آبنائے ہرمز میں امریکی جنگ اتحادیوں کے بغیر

کارنیلیا میئر
کارنیلیا میئر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ مزید پھیل رہی ہے۔ ابھی جنگ کا کوئی خاتمہ ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ اسرائیلی و امریکی بمباری نے ایران کے تیل و گیس سے متعلق انفراسٹرکچر کو سخت نقصان پہنچایا ہے جس کے جواب میں ایران نے بھی دھمکی دی ہے کہ وہ توانائی سے متعلق تنصیبات اور دیگر انتہائی حساس انفراسٹرکچر کو پورے خلیج میں نشانہ بنا سکتا ہے۔ چھ خلیجی ممالک میں سے کسی نے بھی امریکہ و اسرائیل سے یہ جنگ شروع کرنے کے لیے نہیں کہا تھا۔ جبکہ وہ ایران و امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مسلسل کام کرتے رہے ہیں۔ تاہم اب ان خلیجی ممالک کی برداشت بھی جواب دے رہی ہے۔

عرب و اسلامی ممالک کے ریاض میں منگل کے روز ہونے والے اجلاس میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسی تناظر میں انتباہ کیا ہے کہ ایرانی حملوں کا جواب دینے کے لیے ہمارے پاس بھی تمام "آپشنز" موجود ہیں۔ خلیجی ممالک کے “انرجی انفراسٹرکچر” کو پہنچنے والے نقصانات گہرے مضمرات کے حامل ہوں گے۔ خلیجی ممالک کی یومیہ پیداوار 90 لاکھ بیرل تیل کی پیداوار بند ہوچکی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس مزید تیل ذخیرہ کرنے کی سہولت باقی نہیں ہے۔

اس بحران کا مرکزی نکتہ آبنائے ہرمز بن گیا ہے جو دنیا بھر میں تیل و گیس سے متعلق ترسیل کے حوالے سے انتہائی اہم ہے اور یہاں سے 20 فیصد تیل کی دنیا کو منتقلی ممکن بنائی جاتی رہی ہے۔ اسی طرح ایل این جی کی ترسیل بھی اسی راستے سے ممکن رہی ہے جو اب رک گئی ہے۔

اگر یہ تباہی مزید پھیلتی ہے تو نائٹروجن گیس سے بننے والی کھادوں کا 30 فیصد بھی متاثر ہوگا جو اسی راستے سے دنیا میں منتقل ہوتا ہے۔ گویا اس علاقے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں صنعتی و زرعی پیداوار پر سخت زد پہنچ رہی ہے۔ عملی طور پر دیکھا جائے تو آبنائے ہرمز کا متبادل آبی راستہ کسی کے پاس موجود نہیں ہے۔

جنگ کے اس موجودہ منظر نامے میں امریکی صدر نے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ ساتھ جاپان، جنوبی کوریا اور چین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنی بحری افواج اور جنگی ہتھیاروں کو آبنائے ہرمز میں بھیجے۔ تاکہ اپنے لیے تیل کی ترسیل کو محفوظ بنانے میں خود کردار ادا کر سکے۔ تاہم ان ملکوں نے ابھی تک امریکی صدر کو مثبت جواب نہیں دیا۔ چند ملک امریکہ کی طرف سے شروع کی گئی اس جنگ کا حصہ بننے کو تیار ہیں اگرچہ انہوں نے یہ جنگ شروع نہیں کی ہے۔

