اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع کی عدالت میں پیشی
اخوان کے رہ نماؤں کے خلاف مقدمے کی سماعت 11 فروری تک ملتوی
مصر میں اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع کو ان کی گرفتاری کے بعد پہلی مرتبہ عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور عدالت نے ان کے خلاف مقدمے کی سماعت 11 فروری تک ملتوی کردی ہے۔
انھوں نے سوموار کو عدالت میں پیشی کے موقع پر مدعاعلیہان کے لیے مخصوص پنجرے میں گفتگو کرتے ہوئے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ ان کی جماعت نے تشدد کی کوئی سازش کی تھی۔انھوں نے عدالت کے جج سے مخاطب ہوکر کہا کہ ''آپ میرے بیٹے کے قتل ،میرے مکان اور جماعت کے دفاتر کونذرآتش کرنے کے الزامات کی تحقیقات کیوں نہیں کرتے''۔
وہ 17 اگست کو اپنے بیٹے کے مظاہروں کے دوران قتل کا حوالہ دے رہے تھے۔ستر سالہ محمد بدیع کو اخوان المسلمون کے دوسرے معروف رہ نماؤں محمد البلتاجی،اعصام العریان اور ایک برطرف وزیر باسم عودہ کے ساتھ عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔انھوں نے عدالت میں فوجی جرنیلوں کے خلاف نعرے بازی کی اور کہا کہ انھوں نے منتخب صدر سے بزور طاقت اقتدار چھینا تھا۔
اخوان کے ان رہ نماؤں کے خلاف جامعہ قاہرہ کے نزدیک احتجاجی دھرنے کے دوران جولائی میں تشدد کے واقعے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔محمد بدیع کے خلاف لوگوں کو تشدد پر اکسانے پر فرد الزام عاید کی گئی تھی۔انھیں اگست میں اخوان کی قیادت اور کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے 3 جولائی کو جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔اس فوجی اقدام کے خلاف احتجاج کرنے والے اخوان المسلمون کے کارکنان اور دیگر جمہوریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے سخت کریک ڈاؤن کیا تھا جس کے دوران ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور دو ہزار سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