اپنی تصویر سے دنیا کو ہلا دینے والے شامی بچّے کا علاج اٹلی میں ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی سے تعلق رکھنے والے فوٹوگرافر محمد اصلان نے جب ایک شامی شہری کی تصویر لی تو اسے معلوم نہ تھا کہ یہ تصویر اس میں نظر آنے والے کی زندگی بدل دے گی۔

اٹلی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ شامی پناہ گزین منذر النزال کے گھرانے کا خیر مقدم کرے گا۔ محمد اصلان کی تصویر میں منذر اپنی ایک پنڈلی اور بیٹے مصطفی کے ساتھ نظر آ رہا ہے جو ہاتھوں سے محروم ہے۔ اصلان کی اس تصویر نے 2021ء کے "سيينا" بین القوامی تصویری مقابلے میں انعام حاصل کیا۔

اٹلی کی وزارت برائے خارجہ امور اور بین الاقوامی تعاون نے تصدیق کی ہے کہ منذر النزال کا گھرانہ ننھے مصطفی کے ساتھ اطالوی سرزمین پر پہنچنے والا ہے۔ اس سلسلے میں انقرہ میں اطالوی سفارت خانے نے وزارت خارجہ کے متعلقہ شعبے کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے مطلوبہ اقدامات مکمل کر لیے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق "سیینا ایوارڈ فیسٹول" کے منتظمین کی جانب سے چلائی گئی عطیات مہم کی بدولت النزال اور اس کا بیٹے کا مصنوعی اعضاء کے مرکز میں طویل المیعاد علاج بھی ہو سکے گا۔

واضح رہے کہ دنیا کو ہلا دینے والی تصویر نے گذشتہ برس اکتوبر میں سیینا بین الاقوامی تصویری مقابلے کی ایوارڈز تقریب میں 2021ء کے لیے بہترین تصویر کا انعام جیتا تھا۔ اس سے قبل یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی تھی۔

تصویر میں ایک ٹانگ پر کھڑا شامی شہری منذر النزال اپنے بیٹے مصطفی کو ہاتھوں میں تھامے کھڑا ہے۔ یہ بچہ پیدائشی طور پر ہاتھوں سے محروم ہے۔ اس متاثر کن تصویر کو "زندگی کی مشقت" کا عنوان کیا گیا۔ یہ تصویر ترکی کے شہر ریحانیہ میں لی گئی تھی۔

چند ہفتے قبل النزال نے الحدث نیوز چینل سے خصوصی گفتگو میں انکشاف کیا تھا کہ وہ خان شیخون پر بم باری میں زخمی ہو گیا تھا جس کے بعد اس کا دایاں پاؤں کاٹ دیا گیا تھا۔ النزال نے بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس کے بچے کے علاج اور اس کے مصنوعی ہاتھ لگوانے میں مدد کریں۔ اس طرح بچے کا مستقبل محفوظ ہو جائے گا اور وہ اپنے ساتھی بچوں کے ساتھ اسکول جانے میں کامیاب ہو گا۔ واضح رہے کہ مصطفی کے دو بھائی ہیں جو مکمل طور پر تندرست اور نارمل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں