خلیجی ریاستیں اور آبنائے ہرمز کی ایران حوالگی
آبنائے ہرمز کھولی جا چکی ہے۔ ایران نے اس میں ایک 'پولیس مین' کے انداز میں کام شروع کر دیا ہے اور جہاز رانی کو کنٹرول کر رہا ہے۔ جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایک فیس کے مقرر کرنے کی بھی بات کر رہا ہے۔ البتہ وائٹ ہاؤس اس کی تردید کرتا ہے۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ ایسا کوئی 'ٹول' عاید نہیں ہو رہا ہے جس کا دعویٰ یا وعدہ ایران کر رہا ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ امریکہ یہ دھمکی بھی دیتا ہے کہ وہ امریکی واپس پلٹ آئیں گے جو خلیج کے ساتھ ہی لنگر انداز ہیں۔
اس تناظر میں یہ لگتا ہے کہ دونوں فریقوں میں سے کوئی ایک سچ نہیں بول رہا ہے۔ یا صورت حال یہ ہے کہ ہم اس معاملے میں معاہدے کی مختلف تعبیرات کی وجہ سے ابہام کا شکار ہو رہے ہیں۔
اگر ایران آبنائے ہرمز سے ٹول کی صورت میں ایک ڈالر بھی وصول نہیں کرتا، تو بھی اس کا محض سیاسی کنٹرول بھی اس کے خطرناک سیاسی اختیار کا باعث بنے گا۔ کیونکہ ایران کا اولین ہدف خیلج پر ایسا کنٹرول حاصل کرنا ہے کہ ایران کو یہ فیصلہ سازی کا حق مل جائے کہ اس نے کس آئل ٹینکر کو گزرنے دینا اور کس کو روک دینا ہے۔
یہ معاملہ بعد ازاں علاقے کے تمام ملکوں میں کس طرح 'ٹرانسلیٹ' کیا جاتا ہے اور تیل یا دیگر اشیاء درآمد کرنے والے ممالک اس کی کیا تعبیر کرتے ہیں۔ اس کا تعلق اس اختیار سے ہو جائے گا جو ایرانی بحریہ کے حکام کا کسی کا راستہ روکنے یا کسی کا راستہ بند کرنے کے لیے ہو گا۔
یہ اس وقت بروئے کا نظر آئے گا جب ایران کا کسی خلیجی ملک کے ساتھ کوئی تنازعہ کھڑا ہو گا اور جب ایران کسی خلیجی ملک کو مختلف طریقوں بلکہ حیلوں بہانوں سے مذکورہ خلیجی ریاست کو برآمدات سے روکنا چاہے گا۔ یہ بھی ایران کر سکتا ہے کہ یورپ اور ایشیا سے تعلق رکھنے والے ملکوں کو سزا دینے کے لیے ان کی درآمدات میں خلل پیدا کرے اور ان کے مال بردار جہازوں کو روک دے۔
ایران کے ہاتھوں آبنائے ہرمز کا یہ استعمال دراصل خلیجی ملکوں پر اپنی پالیسیاں مسلط کرنے اور جب چاہا انہیں سزا دینے کے لیے ہو گا۔ مزید یہ کہ ایران گزرنے والے جہازوں پر لیوی نما ٹیکس عاید کرے گا۔ تہران کے رویے سے دہائیوں سے لوگ آگاہ ہیں کہ وہ ان ملکوں سے لوگوں کو گلیوں سے بھی اٹھوا لیتا ہے جن کے ساتھ اس کے تنازعات ہوتے ہیں۔ پھر ان اغوا کردہ افراد پر من پسند الزامات لگاتا ہے۔ تاکہ ان کی حکومتوں پر دباؤ ڈال سکے اور بدلے میں ان سے رعائتیں حاصل کر سکے۔ عراق اور لبنان میں اپنی ملیشیاؤں کے ذریعے اس کی یہ معمول کی پریکٹس ہے۔
اس تناظر میں جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ایران کا وعدہ ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں کوئی فیس عاید نہیں کرے گا۔ تو یہ سچ ہو سکتا ہے۔ مگر ایرانی ارادوں کی حقیقیت کا انکار نہیں بن سکتا۔ کہ ایران آبنائے ہرمز کے مکمل کنٹرول کی خواہش رکھتا ہے اور یہ مکمل کنٹرول آمدورفت پر ٹکٹ لگائے بغیر ممکن نہیں بنا سکتا۔
واقعہ یہ ہے کہ سیاسی بالادستی مالی مداخلت سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔ سلطنت آف عمان کا متوازی راہداری کا اعلان ایرانی قیادت کے لیے ایک ٹیسٹ تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ لمبا عرصہ نہ چل سکے کہ کسی فوجی مزاحمت یا قوت کی عدم موجودگی میں یہ بات نہیں چل سکتی ہے۔
اس پس منظر میں آبنائے ہرمز کے کھلنے سے متعلق تنازعہ درحقیقت خلیج کے مستقبل کے تعین کا سبب بنے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ خلیجی ممالک یا دوسرے ملک جو کسی بھی طرح آبنائے ہرمز میں پیدا شدہ صورت حال سے متاثر ہو سکتے ہیں عالمی رائے عامہ کو اس سلسلے میں متحرک کرنے کے لیے وہ کچھ کر رہے ہیں جو انہیں کرنا چاہیے۔ تاکہ اس خطرے کو روکنے کے لیے کچھ کریں جو خطے میں سیاسی مضمرات کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔ علاقائی سلامتی کے لیے اہم ہو سکتی ہے اور اسی طرح سالہا سال کے لیے خطے سے برآمدات پر اثر انداز ہونے والی ہو سکتی ہے؟
یہ آبنائے ہرمز کی بندش ہی تھی جس نے صدر ٹرمپ کو ایران کی طرف مذاکرات کے لیے دھکیل دیا اور ٹرمپ کو عجلت میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ایسی مفاہمتی یادداشت جس میں ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جیسا کہ ایران کے لیے ٹرمپ نے کہا کہ وہ فوجی میدان میں جنگ ہار گیا مگر مذاکرات کے لمحے تک پہنچنے کے لیے نقصان برداشت کرتا رہا۔
جنیوا مذاکرات کے پیچھے کیا تھا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بارے میں اپنے اس خوف کے اظہار کے ساتھ سچ بول دیا ہے۔ معیشت نیچے کی طرف جا سکتی تھی۔ کیونکہ افراط زر کے بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ امریکہ کے تیل کے حوالے سے تزویراتی ذخائر جو 415 ملین بیرل تک تھے اب صرف بیس فیصد بلکہ اس سے بھی کم رہ گئے تھے۔ یہ امریکہ کے لیے انتہائی تشویشناک مرحلہ تھا۔ کیونکہ تیل کے موجود ذخائر کی اس طرح کی حالت امریکی تاریخ میں ایک بار 1983میں آئی تھی۔
اس لیے امریکی صدر کو فیصلہ کرنا تھا کہ وہ اپنی صدارت کو درپیش خطرے کو دیکھیں یا اپنی جماعت ری پبلکن پارٹی کے وسط مدتی انتخاب میں بنتے بگڑتے مستقبل کا خیال کریں۔ لہذا وہ محمد باقر قالیباف کی طرف معاہدے کے لیے لپکے جو نئی ایرانی قیادت کے نمائندے تھے۔
ایران نے امریکہ کی معاہدہ کرنے کے لیے اس بے قراری کو پا لیا تھا۔ یوں ایران نے اپنی شرائط کے ساتھ پیش کش کی۔ ان شرائط میں آبنائے ہرمز کی انتظام و انصرام کی شرط بھی شامل تھی۔
اس صورت حال میں ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے ایرانی جوہری پروگرام پر فوکس کرنا بہتر جانا۔ یہ معاملہ امریکی انتظامیہ کے لیے ترجیح اول تھی۔ کہ اس کے لیے امریکہ کو خواہ کتنی ہی قیمت دوسری رعائتیوں کی شکل میں ادا کرنا پڑتی۔
یہ بھی اہم بات ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کا توڑ کرنے کے لیے بحری ناکہ بندی کا اقدام مؤثر رہا اور اس نے ایران کو بھی مذاکرات کی طرف آنے پر مجبور کیا۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان جنہوں نے پاکستان کا دورہ کر کے ثالثی کے لیے پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات نہ ہوتے تو ان کا ملک تباہی کے دھانے پر تھا۔
صدر ٹرمپ کی مذاکراتی ٹیم نے اسلام آباد جا کر مذاکرات کیے اور مطالبہ کیا کہ ایران اپنا جوہری پروگرام روکے، افزودہ کی گئی یورینیم حوالے کرے، آبنائے ہرمز کو کھولے اور اپنی ملیشیاؤں کا سلسلہ بند کرے۔ اب جبکہ جنیوا میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں تو یہ سامنے آیا ہے کہ ایران اور اس کی اتحادی حزب اللہ کے خلاف جارحیت روکی جائے ۔ ایران کے منجمد کیے گئے فنڈز اس تک پہنچنے دیے جائیں اور ایران کے لیے ایک ریلیف فنڈ قائم کیا جائے۔
ایران کے لیے یہ 'تحائف' اس کے باوجود ہیں کہ ایرانی حکومت ابھی پچھلے ماہ تک ملبے کے نیچے دبی پڑی تھی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اعتماد سازی کی غرض سے کیا گیا ہے۔ البتہ جب حتمی معاہدہ کیا جائے گا تو اس میں ایک متوازن اور معقول اپروچ ہو گی۔ جو ایران و امریکہ اور علاقے کے لیے رعائتوں کے حوالے سے یکساں ہو گا۔
جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سے ایران کی طرف سے ایک ایسے غیر معمولی پر اعتمادی کا اظہار ہے جو کان کھڑے کرنے والا ہے۔ وہ دھمکیوں اور دباؤ کے لہجے میں بات کر رہا ہے۔ یہ ایرانی انداز امریکہ کی جانب سے پیش کردہ اور نظر آنے والے 'تحائف' سے ہر گز مطابقت رکھنے والا نہیں ہے۔ حتیٰ کہ آبنائے ہرمز کے کھلنے کے ساتھ یہ شرط بھی مان لی گئی کہ وہ گزرنے والے جہازوں سے پوچھ گچھ کر سکے گا۔ انہیں اپنا ڈیٹا شیئر کرنا ہوگا اور منظوری کا انتظار کرنا ہوگا۔ اسے رعایت دینا نہیں کہا جائے گا بلکہ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے نئے قواعد قرار دیا جائے گا۔