.

حرم مکی کی توسیع کا منصوبہ ایک نئے موڑ میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی ہدایت پر توسیع حرم کا منصوبہ ایک نئے تاریخی موڑ میں داخل ہو گیا ہے۔

توسیع حرم کے جاری منصوبے کے مختلف ادوار میں جہاں خانہ خدا کی تعمیر و توسیع کے لیے جدید فن تعمیر کی ماہر انجیئنروں کی خدمات لی گئیں وہیں تعمیراتی منصوبہ اپنی مقررہ مدت میں پایہ تکمیل کو پہنچا اور اب تک 6 لاکھ 25 ہزار نمازیوں کے لیے بہ یک وقت با جماعت کی ادائی کا انتظام کرلیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق توسیع حرم کے پہلے دو مراحل میں فرسٹ فلور، گراؤنڈ فلور، میزانین، گیلریوں کی تعمیر کا کام مکمل کرنے کے بعد حرم کو چاروں سمتوں شمال، جنوب مشرق اور مغرب میں وسعت دی گئی ہے۔

مسجد حرام کی توسیع اور زیادہ سے زیادہ نمازیوں کی گنجائش پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مقام مقدس کی حفاظت پر تیس ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ محافظین کے چاک و چوبند دستے ماہ صیام میں چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر زائرین اور روزہ داروں کی خدمت میں مصروف ہیں۔

حرم کے امور کے ڈائریکٹر جنرل برائے سیکیورٹی امور میجر جنرل عثمان المحرج نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "اللہ کے فضل وکرم سے اس مرتبہ اللہ کے مہمانوں کی مدد اور ان کے تحفظ کے لیے پہلے سے بڑھ کر حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ روزہ داروں، نمازیوں اور عبادت گزاروں کو عام دنوں بالخصوص ماہ صیام میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل المحرج نے بتایا کہ مسجد حرام میں محافظ فورس کے سیکڑوں اہلکاروں کی ہمہ وقت موجودگی کے ساتھ ساتھ نگرانی کے لیے خفیہ کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں۔ شاہ عبداللہ کے حکم پر مسجد حرام کے توسیعی منصوبے کے پہلے دو مراحل کی تکمیل کے بعد مرد و زن معتمرین کو کئی اضافی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں جن سے وہ بھرپور استفادہ بھی کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں وزیر داخلہ شہزادہہ نائف بن عبدالعزیز کے ساتھ ان کی ایک اہم ملاقات میں مسجد حرام کی سیکیورٹی بارے بات چیت کی گئی۔ ملاقات کے دوران وزیر داخلہ کو مسجد حرام کی سیکیورٹی سے متعلق انتظامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