جنگ اور سلامتی کا دھوکہ

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

بڑی بڑی شکستیں اکثر غلط اندازوں کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔ 1967 کی مصر، شام اور اردن کی اسرائیل کے ساتھ جنگ، بیروت پر شیرون کی چڑھائی، 1982 میں 'پی ایل او' کی بے دخلی، 1990 میں کویت پر قبضے کی کوشش کے لیے صدام حسن کی یلغار۔ یہ سب شکست کی کہانیاں ہیں اور سب کے پیچھے غلط اندازوں کی ایک ہی کہانی ہے۔

حتیٰ کہ 7 اکتوبر 2023 کا اسرائیل پر حملہ، جس کے بعد حزب اللہ نے یہ سوچ لیا کہ اسرائیل دو مختلف محاذوں پر لڑائی کا متحمل نہیں ہو سکے گا۔ یہ غلط اندازے حزب اللہ کی اپنی تباہی اور ایران کے اعلیٰ ترین کمانڈروں کی ہلاکت کا باعث بن گئے۔ ان واقعات میں سے کچھ بھی حیران کن ہرگز نہیں تھا۔

نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ساری جنگیں اچانک سامنے آ گئی تھیں، اس لیے اندازے غلط ہو گئے۔ واقعہ یہ ہے کہ ان کے آغاز سے پہلے کشیدگی بڑھی تھی۔ بار بار کے انتباہات سامنے آئے تھے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان سے قبل کی جانے والی فوجی تیاریاں اور نقل و حرکت بھی سب کے سامنے ہو رہی تھیں۔

اس وقت خطے میں جو صورت حال ایران کو درپیش ہے۔ اس بارے میں ایران محتاط انداز میں اپنا رد عمل دے رہا ہے۔ آہستہ آہستہ نئے پرت کھل رہے ہیں۔ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دو دور بھی کر چکا ہے۔

اس تناظر میں عوامی سطح پر جو چیز سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایران کچھ لچک دکھا رہا ہے۔ مگر ایران کی طرف سے ظاہر کی جانے والی یہ لچک انتہائی محدود اور کم ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایران کی طرف سے دکھائی جانے والی لچک کسی بڑے جنگی خطرے کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

ایسا نظر آ رہا ہے کہ ایران نے اس سے قبل امریکی صدر اوباما کے دور صدارت میں ان کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ جوہری پروگرام پر معاہدے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا تھا۔ آج بھی اسی انداز اور رفتار کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران کچھ وقت نکالنے کی کوشش میں ہے اور اس مقصد کے لیے کچھ گاجریں بھی پیش کر دیتا ہے۔

آپ کو یاد ہو گا کہ صدر اوباما کے دور میں ایران نے اس مذاکراتی عمل کو مجموعی طور پر چار سال تک کھینچ لیا تھا۔ دو سال تک امریکہ اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات خفیہ خفیہ کیے گئے تھے اور ان کا آغاز 2012 میں کیا گیا تھا۔ خفیہ مذاکرات کے دو سال مکمل ہونے کے بعد مذاکرات کو ظاہر کرتے ہوئے یورپی یونین کے علاوہ روس اور چین کو بھی ان میں شامل کر لیا گیا تھا۔

اہم بات یہ رہی کہ اسرائیل اور خلیجی ملکوں کو اس مذاکراتی عمل سے خارج رکھا گیا۔ جس کے نتیجے میں ان ممالک میں رد عمل پیدا ہوا، جو کہ فطری سا تھا۔ نتیجتآ اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں شکوک و شبہات گہرے ہوئے کہ انہیں نظر انداز کیا گیا اور اس معاملے سے غیر متعلق سمجھ لیا گیا ہے۔

دو ہزار پندرہ میں ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں شامل ممالک اس معاہدے پر خوش اور پر جوش تھے۔ مگر جلد ہی یہ بات واضح ہو گئی کہ جوہری معاہدہ زیادہ دیر چلنے کا نہیں ہے۔ جیسے ہی اوباما کی مدت صدارت ختم ہوئی اور ٹرمپ وائٹ ہاؤس پہنچے یہ معاہدہ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ کیونکہ یہی اس کا فطری انجام تھا۔

آج خطہ امریکی فوج کی بڑی قوت اور سرگرمی کو دیکھ رہا ہے۔ مقصد مذاکراتی عمل کو طاقت کے بل پر آگے بڑھانا ہے۔ تاہم ابھی اس ساری مشق کا مکمل نتیجہ سامنے نہیں آ سکا ہے۔ بلکہ مذاکرات کا فوکس صرف ایران کے جوہری پروگرام کی طرف ہو کر رہ گیا ہے۔ حالانکہ علاقائی اداکاروں کی امید ہے کہ مذاکرات میں ایرانی بیلسٹک میزائل بنانے اور چلانے کی صلاحیت بھی زیر بحث اور زیر قدغن آنی چاہیے۔ نیز ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کا معاملہ بھی خطے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

اس تناظر میں ایرانی قیادت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ تصور کرنا اس کی غلطی ہو گی کہ واشنگٹن کو مذاکرات میںں صرف جوہری پروگرام تک محدود کرنے کی کوشش یا معاہدہ کر کے اور بدلے میں امریکہ میں کچھ سرمایہ کاری کر دینے سے ایران اپنے اوپر مسلط ہونے والی جنگ سے خود کو بچا لے گا۔ خصوصا اسرائیل کی طرف سے جنگی خطرہ پھر بھی موجود رہے گا۔

