سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کس طرح کامیاب رہے

شہزادہ ترکی الفیصل
شہزادہ ترکی الفیصل
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

اٹھائیس فروری 2026 کو جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا تو ہمارے علاقے میں بہت سی آوازیں اور کئی سوال بھی ابھرے کہ اس کشیدگی کے بارے میں سعودی عرب کیا مؤقف اختیار کرتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ سعودی عرب نے اس سلسلے میں پہلے سے سخت محنت کر کے ایسا اہتمام کرنے کی کوشش کی تھی کہ کشیدگی کو روکے، اسے پھیلنے نہ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مملکت نے سفارتی میدان میں غیر معمولی کوششیں جاری رکھیں۔

لیکن یہ سب کسی شور و ہنگام کے بغیر اور ڈرامائی انداز سے ہٹ کر کیا گیا جاتا رہا۔ نہ ہی اس خونی تصادم سے خطے کو نکالنے کے لیے کوئی بڑی صف بندی اور دھماکہ خیزی کی گئی۔ بلکہ شور کے بغیر عملی اقدامات پر توجہ مرکوز رکھی گئی۔

شاہ عبدالعزیز نے شروع سے ہی مملکت کو اپنے زیر قیادت اس ڈھب پر رکھا کہ اعمال الفاظ سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ تب سے لے کر اب تک مملکت نے اسی اصول کو اپنی پہچان بنایا ہوا ہے۔ یہ اصول اب مملکت کی روایت کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔ جبکہ ادھر ادھر مکھیوں کی بھنبھناہٹ جاری ہوتی ہے مملکت اپنے پورے تحمل پر مبنی نپے تلے انداز میں اپنا کام کر رہی ہوتی ہے۔ پوری توجہ اور احتیاط کے ساتھ سعودی قیادت صورت حال کا جائزہ لیتی ہے اور اپنی آپشنز کو آگے بڑھاتی ہے۔ جس کی شہادت ہمیں عملی طور پر مل رہی ہے۔

جب ایران و دیگر ملک ہماری مملکت کو تباہی کی آگ میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہے تھے تو ہماری قیادت نے اپنے شہریوں کے جان و مال کو بچانے کے لیے خود کو ایک تکلیف دہ اور صبر آزما عمل میں لگائے رکھا، ہر ممکن کوششیں کیں اور سفارتی ذرائع پر فوکس کیا۔ اگرچہ مملکت پڑوسی کی جانب سے پہنچائی جانے والی تکلیفوں کا جواب دینے کی اہلیت رکھتی تھی اور ایران کو سعودی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کا جواب دے سکتی تھی۔ لیکن مملکت نے اس سے ہٹ کر راستہ اختیار کیا جو تباہی کے بجائے سالمیت اور حفاظت کا تھا۔ روایتی انداز میں جواب دینے کی حکمت عملی کا نتیجہ تباہی کا دائرہ بڑھاتا۔ حتیٰ کہ سعودی عرب کے اندر تیل کی تنصیبات سے لے کر ڈی سیلینیشن پلانٹس بھی خطرے میں پڑجاتے اور خلیج عرب کے ساحلوں پر بھی افراتفری مچتی۔

اسرائیل کا منصوبہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کی آگ بڑھانے میں کامیاب ہو چکا تھا، اب اس خطے کو جنگ کی آگ اور تباہی میں جھونکا جانا تھا۔ جس کے نتیجے میں ہم اپنے ہزاروں بیٹوں اور بیٹیوں کو کھو بیٹھتے۔ ایک ایسی جنگ جس میں ہمارا کوئی فائدہ نہیں تھا اس میں کود کر اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کو قربان کرنا قبول نہ کیا گیا۔

اسرائیلی خواہش اور ضرورت کے تحت لڑی جانے والی اس جنگ کا نتیجہ صرف بے گناہوں کی اموات اورتباہی کی شکل میں سامنے نہ آتا بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہوتا کہ علاقے میں ہمیں اپنے گردو پیش میں اسرائیل کی شکل میں ایک ہی اداکار متحرک رہ سکنے کے قابل نظر آتا۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دانش و بینش کے باعث مملکت جنگ کی خوفناکیوں سے محفوظ رہی اور اس کے تباہ کن اثرات سے بچ گئی۔ بلاشبہ مملکت نے پاکستان کے ساتھ مل کر یہ کامیابی حاصل کی۔ اب یہ صورت حال ہے کہ آگ بجھ رہی ہے۔ کشیدگی کو بڑھنے اور پھیلنے سے روکنے میں مدد دی جا رہی ہے۔ امن کی امید پیدا کرنے کے دلائل یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ہمارے پیاروں کی جانوں کی حفاظت اور ان کے مفادات کا تحفظ یقینی ہو گیا ہے۔

جہاں تک جنگ کے حامیوں کا تعلق ہے۔ ان کا غرور اور تکبر بھی جاری ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ ان کے پاؤں تلے سے قالین کھینچ لیا گیا ہے۔
ولی عہد نے ایران کو یہ اجازت نہیں دی کہ وہ خلیجی ملکوں کے بھائیوں کو باہم تقسیم کر سکے۔ ولی عہد اپنے ان بھائیوں کے ساتھ کھڑے رہے اور یکجہت رہے۔ انہیں مملکت کے تجارتی راستے دیے۔ اپنی سڑکیں اور ایئرپورٹس ان کے لیے کھول دیے۔ تاکہ خلیجی ریاستوں کے عوام کو خدمات پیش کی جا سکیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے مملکت کی سالمیت اور حفاظت کے لیے بھی خود کو مستقیم رکھا اور ہر وہ اقدام کیا جو مملکت کی سلامتی اور استحکام کے لیے ضروری تھا۔ اس عزم کے ساتھ کہ مملکت اپنے بھائیوں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر عمل پیرا رہے گی۔

یہی وہ اسلوب ہے جس کے ذریعے امور کو منظم کیا جاتا اور سنبھالا جاتا ہے۔ اسی طرح دور اندیشی بروئے کار رہتی ہے۔ اللہ کے کرم سے ہمارا کارواں رواں دوں ہے۔ زغوغائے سگاں جاری رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہیں ان کی مکمل اونچی آواز میں بھونکنے دیا جائے اور اپنے رقیبوں اور دشمنوں کو غصے میں اپنی ہی انگلیاں کاٹ کھانے کی اجازت دیتے رہیں۔ جیسا کہ مرحوم شہزادہ بدر بن عبد المحسن نے کہا تھا 'اگر وہ ہم پر غراتے ہیں تو بھی ہم ان کی حاسدانہ آوازوں پر کان نہیں دھرتے۔'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size