ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات

کارنیلیا میئر
کارنیلیا میئر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

ایران کے خلاف جاری امریکی و اسرائیلی جنگ کے اثرات عالمی سطح پر کچھ عرصے کے لیے محسوس ہوتے رہیں گے۔ توانائی کی ترسیل سے متعلق امور میں تعطل اور تاخیر اور نقل و حمل کے لاگتی معاملات سے لے کر تیل، گیس اور بجلی سبھوں کی قیمتوں میں اضافہ فطری ہے۔ جس کا سلسلہ شروع بھی ہو چکا ہے۔

آبنائے ہرمز جو تیل سمیت ہر طرح کی عالمی تجارت اور نقل وحمل کے لیے اہم ہے مگر ان دنوں ایک یہ آبی راستہ کشیدگی کے اثرات سے بری طرح متاثر ہے۔

نتیجتا تیل، ایل این جی، کیمیکلز سے متعلق مصنوعات اور کھادوں کی ترسیل متاثر ہونے کا مطلب ہے کہ عالمی منڈیوں تک اثرات پہنچیں گے۔ جس سے قیمتیں بھی متاثر ہوں گی۔

علاقے میں کشیدگی کے باعث پہلے ہی جہاز رانی اور نقل و حمل کی لاگتوں اور قیمتوں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس صورت حال میں افراط زر کی وجہ سے بھی دنیا کے لوگوں پر دباؤ آئے گا۔

ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ کے آغاز سے ایک روز قبل 27 فروری کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد 103 تھی لیکن بعد ازاں ایران میں پھیلی ہوئی تباہی اور گرد و پیش میں کشیدگی کے باعث 3 مارچ کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز صرف 3 رہ گئے تھے۔ اس لیے اسلامی جمہوریہ ایران اس اہم آبی راہداری کو بند کرے یا نہ کرے یہ صورت حال اب جنم لے چکی ہے۔

اس کشیدگی کے ماحول میں کوئی انشورنس کمپنی بھی جہازوں اور سامان کی انشورنس کرنے کو تیار نہیں ہے۔ امریکی فوج نے محفوظ راستہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم اس وقت امریکی فوج بھی دوسری مصروفیات میں ہے۔

خام تیل کا 20 فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے تاکہ منڈی تک پہنچ سکے۔ اسی طرح ایل این جی کا 20 فیصد بھی اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ اسی طرح کھادوں کی ترسیل کے حوالے سے بھی یہ آبی گزرگاہ 1/3 حصے کی نقل و حمل کا ذریعہ ہے۔

خلیج کا علاقہ دنیا کے ہائیڈرو کاربن پیدا کرنے والے بڑے علاقوں میں سے ایک ہے۔ ان خلیجی ممالک میں ہائیڈروکاربن کی پیداوار کے لیے سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات اور ایران اہم ہیں۔ تیل کی قیمتیں فوری طور پر متاثر ہوگئی ہیں۔

'بلومبرگ' کے ایک معاشی جائزے کے مطابق جب خام تیل کی ترسیل میں 1 فیصد کمی ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس جائزے کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ اگلے دنوں میں خام تیل اس کشیدگی کے باعث 108 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے۔

تیل اور گیس کی قیمتوں میں اس اضافے نے یورپ کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس لیے 2026 کے دوران تیل کی پیداوار اور قیمتوں کے اس اتار چڑھاؤ کی وجہ سے معیشت کی مجموعی حالت کمزور ہوگی۔

تیل پوری دنیا میں خرید و فروخت کی ایک چیز ہے۔ اس کے تجارتی راستوں کی بندش امریکہ کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ افراط زر کی شرح میں 2 فیصد سے زیادہ اضافہ شرح سود میں کمی نہ ہونے کا موجب بنے گی۔

ادھر راستے کی اسی بندش کی وجہ سے قطر کی طرف سے راس لفان میں ایل این جی کی پیداوار بند کی جانے کے باعث عالمی منڈی میں ایل این جی کی 20 فیصد کمی ہو گئی ہے۔ اس کا یورپی گیس مارکیٹ پر منفی اثر پڑا ہے اور یورپ میں گیس کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ اگرچہ عالمی مارکیٹ کے لیے ایل این جی کا 81 ملین میٹرک ٹن قطر پیدا کرتا ہے۔ مگر اس کا زیادہ تر حصہ ایشیا کی مارکیٹوں کے حوالے ہوجاتا ہے۔

ایشیائی ضرورتوں کے لیے ایل این جی کا ایک ٹینکر شروع میں ہی بحر اوقیانوس سے ایشیائی ملکوں کی طرف منتقل کیا جا چکا ہے۔ اس صورت حال میں ایل این جی کی قیمت میں اضافے کو روس کے یوکرین پر حملے سے تقابل کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔

جنوبی اہشیائی ملک بنگلہ دیش اور پاکستان اگرچہ ایل این جی پر بہت انحصار کرتے ہیں۔ مگر پیدا شدہ صورت حال میں خطرہ ہے کہ قیمتوں میں زیادہ اضافہ ہوجانے کی وجہ سے ان دونوں غریب ممالک کو مارکیٹ سے باہر دھکیل دیا جائے گا۔ کیونکہ یورپ کے متمول ممالک مہنگی ایل این جی کی خریداری کے لیے بھی تیار ہیں۔

کم قیمت اور قابل خرید کارگو کم آمدنی والے ملکوں کی در آمد کے لیے دستیاب ہوں گے۔ جیسا کہ یوکرین کے خلاف روسی جنگ شروع ہونے پر ہوا تھا۔

آبنائے ہرمز میں پیدا کشیدگی کی وجہ سے چین کو تیل کی فراہمی بھی متاثر ہوگی۔ اس اہم آبی راہداری سے گزرنے والے تیل کا 38 فیصد حصہ چین کو ہی جاتا ہے۔ باقی تیل ما سوائے 3 فیصد خام تیل کے سارا ایشیائی ملکوں کو ملتا ہے جبکہ صرف تیل یورپی ممالک کو جاتا ہے۔

اب چین ایران سے سستا ملنے والا تیل بھی نہ لے سکے گا۔ اس کی تیل کی درآمد کا 13 فیصد ایران سے آتا ہے۔ تاہم چین نے گزشتہ سال خام تیل زیادہ مقدار میں ذخیرہ کیا۔ اس وقت بھی روسی تیل موجود ہے اور چین کم رعایتی قیمت پر تیل درآمد کر سکتا ہے۔ نیز اقتصادی ترقی کی پیشگوئی کو 5.4 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد تک کر دیا گیا ہے ، یہ تناسب گزشتہ کئی دہائیوں کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔

ہوائی سفر اس سلسلے میں ایک اور رکاوٹ ہے۔ خلیجی ایئرلائنز ، امارات و قطر ایئرویز مسافروں اور مال بردار ٹرانسپورٹ کے لیے اور زیادہ اہمیت کے حامل ہوگئے ہیں۔

اس سلسلے میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ مسافروں کی آمد و رفت کے حوالے سے پہلے نمبر ہے جبکہ مال برداری کے حوالے سے 10ویں نمبر ہے۔ مسافروں کی آمد و رفت کے حوالے سے قطر گیارہویں اور مال برداری کے اعتبار سے آٹھویں نمبر پر ہے۔

خیال رہے طول و عرض کی ہوائی ٹریفک کے اثرات واضح نظر آتے ہیں کہ اسی کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ تاہم خوراک کی قیمتوں اور غذائی تحفظ کے بارے میں ضرور فکر مند ہونا چاہیے۔

موسم بہار جاری ہے اور کسان فصل بونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس موقع پر کھاد کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ کئی علاقوں میں کھاد کی قیمتوں میں 25 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ جس کے نتیجے میں نقل و حمل کے اخراجات کے ساتھ ساتھ افراط زر پر بھی اثر نظر آئے گا اور دنیا بھر کے صارفین کی جیب پر یہ محسوس کیا جائے گا۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ قیمتوں میں اضافہ ترقی پزیر ممالک میں لوگوں کے لیے خوراک کے حصول کو ناقابل برداشت بنا سکتا ہے۔ اسی لیے یہ واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے معاشی اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size