ٹرمپ کا دورہ چین: ایران ایشو پر امریکہ کو 'گرین سگنل' ملا نہ 'ریڈ کارڈ' دکھایا گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ترمپ اور چین کے صدر شی جنپنگ کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات محض تجارتی و اقتصادی مفاہمت کا ذریعہ نہیں بنی بلکہ اس سے ایک دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان تذویراتی جنگ بندی کے اشارے بھی ملے ہیں۔ یہ ایک ایسی پیش رفت کہی جا سکتی ہے جو ایک مسابقت کا ذریعہ تو ہوگی دھماکہ خیزی کی نہیں۔ نیز یہ ملاقات ایک ایسے بڑے تصادم کو بھی روکنے کی بھی کوشش کہی جا سکتی ہے جس نے پوری عالمی معیشت، بحری گزرگاہوں اور توانائی کی عالمی منڈیوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات کے دوران ایران کی خاموش موجودگی اس طرح تصور کی جا سکتی ہے کہ اس کے جوہری پروگرام سے متعلق فائیلیں نہ صرف موجود تھیں بلکہ آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی خاصا اہم تھا کہ اس کی وجہ سے امریکہ و چین کے درمیان افہام و تفہیم کے امور پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
اس تناظرمیں دیکھا جائے تو چین کے صدر شی نے امریکی صدر کو ایسی کوئی کھلی پیش کش نہیں کی ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران پر فیصلہ کن نوعیت کا تذویراتی دباؤ ڈالیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ چین آج بھی اصولی طور پر پابندیوں، ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کے ارد گرد امریکی فوجکاری کو مسترد کرتا ہے۔ اس تناظر میں چین امریکہ کے 'پراجیکٹ فریڈم پلس' کو بھی دیکھ رہا کہ 'فریڈم پلس' پھیل کر ایرانی بندرگاہوں کو بھی موثر طریقے سے محاصرے میں لے سکتا ہے۔
اس صورت میں پورا علاقہ امریکی فوج کاری کے باعث مشکل میں پڑ جائے گا۔ امریکہ اور اس کے فوجی اتحادیوں کی خطے میں فوجی بالا دستی عالمی تجارت کو اپنے تابع کر لے گی۔
جو امور چین کی اعلان کردہ آپشنز سے بھی زیادہ اہم ہیں وہ یہ ہے کہ چین نے فی الحال کچھ بھی نہ کرنے کی آپشن کا انتخاب کیا ہے۔ یہ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ چین نے امریکہ کو آبنائے ہرمز میں براہ راست چیلنج نہیں کیا ہے۔ نہ ہی چین نے امریکہ کے ساتھ کسی تذویراتی تصادم میں داخل ہونے کا اعلان کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب یا تہران کے آبنائے ہرمز کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کا دفاع کرے۔
البتہ یہ ضرور ہے کہ چین نے امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، بس اسی حد تک رکا رہوا ہے۔ اس نے امریکہ کی طرف سے بحری ناکہ بندی توڑنے کا عندیہ دیا اور نہ ہی ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اپنی قوت آزمائی کا فیصلہ کیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں نقل وحمل کا کس کا حق ہے اور اس سلسلے میں ایران کو ٹریفک کنٹرول کرنے سے روکنے کے لیے کچھ کہا ہے۔
یہ وہ معاملہ ہے، جس سے اس سربراہی ملاقات کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ کہ چین کے موقف میں کوئی انقلابی تبدیلی نہیں ہے۔ مگر چینی ترجیحات میں صراحت ضرور نظر آئی ہے۔ چینی صدر شی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ خود چینی معیشت کا انحصار بھی عالمی تجارت کے استحکام پر ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ بلا تعطل تیل اور توانائی کی ترسیل جاری رہے۔ عالمی تجارت میں کوئی رخنہ نہ آئے۔ آبی راستے کھلے رہیں اور محفوظ رہیں۔ ان آبی راہداریوں میں سب سے اہم آبنائے ہرمز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے حقیقت پسندی برتتے ہوئے کسی بھی ایسے منصوبے یا دھمکی کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی نقل و حمل روکنے کی حمایت کی ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو پاسداران انقلاب کا یرغمال بنانے کی حمایت کی۔ حتیٰ کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں اور ٹینکروں پر فیس عاید کرنے کی ایرانی کوشش کی بھی حمایت نہیں کی ہے۔
