تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران سے عرب ممالک میں 'انقلاب کی برآمد'
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 8 شوال 1439هـ - 22 جون 2018م
آخری اشاعت: پیر 27 جمادی الاول 1437هـ - 7 مارچ 2016م KSA 20:10 - GMT 17:10
ایران سے عرب ممالک میں 'انقلاب کی برآمد'
ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای
لبنان - حسن فحص

انیس سو پچاسی کے اوخر میں ایرانی قیادت نے پاسداران اسلامی انقلاب کے زیرانتظام "ورلڈ لبریشن موومنٹس بیورو – دفتر سازمانهائے أزادى بخش" کو بند کرکے ان تحریکوں کے ساتھ رابطے کی ذمہ داری وزارت خارجہ کے حوالے کردی۔ اس وقت علی ولایتی وزیر خارجہ، میر حسین موسوی وزیراعظم اور علی خامنہ ای ایران کے صدر تھے۔

اس فیصلے کے بعد تہران میں لبریشن موومنٹس کے دفاتر پر پابندیوں کے حوالے سے اقدامات کا آغاز ہوا جن کا نتیجہ بالآخر ایران سے ان تحریکوں کے نکل جانے پر ہوا۔ تاہم عراقی اور افغان تحریکوں کو مستقبل میں ان کے خصوصی کردار کی وجہ سے باقی رکھا گیا۔ بعد ازاں یہ کردار 1988 اور 2003 میں عراقیوں اور 2001 میں افغانوں کے ساتھ واضح ہوگیا۔ اس کے علاوہ فلسطینی سفارت خانے کو بھی برقرار رکھا گیا تاکہ ایران کی نگرانی میں پروان چڑھنے والی تنظیموں کے مفاد میں فلسطین کے ساتھ تعلق استوار کیا جائے۔

بعض میدانوں کی خصوصیت

یہ بات بالکل واضح ہے کہ شروع سے ہی لبنان کے ساتھ خصوصی تعلق رکھا گیا۔ لبنانی بحران میں فوجی پاسداران کے ادارے کی جلد اور براہ راست مداخلت کا ایرانی حکمت عملی سے گہرا تعلق تھا کیوں کہ وہ لبریشن موومنٹس کے لیے بہترین میدان تھا۔ بالخصوص 1982 میں اسرائیلی حملے اور اس کے بعد ایرانی فورس کے لبنان بھیجے جانے کے بعد۔ تاہم اس منصوبے کی راہ میں بھی دو بنیادی رکاوٹیں تھیں :

پہلی : خمینی نے "سب سے پہلے ایران" کے نعرے کے تحت ایرانی فوجیوں کی بڑی تعداد کو نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ ایران کو عراق میں صدام حسین کی حکومت کے ساتھ جنگ کا سامنا تھا۔

دوسری : اس وقت کے شامی صدر حافظ الاسد نے دمشق پہنچنے والے ایرانی فوج کے ہراول دستے کے تقریبا 4 ہزار اہل کاروں کو لبنان کی سرحد تک پہنچنے سے روک دیا تھا۔

اس کے مقابل تہران میں ان تحریکوں کے نمائندوں کا نظر آنا ختم ہوگیا جو جزیرہ عرب میں انقلاب لانے کی کوششیں کررہی تھیں جن میں بحرین، کویت اور دیگر عرب ممالک شامل ہیں۔

اس کے علاوہ دیگر تحریکوں مثلا جنوبی امریکا کے انقلابی، پولیساریو تحریک، الجزائر کے انقلابی، مصری انقلابی، یورپی بائیں بازو کی جماعتیں اور اسپین میں باسک تنظیم وغیرہ کے نمائندے بھی ایران سے کوچ کرگئے۔

آزادی کی عالمی تحریکوں کے ساتھ تعلق محدود کرنے کے ایرانی فیصلے سے تین میدانوں کو مستثنی رکھا گیا جو ایرانی قیادت کے لیے تزویراتی گہرائی کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان میں ایک میدان تو افغانستان تھا جہاں شمالی اتحاد سے تعلق استوار کیا گیا۔

دوسرا میدان عراق تھا جہاں سپریم کونسل برائے اسلامی انقلاب تشکیل دی گئی۔ آغاز میں اس کونسل میں ایران میں موجود تمام اسلامی گروپ شامل تھے۔ تاہم بعد میں ان گروپوں کے اندر بعض اختلافات بھی سامنے آئے اور پھر محمد باقر الحکیم نے اس سپریم کونسل کی قیادت سنبھال لی۔ اس دوران پاسداران انقلاب کے خصوصی حلقوں نے عراق میں کرد جماعتوں کے ساتھ بھی سیکورٹی، عسکری اور سیاسی تعلقات قائم کیے۔ افغانی اور عراقی پتوں کو بچا کر رکھنے کی براہ راست اہمیت 11 ستمبر کے واقعات کے بعد 2001 میں افغانستان میں اور اپریل 2003 میں عراق میں بین الاقوامی مداخلت کے بعد پوری طرح واضح ہوگئی۔

تشکیل اور تربیب

مستثنی رکھا جانے والا تیسرا میدان لبنان تھا.. جہاں ایران کی جانب سے تشکیل دی گئی تنظیم "امت حزب الله" کو امل موومنٹ کے سامنے حقیقی حریف کی شکل میں بدل دیا۔

انیس سو بیاسی میں خمینی کے فیصلے اور شام اور لبنان میں ایرانی توسیع سے متعلق حافظ الاسد کے اندیشوں کے باوجود پاسداران انقلاب کے تقریبا 4 ہزار اہل کار دمشق پہنچ کر سیدہ زینب کے علاقے میں ٹھہر گئے۔ شامی حکومت نے ان اہل کاروں کو الزبدانی کے علاقے میں منتقل کر کے ان کے لیے ایک خاص کیمپ قائم کردیا تاکہ وہ مقامی باشندوں اور ایران کے حامی لبنانی فریقوں تک نہ پہنچ سکیں۔

بعد ازاں شامی حکومت اور ایرانی سفارت خانے کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ان ایرانی اہل کاروں کی مقررہ تعداد کو لبنان کے مشرقی میں البقاع کے علاقے بعلبک میں تربیتی کیمپ قائم کرنے کی اجازت دی گئی.. تاکہ اسرائیلی قابض فوجوں کا مقابلہ کرنے والے گروپوں کو تربیت دی جاسکے۔

یہ منتقلی تہران میں وزارت دفاع، پاسداران انقلاب کی قیادت، وزارت خارجہ، خمینی کے انقلاب کے بیورو کے سربراہ اور باسیج فورس کے سربراہ کے درمیان کئی ملاقاتوں کے بعد عمل میں آئی۔ بعد ازاں تہران میں امل موومنٹ کے نمائندے کو بھی شریک کیا گیا جس نے لبنان میں شیعہ فرقے کے اندر امل موومنٹ کے خلاف اور متوازی ایران کے زیرانتظام ایک خصوصی تنظیم قائم کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ اس طرح "امت حزب اللہ" کے نام سے یہ تنظیم وجود میں آئی۔

کردار کی بنیاد

پچاسی میں لبنان سے اسرائیل کے جزوی انخلاء نے ایران کو یہ موقع فراہم کردیا کہ وہ "امت حزب اللہ - اسلامی مزاحمت" تشکیل دے کر لبنان میں اپنے رسوخ اور کنٹرول کو مضبوط بنائے۔ یہ نئی جماعت اپنی پیچیدہ سیکورٹی، سماجی، سیاسی اور عسکری کارروائیوں کے ذریعے بائیں بازو کی قومی جماعتوں کو مزاحمت کے عمل سے دور کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

اس سلسلے میں شام کی ایران کے ساتھ یہ مفاہمت طے پائی کہ لبنان کے میدان کو دو شیعہ فریقوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے۔ ان میں ایک تو امل موومنٹ میں شام سے وابستگی رکھنے والا گروپ تھا جو نبیہ بری کی قیادت میں سیاسی سرگرمیوں کا ذمہ دار تھا.. جب کہ دوسرا گروپ ایران سے وابستگی رکھنے والے عناصر پر مشتمل تھا جن کے ذمے سرحدی پٹی پر اسرائیلی وجود کے خلاف عسکری کارروائیاں سرانجام دینا تھا۔

1993 میں "حزب الله" (جس نے اپنے نام سے امت کا لفظ ہٹا دیا تھا) کی جانب سے ادا کیے جانے والے کردار کی اہمیت اس وقت بھرپور انداز سے واضح ہوگئی.. جب ایران نے خود کو خطے کے نئے نقشے سے باہر پایا۔ 1993 میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معرکے نے تصفیے کے عمل کو بڑی حد تک برباد کر دیا یا کم از کم پیچیدہ ضرور بنا دیا.. جس کے بعد علاقائی سطح پر شام اور ایران ایک مرتبہ پھر نمایاں کھلاڑی بن کر ابھرے۔

1996 میں بھی لبنان کے جنوب میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ ایران اور شام کے اس مشترکہ کردار کو مضبوط کرنے کی کوشش ثابت ہوئی۔ دونوں نے اپنے مفادات کو پورا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

اپریل 1996 میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان طے پائے جانے والے معاہدے کے مطابق فریقین کو ایک دوسرے کے خلاف جارحیت کے صورت میں اپنے دفاع کا حق دیا گیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں حزب اللہ محض ایک ایران نواز لبنانی جماعت کے خول سے باہر آ کر "علاقائی سطح پر کردار کی حامل" جماعت بن گئی۔

اس طرح اس کے سامنے لبنان کے علاوہ پوری عرب دنیا اور دیگر ممالک میں بھی بڑا کردار ادا کرنے کی راہ ہموار ہوگئی۔ ایرانی قیادت کو جو حزب اللہ کے لیے سیاسی، مذہبی اور ثقافتی سائبان شمار کی جاتی ہے.. ولایت فقیہہ کے نظام اور اپنے عالمی منصوبے پر عمل درامد کے سلسلے میں تنظیم سے بڑی توقعات وابستہ ہوگئیں۔

جولائی 2006 میں اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران اور اس کے بعد خطے کی سطح پر حزب اللہ کا کردار مضبوط ہو کر زیادہ سنجیدہ مرحلے کی طرف منتقل ہوگیا۔ اس لیے کہ نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے ایران کو بچانے کی جنگ تھی.. یہ معاملہ اس وقت ڈیڈلاک کا شکار ہوگیا تھا اور نیوکلیئر پروگرام کے علاوہ عراق، افغانستان اور فلسطین میں کردار کی وجہ سے امریکا اور مغربی ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف بھرپور ممکنہ جنگ کی دھمکیاں عروج پر پہنچ گئیں تھیں۔

کرداروں کی تقسیم

1997 ایران کے لیے ایک اہم سال تھا جب محمد خاتمی نے ملک کی صدارت سنبھالی۔ اس سے قبل عالمی برادری کے ساتھ ایران کے تعلقات انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہوچکے تھے۔ ایران پر جرمنی اور ارجنٹائن میں دہشت گرد کارروائیوں کا الزام عائد کرکے یورپی ممالک نے اس کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے وہاں سے اپنے سفارت کاروں کو واپس بلالیا۔

مغربی دنیا کے سامنے خاص طور پر اور پڑوسی عرب ممالک کے سامنے کشادگی اور خیرسگالی کے جذبے کے اظہار کے لیے ایران کو اطمینان بخش اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ اعتماد کی راہوں کو پھر سے استوار کرنا تھا۔ اس موقع پر خاتمی نے اپنے مصالحانہ خطاب میں عالمی برادری کے ساتھ مکالمے کی فضا سازگار کرنے کا عندیہ دیا۔

اس کے مقابل ایرانی حکومت نے خاتمی کے خطاب کو خطے کی سطح پر میدان میں اپنی صلاحیتوں کے دوبارہ حصول کا موقع شمار کیا اور اصلاح پسند صدر کی جانب سے فراہم کردہ سکون کی فضا کا پورا فائدہ اٹھایا۔

یہاں سے ایران نے براہ راست سیاسی نگرانی کے تحت خطے میں سیاسی اور عسکری قوتوں کے ساتھ دوبارہ تعلق استوار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں لبنان میں حزب اللہ اور اس کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کو مہرہ بنایا گیا.. جس کے بعد بیروت ایرانی فلک پر گھومنے والی فلسطینی قوتوں مثلا حماس اور اسلامی جہاد یہاں تک کہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ بات چیت کے لیے بھی ملاقات کا مرکز بن گیا۔ اس کے علاوہ سوڈان، یمن اور مصر کے میدانوں میں بھی تعلقات استوار کرنے پر کام کیا گیا۔

لبنان سے شروع کرکے مختلف میدانوں میں سیاسی، سیکورٹی اور فوجی سطح پر سرگرمیوں کو پھر سے فعال بنانے کے نتیجے میں ایران کو ورلڈ لبریشن موومنٹس کے بیورو کو بھی دوبارہ سے متحرک کرنے کا موقع مل گیا جب کہ نہ تو اس کا نام استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی اور نہ ان سرگرمیوں میں اپنے کردار کے حوالے سے براہ راست شک و شبہات کی گنجائش چھوڑی گئی۔

تقریبا چار دہائیوں سے جاری اس انبار سازی کی اہمیت گزشتہ پانچ سالوں میں ایران کے لیے بہت نمایاں ہوگئی.. اس کی وجوہات میں عرب دنیا میں انقلابی لہر کا بیدار ہونا اور خطے کی پیش رفت میں حزب اللہ کا براہ راست داخل ہونا شامل ہیں۔ اس طرح حزب اللہ کا یمن، عراق، بحرین اور یہاں تک کہ مصر اور نائیجیریا میں... اور سب سے زیادہ خطرناک کردار شام میں نمایاں ہوگیا جو ایرانی دائرہ کار میں موجود قوتوں کی سرگرمیوں اور ان کے درمیان رابطے کے محور میں تبدیل ہوگیا... اور یہ ایرانی توسیع پسندی کے بڑے منصوبے کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔

نقطہ نظر

قارئین کی پسند