شام کی معاشی بحالی کے لیے سعودی عرب ایک کلید
شام کے جامع اور پائیدار استحکام کے لیے ایک انتہائی فیصلہ کن عامل محض سیاسی بندوبست ہر گز نہیں ہے۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ شام کی سیاسی بحالی و استحکام اور بہتری کے ساتھ ساتھ معاشی بحالی بھی ازحد ضروری ہے۔ جب سیاسی معاہدات جاری ہوں، اداراتی اصلاحات زیر نظر ہوں اور حکومتی انفراسٹرکچر اہمیت کے حامل ہوں تو بھی معاشرے کو کئی سال کے دوران لگتے رہنے والے زخموں کو ان سب کوششوں سے مرہم نہیں مل سکتا۔ کیونکہ تاریخ بار بار یہ دکھاتی رہی ہے کہ معاشی استحکام کے بغیر سیاسی استحکام دیر پا نہیں ہوتا۔
شام کے لیے بھی معیشت ثانوی اہمیت کی حامل نہیں ہو سکتی۔ معیشت کی اہمیت بنیادی ہے۔ اسی بنیاد پر دوسرے ہر نوع کے استحکام کی عمارت مستحکم انداز میں کھڑی رہ سکتی ہے۔ معاشی بحالی اس لیے بھی مرکزی اہمیت کی حامل ہے کہ اسی کے ذریعے لوگوں کی روزمرہ کی زندگیوں کی تعمیر و خوشحالی ممکن ہوتی ہے۔ معیشت کی بہتری کی بدولت خاندانوں کو روٹی، کپڑا اور مکان کی فراہمی ہوتی ہے۔ عوام کو صحت عامہ کی سہولیات ممکن ہو سکتی ہیں۔ تعلیم کا حصول بھی اسی معاشی سہولت کے باعث ہو سکتا ہے اور اسی کی بدولت کسی ملک کے نوجوان اپنا مستقبل اپنے ملک میں دیکھتے ہیں نہ کہ اپنے ملک سے باہر۔
ایک متحرک معیشت افراد اور قوموں کی عظمت کی بحالی کی علامت ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں شہریوں اور ریاست کے درمیان اعتماد و بھروسے کا تعلق قائم ہوتا ہے۔ اس کے بغیر سیاسی عمل میں یہ اندیشہ موجود رہتا ہے کہ یہ حقیقت سے دور رہے گا۔
رنجشیں اور ناراضگیاں معیشت کے خراب ہونے کی وجہ سے بڑھتی رہتی ہیں۔ اس لیے کہنا چاہیے کہ معیشت استحکام کے لیے انجن کا کام کرتی ہے۔ اسی کی بہتری کی صورت میں پناہ گزینی کا شکار ہونے والے واپس اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں اور پھر سے ان کی زندگیوں میں استحکام و روانی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔
اب بھی رضاکارانہ طور پر ان لاکھوں شامی پناہ گزینوں کی وطن واپسی صرف اسی کی بدولت ہو سکتی ہے، جو ملک میں معاشی غیر یقینی کے تذکرے کرتے ہیں، روزگار کے مسائل پر پریشان رہتے ہیں، اپنے ملک کی معاشی بدحالی کی وجہ سے انہیں وطن واپسی کے بعد بھی بے گھری کا خوف گھیرے رکھتا ہے۔ اسی بنیادی مسئلے کی وجہ سے بنیادی ضرورتیں اور سہولتیں شہریوں کو میسر نہیں آسکتیں۔ ظاہر ہے کہ سیاسی پیش رفت اکیلے میں ایسا کچھ نہیں کر سکتی جو معیشت کی بہتری کے نتیجے میں ممکن ہے۔ لوگ اپنے آپ کو معاشی عدم بہتری میں بار بار اپنی جگہوں اور شہروں سے اکھاڑ کر ضروریات زندگی کے پیچھے بھاگنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
لیکن جب کوئی معیشت بہتر ہو جاتی ہے تو یہ پائیداری و بقا کو ایک واضح اشارہ ہوتی ہے، روزگار کے مواقع بڑھنے لگتے ہیں، تعمیر نو کی کوششیں فروغ پاتی ہیں، منڈیوں میں نظر آنے والی ترغیبات لوٹ آتی ہیں۔ جو لوگ محض پناہ گزینوں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں وہ مہارتیں سیکھنے، بچت و کفایت کرنے پر قادر ہو جاتے ہیں، کاروباری نیٹ ورکس اور تجارتیں پنپنے لگتی ہیں اور یوں معاشی بحالی پہلے سے زیادہ جڑ پکڑتی ہے۔ جس کے نتیجے میں پیداوار اور استحکام دونوں کا ایک سرکل متحرک ہو جاتا ہے۔
مزید مہاجرتیں اور 'برین ڈرین ' رک جاتا ہے۔ معاشی استحکام بلاشبہ لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر دوسرے شہروں اور ملکوں میں جا بسنے سے روک دیتا ہے۔ مگر معاشی کمزوریاں انہی لوگوں کو اکثر اپنے گھر بار کو چھوڑنے اور مواقع کی تلاش میں نکلنے پر مجبور کرتی ہیں۔ یہ انسانی وسائل کا ایک بہتا ہوا نقصان ہے۔ اس کے نتیجے میں ادارے کمزور ہوتے ہیں اور طویل مدتی بحالی پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔
ایک فروغ پاتی معیشت کی وجہ سے لوگ اپنے گھر اور وطن میں بھی مواقع فراہم دیکھتے ہیں۔ آمدنی میں استحکام حاصل کر لیتے ہیں، پیشہ ورانہ ترقی اور اپنے اور اپنے بچوں کے لیے امکانات میں اضافہ محسوس کرتے ہیں تو وہ اپنی توانائیاں ملک کے اندر ہی خرچ کرتے ہیں۔ ہنر مند کارکن، ڈاکٹر، ٹیچرز اور کاروباری لوگ اپنے ملک کی طاقت و صلاحیت کو بڑھانے میں اضافہ کرتے ہیں اور دوسرے ملکوں پر انحصار میں کمی لانے میں مدد کرتے ہیں۔ پیداواری شعبے کو نئی زندگی ملتی ہے، مینوفیکچرنگ کا ماحول بڑھتا ہے، مقامی منڈیوں میں چہل پہل شروع ہوتی ہے۔بلا شبہ یہ سب کچھ معاشی استحکام ہی کی بدولت ممکن ہوتا ہے۔
شام میں جنگ سے پہلے کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر تھا۔ ہلکی صنعت، مینوفیکچرنگ اور تجارت بھی موجود تھی۔ یہ شعبے ایک بار پھر بڑی تعداد میں کارکنوں کی کھپت کا باعث بن سکتے ہیں۔ تاہم لازم ہے کہ اس کے لیے ان شعبوں کو مستحکم کرنے کے لیے معاشی میدان کو بہتر کیا جائے۔
مقامی سطح پر پیداوار ہونے سے درآمدات میں کمی ہوتی ہے، قیمتوں میں استحکام آتا ہے اور خوراک و توانائی میں خودکفالت ممکن ہوجاتی ہے۔ جیسے ہی فیکٹریاں دوبارہ سے کھلتی ہیں اور کھیت پھلتے پھولتے ہیں۔ اشیاء کی رسد کی زنجیریں باہم پھر سے جڑنے لگتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور نقل و حمل کے مواقع بہتر ہونے لگتے ہیں۔ نتیجتا سروسز کے سارے شعبے سرگرم اور فعال نظر آتے ہیں۔
اندرونی معیشت کی یہ گردش تعمیر نو کے لیے ضروری ہے، خود مکتفی معیشت کے لیے کافی ہے۔ بجائے اس کے کہ کسی دوسرے کی امداد پر ہی انحصار کرنا پڑتا رہے۔ سرمایہ کاری، جی ڈی پی اور روزگاروں کی تخلیق، معاشی استحکام، بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے 'گیٹ وے' کا کام کرتے ہیں۔ اسی کی بدولت علاقائی و عالمی سرمایہ کار متوجہ ہوتے ہیں۔ اسی کی بدولت شامی 'ڈائسپورا' بھی شام میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے واپس آئے گا۔
تاہم ان سب کو شام کے حوالے سے مستحکم اطلاعات اور امید نظر آنا ضروری ہے۔ جس میں ادارے اپنا کام کر رہے ہوں، بنیادی اور 'میکرو اکانومی ' میں استحکام آچکا ہو۔ جب یہ علامات اور شرائط پوری ہوتی ہیں تو سرمایہ ان کی طرف بہنے لگتا ہے۔
پیداوار میں اضافے سے دوسرے ملکوں سے درآمدات میں کمی ہو جاتی ہے، قیمتوں میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔ سرمایہ کاری بڑھتی ہے اور روزگار کے لیے مواقع پیدا کرتی ہے۔ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کا باعث بنتی ہے۔ غربت میں کمی آتی ہے۔ صارفین کی قوت خرید بڑھتی ہے۔ ملک میں ٹیکسوں کا امکان پیدا ہوتا ہے اور ٹیکس وصولی بڑھ جاتی ہے۔ ریاست اپنی عوام کے لیے خدمات کا معیار بہتر کرنےلگتی ہے۔
شامی ترقی میں خلیجی ریاستوں کا تذویراتی کردار
بحالی کے آغاز کے لیے دوسرے ملکوں کے سرمایہ کار ایک ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی یہ ناگزیری اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب شامی تعمیر نو اور بحالی کا کام ابھی انتہائی مرحلے میں ہے۔ جبکہ شام کے پاس وسائل انتہائی محدود ہیں۔ شام کے شراکت داروں اور خلیجی ریاستوں میں سعودی عرب کی اہمیت دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس نے شام کی نئی حکومت آنے کے ساتھ ہی اس کی مدد و حمایت اور معاشی بہتری کے لیے ایک منفرد کردار اپنا رکھا ہے۔
خلیجی معشتیں مالیاتی اعتبار سے کافی گنجائش رکھتی ہیں۔ ان کے پاس سرمایہ کاری کی مہارت اور وسیع تجربہ ہے۔ مواصلاتی حوالے سے باہمی رابطوں کے لیے ہر طرح کے وسائل رکھتی ہیں۔ یہ سہولت شام کے لیے پورے علاقے کی منڈیوں تک رسائی آسان بنانے میں معاون ہو گی۔ خلیجی ملکوں کا سیاسی اعتبار سے مستحکم ہونا انہیں اس پوزیشن کا بھی متحمل بناتا ہے کہ وہ شام کے بین الاقوامی سطح پر ربط و ارتباط کو آسان کر دیں۔
سعودی عرب کا معاشی میدان میں قائدانہ کردار
شام میں نئی حکومت کے قیام سے لے کراب تک ایک سال سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے ۔ اس دوران سعودی عرب سب سے اہم اور بامعنی اداکار کے طور پر شام اور اہل شام کی مدد کے لیے موجود ہے۔ مملکت نے شام میں صرف سیاسی امور پر اپنی توجہ نہیں کی بلکہ اس نے عملی طور پر شام کی مالی مدد کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سعودی پالیسی عملی نوعیت کی ہے۔ اس نے معاشی استحکام کے لیے بنیادی اقدامات کی طرف شام کی مدد کی ہے۔ تاکہ مسلمہ مادی ضروریات پر توجہ مرکوز ہو اور عوام کی زندگیوں بہتری ہو سکے۔
ابتدائی مرحلے میں ہی سعودی عرب نے شامی عوام کے لیے ہنگامی اور انسانی بنیادوں پر عوام کی ضروریات کو مد نظر رکھا تاکہ ان کی زندگیوں میں سکھ اور آسانی ممکن ہو۔ جیسے ہی صورتحال پیدا ہوئی سعودی عرب نے اپنی مدد کے دائرہ وسیع کر دیا۔ تاکہ شام میں اداروں کو تباہی سے بچایاجا سکے اور ریاست کو اس کی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مدد دی جا سکے۔
یقینآ اہم ترین عملی قدم شام کی حکومت کو سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے میں مدد دینا تھا۔ تاکہ انتظامیہ اپنی موجودگی کو مثبت طریقے سے منوا سکے اور اس کی رٹ قائم ہو کہ مالی وسائل کے ساتھ ہی ایک حکومت عوام کی خدمت ممکن بنا سکتی ہے۔ اپنےتسلسل کو منوا سکتی ہے اور لوگوں کو تعلیم و صحت کی سہولیات دے سکتی ہے۔ اسی کی بدولت امن و امان قائم ہو سکتا ہے۔ خصوصا ایک کمزور عبوری دور میں۔
استحکام سے سرمایہ کاری کے ذریعے بحالی کی طرف
حال ہی میں سعودی عرب نے اپنی وسیع پیمانے کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کی طرف توجہ کی ہے۔ یہ منصوبہ بندی ہنگامی دور کے استحکام سے آگے بڑھ کر طویل مدتی تعمیر نو کے لیے ہے۔ سرمایہ کاری تذویراتی شعبے کے حوالے سے بھی پیش نظر ہے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ اور ایوی ایشن کے شعبوں کے لیے بھی۔ تاکہ شام کو علاقائی معاشی بلاکس کے ساتھ ارتباط میں آسانی ہو اس کے لیے راہیں کھلیں۔
اس نوعیت کے سرمایہ کاری منصوبے محض کسی معیشت میں سرمایہ بھر دینے سے کہیں زیادہ مفید ہو سکتے ہیں۔ سرما یہ کاری سے انصرام کی مہارت، ریگولیٹری معیارات، منڈی سے متعلق نظم آتا ہے۔ اس سے خود اعتمادی بڑھتی ہے، جبکہ علاقائی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی آگے بڑھ کر سرمایہ لگانے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
مشترکہ مفادات سے علاقائی استحکام کی ترویج
سعودی عرب کی' اپروچ' بڑی واضح ہے کہ شام کی بحالی کو علاقائی استحکام سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ معاشی تباہی بد امنی کو جنم دیتی ہے۔ کرپشن اور دہشت گردی اس کے منطقی نتیجے بن جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ گھوم گھما کر سرحدوں تک پھیل جاتی ہے۔ اس کے بر عکس صورت حال میں شام مستحکم ہوگا، علاقائی تجارت میں کردار ادا کر سکے گا۔ توانائی کے حوالے اپنی سیکیورٹی کو مستحکم کر سکے گا اور سیاسی اعتبار سے توازن کا ذریعہ بنے گا۔
شام کو معاشی حوالے سے مدد دینا اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ سعودی عرب سے متصل ہونے کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے مفاد میں ہے۔ کشیدگی اور تصادم کا سلسلہ اس کے نتیجے میں کمزور پڑے گا اور علاقائی سطح پرتعاون کا فروغ ہو گا۔
اقتصادی معاہدوں کو گہرا کرنے کی اہمیت
شامی حکومت کے لیے سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی معاہدوں کی ضرورت کو اختیاری معاملے یا ایک آپشن کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ شام کی ایک تذویراتی ضرورت ہے۔ یہ ایک قانونی اور باضابطہ ماحول کا متقاضی ہے۔ ایک ایسا تقاضا ہے جسے شام میں مکمل قانونی ماحول دستیاب ہو۔ جو خلیجی ممالک کے خیر مقدم کے لیے موجود ہو ان کے سرمائے کو محفوظ بنائے ۔۔۔ اور شفافیت کا عنصر اس میں یقینی بنائے ۔ تاکہ طویل مدتی سرمایہ کاری اور شراکت داری ممکن رہے۔ سعودی عرب کے سوا محض دوسری خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعاون کا فروغ متنوع قسم کی سرمایہ کاری کا ذریعہ بن سکتا ہے اور کسی ایک اداکار پر انحصار کو کم کرسکتا ہے۔
علاقائی سرمایہ کاری سے عالمی تعلقات کے بندھنوں تک
جب ایک بار اقتصادی بحالی ایک خاص رفتار پکڑ لیتی ہے تو عالمی تعلقات اور معاہدات کا امکان بھی آسان تر ہو جاتا ہے۔ تعلقات کا یہ دائرہ یورپی ممالک سے لے کر بین الاقوامی اداروں تک وسیع ہوگا۔
بین الاقوامی سرمایہ کار عام طور پر اس وقت اپنی انٹری کرتے ہیں جب خطرے اور رسک والے حالات گذر چکے ہوتے ہیں۔ نیز امن ، ترقی اور استحکام کی رفتار بن چکی ہوتی ہے۔ حتی کہ کاروباری منافع صاف نظر آنے لگتا ہے۔
یہ بات تاریخی مثالوں اور واقعات سے بھی ثابت شدہ ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بھی یہی ہوا تھا یورپی تعمیر نو محض سیاسی اعلانات سے شروع نہیں ہو گئی تھی۔ اس کے ساتھ وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری بھی کی گئی تھی۔ اس سرمایہ کاری نے صنعتی بحالی ، انفراسٹرکچر کی بحالی اور تجارتی و معاشی بحالی کے راستے ہموار کیے تھے اور اس کے بعد معاشی یا سیاسی استحکام ممکن ہوا تھا۔ یہی صورت حال شام کے سامنے ہے۔ خلیجی ممالک شام کی عبوری بحالی کو بڑھا سکتےہیں۔
اقتصادی بحالی پائیدار امن کی شاہراہ
اس وقت ہر چیز یہی اشارے دے رہی ہے کہ شام کی بحالی تعمیری سمت میں آگے جارہی ہے۔ لیکن کامیابی کا انحصار ترجیحاتی طور پر معاشی استحکام اور پیداوار پر توجہ دینے سے ہوگا۔
سیاست دروازے کھول سکتی ہے ۔ مگر اقتصادی اقدامات اور بحالیات کی وجہ سے یہ دروازے کھلے رکھے جا سکتے ہیں۔
سعودی عرب کا کردار یہ بتاتا ہے کہ کس طرح علاقائی قیادت اور اقتصادی رابطے و معاہدات بعد از جنگ بحالی کو مستحکم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ کیونکر پائیدار ترقی ممکن ہو سکتی ہے اور کس طرح سرمایہ کاری اور روزگاری سے شامی معیشت کو منسلک کیا جا سکتا ہے۔ کس طرح شامی پیداوار کو بڑھا کر شام سے باہر پورے علاقے تک اس کے ثمرات منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ معاشی بحالی محض کسی پالیسی کا نتیجہ نہیں ہوسکتی۔ بلکہ یہ پائیدار استحکام کے لیے انتہائی موثر راستہ ہے۔