جزیرہ خارگ: ایرانی مستقبل کو قابو کرنے کا روڈ میپ

رغدہ درغام
رغدہ درغام
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 11 منٹ

ایران کے خلاف جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ لیکن ابھی امریکی فتح کا نشان واضح ہے اور نہ ایران کی مکمل شکست ہو سکی ہے۔ تاہم اگلے دو ہفتے انتہائی اہم اور نازک ہوں گے۔ ان دو ہفتوں کے دوران کئی سرخ لکیریں عبور ہوں گی اور کئی وابستگیاں روندی اور کچلی جائیں گی۔

اس کے علاوہ جنگ کی آنے والی جھڑپیں، تصادم کے واقعات اور ان کے اثرات و مضمرات بڑے واضح ہوں گے۔ نیز جنگ کے خاتمے کے لیے الٹی گنتی بھی شروع ہو جائے گی۔ خوف اور حد سے بڑھا ہوا خوف جنگی اصولوں کے خاتمے سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ اس نازک صورت حال میں مکمل شکست سے فیصلہ کن فتح تک کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔

جزیرہ خارگ میں آنے والے دنوں میں کیا ہوتا ہے اور کون فتح یاب ہوگا اور کون شکست کا سامنا کرے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگی کامیابی کے لیے پختہ عزم کیے ہوئے ہیں۔ وہ ایران کو معاشی، سیاسی، سماجی اور تذویراتی مستقبل کو کنٹرول کرنے کے روڈ میپ کے تناظر سے دیکھتے ہیں۔

اپنے اس روڈ میپ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کو اکیلے بھی اپنی جنگ کو انجام تک پہنچانا پڑا تو وہ اس سے نہیں ہچکچائیں گے۔ ان کے اتحادی ایران کے لیے ریسپانس دینے سے ہچکچا رہے ہیں یا اپنی رفتار کو ٹھنڈا رکھنا چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے نزدیک جزیرہ خارگ پر کنٹرول امریکہ کے لیے نہ صرف فوجی فتح کے حوالے سے ضروری ہے بلکہ معاشی نکتہ نگاہ اور تیل سے متعلقہ مفادات کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ اگر ٹرمپ ایران کو قابو کرنے میں ناکام ہو گئے تو یہ ایران کی بہت بڑی فتح ہوگی۔ جبکہ امریکہ کے لیے اتنی ہی بڑی شکست ہو گی۔ امریکی فوج کے لیے اس تناظر میں ضروری ہے کہ اس جزیرے کو محفوظ کرنے کے لیے فوج زمین پر اترے۔

صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ جس نتیجے پر حتمی طور پر پہنچی ہے وہ خارگ جزیرے پر قبضہ ہے۔ کہ یہ خارگ سے ٹرمپ انتظامیہ کو تیل کی بندوبستی شعبے میں بھی فائدہ ہوگا اور ریاستی انتظامیہ کی عزت و شہرت کے سلسلے میں بھی اہم ہوگا۔ یقینا یہ صورت حال ایرانی رجیم کے خاتمے کا بھی سبب ہوگی۔

امریکی صدر نے اس سلسلے میں دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ ایران پر امریکہ کے کنٹرول کے لیے ایک تذویراتی موقع ہوگا۔ کہ دنیا کے اہم ترین علاقوں میں سے ایک پر امریکہ قابو پا کر اس اہم تذویراتی مقام پر غالب آجائے گا۔ یہ ایک اہم عسکری و تجارتی انفراسٹرکچر پر کنٹرول بھی ہوگا، اقتصادی اہمیت کے حامل علاقے اور راہداری پر بھی اور دوسرے کئی اہم ملکوں پر بالا دستی کا ذریعہ بھی بنے گا۔ حتیٰ کہ اس میں ایران ہی نہیں بلکہ خلیجی ممالک اور عراق بھی امریکہ کے دست نگر ملکوں میں شامل ہوگا۔

ایران پرکنٹرول کی اس شکل کے ممکن ہو جانے کا مطلب صرف ایران پر قابو پا لینا اور اسے اپنے دام میں کر لینا نہیں ہوگا، ایران کے ساتھ ساتھ خلیجی ملکوں اور پورے مشرق وسطیٰ پر اپنے اثرات میں تجدید و اضافے کی ایک نئی شکل میسر آئے گی۔ یقینا اس کا سب سے زیادہ فائدہ امریکہ کو ہوگا کہ ایران اور عرب ملکوں کے علاوہ کئی اہم ملک بھی امریکی بالا دستی کے تابع ہو جائیں گے۔ اسی لیے ایران کی مزاحمت ہے کہ وہ جانتا ہے کہ خارگ جزیرے پر قبضے کی صورت میں پورا خطہ کئی حوالوں سے تبدیل ہو کر رہ جائے گا۔