کیونکہ اسرائیل ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو اپنے لیے وجودی خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔ لہذا وہ ہر ایسے موقع کی تلاش میں رہے گا جو ایرانی میزائل پروگرام کے خاتمے کے لیے مفید اور کار آمد بن سکے۔ اسرائیل کا یہ ارادہ اس کے بعد بھی جاری رہے خواہ ایران اور امریکہ جوہری ایشو پر معاہدہ طے پا جائے۔

اگر امریکہ نے محض جوہری پروگرام کی حد تک ایران کے ساتھ معاہدہ کر بھی لیا تو اس کا مطلب یہی ہو گا کہ اس نے خطرے اور تصادم کا دروازہ معاہدے کے بعد بھی کھلا چھوڑ دیا ہے۔ لیکن یہ دروازہ کھلا چھوڑے رکھنے کا کوئی بھی عذر مانا نہیں جا سکے گا۔

واقعہ یہ ہے کہ سات اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیل یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ وہ کسی ایسی طاقت کی اپنے اردگرد موجودگی اب برداشت نہیں کرے گا جو اس کے لیے کبھی بھی خطرے کا باعث بن سکتی ہو۔ جیسا کہ اسرائیل ایران کی پراکسیز کو ختم کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ ان پراکسیز میں سر فہرست لبنان کی حزب اللہ ہے۔

ایران ایک عرصے تک حزب اللہ کو اپنے تزویراتی دفاع کے طور پر دیکھ رہا تھا۔ ایران کا خیال تھا کہ حزب اللہ اسرائیلی شہروں کو دھمکانے اور نشانہ بنانے کے لیے کافی قوت رکھتی ہے۔ لیکن جب فیصلہ کن مرحلہ آیا تو ایران بغیر کسی دفاع اور تحفظ کے نظر آیا۔ حتیٰ کہ حزب اللہ کے اپنے سربراہ سمیت کئی سینئیر لیڈر اسرائیل کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ پیجر استعمال کرنے والے ہزاروں حزب اللہ اہلکاروں اور عہدےداروں کو کامیابی سے اسرائیل نے نشانہ بنا لیا۔

یہ اسرائیل کی ایک بے مثال کامیابی تھی۔ نہ صرف یہ بلکہ ایرانی فضائی حدود بھی پہلی بار اسرائیل کے سامنے مکمل طور پر کھلی پڑی نظر آئیں۔ اس کا دفاعی نظام مکمل ناکام نظر آیا اور کئی روز تک ایرانی فضاؤں پر اسرائیلی فضائیہ کا راج دکھائی دیتا رہا۔

لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ فوجی طاقت کا توازن ایران کے حق میں نہیں ہے۔ اس لیے صرف جوہری معاہدے کا ہو جانا بھی ایران کے حق میں کافی نہیں ہوگا۔ حتیٰ کہ محض جوہری معاہدہ خود امریکی انتظامیہ کے حق میں بھی کافی نہیں ہوگا۔ جیسا کہ امریکی انتظامیہ نے اسی ہفتے اشارہ دیا ہے کہ ایران کی طرف سے حالیہ پیشکشیں ناکافی ثابت ہو سکتی ہیں اور ایک بار پھر کشیدگی کی سطح بڑھ سکتی ہے۔

یہ ماحول سکیورٹی سے متعلق ایک دھوکے کا منظر پیش کر رہا ہے۔ یہ سمجھنا کہ اس دوران تصادم نا ممکن ہوگا غلط ہے۔

اکثر یہ ہوتا ہے کہ فیصلہ کرنے والے قائدین تباہ کن غلطیاں کر جاتے ہیں۔ جیسا کہ 2003 میں عراق کے خلاف امریکی فوجی 'بلڈ اپ' کے دوران ہوا تھا۔ امریکی فوج کے چڑھ آنے کے باوجود صدام حسین سمجھ رہے تھے اور اپنی تقریروں میں پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ امریکہ حملے کی ہمت نہیں کرے گا اور اگر کوئی ایسی کوشش کی گئی تو یہ علاقہ امریکہ کے لیے دلدل ثابت ہو گا۔

وہ یہ بھی کہتے رہے کہ اس جنگ کا غیر معمولی خرچہ بھی واشنگٹن کو جنگ اور رجیم تبدیلی کے عمل سے روکے گا۔ لیکن نتیجہ کیا نکلا کہ امریکی افواج بغداد کے محل تک جا پہنچیں۔ بغداد کی حکومت گر گئی اور کہیں سے کوئی بھی روایتی نوعیت کی مزاحمت سامنے نہ آ سکی۔

اب کی بار صدر ٹرمپ بڑی تعداد میں زمینی افواج ایران کے لیے تعینات نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ وہ دور بیٹھ کر اپنی جنگی صلاحیت سے ایران کی تباہی مچانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ایرانی فوجی انفراسٹرکچر کی بربادی کے لیے یہ کافی ہو گا۔

ایرانی رجیم کے لیے دانشمندی کا راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ان اثاثوں کے بارے میں مذاکرات کرے اور اپنے وسیع تر مفاد میں جنگ کو ہر صورت روکنے کی کوشش کرے۔

ہم سمجھ سکتے ہیں کہ موجودہ حالات میں حقیقت پسندانہ فیصلے کرنا کس قدر مشکل ہو سکتے ہیں۔ اس طرح کی حکومتیں عام طور پر بالآخر اپنی پوزیشن بدلتی ہیں اور رعایتیں بھی دینے کو تیار ہو جاتی ہیں۔

حکومتوں کو یہ خوف بھی ہوتا ہے کہ پسپائی کچھ دیگر مضمرات کا گھوڑا دبنے کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ خوف مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ تمام کی تمام آپشنز ہی اس وقت ایران کے لیے بری ہوں لیکن جنگ ان تمام آپشنز میں سب سے زیادہ بری اور سب سے زیادہ تباہ کن ہو گی۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size