ در تہہ دباؤ کی حکمت عملی کے تسلسل اور بیک وقت کئی جہتوں سے ڈیزائن کردہ کوششوں کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ یہ حکمت عملی تدریج اور ترتیب کے اصولوں کے مقابلے میں ہمہ جہت اور بیک وقت کی بنیاد پر جان بوجھ کر آگے بڑھائی گئی ہے۔
نیز یہ کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو صرف جوہری پروگرام کے سلسلے میں اپنے 'ڈوزیئرز' کی بنیاد پر ہدف نہیں بنایا بلکہ علاقائی اثر رسوخ کے اپنے نیٹ ورک کو بھی بروئے کار رکھا، ملک کے اندر موجود اندرونی سلامتی کے سٹرکچر کو نشانہ بنایا، سیاسی و معاشی نظام کو پاسداران انقلاب کے ساتھ بندھا ہوا ظاہر کیا۔ یہاں تک کہ امریکہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ وہ ایرانی ریاست کو الگ سے دیکھے اور ایرانی رجیم کو الگ شناخت کے طور پر سامنے لاتے ہوئے مؤخر الذکر کو اپنا ہدف بنائے۔
مزید یہ کہ ایک مکمل جنگ جو اس سے پہلے لڑی گئی تھی اس میں بھی اتنی گنجائش رکھ لی گئی کہ سفارتی معاہدے کا موقع بھی برقرار رہے۔
امریکہ کی طرف سے اقدامات کو فوجی حوالے سے بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی افواج کی علاقے میں 'ری پوزیشنگ' کی گئی، امریکی افواج کے جنگ کے لیے تیار ہونے کی سطح کو اگلے درجوں پر پہنچایا، فضائی و بحری یونٹوں کو متحرک کیا اور آپریشن سنٹرز کو علاقائی اتحادیوں کے ساتھ جوڑا۔
علاوہ ازیں متبادل منصوبوں پر کام کیا گیا کہ اگر صورتحال بگڑتی ہے تو بڑھی ہوئی اور فضائی مداخلت کا امکان بھی ڈیزائن میں شامل کیا گیا۔ محدود حملوں اور کارروائیوں کے ذریعے ایران کی فضائی دفاع کی صلاحیتوں کو تباہ کرنے کے اہتمام پر توجہ دی گئی تاکہ علاقے میں تصادم کے پھیلاؤ سے بچتے ہوئے ہدف حاصل کر لیا جائے۔
اس مقصد کے لیے تذویراتی اہداف میں ڈیٹا بیسز اور توانائی سے متعلق تنصیبات، بندرگاہیں، فوجی مواصلاتی مراکز کو اپ ڈیٹ کیا گیا۔ اسی طرح سائبر کی سطح پر آپریشنز کو پھیلاتے ہوئے اہدافی کمان کے ذریعے نیٹ ورکس اور معاشی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ مواصلاتی نیٹ ورک کو ہدف میں رکھا گیا۔ تاکہ پاسداران انقلاب کور کو عملا بے بس کر دیا جائے اور ایرانی رجیم کی رابطہ کاری کی اہلیت اور تصادم کی صلاحیت دونوں کو عدم فعال کر دیا جائے۔
سائبر کے ذریعے پیدا کیے جانے والے اس دباؤ کا مقصد نہ صرف ایرانی دفاعی و حکومتی نظام کو بے دست و پا کرنا ہے بلکہ اس سے عوام کے اندر بے چینی اور بے یقینی کی ایسی فضا پیدا کرنا ہے کہ سیاسی و فوجی حلقوں میں نفسیاتی شکست و ریخت ممکن ہو اور ایرانی رجیم اور اس کی قیادت نفسیاتی اعتبار سے شکست خوردگی کی طرف چلی جائے۔
اس کے ساتھ ہی امریکہ نے مذاکراتی عمل کا دروازہ مکمل بند نہیں ہونے دیا۔ اگرچہ مذاکرات کی شرائط کو انتہائی تبدیلی کے ساتھ سامنے لایا گیا۔ ماضی کے جوہری معاہدے سے ہٹ کر تجاویز پیش کی گئیں اور یہ بھی اہتمام کیا گیا کہ مذاکراتی عمل صرف جوہری پروگرام کو محیط نہیں ہوگا بلکہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام بھی امریکی مذاکراتی اہداف میں شامل کیے گئے ہیں تاکہ بیلسٹک میزائل کو روکنے کے لیے رجیم پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
مزید برآں ایران کا علاقائی سطح پر اثر رسوخ روکنے کے لیے اس کی پراکسیز کو غیر مسلح کرنے کے لیے اقدامات بھی تیزی سے جاری ہیں۔ ان سب اہداف کو حاصل کر لینے کی صورت میں ممکن ہے کہ ایران پر سے کچھ پابندیاں اٹھانے کی پیشکش کی جائے مگر یہ پابندیاں مکمل طور پر نہیں اٹھائی جائیں گی۔ یہ پابندیاں اسی قدر اٹھائی جائیں گی کہ زمین پر ایران کے اگلے عزائم کا اندازہ کیا جا سکے۔
ان مذاکرات کا اہم پہلو متعین تزویراتی نوعیت کا ہے۔ جن میں ہر قدم پر مانیٹرنگ کا تسلسل ہوگا۔ جو امریکی انٹیلی جنس کے علاوہ علاقائی شراکت داروں کی مدد سے ممکن بنایا جائے گا کہ ایران سرخ لکیر کو عبور نہ کر سکے۔
ایرانی رجیم کو بیک وقت بیرونی دباؤ اور اندرون سے درپیش خطرات کو توازن کے ساتھ ڈیل کرنے کا ایک مشکل مرحلہ درپیش ہے۔ کہ ایک ممکنہ معاہدہ خود ایران کے اندر کثیر جہتی ٹکراؤ کا باعث بن سکتا ہے کہ ایران میں ایسے طبقات بھی موجود ہیں جو اسے ایران کی سیاسی و معاشی زندگی کے لیے لازم سمجھتے ہیں اور ایسے طبقات بھی موجود ہیں جو ایران کی مزاحمتی حکمت عملی اور اتحادیوں کے علاوہ پاسداران کو بھی ایران کے لیے ایک وجودی خطرہ سمجھتے ہیں۔
اندرونی جدوجہد جو اس وقت جاری ہے اندرونی طور پر اسی قدر عدم استحکام لا سکتی ہے جس قدر محدود فوجی کارروائیوں کی صورت ہو سکتا ہے کہ اس کی بدولت ایرانی قیادت اور رجیم پر اعتماد کا بحران پیدا ہوگا اور رجیم کے انتہائی اہم عناصر پاسداران انقلاب، اس کے مسلح بازو اور مقامی ملیشیائیں ہیں۔
ترکیہ اس سارے منظر نامے میں ایک حساس اداکار کے طور پر داخل ہو رہا ہے تاکہ علاقے کی سطح پر ایک نازک توازن کا حصول ممکن بنا سکے۔ ترکیہ کا یہ کردار ایک روایتی ثالث کے طور پر نہیں بلکہ امریکہ و ایران کے درمیان ایک مواصلاتی رابطہ کاری کے حوالے سے ہے۔ انقرہ کو یہ یقین ہے کہ اگر ایران کسی جنگ میں پھنس گیا تو اس کے علاقائی سطح پر بڑے نقصان دہ اثرات سامنے آئیں گے اور ترکیہ کے مفادات کو بھی زک پہنچے گی۔ اسے ممکنہ ایرانی پناہ گزینوں کے اپنے ہاں آنے کا خدشہ بھی لاحق ہے۔
اس لیے وہ پس پردہ ہونے والے مذاکرات کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور متبادل تجاویز پیش کر کے بحران کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ترکیہ وہ سفارتی راستے بھی دکھا رہا ہے جو بالآخر امریکی صدر کے فیصلے کی حمایت پر منتج ہوں گے جو صدر ٹرمپ چاہیں گے۔
عرب ملک خاص طور پر بڑے خلیجی ممالک انتہائی احتیاط کے ساتھ چل رہے ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کے نتیجے میں ایران کی طرف سے جوابی کارروائی ان کے لیے بھی خطرناک ہو سکتی ہے جو ان کی سرزمینوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی طرح ایران کی 'پراکسیز' بھی یمن، عراق و ایران سے ممکنہ طور پر اب عرب دنیا میں اپنا ردعمل دکھا سکتی ہیں۔