اس نئے منظر نامے میں ایران میں جو رجیم بھی ہوگی اسے امریکہ کے ساتھ ہی رہنا بسنا ہوگا۔ ایسے امریکہ کے ساتھ جس کی اب خلیج اور مشرق وسطیٰ میں موجودگی پہلے سے بڑھ کر ہوگی۔ امریکہ کی وجہ سے ایران کا اسلامی جمہوریہ ہونے کی شناخت بھی ختم ہوجائے گی اور امریکہ مخالفت کا دھندہ بھی بند ہو جائے گا۔

بدقسمتی سے یورپی طاقتیں امریکہ کی اس تذویراتی بلند نگاہی پر مبنی کارروائی کو سمجھنے سے قاصر رہی ہیں۔ وہ اندازہ ہی نہیں کر سکیں کہ خطے میں کیا ہونے جا رہا ہے اور اس کے اثرات کیا برآمد ہونے والے ہیں۔ البتہ ان یورپی ملکوں نے حالت امن میں اس سے جڑی آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کی بات کی ہے۔ جنگ کے دوران نہیں۔ اس یورپی موقف نے صدر ٹرمپ کو 'نیٹو' کو بھی سزا دینے کی دھمکی پر ابھارا ہے۔ اسی لیے ٹرمپ نے ان کی پیش کشوں کو ٹھکراتے ہوئے اس اہم جنگی مشن کو اکیلے ہی لے کراسرائیل کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ یورپی طاقتوں نے اگرچہ بالآخر کچھ کوششیں کیں کہ اس میں انہیں بھی شامل کر لیا جائے مگر انہوں نے بہت دیر کر دی تھی۔

کیا اب امریکہ کو اکیلے میں اس جزیرے پر قبضہ کر کے اس تیل سے متعلق اہم تذویراتی جزیرے خطے پر اپنی بالادستی قائم کرنی چاہیے۔ کہ آبنائے ہرمز بھی امریکہ کے کنٹرول میں ہو اور تیل کی عالمی منڈی بھی امریکہ کی گرفت میں آ چکی ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ یورپی طاقتوں سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے ان کی ساری توجہ جنگل کے صرف ایک درخت پر رہی اور امریکہ پورے جنگل کی اہمیت کو سمجھ رہا تھا، سارے جنگل کے درخت اور ساری لکڑیاں اس کی صوابدید پر آجانے کا اس نے خواب پورا کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس لیے ٹرمپ نے اس منصوبے کو ناکام نہ ہونے دینے کا فیصلہ کیا اور نہ ہی اپنے اتحادیوں کی ہچکچاہٹ اور تھڑ دلی کے جھانسے میں آنا قبول کیا۔

چین نے ایک محتاط موقف اپناتے ہوئے براہ راست فوجی یا جنگی معاملے میں الجھنے سے خود کو روکے رکھا۔ اگرچہ چین امریکی منصوبے کی سنگینی و پیچیدگی کے سارے پہلوؤں کو سمجھ رہا تھا، کہ امریکہ کس گیم میں ہے اور تیل کی ترسیل کا راستہ ہی امریکی قبضے میں جانے والا ہے۔ آنے والے دنوں میں چین کو آنے والے تیل کی اس 'چوکی' پر بھی امریکی کنٹرول ہوگا۔

اسی دوران ایرانی رجیم جسے سخت تباہی اور ممکنہ حتی کہ خاتمے کا خطرہ ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا یہ 'کیک' اس سے آسانی کے ساتھ چھین کر لے جائے۔ اس کے نتیجے میں آبی راستے پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا راج ہوگا۔ یقینا یہ ایران یا کسی ملک پر امریکی پابندیوں سے کہیں آگے کا منظر ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس ماحول میں ایرانی حکام نے جنگ ایک ہسٹیریائی الجھن کی حالت میں شروع کی۔ ایران نے اس کوفت اور بوکھلاہٹ میں اپنے ہی اتحادیوں کو خطرے میں ڈال دینے اور خود کو تنہا کر دینے کی ایک غلط حکمت عملی اپنا لی۔ اس حکمت عملی کی وجہ سے ایران کے لیے یہ مشکل ہو گیا کہ وہ اپنے پڑوسیوں کا بھی دوبارہ اعتماد حاصل کر سکے۔ تا آنکہ ایران نے ان ممکنہ راستوں اور امکانات کے دروازوں کو بھی اپنے اوپر بند کر لیا جو اسے کسی حد تک بچانے کے لیے کھل سکتے تھے یا تنازعے کو کسی ایسے راستے پر موڑ سکتے تھے کہ ایران کی بھی کچھ بچت ہو جاتی اورکوئی حل نکل سکتا۔

امریکی و اسرائیلی حملے سے ایران بری طرح کمزور ہو چکا ہے۔ اس کی جنگی صلاحیت تقریبا ختم ہو چکی ہے۔ وہ فوجی یلغار کا مقابلہ کرنے کا تاثر اور بھرم بھی جاری رکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو رہا ہے۔ بلاشبہ ایران نے جوابی حملوں میں اپنے پڑوسی ملکوں کی سرخ لکیروں کی پروا کیے بغیر کارروائیاں کی ہیں۔ مگر ان کا ایران کو کچھ حاصل ہونے کے بجائے الٹا نقصان ہی ہوا ہے۔ اگرچہ ایران نے امریکی تنصیبات کے علاوہ شہری انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنانے کا اہتمام کیا۔ حتیٰ کہ گیس، بجلی کی تنصیبات کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی کی سہولیات کو بھی ہدف بنایا۔ خلیجی ملکوں میں سیاحت و معیشت دونوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ رہائشی اور سیاسی اہمیت کی عمارات کو نقصان سے دوچار کرنے کی کوشش کی۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

یہاں تک کہ اپنے سلیپر سیلز کی مدد سے امریکی تنصیبات کے اہداف کو اب بھی نشانہ بنانے کا خطرہ موجود ہے۔ اس سلسلے میں ایران کے نام نہاد 'ڈرٹی بم' سے بھی خطرہ موجود ہے۔ بلاشبہ اس پس منظر میں کافی تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ اسرائیل سے بھی اس کے ساتھ چھوٹی جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ایران کو جواب کا خطرہ موجود ہے۔

جنگ کے تیسرے ہفتے کے اختتام پر یہ سوال زمین پر موجود ہے کیا امریکہ و اسرائیل مکمل طور پر ایرانی میزائل اور ڈرون استعمال کرنے کی صلاحیت کو تباہ کر سکے ہیں یا نہیں۔ کیا ایرانی میزائلوں کی پیداوار اور ڈرون کی تیارے کے مراکز کا خاتمہ ہوا ہے یا نہیں۔ جیسا کہ دونوں طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کور کی پوری کوشش ایران کی میزائل اور ڈرون طیارے تیار کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنے پر لگی ہوئی ہے۔ تاکہ ایران آخری وقت تک لڑنے کی کوشش جاری رکھ سکے۔

اس جائزے کی اہمیت یہ ہے کہ اگر ایران کے میزائل اور ڈرونز سے متعلق ذخائر کو دو تین ہفتوں میں ختم کر دیا گیا ہے تو یہ ایرانی جنگی وسائل اگلے کچھ دنوں تک اسرائیل و ایران کے خلاف بروئے کار رہ پائے تو بھی اگلے چند ہفتوں میں جنگ کا خاتمہ یقینی ہے۔ قطع نظر اس کے کہ پاسداران انقلاب اور حزب اللہ اپنی اپنی جگہوں سے لبنانی خودمختاری کی پرواہ کیے بغیر حملے جاری رکھے۔ یہ حملے جاری رہے بھی تو چند ہفتوں میں جنگ کا خاتمہ یقینی ہے۔

تاہم یہ اپنی جگہ خدشہ موجود ہے کہ کسی واضح قانون، قاعدے کے بغیر یہ جنگی صورتحال بہت خطرناک ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ایسی صورت میں جب پاسداران انقلاب کی فورس کو ایرانی قیادت کی ہلاکتوں کو دیکھنا پڑے گا۔ یہ واقعات جنگ کو مزید گہرا اور فیصلوں کو مزید بے رحمانہ کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کی طرف سے بھی یہی کچھ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایرانی بے رحمی کو مفلوج کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔

اس دوران امریکی حکمت عملی زیادہ اہم اور مربوط فریم ورک کی حامل رہے گی کہ اس کے پیش نظر امریکہ کے طویل مدتی مفادات ہیں۔ لہذا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے کہ وہ اس وقت خارگ جزیرے اور آبنائے ہرمز کے کنارے فتح کے قریب کھڑے ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں