.

سعودی عرب میں نمازوں کے اوقات میں نرمی سے متعلق بیان کی پذیرائی

سعودی مذہبی پولیس کے سربراہ کا العربیہ سے انٹرویو عالمی میڈیا کی سرخی بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے محکمہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر المعروف مذہبی پولیس کے سربراہ شیخ عبداللطیف بن عبد العزیز آل الشیخ کا العربیہ نیوز چینل کے ساتھ انٹرویو عالمی میڈیا کی سر خی بن گیا ہے۔اس انٹرویو میں انھوں نے مملکت میں نمازوں کے اوقات کے دوران دکانیں بند رکھنے سے متعلق قواعد وضوابط میں نرمی کا اشارہ دیا ہے۔

شیخ عبداللطیف آل الشیخ نے گذشتہ سوموار کو العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نمازوں کے اوقات کے دوران کاروباروں کو زیادہ بہتر انداز میں چلانے کے لیے اقدامات پر مبنی نیا مسودہ تیار کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں پنج وقتہ نمازوں کے دوران آدھے گھنٹے کے لیے تمام کاروبار اور دکانیں بند رکھنے کی پابندی ہے۔مذہبی پولیس کے سربراہ نے العربیہ کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ اب نمازوں کے اوقات کے دوران کاروباروں اور دکانوں کو مختصر وقت کے لیے بند کرنےکی پابندی ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کمیشن کے اہلکار ان اقدامات کی پابندی کو یقینی بنائیں گے۔دکانوں کے جو مالکان اجتماعی طور پر نماز ادا کریں گے یا جن کی دکانیں مساجد سے بہت دور ہوں گی،ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی لیکن جو کوئی بھی نماز کے اوقات کے دوران کام کرتے ہوئے پکڑا گیا،اس کو قانون کے مطابق سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔

برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے مقامی سعودی پریس کے حوالے سے بدھ کو یہ خبر جاری کی ہے جبکہ سعودی پریس نے سوموار کو شائع شدہ العربیہ کی خبر کا حوالہ دیا تھا۔

سعودی عرب کے انگریزی روزنامے عرب نیوز نے العربیہ کی خبر کو اس سرخی کے ساتھ شائع کیا تھا:''اب نماز کا مختصر وقفہ ہوگا:سربراہ مذہبی پولیس''۔رائٹرز کی اسٹوری کو متعدد علاقائی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں نے شائع اور نشر کیا ہے۔ان میں مصر کا سرکاری روزنامہ الاہرام آن لائن ،گلف بزنس نیوز،وائس آف امریکا اور اسرائیلی اخبار ہارٹز شامل ہیں۔

رائٹرز نے لکھا ہے کہ آل الشیخ کی جانب سے امر بالمعروف و نہی عن المنکر المعروف مذہبی پولیس کا تشخص کا بہتر بنانے کی یہ نئی کوشش ہے۔انھوں نے العربیہ کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کی فورسز شریعت کے نفاذ کے لیے سخت گیری سے کام نہیں لیں گی۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم نہ تو انتہا پسند ہیں اور نہ نرم رو ہیں،ہم پیغمر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو اپنائیں گے۔ہم جابر یا سفاک نہیں بننا چاہتے کیونکہ یہ اسلامی شریعت کا حصہ نہیں ہے''۔

یادرہے کہ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے شیخ عبداللطیف آل شیخ کو گذشتہ سال یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی ایک ویڈیو کے بعد مذہبی پولیس کا سربراہ مقرر کیا تھا۔اس ویڈیو میں مذہبی پولیس کے اہلکاروں کو ایک خاندان کو شاپنگ مال میں ہراساں کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

اس طرح کے واقعات میں سعودی مذہبی پولیس پر اختیارات سے تجاوز کے بھی الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں لیکن جنوری میں عبداللطیف بن عبدالعزیز آل شیخ کے مذہبی پولیس کے سربراہ کے طور پر تقرر کے بعد سے اس کے اہلکار زیادہ محتاط ہوگئے ہیں اور انھوں نے غیر نشان دار کاروں کے استعمال پر بھی پابندی عاید کردی ہے۔