مشرق وسطیٰ میں امریکا کے ہنگامی فوجی اڈے کے منصوبے کا انکشاف

امریکی شہریوں، سفارت خانوں اور پانچویں بحری بیڑے کا تحفظ اڈے کے مقاصد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکا کے ایک کثیرالاشاعت اخبار"یو ایس اے ٹو ڈے" نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ مشرق وسطیٰ میں ایک ہنگامی فوجی اڈے کے قیام کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس فوجی اڈے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ خطے میں جاری بحرانوں سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق خلیج عرب میں قائم ممکنہ بحری فوجی اڈے کے قیام کا مقصد کسی ملک کے خلاف جنگ کی تیارنہیں بلکہ اس فوجی اڈے پر متمرکز افواج خطے میں امریکی سفارت خانوں اور شہریوں کا تحفظ، نیز کسی بھی ہنگامی حالت میں اپنے شہریوں بروقت نقل مکانی یا واپسی میں مدد فراہم کرنا اور خلیج عرب میں پہلے سے موجود امریکا کے پانچویں بحری بیڑے کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ فی الحال یہ تومعلوم نہیں ہوسکا کہ مشرق وسطیٰ میں نئے فوجی اڈے پر تعینات کردہ یونٹ کے فوجی اہلکاروں کی تعداد کیا ہوگی تاہم امکان ہے کہ یہ تعداد امریکی میرینز کی یونٹ کے برابر یعنی 500 تک ہوسکتی ہے۔ سمندر میں ہونے کے باعث اس فوجی یونٹ کو بھی ایک بحری بیڑہ دیا جائے گا جس پر موجود فوجی طیارے حکم ملنے کے بعد ایک گھنٹے کے اندر اندر آپریشن کرنے کی صلاحیت رکھیں گے۔

یہ ہنگامی بحری بیرہ بحرین کے ساحل پر متمرکز رہے گا، جہاں سے کچھ ہی فاصلے پر امریکا کا پانچواں بحری بیڑہ بھی موجود ہے۔ اس فوجی اڈے پر افغانستان اور مشرق وسطیٰ کے مختلف محاذوں پر سروسز فراہم کرنے والے فوجیوں کو تعینات کیا جائے گا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اگرامریکی اخبار کا دعویٰ درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا خلیجی ممالک میں اپنی تزویراتی اور عسکری قوت میں اضافے کا خواہاں ہے۔ بحری اڈے کےقیام کا مقصد خطے میں کسی بھی ہنگامی حالت میں فوجی آپریشن کی صلاحیت کو تقویت دینا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں