تصادم کا پھیلاؤ روکنا ایران کے لیے کیوں ضروری ہے؟

ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

ایران اور امریکہ کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی میں شدت آ گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں اس کشیدگی نے پریشانی و تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایران کے بیانیے کو بعض لوگ اس طرح سامنے لا رہے ہیں کہ یہ تباہی صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی۔ وہ آبنائے ہرمز کا حوالہ دیتے ہوئے اشارہ کر رہے ہیں کہ اس کے اثرات علاقائی اداکاروں تک بھی پہنچیں گے۔

کشیدگی پھیلانے کا یہ محض بیانیہ ہے یا عملا ایسا ہو سکتا ہے۔ کشیدگی کو پھیلانے کی دعوت دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پورا علاقہ عدم استحکام کا شکار ہو گا جسے بعد میں کنٹرول کرنا یا روکنا مشکل ہو جائے گا۔ لہذا ایران کو چاہیے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنائے کہ تصادم غیر محدود نہ ہونے پائے۔ وہ ایسی کارروائیوں اور دھمکیوں سے پرہیز کرے جو تصادم کو بین الاقوامیت دے سکتی ہیں یا پڑوسی ملکوں کو تصادم میں گھسیٹ سکتے ہیں۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے سرحدی امور کو کنٹرول رکھے کہ ایک بار تصادم سرحدوں سے باہر نکل گیا یا اصل کھلاڑیوں سے دوسروں کی طرف منتقل ہو گیا تو اس کو روکنا اور تباہی کی شدت کو کم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

غلط اندازہ اور غلط جمع تفریق اتحادیوں کو بھی اس جنگی دہانے پر کھڑا کر سکتی ہے اور مقامی تنازعات علاقائی بحران کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس لیے ایران کو چاہیے وہ تصادم و کشیدگی کو پھیلنے نہ دے۔

آبنائے ہرمز تذویراتی اہمیت اور عالمی مضمرات کے حوالے سے

آبنائے ہرمز کوئی علاقائی آبی راہگزر نہیں ہے۔ یہ بین الاقوامی معاشی نظام میں ایک اہم اور مصروف چوراہے کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا میں پہنچائے جانے والے تیل کے حوالے سے اس کی اہمیت غیر معمولی ہے کہ اس کے راستے تیل کا نمایاں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے جس میں تیل کے علاوہ مائع شکل میں قدرتی گیس بھی شامل ہے اور توانائی کے ان ذرائع کے حوالے سے یہ روزمرہ کا راستہ ہے۔

اسی راستے سے ایشیا کو توانائی کی فراہمی ممکن ہوتی ہے۔ یہی راستہ یورپ کے لیے بروئے کار ہے اور ان دونوں براعظموں سے ہٹ کر بھی تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز اہم ہے۔ اس میں تھوڑی سی خرابی اور بدنظمی کے اثرات حقیقتا کافی زیادہ ہوں گے۔

آبنائے ہرمز میں آنے والی کوئی بھی خرابی فوری طور پر توانائی کی عالمی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا، افراط زر کی وجہ سے دباؤ بڑھیں گے، معاشی عدم استحکام مشرق وسطیٰ سے باہر بھی اپنا پھیلاؤ ممکن بنا سکتا ہے۔

ان پہلوؤں کو دیکھا جائے تو آبنائے ہرمز کی اہمیت صرف ایرانی تشویش کے حوالے سے نہیں ہے۔ بلکہ اس سے عالمی مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ اس راستے سے تجارتی نقل و حمل کو لاحق ہونے والا کوئی بھی خطرہ فوری طور پر بین الاقوامی ایشو بن سکتا ہے اور ان تمام اداکاروں کو بھی اپنی طرف کھینچ سکتا ہے جو اس سے پہلے ایران کے ساتھ جڑی اس کشیدگی کا حصہ نہیں ہے۔

اس لیے اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا کرنے کا بیانیہ یا فوجی اسلحے کے استعمال کے اشارے دینا آبنائے ہرمز کے گرد و پیش کے لیے خطرناک ہو جائے گا۔ پائی جانے والی دو طرفہ کشیدگی کئی اطراف میں بحران کا باعث بن سکتی ہے۔

ایران بھی بہت اچھی طرح آبنائے ہرمز کی اس اہمیت سے آگاہ ہے۔ لیکن اس ایرانی سہولت کو خود بخود دوسروں کے نقصان میں نہیں بدلنا چاہیے۔

آبنائے ہرمز کو ایک دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرنا یقینا واشنگٹن کے علاوہ بھی مختلف گوشوں سے ردعمل کو جنم دے گا۔ یورپی بحری افواج، ایشیائی توانائی کے صارفین اور بین الاقوامی سلامتی کے اتحاد، ان سب کی طرف سے ردعمل کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ نتیجتاً ایسی کارروائیاں جو آبنائے ہرمز کو ایک دباؤ کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کے حوالے سے ہوں گی وہ ایک وسیع تر اور متحدہ ردعمل کا سبب بنیں گی اور کئی اداکار ایران کے سامنے آ جائیں گے۔

آبنائے ہرمز میں کارروائیوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر پیدا ہونے والے اثرات کے علاوہ براہ راست ایران کے لیے بھی یہ اثرات انتہائی نقصان کا باعث ہو سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کے اپنے معاشی و تذویراتی مفادات کو زک پہنچ سکتی ہے۔ ایران اپنی برآمدات کے لیے جن تجارتی راستوں کو استعمال کرتا ہے وہ متاثر ہو سکتے ہیں اور اس کی تجارتی رابطہ کاری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یوں پہلے سے معاشی دباؤ تلے آئے ہوئے ایران کے لیے مزید معاشی تنہائی اور مسائل پیدا ہوں گے۔