بعض خلیجی ریاستیں اس پس منظر میں چاہتی ہیں کہ ایران پر تزویراتی دباؤ کو بڑھایا جایا جائے۔ بجائے اس کے ایران کے ساتھ ایک کھلے تصادم کا آغاز کیا جائے۔
یہ خلیجی ریاستیں ایرانی رجیم کے آہستہ آہستہ تحلیل ہونے پر شرطیں لگا رہی ہیں۔ جو امریکی دباؤ، یورپی سفارتی کوششوں سے ممکن ہے۔ جبکہ ایران کو سرخ لکیر کراس نہ کرنے دینے سے خود خلیجی ممالک کے مفدات کا ہی تحفظ ہوگا۔
یورپ نے اس سارے معاملے میں اپنے لیے بڑا ہی عمدہ دائرہ کار چنا ہے۔ اس نے پاسداران انقلاب کور کو دہشت گرد قرار دینے کے ساتھ ایران پر پابندیاں اور دوہرے دفاع کی حکمت عملی اختیار کر کے ایک واضح سیاسی پیغام دیا ہے کہ ایرانی رجیم اور پاسداران انقلاب اندرونی طور پر حالت جنگ میں ہے۔
یورپی ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ درست اندازے کے بغیر کی گئی فوجی کارروائی ایک تیز رفتار ایرانی ردعمل اور غیر متوقع اثرات بھی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس خدشے کے پیش نظر یورپی موقف فوجی کشیدگی کے بڑھنے کو روکنے کے حق میں ہے۔ تاہم یہ بھی کہتے ہیں کہ ایران کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو چیلنج کیے بغیر بھی نہیں جانے دے سکتے۔
پاسداران انقلاب کور ایک تذویراتی چنگل میں پھنسی ہوئی ہے۔ یہ اولین ہدف ہونے کے ناطے امریکہ اور بین الاقوامی نشانے پر ایرانی رجیم کی ایک کمزور ترین کڑی بن چکی ہے۔ یہ اس دباؤ کے باوجود اقتدار پراپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش میں ہے تاکہ انقلاب کا تحفظ کر سکے۔ مگر پاسداران کی یہ کوشش اندرونی تقسیم کو بڑھا بھی سکتی ہے۔
ایسی کوئی بھی کوشش یا اقدام جو افراتفری کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے ہوگی اور امریکی فوجی و سائبر کارروائی یا اقتصادی حملے سے ٹکرانے کے لیے ہوگی، یہ بہر حال ایرانی رجیم کے مستقبل اور علاقے پر اثر انداز ہوں گے۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو تذویراتی اعتبار سے ایک غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے۔ ایسی صورت حال جس میں فوجی دباؤ مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ملک کے لیے ممکنہ ڈیٹرنس عوام میں تقسیم کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے حکومت کا گلا گھونٹنے کے لیے اندرونی تقسیم اور تناؤ میں جو کمی رہ جائے گی وہ غیر ملکی جنگی تیاری کی بڑھی ہوئی گرم بازاری سے پوری ہو جائے گی۔ معاشی تباہی بھی رجیم کو مزید دھکا دے گی ۔
اس تناظر میں اگر کوئی مشروط قسم کا جوہری معاہدہ ہو بھی گیا تو یہ طے ہے کہ ایرانی حکومت اب پہلے کی طرح برقرار نہیں رہ پائے گی۔ اب اسے ہر قدم پر ایک بحران کا چیلنج درپیش رہے گا۔ یہی چیلنج آنے والی دہائیوں کے دوران ایران کی رفتار کا سراغ دیں گے کہ ایران کس رفتار سے کس سمت میں بڑھے گا یا لڑھکے گا۔ یہ چیلنج اسلامی جمہوریہ ایران کی رجیم اور خود اسلامی جمہوریہ کے مستقبل کی نشاندہی کریں گے۔