ٹرمپ اور ایران جنگ کے بارے میں غلط فہمیاں
اس میں شبہ نہیں کہ 'میک امیرکہ گریٹ اگین' صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بنیادی حلقہ حمایت ہے۔ لیکن ٹرمپ اپنے اس 'میگا' کے غصے کے باوجود اس کی ہر چیز کی پروا نہیں کرتے کہ ان کا یہ طاقتور حلقہ حمایت اور 'بیس' کیا چاہتا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کے بارے میں عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کرتے جو ان کے حلقہ انتخاب کی بنیادی حمایت کو اچھا نہ لگے۔
تاہم انہوں نے جو کچھ غزہ میں کر کے دکھایا، پھر جو طریقہ واردات وینزویلا میں اختیار کیا اور اب جو کچھ انداز انہوں نے ایران کے لیے اپنایا ہے جس سے صاف نظر آرہا ہے کہ وہ اپنے ہی بعض بنیادی اصولوں کے خلاف جانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ لیکن انجام کار وہ کامیاب ہی ٹھہرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟
وہ یہ اس لیے کرتے ہیں کہ محض واشنگٹن کے حکمران نظر نہ آئیں بلکہ کچھ ایسا کر جائیں جو تاریخی نوعیت کا ہو اور انہیں تاریخ میں زندہ رکھے۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی وہ اس مقصد کے تحت کچھ کر چکے ہیں۔ ٹرمپ نہیں چاہتے کہ وہ جمی کارٹر یا باراک اوباما کی طرح کے صدر بن کر رہ جائیں۔
ان کی سوچ اور کردار کے حوالے سے دیکھا جائے تو ممکن ہے تاریخ انہیں امریکہ کے ایک اچھے رہنما کے طور پر یاد رکھے۔ لیکن دنیا انہیں کمزور کارکردگی کے حامل لیڈر کے طور پر دیکھے۔ ایک سوال جو اپنی جگہ موجود ہے وہ یہ ہے کہ کیا واقعی صدر ٹرمپ بین الاقوامی سطح پر مداخلت کی پالیسی اختیار کر کے اپنے 'سب سے پہلے امریکہ' کے اصول کی بھی نفی کر رہے ہیں؟
اس سوال کاجواب دیکھا جائے تو حقیقت اس سوال کے برعکس ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ٹرمپ کی جنگیں استحکام لانے کے لیے ہیں اور استحکام کا لایا جانا امریکی مفاد میں ضروری ہے۔ خصوصا مشرق وسطیٰ اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں تاریخی طور پر استحکام ضروری ہے۔ امریکہ نے نازی ازم کو اس وقت تک نظر انداز کیا تھا جب تک کہ یہ امریکہ پر حملہ آور نہیں ہو گیا تھا۔ دہشت گردی کو بھی امریکہ نے اس وقت تک نظر انداز ہی کیا ہے جب تک دہشت گردی نے اس کے اپنے ٹاورز کو نشانہ نہیں بنالیا تھا۔ ایرانی رجیم کو بھی اس وقت تک نظر انداز ہی کیا گیا جب تک کہ اس نے علاقے کو اپنی ملیشیاؤں اور بحری قزاقوں کے ذریعے غیر مستحکم نہیں بنا لیا۔ واقعہ یہ ہے کہ امریکہ کی ان جنگوں میں کودنے سے گریز اور ہچکچاہٹ کی پالیسی پوری دنیا کے لیے عام طور پر زیادہ افراتفری کا باعث بنتی ہے۔
اس پہلے غلط تصور کے بعد جو دوسرا غلط تصور صدر ٹرمپ کے بارے میں پایا جاتا ہے وہ انہیں امن گر شخصیت کےطور پر دیکھنے کے بجائے انہیں ایک جنگجو شخصیت کے طورپر پیش کرنا ہے۔ اس تناظر میں ہمارے لیے یہ بات بھول جانے کی ہرگز نہیں ہے کہ ٹرمپ کے خلاف تعصب رکھنے والے سیاستدان اور میڈیا والوں کے بعض جتھوں کی طرف سے ان کی مخالفت کی اپنی وجوہات ہیں۔ اسی لیے یہ عناصر صدر ٹرمپ کے خلاف اپنی متعصبانہ مہم کو جاری رکھنے اور دہراتے رہنے کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ تاکہ ٹرمپ اپنے نوبل ایجنڈے کی وجہ سے الزامات کا نشانہ بنتے رہیں۔
ٹرمپ اس اصول پر عمل کرتے ہیں جو امن کے لیے قوت بخش ہے اورتشدد کوکمزور کرتا ہے اور اس کا سد باب کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس لیے وہ ایران کے خلاف برسر جنگ ہیں۔ یہ کام سالہا سال کی پالیسیوں کی وجہ سے نہیں ہو سکا تھا، جووہ اب کررہے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک وقت تو ایسا بھی آگیا تھا کہ ان پالیسیوں کے تحت لیے گئے اقدامات نے ایران کو خطے پر غلبے کی چابیاں ہی پیش کر دی تھیں۔ اگر ٹرمپ ایران کےساتھ جوہری معاہدے کو ختم نہ کرتے تو یہ سب کچھ عملا بھی ہوجانا تھا۔
