مسقط میں امریکہ ایران مذاکرات اور بے اعتمادی کے سائے

رغدہ درغام
رغدہ درغام
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 13 منٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان سلطنت آف عمان میں ہونے والے مذاکرات کسی نظر آنے والی پیش رفت کے حوالے سے تو نہ رہے البتہ فریقین کے درمیان آئندہ بھی بات چیت کے امکان کے سلسلے میں اہم رہے۔ وائٹ ہاؤس نے ان مذاکرات کو تہران کے سامنے اپنے مطالبات رکھنے کے حوالے سے ایک اچھے موقع سے تعبیر کیا ہے۔ تاکہ اگر کل کلاں کوئی اور منظر نامہ سامنے آتا ہے تو ایران سمیت کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ایران کو پہلے آگاہ کیا گیا تھا نہ انتباہ کیا گیا تھا۔

سلطنت آف عمان میں ہونے والے دو طرفہ مذاکرات کا مرکزی نکتہ ایرانی جوہری پروگرام تھا۔ جبکہ بیلیسٹک میزائل کا معاملہ اسی نکتے کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا۔ کیونکہ بیلسٹک میزائل اس وقت تک خطرہ نہیں بن سکتے جب تک انہیں جوہری وار ہیڈ سے لیس نہ کیا جائے۔

ان مذاکرات سے پہلے امریکہ کی طرف سے جو تیسرا مطالبہ دہرایا جا رہا تھا وہ ایرانی پراکسیز کی مدد روکنے کا تھا۔ لیکن مذاکراتی میز پر یہ مطالبہ براہ راست تو سامنے نہیں لایا گیا۔ لیکن اس کا تذکرہ دیگر حوالوں سے علامتا ضرور ہوا۔ اسے ایک یاددہانی بھی کہا جا سکتا ہے جو ایران کو کرائی گئی کہ پراکسیز اگر امریکی مفادات یا علاقے میں اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بنیں تو ان کے ساتھ بری طرح نمٹا جائے گا۔
فریقین کے درمیان ہونے والے یہ مذاکرات انتہائی سنجیدہ تھے مگر کسی بھی صورت میں نتیجہ خیر نہیں تھے۔

ایران نے امریکہ کی طرف سے پیش کیے گئے کسی بھی مطالبے سے اتفاق نہیں کیا۔ صاف ظاہر ہے کہ ایران کو صرف وقت حاصل کرنا تھا اور اس میں وقتی طور پر وہ کامیاب نظر آیا۔

اگرچہ امریکہ کی طرف سے بھی یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ وہ لمبے عرصے تک انتظار نہیں کر سکے گا اور ایران کو سنجیدہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ تاہم یہ واضح ہے کہ دونوں کو تھوڑا فائدہ ہونے کے باوجود مذاکرات غیر معینہ مدت کے لیے تھے نہ غیر معینہ مدت تک کا وقت دینے کے لیے تھے۔

یہ براہ راست صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی خطرناک ہوگا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی لمبے مذاکراتی عمل میں پھنس کر رہ جائیں۔ اس لیے وہ بھی نہیں چاہتے کہ یوکرین سے متعلق طویل مذاکراتی تجربے کو دہرائیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے لمبے دورانیے کے مذاکرات کو ان ملکوں کے ساتھ بھی پسند نہیں کیا جن پر امریکہ ٹیرف عائد کر رہا تھا کہ ان کے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات تھے۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ سفارت کاری کے ساتھ ہی فوجی حملوں کا ایک سنجیدہ خطرہ اور دباؤ ہی نتیجہ خیزی کا باعث بن سکتا ہے اور ایران کے لیے بھی یہی راستہ انہیں بہتر لگتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ اور دفاعی کوششوں کے ساتھ فوجی حملوں کے دھمکیاں۔

اس لیے عمان میں مذاکرات کے دوران ایران کو واضح طور پر یہ نوٹس دیا گیا ہے کہ اس سے کیا توقع کی جا رہی ہے۔ یہ ایران کے لیے ایک جال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے پاس اس جال میں پھنسنے کے بعد کوئی جواز نہ رہ سکے کہ اس کے خلاف فوجی کارروائی غلط کی گئی ہے۔ اسی طرح ان مذاکرات کو ایرانی ارادے سمجھنے کے لیے ایک سنجیدہ کوشش بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے حقیقتا کیا نیت اور ارادہ رکھتا ہے۔

بہرحال یہ بات طے ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایران کا جوہری پروگرام روکنا اعلیٰ ترین ترجیح ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے بات چیت اس سے شروع کی ہے مگر اس پر ختم نہیں کی ہے۔ بیلیسٹک میزائل کا ایشو بھی امریکی توجہات کا مرکز ہے کہ بیلیسٹک میزائلوں کا ایران کے پاس ہونا بھی کم خطرناک معاملہ نہیں ہے۔ کیونکہ بیلیسٹک میزائل مؤثر بنانے کے لیے لازماً ایران نیوکلئیر وار ہیڈ استعمال کرنے کا آرزو مند ہوگا۔

جہاں تک خطے میں ایرانی پراکسیز کا تعلق ہے یا ایران کے اندر کی صورتحال کا معاملہ ہے۔ یہ دونوں ایشوز آنے والے دنوں کے دوران مذاکرات کی میز سے دور نہیں ہوں گے اور یہ قابل ذکر ہے کہ وائٹ ہاؤس اس معاملے میں سرکاری طور پر ایک اہم بیان جاری کر چکا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں، دہشت گردی کی مدد کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ایران بیلیسٹک میزائل پروگرام کو آگے بڑھا رہا ہے اور خطے کی سلامتی و استحکام کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے خصوصاً امریکی اتحادیوں کے لیے ایران مشکلات پیدا کرنا چاہتا ہے۔

تاہم امریکی انتظامیہ میں اندرونی طور پر ترجیحات کے معاملے میں آراء میں فرق ہے۔ نائب صدر جے ڈی وانس کی تقریبا تمام توجہ ایران کے جوہری پروگرام پر ہے۔ جس سے تھوڑا تاثر یہ ابھرتا ہے کہ امریکہ کو مذاکرات سے متعلق موضوعات کی دوسری فائلوں کے بارے میں زیادہ پریشانی نہیں ہے۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اصرار ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں چاروں نکات پر اپنی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔ ان میں جوہری پروگرام، بیلیسٹک میزائل، علاقے میں ایرانی اثر و رسوخ کی کوششیں اور ملک کے اندر ایرانی رجیم کا عوام کے ساتھ رویہ۔

یہ بات بھی واضح ہوجائے گی کہ کوئی حقیقی تصادم موجود تھا یا ثالثی سے پہلے محض خودکار ارتباط کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال تھی۔ ہدف یہ ہے کہ ایران کا جائزہ لیا جائے کہ وہ حقیقی معنوں میں جوہری پروگرام کے ڈوزیئر کے حوالے سے کچھ کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ صدر ٹرمپ اس انتظار میں ہیں کہ ایرانی ردعمل کو ناپ تول کر دیکھ سکیں کہ وہ کیا پیش کرتے ہیں۔ اگر یہ قابل لحاظ ہوا اور امریکی مطالبات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوا تو اس سلسلے میں آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

امریکی مطالبات بڑے واضح ہیں۔ وہ ایرانی جوہری پروگرام کی مکمل بندش چاہتا ہے۔ ان تمام جوہری تنصیبات کی بندش کے ساتھ جہاں سے آئندہ بھی کوئی خطرہ ہو سکتا ہے۔ امریکی مطالبہ ہے کہ ایران اس سلسلے میں پکی یقین دہانی کرائے اور اپنی تمام تر جوہری تنصیبات تک مکمل رسائی دے۔

جوہری پروگرام سے متعلق امریکہ کے یہ مطالبات ہو سکتا ہے مسترد ہو جائیں۔ اس صورت میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی زیادہ دور نہیں بلکہ دنوں کی بات ہوگی۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امکانی طور پر خفیہ ضمانتیں حاصل کی جائیں اور دونوں فریقوں کو وقتی طور پر مزید مہلت مل جائے۔ یہ عارضی مہلت مفید ہو گی لیکن غیر معینہ مدت کے لیے نہیں۔

امریکہ اس سلسلے میں اپنے آپ کو اس طرح پیش کر رہا ہے کہ وہ موقع دینے کو تیار ہے اور اگر اس کی طرف سے دیے گئے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا تو وہ اپنا براہ راست حملوں کا حق استعمال کرے گا۔ جو ایرانی رجیم کے لیے سخت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ جبکہ ایران کی کوشش یہ نظر آتی ہے کہ وہ کوئی واضح یقین دہانی کرائے بغیر زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ اپنے جوہری پروگرام، میزائل پروگرام اور پراکسیز سے متعلقہ امور کے علاوہ اندرونی معاملات کو آہستہ آہستہ سنبھال سکے۔ دونوں فریق باہمی بد اعتمادی کا شکار ہیں اور اس کوشش میں ہیں کہ دونوں طرف سے اعتماد بڑھانے کی کوئی صورت نظر آ جائے۔

فریقین کو ایک دوسرے سے یہ بھی توقع ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کو فیس سیونگ کا موقع دیں اور یہ فیس سیونگ ہر دو صورتوں میں ضروری ہے خواہ یہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں یا ایک دوسرے کو کچھ رعایتیں دینے کی صورت ہوتی ہے۔

دو طرفہ بد اعتمادی کا یہ معاملہ دونوں ملکوں کی اعلیٰ ترین قیادت کی سطح پر پایا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور علی خامنہ ای دونوں ایک دوسرے کے لیے سخت رائے رکھتے ہیں۔ دونوں کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ کس وقت کیا کر گزریں گے۔ دونوں کے پاس فیصلہ سازی کا اختیار ہے اور دونوں ہی جارحانہ مزاج کی شخصیات کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

امریکی انتظامیہ کے درمیان ایران سے معاملات کرنے میں پایا جانے والا اختلاف جو نائب صدر اور وزیر خارجہ کے کیمپوں میں ہے کافی دلچسپ ہے۔ نائب صدر ایران کے بارے میں تحمل اور محدود کارروائی کی حمایت کرتے ہیں جبکہ مارکو روبیو کا موقف یہ ہے کہ ایران اس وقت کمزور پوزیشن میں ہے اور ایرانی رجیم غیر مستحکم ہو چکی ہے۔ مارکو روبیو کو ایرانی ارادوں پر بھی بھروسہ نہیں ہے اور ان کا خیال ہے کہ ایران کسی بھی وقت کوئی بھی ردعمل دے سکتا ہے۔

ٹرمپ اپنی اس خوبی پر خوش ہیں کہ وہ دنیا کو حیران کر دینے والے اقدامات کر سکتے ہیں اور دنیا کو اضطراب کا ماحول پیدا کر کے چکنا رکھ سکتے ہیں کہ ٹرمپ کا فیصلہ اب کیا ہوگا۔ دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای ایرانی نظام پر گہرا کنٹرول رکھتے ہیں۔ ان کا واحد ہتھیار ان کا ردعمل اور انتقام ہے اور وہ اس سلسلے میں کوئی بھی قدم اٹھا سکتے ہیں۔

ایران کے حوالے سے یہ تصور پیش کیا جانا کہ اس کا اختتام قریب ہے اور کھیل ختم ہونے والا ہے ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اس وقت ایرانی رجیم اس احساس کے ساتھ ہے کہ جیسے اسے امریکی رعایتوں کی محدود مذاکرات کی خاطر کچھ یقین دہانی کرا دی گئی ہو۔ جیسا کہ مذاکرات ترکیہ سے اومان منتقل کر دیے گئے ہیں۔

لیکن ایرانی رجیم کے لیے حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی خطرناک ہو سکتی ہے۔ اگر علی خامنہ ای نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھنے میں غلطی کی تو وہ آسانی سے امریکہ کے ممکنہ جال میں پھنس سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اس چیز کے لیے تیار ہیں کہ ایسا معاہدہ یا سمجھوتہ جو بالآخر امریکہ کے مفاد میں ہو وہ کر لیا جائے۔ وہ اس وقت امریکہ کے اندرونی معاملات میں گھرے ہوئے ہیں اور ان کے لیے وسط مدتی انتخابات کی جنگ انتہائی اہم ہے۔

اس لیے اپنے سیاسی و اندرونی اہداف کو پورا کرنے کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ وہ اس کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ جب ضروری ہو تو پیچھے ہٹ جائیں اور پوری ہوشیاری کے ساتھ مذاکرات کرنے کی اپنی صلاحیت کو ثابت کرنے کے لیے بھی وہ ہر وقت تیار رہتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بات کی بھی کوئی پریشانی نہیں ہوتی کہ امریکی مفادات کے لیے پیچھے ہٹنا یا اپنے مؤقف کے برعکس دھوکہ دینے سے امریکی بدنامی ہوگی۔ وہ ہر چیز پر امریکی مفاد کو مقدم رکھنے والی شخصیت ہیں۔ وہ ایسے شخص ہیں جو اپنی غلطی کو تسلیم کر کے اپنے آپ کو کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہتی کہ انہیں کسی بھی طرح کمزوری کو اپنے ساتھ منسوب ہونے دینا پسند نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ کی اب یہ بھی مجبوری ہے کہ وہ ایران کے نزدیک اتنا بڑا فوجی اجتماع کرنے کے بعد ایسے نظر آئیں کہ وہ ایران کے ساتھ نرمی کر رہے ہیں۔ وہ ایران کو نرم الٹی میٹم کے ساتھ خبردار کر رہے ہیں کہ ایرانی رجیم کو امریکی مطالبات تسلیم کرنے میں اپنی ہچکچاہٹ کو طول نہیں دینا ہوگا۔

امریکی صدر ایران کی طرف سے کسی بھی غلط قدم اٹھائے جانے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ایران میں موجود رجیم اپنے کسی بھی غلط فیصلے یا اقدام کے مضمرات کو خوب سمجھ رہی ہو گی اور یہ بھی جانتی ہو گی کہ اس نے امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو اس کے ساتھ آنے والے دنوں میں کیا ہو گا۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں