خامنہ ای دوم کا اقتدار پر فائز ہونا

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

ایران میں جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی سابق شاہ ایران کے بیٹے کی اقتدار میں واپسی کی باتیں کافی زور دار طریقے سے شروع ہو گئی ہیں۔ 1970 کی دہائی کے اواخر میں شاہ ایران کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔ تب سے ایران میں مذہبی رہنماؤں کی حکومت چل رہی ہے۔ تاہم اب جنگ کے دنوں میں شاہ ایران کے خاندان کا اقتدار ایران میں بحال کرنے اور ان کے بیٹے شہزادہ رضا پہلوی کو حکومت دینے کے لیے جو حمایت اور کوششیں نظر آرہی ہے ، یہ اس سارے عرصے کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اندازہ بتایا جا رہا ہے کہ ایرانی عوام کی ایک تہائی تعداد شاہی دور کی واپسی کاحامی ہے۔ اگرچہ بعض لوگ یقین رکھتے ہیں کہ پرانا دور واپس لانے کے حق میں پائی جانے والی حقیقی حمایت ایک تہائی سے بھی زیادہ ہے۔ یقینا یہ موجودہ مذہبی نظام کی ناکامی کی وجہ سے ہے۔

اس حمایت کی لہر کے باوجود ایران ایک اور طرح کے موروثی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کا اظہار سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بمباری میں قتل ہونے کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر بنانے کے فیصلے سے ہوا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو آگے لانے سے ویسے ہی نتائج کی توقع ہو سکتی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر بناتے ہوئے دوسرے مذہبی رہنماؤں پر فوقیت دی گئی ہے۔ یہ تقرر بادشاہت نہیں تو کم از کم موروثی حکومت ضرور ہوگی۔ اس میں البتہ ماضی کی خاندانی روایت سے جڑی جائز جانشینی کا پہلو موجود نہیں ہے۔

ہو سکتا ہے اس بحرانی صورت حال سے نکلنے کی کوشش ہو جو اس وقت ایران کو اپنے مذہبی اداروں کی بنیاد پر قائم نظام کو درپیش ہے۔کہ نظام میں کئی ادارے ایک دوسرے کے سامنے موجود ہیں۔ جو اپنے اپنے انداز میں فیصلہ سازی میں کردار رکھتے ہیں۔ کیونکہ ایرانی ریاست بیک وقت کئی اداروں کے ہاتھوں لائی جارہی ہے۔ ان میں ماہرین کی کونسل بھی ہے۔ گارڈینز کونسل بھی ہے۔ اسی طرح کئی اور ادارے اپنی اپنی جگہ موجود ہیں۔ جن میں علماء کی سپریم کونسل بھی شامل ہے۔ اسے کلچرل انقلاب کی کونسل بھی کہا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں فیصلہ سازی کے کئی بااختیار مراکز ہیں۔ ان میں سپریم لیڈر کا دفتر اور سپریم نیشنل کونسل نمایاں ترین ہیں۔ ان کے ساتھ ایک انتہائی بااختیار اور طاقتور فورم پاسداران انقلاب کور کا ہے۔ یہ فیصلوں پر عملدرآمد میں بھی کلیدی کردار رکھنے والا ادارہ ہے۔

یہ اداراتی مجموع بعض دوسرے قانونی فورمز یا اداروں حتیٰ کے عہدے داروں کو بھی کمزور کر دیتے ہیں۔ ان میں ایران کا صدارتی ادارہ اور حکومت بھی شامل ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے ملکوں کو یہ اندازہ ہوا کہ سابق صدور خاتمی، احمدی نژاد اور صدر روحانی وغیرہ دوسری قوتوں کے لیے ایک عوامی چہرے سے قدرے زیادہ اہم ہونے لگے تھے۔ ایک ایسی ریاست میں جو مؤثر بھی ہے اور علاقے کے لیے ممکنہ خطرہ بھی۔

ایران کا یہ اندرونی طاقتی مراکز کا مسابقتی انداز اور اندرونی سیاسی رسوخ کے لیے کوششیں خود جمہوریہ کے لیے بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ خطرات جنگ کی وجہ سے رجیم کو درپیش خطرات کے مقابلے میں کم سنگینی نہیں رکھتے ہیں۔ جیسا کہ ایک دہائی سے بھی کم مدت کے دوران دیکھا گیا ہے کہ اس نظام کے اہم ستون غائب ہوگئے یا انہیں کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ ان میں کروبی اور موسوی بھی شامل ہیں جو گلیوں میں مظاہرین کو لانے کے لیے کردار ادا کرنے پر نظر بند ہیں۔ رفسنجانی ہلاک ہوچکے ہیں، ان کے اہل خانہ کا اصرار کے ساتھ کہنا ہے کہ انہیں زہر دے کر مارا گیا ہے۔ احمدی نژاد جو عوام میں غیر معمولی مقبولیت رکھتے تھے وہ بھی راندہ درگاہ ہوگئے۔ جبکہ ابراہیم رئیسی ہیلی کپٹر کے ایک حادثے کا نشانہ بن گئے۔

ان سے پہلے ابھرتے ہوئے ستارے جنرل قاسم سلیمانی کا بھی قتل ہوا۔ اسی طرح فوجی حکام کی بھی ایک لمبی فہرست ہے۔ ان میں سے کئی پچھلی جنگ کے دوران اور بعد ازاں فارغ کر دیے گئے کچھ جاری جنگ کے دوران نشانہ بن گئے۔

اس تناظر میں نئی موروثی قیادت کا ظہور کیا گیا ہے اور ایرانی اسٹیبلشمنٹ کا کام جاری ہے۔ نیا سپریم لیڈر اسرائیلی بمباری سے بچ گیا تو ہو سکتا ہے ایران اپنے ہاں ولایت فقیہ کے تصور کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے۔ تاکہ نظام میں سپریم لیڈر کی حیثیت کو مزید مرکزیت حاصل ہو سکے۔

بلاشبہ دنیا میں بادشاہت کے بغیر بھی موروثی نظام کی موجودگی اجنبی نہیں ہے۔ شمالی کوریا میں پچھلی سات دہائیوں سے ایک ہی خاندان کے تین ارکان کی حکومت رہی۔ کیوبا میں کاسترو خاندان نے لمبا عرصہ حکومت کی۔ کئی دیگر ملکوں میں بھی خاندانوں کی حکومت کے سالہا سال تک جاری رہنے کی مثالیں ہیں۔

لگتا ہے ایران میں مذہبی اسٹیبلشمنٹ اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ اس کے سامنے کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ اس کو عوام سے کٹ کر رہ جانے کی وجہ سے بھی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس دوران خامنہ ای دوم کا اقتدار سنبھالنا ہو سکتا ہے کہ ایرانی رجیم کو بالکل کنارے سے نیچے گرنے سے بچانے کے لیے ایک رسے کا کام دے دے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہوگا کہ نیا سپریم لیڈر ایک پر امن شہری نظام کا انتخاب کرے۔ کیونکہ موجودہ ایرانی نظام بیک وقت مذہبی بھی ہے اور فوجی بھی۔

یہ عمومی طور پر افواہ موجود ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے مقابلے میں زیادہ شدت پسند ہیں۔ اس لیے خطے کو مزید ہنگامہ خیزی اور افراتفری کے نئے دور کے لیے تیار رہنا پڑ سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ بات محض مفروضہ نہ ہو۔ کیونکہ ہم صرف ان کی سوانح عمری پر بھروسہ نہیں کرسکتے۔ جس میں کئی پہلو معلوم نہیں ہیں کہ ان کی شخصیت کو سمجھا جا سکے۔ خطے کو بھی مجتبیٰ خامنہ ای کے والد سے ایک مختلف سامنا ہے۔ خصوصا پچھلے سال جون کی ایرانی جنگ کے بعد اور موجودہ جاری جنگ کی وجہ سے۔

حقیقت یہ ہے کہ علی خامنہ ای اپنے پیشرو آیت اللہ خمینی کے مقابلے میں خود بھی زیادہ کٹر تھے۔ حالانکہ ان کا دعویٰ اس کے بر عکس تھا۔ یہ علی خامنہ ای ہی تھا جس نے ایران کو جدید دور میں انتہا پسندی کا نظام دیا۔ جس نے پاسداران انقلاب کو توسیع دیتے ہوئے معاشی اور فوجی ادارے اس کے دائرے میں کر دیے۔ نیز اسے ایک پھیلے ہوئے بیرونی نیٹ ورک چلانے کا نظام بنا کر دیا۔ جسے علاقے کی سطح پر ایرانی 'پراکسیز' کا نظام کہا جاتا ہے۔ اسی نطام سے حزب اللہ برآمد ہوئی۔ عراقی ملیشیاؤں نے وجود پایا ، حوثی سامنے لائے گئے۔

واقعہ یہ ہے کہ علی خامنہ ای اپنے پیش رو خمینی سے زیادہ سخت گیر اور کٹر تھے۔ کیونکہ خمینی عراقی صدام حسین کے خلاف جنگ روکنے پر آمادہ ہو گئے تھے۔ لیکن خامنہ ای نے اس کو زہر کا پیالہ پینے کے مترادف قرار دیا تھا۔ یہ ان کی سیاسی حقیقت پسندی کا اظہار تھا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ تمام منصوبوں کے ساتھ آگے بڑھا جائے قطع نظر اس کے وہ اپنے ان منصوبوں کے من چاہے نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہوئے۔ یہاں تک کہ سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کر دیا گیا۔ یہ اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہو گیا۔ علی خامنہ ای نے تصادم کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ حتیٰ کہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف بھی اگرچہ یہ سامنے نظر آرہا تھا کہ امریکی فوج چڑھائی کے لیے تیار کھڑی ہے۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے نقش قدم پر ہی چلے گا۔ دونوں ممکنات موجود ہیں۔ یہ بھی کہ انہوں نے اپنے والد کے ساتھ رہ کر کام کیا ہے۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ مکمل طور پر اپنے والد کا ماڈل آگے نہ بڑھائیں۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جب جاری جنگ نے بالکل مختلف اور نئی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ یہاں تک کہ بدلے ہوئے عوامی جذبات بھی اپنے حقیقی انداز میں آگےبڑھ رہے ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size