ٹرمپ کی دلیل یہ ہے کہ پچھلے 47 سال تک ایران کے خلاف بامعنی کارروائی کیے جانے میں ناکام رہنا درست نہیں تھا۔ اسی ناکامی کے سبب بدمعاش رجیم کی جارحیت جاری رہی۔ اب اس بدمعاش ایرانی رجیم کو طاقت سے ختم کرنا ہی امن کا راستہ ہے اس کے بر عکس اختیار کیا گیا راستہ بالکل نہیں۔ جس کے ثبوت ہمارے سامنے موجود ہیں کہ امریکہ اور مغربی ملکوں کے ایران کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے ایران خطے میں مزید افراتفری پھیلانے میں جری ہوتا گیا۔
جنگ کرنا یا فوجی قوت کا استعمال کرنا بلاشبہ آخری آپشن ہی ہو سکتی ہے۔ مگر قیادتوں کو ایسا مجبورا کرنا پڑتا ہے۔ یورپی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جرمن نازیوں کو فوجی طاقت سے شکست دینا ایک اہم موڑ تھا۔ اس اقدام کے نتیجے میں خطرناک توسیع پسند جارح قوت کا خاتمہ ہوا اور یورپ کے لیے استحکام و ترقی کی راہ ہموار ہو سکی۔ اسی کی بدولت یورپی منڈی وجود میں آئی اور بعد ازاں یورپی یونین کی تشکیل ممکن ہوئی۔ صرف یہی نہیں یورپ کی جنگوں سے جان بھی چھوٹ گئی۔ ایک طویل عرصے کے بعد یورپ کو یوکرین کی جاری جنگ کی صورت میں پہلی بڑی جنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جس کا باعث روسی جارحیت بنی ہے۔
ایشیا میں جنگ عظیم دوم میں ہونے والی جاپان کی فوجی شکست نے جاپان کی توسیع پسندی کو بھی روک دیا اور بے مثال قسم کی معاشی گروتھ کا دروازہ کھل گیا۔ بعد ازاں جاپان ایک بڑی اقتصادی قوت بن کر ابھرا۔ پھر 'ایشین ٹائیگر' بن گیا۔
یہ انداز آج مشرق وسطیٰ میں دہرایا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کو کئی دہائیوں سے ایرانی پراکسیز کی وجہ سے بد امنی کے ایک گھن چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ مسلح ' پراکسیز' کا یہ ایرانی رجیم کے چلائے جانے والا ہی منصوبہ ہے۔ ایران کے ساتھ سفارتی ذرائع اختیار کیے گئے۔ معاشی ترغیبات بھی ایران کو دی گئیں۔ مذاکراتی چینلز استعمال کیے گئے۔ لیکن یہ ساری کوششیں ایرانی رویے کو تبدیل نہ کر سکیں۔
جیسا ہم نے کہا ہے ، ایرانی میزائل اور ڈرون خلیجی دارالحکومتوں اور دوسرے شہروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ شہریوں کی ہلاکت کا باعث بن رہے ہیں اور ان ایرانی کارروائیوں سے سویلین انفراسٹرکچر بھی نشانے پر ہے۔ ان ملکوں نے اگرچہ مسلسل جنگ سے گریز کی کوشش کی ہے۔ خلیجی ملکوں کی اس امن پسندی کے مقابلے میں تہران پورے خطے کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ تشدد کی اس لہر نے خلیجی ممالک میں ترقیاتی کاموں میں خلل ڈالا ہے۔ لیکن تشدد پسندی کامیاب نہیں ہو سکے گی۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ توسیع پسندی کے نظریاتی منصوبوں کو معاہدوں کے ذریعے نہیں روکا جا سکتا ہے۔ ان کو ایک واضح اور مکمل شکست سے ہی روکا جا سکتا ہے۔ ان کی اہلیت پر کاری ضرب لگا کر اسے کمزور کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے گردو پیش کو غیر مستحکم کرنے سے باز رہ سکیں۔ یہ وہی طریقہ ہے جس سے یورپ نے نازی جرمنی کو روک دیا تھا۔ جس طرح جاپانی عسکریت کا خاتمہ کیا گیا تھا اور نتیجہ طویل تر استحکام اور ترقی و خوشحالی ممکن ہو گئی۔
آج مشرق وسطیٰ ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ دو آپشنز میں سے کسی ایک کو بہر حال قبول کرنا ہوگا۔ ایران کی قیادت کا بد امنی و عدم استحکام کا یہ منصوبہ پورے علاقے کو ہڑپ کرتا رہے۔ یا پھر دوسری آپشن کے طور پر اس ایرانی منصوبے کا خاتمہ کر دیا جائے۔ یقینا یہ انوکھا منصوبہ نہیں ہے۔ تاریخ میں اس سے پہلے بھی منصوبے تخریب کا ذریعہ بنتے رہے ہیں۔ اس آج کے منصوبے کو ختم کرنے سے ہی یہ خطہ میں تنازعات سے ہمیشہ کے لیے نجات پانے کے بعد استحکام و ترقی کے پائیدار دور کا آغاز ممکن ہو سکے گا۔ جو مشرق وسطیٰ کے سب ملکوں اور ان کے عوام کا جائز حق ہے۔