جرمنی کے وزیر دفاع نے امریکہ ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے نتیجے میں ایک بار آبنائے ہرمز کھلنے اور ایران کی طرف سے دوبارہ بند کر دیے جانے کی ذمہ داری امریکی صدر ٹرمپ پر عاید کی ہے۔ انہوں نے کہا یہ صدر ٹرمپ ہیں جنہوں نے آبنائے ہرمز کی اس آبی راہداری بوتل میں پھر سے کارک پھنسا دیا ہے۔ یہ ہماری وجہ سے نہیں ہوا بلکہ ہم اس کارک کو نکالنے کی کوشش میں ہیں۔
جرمنی کے وزیر دفاع پسٹوریئس نے امریکی صدر پر حالات دوبارہ خراب کرنے کا الزام اپنے ایک انٹرویو میں لگایا ہے، یہ انٹرویو 'اے آر ڈی' نے نشر کیا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے بطور خاص غیر معمولی اہمیت کی حامل آبی راہداری ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کی گئی امریکی و اسرائیلی جنگ سے قبل نارمل انداز سے توانائی کی ترسیل کا ذریعہ تھی۔ لیکن دوران جنگ جب امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی تیل تنصیبات کو بطور خاص بمباری کا ہدف بنانا شروع کیا تو ایران نے امریکہ ، اسرائیل اور ان دونوں کے اتحادی ملکوں کے لیے جہازوں کی آبنائے ہرمز سے آمد و رفت بند کر دی۔
تاہم اسی مہینے ایک مفاہمتی یادداشت پر صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے دستخطوں کے بعد اس آبنائے کو کھول دیا گیا۔ یہ ایک جنگ بندی معاہدے کی ابتدا تھی، لیکن اسرائیل نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد بھی معاہدے میں شامل جنگی محاذ لبنان پر اپنے حملے جاری رکھے۔ جس کے جواب میں ایران نے ہفتے کے روز ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔
جرمنی وزیر دفاع نے کہا آبنائے ہرمز کا کھولا جانا ہم اہل یورپ کے مفاد میں تھا۔ کہ اس سے ہمارے لیے توانائی کی ترسیل کی بحالی شروع ہوئی اور ہماری معیشت کی بحالی شروع ہونے کی امید بڑھی۔ انہوں نے مزید کہا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران اور اومان کی مدد درکار ہوگی۔
خیال رہے جرمنی نے ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ سے مسلسل خود کو دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ جرمن حکام نے جنگ کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرانے سے بھی گریز کیا ہے۔ ماہ اپریل میں امریکہ نے اپنے یورپی اتحادیوں پر زور دیا تھا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور کرنے کے لیے امریکہ کا دوران جنگ ساتھ دیں مگر یورپی ملکوں نے تعاون سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ اس جنگ کا نیٹو سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
جرمنی کے چانسلر میرز اور وزیر دفاع پٹوریئس نے اس سلسلے میں امریکہ پر بارہا تنقید بھی کی کہ اس نے ایران میں جنگ شروع کرنے سے پہلے یورپ کو اعتماد میں کیوں نہ لیا۔ اب پھر موقع آیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی ذمہ داری کا الزام ٹرمپ پر عاید کر دیا ہے۔