چین نے آبنائے ہرمز کے بارے میں جو مؤقف اختیار کر رکھا ہے یہ معروضی طور پر امریکی مقاصد سے ملتی جتی ہے اگرچہ دونوں کی حکمت عملی اور طریقہ کار میں فرق ہے۔
آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکہ اور چین کا مؤقف ایک جیسا ہونا ازخود ہے۔ یہی معاملہ دونوں ملکوں کے ایرانی جوہری ہتھیاروں کے بارے میں ہے کہ دونوں ایک ہی رائے رکھے ہیں۔ صرف امریکہ ہی یہ نہیں چاہتا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ چین کا مؤقف ایک بھی ایک طویل عرصے سے یہی ہے۔
فرق یہ ہے کہ چین ایران کے جوہری سول توانائی کے حق کی مسلسل حمایت کرتا آیا ہے۔ چین کے مؤقف کے مطابق پر امن مقاصد کے لیے ایران کو جوہری پروگرام کا حق حاصل ہے۔ یہ حالیہ ملاقات کے بعد مزید واضح ہو گیا ہے۔ لیکن چین یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے اس تذویراتی اتحادی کے طور پر ایران اپنے دفاع کے لیے امریکہ کے ساتھ ایک بڑے تصادم میں داخل ہو۔
تہران کے لیے یہ پیغام پریشان کر دینے والا ہے۔ کیونکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے تزویراتی تجزیے میں جو مفروضاتی جمع تفریق کر رکھی ہے اس کے مطابق امریکہ و چین کے درمیان بڑھے ہوئے اختلافات بالآخر چین کو ایرانی کیمپ کے لیے کھلی حمایت پر مجبور کر دیں گے۔ لیکن امریکہ و چین کے صدور کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کے بعد منظر میں تبدیلی کے اشارے ہیں۔ دونوں ملکوں نے اپنے وسیع تر اقتصادی، تجارتی و تزویراتی مفادات کو پیش نظر رکھ کر پوزیشنیں اختیار کی ہیں۔ چین کے لیے اپنی یہ پوزیشن ایران سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
جو بات آج ایرانی پاسدارن کے لیے زیادہ پریشانی کا باعث ہے وہ ایرانی ناکہ بندی کی بجائے چین کے لیے شرط لگانے کی بات ہے۔ ایران نے اپنی طویل عرصے سے اختیار کردہ حکمت عملی میں اس بات کو اہمیت دی ہے کہ امریکہ و چین کے درمیان تصادم کا امکان بڑھایا جائے تاکہ بالآخر چین امریکہ کے خلاف ایران کا تزویراتی شراکت دار بنے۔ لیکن اتفاق ہے کہ ایران کی اس حکمت عملی کے برعکس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
صدر شی کی ترجیح یہ نہیں ہے کہ وہ پاسداران انقلاب کی طرف سے امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی کو اہمیت دیں بلکہ ان کی ترجیح چین کی معیشت، عالمی استحکام اور تجارتی جہازوں کا آبی راستوں سے حفاظت کے ساتھ گزرنا ہے۔ چین کی اس سوچ نے ایران کے آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام دونوں سے متعلق ایک مختلف صورتحال پیدا کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے صدر شی سے ملاقات کے بعد یہ واضح طور پر سمجھ لیا ہے کہ چین امریکہ کو ایران کے خلاف ایک کھلا مینڈیٹ دے گا اور نہ ہی چین نے ایران کو امریکہ کے خلاف ایک فوجی شراکت دار بننے کا اشارہ دیا ہے۔ امریکہ کے حوالے سے یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔ ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر نئی امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائیاں شروع کرنے سے پہلے ایران کا معاشی گلا گھونٹنے کی حکمت عملی وسیع کی جا سکتی ہے۔
'پروجیکٹ فریڈم پلس' اس سلسلے میں ایک اہم آپشن کا کام کر سکتا ہے۔ یہ براہ راست دوبارہ جنگ میں جانے کے مقابلے میں کم خرچ اور زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے کہ اس سے ایران اقتصادی اعتبار سے تھک گرنے پر مجبور ہوگا۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ علاقے کو ایک مکمل جنگ میں گھسیٹے بنا اور عالمی منڈیوں کو خطرے میں ڈالے بنا ہی ایران کو شکست دی جا سکے گی۔
یہ آپشن چین کے موجودہ تذویراتی رجحان کے بھی قریب ہے۔ کیونکہ چین خلیج میں بڑی دھماکہ خیزی نہیں چاہتا ہے۔ وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے کر تیل کی منڈیوں کو متاثر کر دے۔ اسی طرح چین امریکہ کو عملی طور پر چیلنج بھی نہیں کرنا چاہتا ہے۔ خصوصا جب آبنائے ہرمز پُرامن انداز سے ہی رواں دواں ہو جائے۔
تاہم چین کا امریکہ کے ساتھ ایران جنگ ایشو پر کوئی باقاعدہ سمجھوتہ بھی طے نہیں ہوا ہے۔ لیکن یہ واضح نظر آتا ہے کہ دونوں ملک مختلف مفادات کو پیش نظر رکھ کر کچھ ضروری نکات کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکے گا، ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول نہیں ہوگا اور کوئی ایسی فوجی دھما چوکڑی نہیں ہوگی جو عالمی معیشت کو نقصان پہنچائے گی۔
نیز یہ بھی کہ ایرانی رجیم کو گرانے کے لیے کوئی فوجی کارروائی بھی نہیں کی جائے گی۔ البتہ دیگر ذرائع سے ایرانی رجیم کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ان تمام باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ و چین کی رقابت ختم ہوگئی ہے۔ وہ دونوں اب بھی ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں اور مسابقت میں ہیں۔
دونوں سربراہوں کی ملاقات سے یہ حاصل سامنے آیا ہے کہ دونوں اپنی روایتی رقابت کو اس طرح کنٹرول میں رکھیں گی کہ کوئی بڑا عالمی دھماکہ نہ ہو خصوصا معاشی و اقتصادی شعبے میں کوئی خوفناک صورتحال پیدا نہ ہوجائے۔ اس تناظر میں افواج کو بھی بہت حساس طریقے سے دیکھا جائے گا۔
خلیج عرب کی ریاستیں اس تبدیل شدہ منظر کو بڑے غور سے دیکھ رہی ہیں۔ وہ ایران اور چین کے درمیان مقابلتا افہام کا ماحول دیکھ رہی ہیں۔ جو کسی بڑی جنگ کے خطرے کو کم کر سکتا ہے اور علاقے میں استحکام کے ساتھ ساتھ توانائی اور تجارت دونوں پر مثبت اثر ہوگا۔ اسی دوران یہ عرب ممالک سمجھتے ہیں کہ بڑی طاقتوں میں افہام و تفہیم بعض اوقات چھوٹے اتحادیوں کے لیے ایک مہنگا معاملہ بن سکتا ہے۔ کیونکہ دونوں کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھنا ایک انتہائی نازک معاملہ بن جاتا ہے۔
یورپ بھی امریکہ و چین کے درمیان اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہوگا۔ جبکہ یورپیئنز کو یہ خوف بھی ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے دائرے سے باہر نکلتے جا رہے ہیں۔ تہران میں اس پیش رفت کا پیغام بڑا سخت ہے۔ خصوصاً پاسداران انقلاب کے لیے کہ چین انہیں کسی تزویراتی تصادم میں ملوث ہوتا نظر نہیں آرہا اور ایران کے دفاع کے لیے بھی چین کوئی اشارہ نہیں دے رہا۔ بلکہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی امریکہ و چین باہم نسبتا زیادہ قریب ہیں۔
چین کی ترجیح استحکام ہے اور وہ معیشت و توانائی کے شعبے میں کوئی اضمحلال نہیں چاہتا۔ نہ ہی وہ کسی نظریاتی معاملے میں کسی پراکسی کی بنیاد پر مہم جوئی کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ اس تناظر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے آنے والا مرحلہ زیادہ نازک اور حساس ہے۔ ایران کو اب ایک ایسی امریکی انتظامیہ کا سامنا ہوگا جو کسی بڑی جنگ کی بجائے اس کے مقابل کے طور پر بحری ناکہ بندی کو شدید کر سکتی ہے۔ ایران کو اب اس کے ساتھ ایک چینی شراکت دار کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ جو ایک طرف ایران کو چھوڑنے کے لیے تیار ہے نہ امریکہ کو چیلنج کرنے کو تیار ہے۔
بالفاظ دیگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ چین کے صدر شی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف کارروائیوں میں وسعت کے لیے کوئی 'گرین سگنل' دیا ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی سخت کرنے کے خلاف امریکہ کو کوئی 'ریڈ کارڈ' دکھایا ہے۔