.

امریکی بحری بیڑے کی تباہی، اسرائیل پر بمباری کی فرضی ایرانی ویڈیو

تہران کے خلاف غیرملکی کارروائی کے منہ توڑ جواب کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اورعالمی طاقتوں کے درمیان متنازعہ جوہری پروگرام پر معاہدےکے باوجود تہران بیرونی حملے سے خائف ہے اور اپنے سب سے بڑے "دشمنوں امریکا اور اسرائیل" کے مفادات پر جوابی حملے کے لیے ہمہ وقت چوکس دکھائی دیتا ہے۔

حال ہی میں "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو ایران کی ایک ویڈیو سائٹ "Lemziran" سے دستاویزی فلم کی طرز کی ایک نئی ویڈیو فوٹیج ملی ہے۔ دستاویزی ویڈیو فوٹیج میں ایران پر غیر ملکی حملے کے جواب میں تہران کی طرف سے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سمندر میں موجود امریکی بحری بیڑے کو تباہ کرنے اور اسرائیل پر میزائل حملے اور ان کی تباہ کاری کے فرضی مناظر دکھائے گئے ہیں۔

چند سیکنڈز پر محیط اس دستاویزی فلم میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا سنہ 2011ء کی ایک تقریر کے کچھ اقتباسات بھی سنائے گئے ہیں۔ پس منظر میں پاسداران انقلاب کو چوکس دکھایا گیا ہے۔ مرشد اعلٰی اپنے روایتی انداز میں امریکا اور اسرائیل کو للکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ "ایران پر جو بھی حملے کا منصوبہ بنائے گا وہ اس کا مزہ چکھنے کے لیے بھی خود کو تیار کر لے۔ ایران پر حملہ کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا "۔

ویڈیو فوٹیج میں ایران کے بغیر پائلٹ ڈرون طیارے اہداف کی تصاویر حاصل کرتے ہیں جس کے بعد میزائل حملوں سے اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ فرضی طور پر اسرائیل کے بن گوریون ہوائے اڈے، حیفا شہر کی بلند وبالا عمارتوں اور جنوبی جزیرہ نما النقب میں اسرائیل کے ایمٹی پلانٹ "ڈیمونا" پر میزائل حملے کیے جاتے ہیں۔ ان حملوں سے چہار سو تباہی پھیل جاتی ہے اور آگ کے سرخ شعلوں اور سیاہ دھوئیں کے بادل آسمان سے باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔

اگلے منظر میں خلیج میں موجود امریکی بحریہ کا جنگی بیڑا "یو ایس ایس ابراہیم لنکن" ایرانی راڈاروں پر دکھایا جاتا ہے، جس پر امریکی جنگی جہاز حملے کی تیاری پکڑ رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں بحری بیڑے پر جنگی جہازوں سے بم گرائے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں بیڑے پرموجود امریکیوں میں کھلبلی مچ جاتی ہے۔ دوسرے مرحلے میں ایران سے براہ راست میزائل حملے کیے جاتے ہیں جس سے بحری بیڑا تباہ ہو جاتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا کا یہ بحری بیڑہ کئی عالمی مہمات میں اب تک امریکا کے کام آ چکا ہے۔ کویت پرعراقی قبضے کے خلاف امریکا نے پہلی مرتبہ اس بیڑے کو استعمال کیا۔ سنہ 1992-93ء میں صومالیہ میں جنگجوؤں پرحملوں کے لیے اس بیڑے سے مدد فراہم کی گئی۔ سنہ 2001ء میں افغانستان اور 2003ء میں عراق پر حملے کے لیے اس بحری بیڑے نے اہم کردار ادا کیا۔ ایرانی راڈارز پر امریکی بحری بیڑے کی فرضی نشاندہی کے بعد تہران کے ایک فوجی اڈے سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے میزائل داغے جاتے ہیں جو چند سیکنڈز میں پورے بحری بیڑے کو تباہ کرکے اسے پانی میں غرق کر دیتے ہیں۔