آبنائے ہرمز میں کوئی بھی کارروائی اس کے دیگر ملکوں کے ساتھ تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے جو اس وقت ایران کے لیے اپنے مؤقف کو عملیت پسندی یا ایرانی مخالفت کے بغیر اختیار کیے ہوئے ہیں۔

مزید یہ کہ اس حساس علاقے میں کشیدگی بڑھانے سے فوجی تصادم میں تیزی آئے گی۔ بحری افواج ان واقعات کو اپنے اپنے انداز سے معنی پہنائیں گی اور اس کی تعبیر کریں گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حادثاتی تصادم بہت تیزی سے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ جیسے ہی فوجی حرکیات سے متعلق سرگرمی بڑھے گی، سیاسی کنٹرول کمزور ہونا شروع ہو جائے گا اور پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نتائج توقعات سے کہیں مختلف اور زیادہ ہوں۔

یہ سمجھنا چاہیے کہ کوئی بھی عبور کی ہوئی حد دوبارہ آسانی سے واپس نہیں ہو سکتی۔ بلکہ صورتحال اس فارسی محاورے کی طرح ہو گی ’خود کردہ را علاج نیست' ۔

اب یہ ایران پر ہے کہ وہ ان سنگین خطرات کے دوران آبنائے ہرمز کو اپنے لیے ایک اور میدان جنگ بناتا ہے یا اسے ایک 'بارگیننگ چپ' کے طور پر استعمال میں لاتا ہے۔

خطرات کا دیگر علاقائی ریاستوں کی طرف پھیلنا

یہ بھی ضروری ہے کہ ایرانی حکومت کشیدگی اور تصادم کو علاقے کی دوسری ریاستوں کی طرف منتقل نہ کرے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کی لپیٹ میں ہے۔ بعض ملکوں میں سیاسی نظام خطرات سے دوچار ہے، معاشی صورتحال دگرگوں ہے، دریں حالات کشیدگی میں اضافہ کرنا پہلے سے موجود عدم استحکام کو مزید بڑھانے کی کوشش ہو گی۔

علاقے کی کئی مملکتیں امریکہ کے ساتھ اپنی سلامتی سے متعلق شراکت داری کے تعلق میں ہیں۔ وہ سفارتی و معاشی اعتبار سے ایران کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہیں۔ ایسی ریاستیں عام طور پر اپنی پالیسی میں توازن کو اہمیت دیتی ہیں اور تصادم سے بچنے کی کوشش میں رہتی ہیں۔

اگر ایران ان ملکوں کو براہ راست یا بالواسطہ دھمکائے گا یا نشانہ بنائے گا تو وہ مجبور ہوں گی کہ اپنی دفاعی قربت و اتحاد کو مزید سخت کریں۔ تاکہ علاقائی سطح پر موجود تقسیم ان کے لیے خطرے کا باعث نہ بنے۔

علاقائی سطح پر کشیدگی کا فطری نتیجہ یہ بھی ہو گا کہ لوگ اتحادوں کی طرف جائیں گے۔ حتیٰ کہ ان کا ردِعمل بھی اپنے اتحادی ملکوں کے تناظر سے جڑا ہو گا۔ اس صورتحال میں دو ملکوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کئی ملکوں میں پھیل سکتی ہے۔ اگر یہ ایک مرتبہ ہو گیا تو اس کے بعد کشیدگی و تصادم علاقائی سٹرکچر کا حصہ محسوس ہونے لگے گا۔

علاقائی استحکام ایک تذویراتی اثاثہ

علاقائی سطح پر استحکام محض خیالی یا خالی خولی خواہش نہیں ہے۔ یہ ایک تزویراتی اثاثہ ہے۔ مستحکم اقوام کا مطلب سرحدی صورتحال کا پیشگی اندازہ ہے، محفوظ تجارتی راستے ہیں، سرمایہ کاری کے مواقع ہیں اور سفارتی لچک ہے۔ غیر ملکی طاقتوں کو مداخلت کے لیے دعوت دینا معاشی تباہی اور لمبے عرصے کے لیے عدم سلامتی و عدم استحکام کا ذریعہ بنتی ہیں۔

اگر ایران اس تصادم کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا مطلب واضح ہے کہ وہ علاقے میں توازن کو کمزور کرتے ہوئے پورے خطے کو ایک پھیلے ہوئے تصادم کے منظر نامے میں دھکیلنے کی کوشش کرے گا۔ نتیجتاً انسانی مصائب و مسائل میں اضافہ ہوگا، نقل مکانی بڑھے گی، تشدد کے سلسلے طوالت اختیار کر جائیں گے اور بالآخر کسی کا بھی فائدہ نہیں ہوگا۔

ایسی خوفناک صورتحال ریاستوں کو کمزور کرے گی، معاشرے مجروح ہوں گے اور ایسے طویل مدتی چیلنج سامنے آئیں گے جنہیں فوری طور پر نمٹانا آسان نہیں ہو گا۔

ایران لازماً علاقائی کشیدگی سے گریز کرے

بحث کو سمیٹتے ہوئے یہی کہا جانا چاہیے کہ ایران کو کشیدگی پھیلانی نہیں چاہیے نہ ہی آبنائے ہرمز کی طرف اور نہ ہی علاقے کے ملکوں کی طرف۔ اگر کشیدگی و بے چینی بڑھے گی تو تنازعات بین الاقوامیت اختیار کریں گے۔ اس کے بعد معاشی، فوجی اور انسانی حوالے سے مضمرات سامنے آئیں گے۔ لہذا ایرانی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسی کارروائیوں سے گریز کرے جو اس کے ہاں پائی جانے والی کشیدگی اور بے چینی کو علاقے کی سطح کی کشیدگی میں بدلنے کا باعث بنے اور علاقہ بحران کا شکار ہو۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size