جہاں تک نیٹو اتحادیوں کا تعلق ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نیٹو اتحاد کا آرٹیکل 5 اس امر کا متقاضی نہیں ہے کہ امریکہ کی شروع کردہ اس جنگ میں وہ شامل ہوجائے۔ کیونکہ ان ملکوں کے بقول نیٹو اتحاد دفاعی مقاصد کے لیے ہے جارحانہ ضرورتوں کے لیے نہیں۔ نیٹو کے یہ رکن ملک ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ میں اس لیے بھی کودنا نہیں چاہتے کہ اس جنگ کو اقوام متحدہ کا قانونی کور حاصل نہیں ہے۔ کئی یورپی ملکوں نے اپنے جنگی جہاز اور اہلکار اس نقصان دہ جنگی کھاتے میں بھیجنے کا امکان مسترد کیا ہے۔ البتہ چند ایک نے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی ایرانی بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے آپریشنز کا حصہ بن سکتے ہیں۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے بھی واضح کیا ہے کہ یورپی یونین کا فوکس یوکرین کی جنگ ہی رہے گی۔ جس کے لیے یورپی یونین کے مطابق امریکی دلچسپی و حمایت میں تشویشناک حد تک کمی ہو رہی ہے۔

ایشیا میں جاپان اور جنوبی کوریا پوری طرح ایکسپوز ہوگئے ہیں۔ کیونکہ ان کی 90 فیصد سے زائد تیل کی ضروریات اسی آبنائے ہرمز کے راستے پوری ہوتی ہیں۔ یہ دونوں ملک اپنے پاس خام تیل کے معقول ذخائر محفوظ رکھتے ہیں۔ ایل این جی کے حوالے سے اس دوران مزید مسائل کا سامنا ہے کہ اسے ذخیرہ کرنے کی اہلیت مزید کم ہے۔

جاپان میں ایک مسئلہ ان آئینی رکاوٹوں کا ہے جو بیرون ملک فوج کی تعیناتی کی اجازت نہیں دیتی ہیں۔ لہذا جاپان کو امریکی صدر کی اپیل پر مثبت جواب دینے کے لیے تذویراتی رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ آئینی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ چین کی پوزیشن اس حوالے سے مزید پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ ایرانی حکام نے چینی جھنڈوں والے جہازوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے بلاروک ٹوک گزر سکتے ہیں۔ ایران کا یہ اظہاریہ ثابت کرتا ہے کہ ایران و چین کے درمیان ایک وسیع تر تذویراتی شراکت داری موجود ہے۔ دونوں ملک شنگھائی تعاون تنظیم کے بھی رکن ہیں۔

اس پہلو سے دیکھا جا سکتا ہے کہ بھارت کی کچھ کشتیوں کو کیوں رعایت دی گئی ہے۔ کیونکہ بھارت بھی شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن ہے۔ ان حالات میں یہ غیر حقیقت پسندانہ ہوگا کہ بیجنگ سے یہ توقع کی جائے کہ وہ اپنی فوج ایران کے خلاف تعینات کرے۔

آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کے لیے بحیرہ احمر یوکرین و روس کی جنگ کے دوران بھی غلے کی ترسیل اور برآمدات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کوشش کو اقوام متحدہ کی حمایت حاصل تھی۔ تاہم اس میں نمایاں مشکلات کا سامنا رہا۔ لیکن خلیج میں ایسی صورتحال نہیں ہے کہ بحیرہ احمر جیسے اقدامات کو آبنائے ہرمز میں بھی بروئے کار لایا جا سکے۔

اگر سیاسی خواہش موجود بھی ہو تو آپریشنل چیلنج سنگین تر ہوں گے۔ 1987 کی عراق ایران جنگ کے دوران تقریبا 30 بحری جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز کی حفاظت کی تھی۔ تاہم اس وقت صورتحال اتنی پیچیدہ ہرگز نہیں تھی جتنی آج ہے۔ آج ڈرون طیاروں سے کیے جانے والے حملوں کے علاوہ بارودی سرنگوں کے خطرات بھی موجود ہیں جو آبنائے ہرمز میں کسی بھی جنگی آپریشن کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔

جو ملک اس جنگ میں براہ راست شریک نہیں ہیں انہیں علاقے میں اپنے بحری اثاثے بھیجنے کے لیے فوجی و سیاسی ہر دو طرح کے خطرات کو قبول کرنا ہوگا۔ اس لیے بہت تھوڑے ہی ملکوں نے اس بارے میں مثبت اظہار کیا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size