.

پاکستان امریکی دباؤ کے باوجود ایران سے گیس پائپ لائن بچھائے گا

صدر آصف زرداری آیندہ سوموار کو ایران جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اپنے دکھاوے کے اتحادی امریکا کے دباؤ کے باوجود ایران سے ساڑھے سات ارب ڈالرز کا گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کرے ۔

پاکستان کے دفترخارجہ کے ترجمان معظم احمد خان نے جمعرات کو اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار نیوزبریفنگ میں بتایا کہ صدر آصف زرداری آیندہ سوموار کو اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے لیے ایران جائیں گے۔

ترجمان نے صدر کے دورے کی مزید تفصیل نہیں بتائی لیکن ایک سنئیر عہدے دار نے ایک غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ منصوبے کے سنگ بنیاد کی تقریب 11مارچ کو پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد پر ہوگی۔27فروری کے بعد صدر آصف زرداری کا ایران کا یہ دوسرا دورہ ہوگا۔

دفترخارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ''ہم اس منصوبے کے بارے میں بالکل واضح ہیں کہ ملک کو درپیش توانائی کے بحران کے پیش نظر یہ منصوبہ ہمارے قومی مفاد میں ہے''۔انھوں نے کہا کہ ''ہم ان کی (امریکیوں کی) تشویش کو سمجھتے ہیں لیکن ہمیں توقع ہے کہ امریکا سمیت ہمارے دوست ہماری اقتصادی مجبوریوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں گے''۔

حکام کے مطابق ایک کنسورشیم ایران سے پاکستان تک 780 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن منصوبے پر آیندہ سوموار سے پاکستانی علاقے میں کام شروع کرے گا۔پائپ لائن کے اس حصے پر لاگت کا تخمینہ ڈیڑھ ارب ڈالرز لگایا گیا ہے۔

امریکا اس منصوبے پر پیش رفت کی صورت میں پاکستان پر پابندیاں عاید کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دوسرے وسائل بروئے کار لائے۔اس نے اگلے روز پاکستان کو مبہم سی پیش کش بھی کی تھی لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی اور صرف پاکستان پر یہ منصوبہ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

ایران کے علاقے میں اس پائپ لائن کا حصہ مکمل ہوچکا ہے لیکن پاکستان اس منصوبے کے حوالے سے ماضی میں مختلف مشکلات سے دوچار رہا ہے۔اسے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے مالی وسائل درکار تھے۔چنانچہ حال ہی میں ایران نے اس منصوبے کی لاگت کی ایک تہائی رقم دینے سے اتفاق کیا تھا اور دوطرفہ معاہدے کی شرائط کے تحت پاکستانی علاقے میں ایک ایرانی کمپنی گیس پائپ لائن بچھائے گی۔

دوسری جانب پاکستان کو امریکا کی ممکنہ پابندیوں کے خطرے کا بھی سامنا تھا۔امریکا نے ایران پر اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے مختلف پابندیاں عاید کررکھی ہیں اور امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ پاکستان گیس پائپ منصوبے پر پیش رفت کے بعد امریکی پابندیوں کے دائرے میں آسکتا ہے اور اس پر بھی ایران کے ساتھ کاروباری روابط استوار کرنے پر قدغنیں لگائی جاسکتی ہیں۔واضح رہے کہ پہلے بھارت بھی اس منصوبے کا حصہ تھا لیکن وہ چندسال قبل اس سہ فریقی منصوبے سے الگ ہوگیا تھا۔