ٹونی بلیئر نے مصری فوج کی حکومت کی حمایت کردی

مسلح افواج نے عوامی منشاء کے احترام میں ڈاکٹر مرسی کی حکومت ختم کی:انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی اور برطانوی لیڈر یوں تو دنیا کو جمہوریت کا درس دیتے نہیں تھکتے لیکن ان کے جمہوریت اور جمہوری اقدار سے متعلق اپنے ہی اصول ہیں اور وہ بالعموم اپنے ہی وضع کردہ اصولوں کو درست سمجھتے اور ان کے پیمانے پر دوسروں کو پرکھتے ہیں۔

اس کی تازہ مثال سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی جانب سے مصر میں مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کی بھرپور حمایت کی صورت میں سامنے آئی ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ اخوان المسلمون ملک کو امید اور ترقی کی بنیادی اقدار سے دور لے جارہی تھی۔

مسٹرٹونی بلیئر نے قاہرہ کے دورے کے موقع پر جمعرات کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ''مصری فوج نے عوام کی منشاء کے مطابق منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹا تھا لیکن ملک کو ترقی کے اگلے مرحلے کی جانب گامزن کرنے کے لیے ہمیں نئی حکومت کی حمایت کرنی چاہیے اور یہ اگلا مرحلہ جمہوری ہونا چاہیے''۔

انھوں نے کہا کہ ''یہی وہ بات ہے جو وہ یورپ میں اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو بتانے کی کوشش کررہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اخوان المسلمون نے ملک کو امید اور ترقی کی بنیادی اقدار سے دور لے جانے کی کوشش کی تھی''۔

ٹونی بلیئر نے گذشتہ سال مصری فوج کے اقدام کی حمایت کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا اگر فوج کی مداخلت نہ ہوتی تو مصر میں طوائف الملوکی کا دور دورہ ہوتا لیکن انھوں نے گذشتہ مہینوں کے دوران مصری فوج کی جانب سے اخوان المسلمون کی قیادت اور اس کے حامیوں کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کے خلاف اب تک ایک لفظ بھی بول کے نہیں دیا۔

موقر برطانوی اخبار دی گارجین میں شائع شدہ ایک مضمون کے مطابق ٹونی بلیئر یا ان کے دفتر نے اب تک اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے کہ مغرب پرامن مظاہرین کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کی مذمت کیے بغیر جمہوریت کی کیسے حمایت کرسکتا ہے۔

ٹونی بلیئر نے منتخب صدر کا تختہ الٹنے والے مصر کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی ہے۔اس کے بعد انھوں نے کہا:''بہتر یہ ہوگا کہ ہم ماضی پر بات نہ کریں کیونکہ ماضی پر بحث کوئی بہت زیادہ مفید نہیں ہوگی۔میرے خیال میں اہم بات یہ ہے کہ پوری عالمی برادری موجودہ قیادت کی حمایت کرے''۔ان کا اشارہ غالباً مصری فورسز کے اخوان المسلمون کے خلاف کریک ڈاؤن کی جانب تھا۔

سابق برطانوی وزیرخارجہ ڈگلس ہرڈ نے مصر کے متعلق ٹونی بلیئر کے حالیہ بیانات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''ہمیں بلیئر کی طرح تالیاں نہیں بجانی چاہئیں اور یہ نہیں کہنا چاہیے کہ سب ٹھیک ہوا ہے بلکہ ہمیں اپنے مشورے اپنے پاس ہی رکھنے چاہئیں اور ڈرامے کے آخری ایکٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔اس میں شاید چند برس اور لگ سکتے ہیں''۔

واضح رہے کہ مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے 3 جولائی 2013 ء کو ملک کی تاریخ پہلے منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ان کے اس اقدام کے خلاف اب تک مصر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

فوج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کے تحت سکیورٹی فورسز کے ملک کی سابق حکمراں اور سب سے منظم دینی و سیاسی قوت اخوان المسلمون کے خلاف کریک ڈاؤن میں ایک ہزار سے دو ہزار افراد مارے جاچکے ہیں،اخوان کی تمام قیادت سمیت دوہزار سے زیادہ سیاسی کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان میں مذہبی ،لبرل ،سیکولر ،انسانی حقوق کے علمبردار وغیرہ ہر طرح کے کارکنان شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں