جنگ بندی یا محض دم لینے کی کوشش
ستر سال پہلے سے بھی کچھ زیادہ عرصے کی بات ہے جب بظاہر لڑائی کے خاتمے کے لیے 1953 میں ایک معاہدہ کیا گیا تھا۔ لیکن ستر سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی آج یہی لگتا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں جنگ کا خاتمہ نہیں ہو گیا تھا۔ بلکہ اس جنگ میں ایک تعطل یا رکاوٹ پیدا ہو گئی۔
ہاں یہ ہو گیا کہ دونوں کے درمیان ایک غیر فوجی نوعیت کا بفر زون قائم کر دیا گیا۔ مگر تنازعے کی اصل جڑ کو نہیں کاٹا جا سکا۔ جو حقیقی طور پر قیام امن کے لیے ضروری تھا۔ صرف جنگ کو التواء میں رکھنے یا جنگ کو بعد میں کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھنے کا اہتمام ہی کیا جا سکا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج کے دن تک صورت حال میں کوئی بامعنی تبدیلی نہیں آ سکی۔ بلکہ صورت حال جوں کی توں ہے۔
یہ ایک اشارہ ہے کہ سیاست میں جہاں کہیں بھی جنگ بندی کی صورت بنتی ہے تو مکمل امن نہیں ہوتی۔ البتہ امن کا ایک آغاز ہو سکتی ہے۔ جنگ بندی کا لازمی مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ اس سے جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ امن صرف اسی وقت شروع ہوتا ہے جب تمام فریق یہ محسوس کرنے لگیں کہ دو طرفہ اعتماد پایا جاتا ہے۔ اس طرح کی تاریخ کئی مثالیں پیش کرتی ہے کہ بہت سی جنگیں محض فائرنگ اور گولہ باری روکنے سے نہیں رک پاتیں۔ بلکہ جنگیں صرف اس وقت رکتی ہیں جب فریقین کو یہ یقین ہو جائے کہ جنگی اخراجات اور جنگ کے باعث نقصانات ان ممکنہ فوائد کے مقابلے کہیں زیادہ ہو رہے ہیں۔ جن فوائد کی امید کی بنیاد پر جنگ شروع کی گئی تھی۔ یہی وہ احساس ہوتا ہے جو اعتماد سازی اور امن کاری کی طرف بڑھنے کا باعث بنتا ہے۔ اس کے بغیر جو بھی شکل ہوتی ہے وہ مکمل جنگ بندی کی نہیں بلکہ جاری جنگ میں کسی وقفے کی ایسی تلاش کے ہم معنی ہوتی ہے جو کسی ایک یا دونوں فریقوں کو ذرا دم لینے کا موقع فراہم کر سکے یا جنگ کے لیے تازہ دم ہونے کا ذریعہ بن سکے۔
اس وجہ سے بہت سوں کا یہ پختہ یقین رہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو جانا قطعا اس امر کا اعلان نہیں ہے کہ جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔ بلکہ جب اس جنگ بندی کے قریب پہنچے تو اس سے پہلے ایران بھاری نقصانات اور بڑی تباہی کی وجہ سے غیر معمولی طور پر دباؤ میں تھا۔ سب سے بڑا اور نمایاں نقصان جو ایران کو برداشت کرنا پڑا اس کی اعلیٰ ترین قیادت کا جانی نقصان تھا۔ اسی جانی نقصان میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا جاں بحق ہونا رہا۔ علی خامنہ ای کے علاوہ بھی کئی اہم ترین قائدین قتل ہوئے۔ امریکہ اور اسرائیل نے اس جنگ میں رجیم تبدیلی کے لیے ایک طریقہ یہ بھی اختیار کیا تھا۔ ایرانی قائدین کی ہلاکت کے علاوہ عام لوگوں کا بھی ایران کو بھاری تعداد میں نقصان برداشت کرنا پڑا۔
سول انفراسٹرکچر سے لے کر جوہری تنصیبات تک ایران کو ہر شعبے میں تباہی دیکھنا پڑی۔ ایرانی معیشت بھی بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے دردناک صورت حال سے گزری ہے۔ ان حالات میں ایران کے لیے ضروری تھا کہ کسی ایسے معاہدے کی شکل بنے اور کچھ دیر کے لیے جنگ بندی ہو جائے۔ اسے جنگ بندی اس لیے ہرگز نہیں چاہیے تھی وہ اپنے جوہری یا پراکسی کے منصوبے ختم کرنے کو تیار تھا۔ بلکہ وہ انہی منصوبوں کو جس قدر بچا سکتا تھا بچانا چاہتا تھا۔ دوسرے فریق نے اس جنگ بندی کے دورانیے کو ایران کے ساتھ اعتماد سازی کے پراسس اور جائزے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔
جلدی میں جس مفاہمتی یادداشت پر فریقین نے دستخط کیے تھے۔ چند ہفتوں بعد ہی اندازہ ہو گیا کہ ایرانی رویے میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکی۔ اس مفاہمتی یادداشت کے ذریعے کشیدگی کی رفتار کو تو ایران تدیل کرنا چاہتا تھا مگر ایرانی رجیم کی سوچ کو تبدیل کرنا ہر گز نہیں چاہتا تھا۔ یہ بات مقتول سپریم لیڈر کے جنازے کے لیے سڑکوں پر آنے والی ریلیوں اور جلوسوں کے ماحول سے بھی ظاہر کی گئی۔ گویا خامنہ ای کے جنازے کو بھی ایران نے انہی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ بجائے اس کے کہ اس موقع کو جنگی کشیدگی کے کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا اور دوسرے فریق کو ایک امن چاہنے کی یقین دہانی کے لیے ایک اچھا پیغام دینے کا ذریعہ بنایا جاتا۔
خامنہ ای کے جنازے کے اجتماعات کو روایتی انقلابی اور مزاحمتی سیاست کے مقاصد کے اظہار اور انقلابی بیانیے کے فروغ کا ذریعہ بنا لیا گیا۔ انتقام انتقام کے نعرے لگائے۔ ایسے بینر لہرائے گئے جو روایتی امریکہ مخالفت کے مظہر تھے۔ سرکاری حکام کا لہجہ اور زبان تصادم اور ٹکراؤ کا اظہاریہ بنے رہے۔ یوں واضح پیغام دیا گیا کہ تہران کے حکومتی اداروں کی سوچ اور عمل میں کوئی تبدیلی ہے نہ جنگ بندی کے کوئی حقیقی معنی۔ ہاں ایک لمبے تصادم کے دوران ایک مختصر اور عارضی جنگی وقفے کی کوشش ضرور تھی۔
بعد ازاں ایران نے خلیج عرب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا کر عالمی معیشت کے لیے خطرہ پیدا کیا تاکہ امریکہ کو زیر دباؤ لا سکے۔ اس کے ساتھ ہی 'فالو اپ' کی صورت میں باب المندب کو بھی بند کر دینے کی دھمکیاں شروع ہو گئیں۔ یہ سب ایران کی اس اپروچ کا اظہار تھا کہ وہ ان آبی گزرگاہوں کی جہاز رانی کے لیے اہمیت سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ان کو کس قدر اہم سمجھتے ہوئے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ ایک جانب حوثی سعودی عرب میں ایئر پورٹس اور بحیرہ عرب کے پانیوں میں سعودی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش میں تھے۔ بلکہ یہ واقعات اسلحہ لے کر یمن آنے والے ایرانی جہاز کو روکنے کے بعد ہو رہے تھے۔ ایران کی جانب سے بھیجے جانے والے اس اسلحے کا مقصد یمنی حوثیوں کو مضبوط کرنا اور ان کی جنگی صلاحیت بڑھانا تھا۔
یہ ایک واضح علامت تھی کہ ایران آبنائے ہرمز کی طرح باب المندب کو بھی بند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ صنعاء کے لیے ایرانی پروازوں کا پھر سے شروع ہونا بھی ایک ایسا ہی پیغام تھا کہ ایران علاقے میں اپنے اثر رسوخ کو نمایاں کر کے بتا سکے۔ اپنا یہ اثر رسوخ مذاکراتی میز پر محض سودا بازی کرنے کے لیے نہیں تھا۔ اس سے زیادہ کی کوشش تھی۔
اس سارے عرصے میں ایران نے اپنے پڑوسی عربوں کو جنگ بندی سے لے کر اب تک نشانہ بنانا نہیں چھوڑا ہے۔ اس کا رویہ خطے میں اعتماد سازی یا شراکت داری کے فروغ کے لیے نہیں ہے۔ وہ علاقے میں اپنا اثر بڑھانے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ سعودی عرب، خلیجی ممالک، اردن، شام وغیرہ کو مسلسل حملوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ دیکھے یا سمجھے بغیر کہ یہ ملک اس کے پڑوسی اور کئی معاملوں میں شراکت دار ہیں۔ وہ ان پڑوسی ملکوں کو اپے زیر اثر میدان کے طور پر دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔ اس لیے ایران کے نزدیک اعتماد سازی کی بات چیت اس وقت تک کم قدر و قیمت کی حامل رہے گی جب تک ایرانی رجیم اپنی سوچ تبدیل نہیں کرتی اور خطے میں اپنی طاقت بڑھانے اور دوسرے ملکوں کی خود مختاری کا احترام کرنے کی طرف نہیں آتی۔
اس وجہ سے امریکہ کے ایران کے خلاف حملوں کا پھر سے شروع ہونا حیران کن نہیں ہے۔ کیونکہ بحران کی جڑ باقی ہے اسے تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ جنگ بندی کے بعد تکنیکی نوعیت کی کچھ چیزوں کو دیکھا گیا مگر اصل اور بنیادی ایشوز وہیں کھڑے ہیں۔ ان میں ایران کا جوہری پروگرام بھی شامل ہے۔ میزائل پروگرام بھی اور خطے میں ایرانی 'پراکسیز' کا معاملہ بھی ابھی طے نہیں ہو پایا۔ کسی بھی مسئلے کی جڑوں کو ختم کیے بغیر قیام امن بھی ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس طریقے سے اگلے بحران کو محض کچھ دیر کے لیے ٹالا جا سکتا ہے مگر اس کا پائیدار خاتمہ غیر ممکن ہے۔